{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreicardbo7v5xd3hpjv5d5uy7nditvvgubsdoys42w6leouxuoefwiq",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mkcvq5mnrgu2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreibv4dpcadnzvdtzmkxa3wbnk2x4oseggrrrbilzqs7czphfhk6p3u"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 104923
},
"path": "/node/185647",
"publishedAt": "2026-04-25T10:08:58.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"غزہ",
"الیکشن",
"اے ایف پی",
"ایشیا",
"video"
],
"textContent": "فلسطینیوں نے مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کے وسطی علاقے دیر البلح میں ہفتے کو بلدیاتی انتخابات میں ووٹ ڈالے، جو غزہ جنگ کے بعد پہلا انتخابی عمل ہے۔ یہ انتخابات محدود سیاسی میدان اور عوامی مایوسی کے سائے میں منعقد ہوئے۔\n\nرام اللہ میں قائم مرکزی الیکشن کمیشن کے مطابق تقریباً 15 لاکھ افراد اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے میں جبکہ 70 ہزار افراد غزہ کے دیر البلح علاقے میں ووٹ ڈالنے کے لیے رجسٹرڈ ہیں۔\n\nاے ایف پی کی فوٹیج میں مغربی کنارے کے علاقے البیرہ اور غزہ کے دیر البلح میں پولنگ سٹیشنز پر انتخابی عملہ اور ووٹرز کو دیکھا گیا۔\n\nرپورٹ کے مطابق صبح کے وقت ووٹر ٹرن آؤٹ کم رہا، جبکہ متعدد غیر ملکی سفارت کاروں نے بھی پولنگ سٹیشنز کا دورہ کیا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق دوپہر تک ٹرن آؤٹ 15 فیصد رہا۔\n\nزیادہ تر امیدواروں کی فہرستیں صدر محمود عباس کی الفتح جماعت سے منسلک ہیں یا آزاد امیدواروں پر مشتمل ہیں۔\n\nالفتح کے روایتی حریف حماس سے وابستہ کوئی فہرست ان انتخابات میں شامل نہیں، جو غزہ کے تقریباً آدھے حصے پر کنٹرول رکھتی ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nزیادہ تر شہروں میں الفتح کے حمایت یافتہ امیدوار آزاد امیدواروں کے خلاف مقابلہ کر رہے ہیں، جن میں مختلف سیاسی گروہوں سے تعلق رکھنے والے امیدوار شامل ہیں۔\n\nالبیرہ میں ووٹ ڈالنے والے 55 سالہ خالد عید نے کہا کہ’ہمیں ہر چار سال بعد انتخابات کے ذریعے تبدیلی دیکھنی چاہیے، ہم حالات تو نہیں بدل سکتے، لیکن ہم لوگوں کو بدلنے کی امید رکھتے ہیں، ایسے لوگ جو شاید بہتر ہوں اور کمیونٹی کی ترقی میں مدد دے سکیں‘۔\n\nکچھ امیدواروں نے شکایت کی کہ انہیں انتخابات میں حصہ لینے سے روکا گیا، جن میں نابلوس سے تعلق رکھنے والی ایک فہرست کے سربراہ محمد دویکات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کی فہرست میں شامل بعض امیدواروں کو رجسٹریشن کے عمل کے اختتام تک حراست میں رکھا گیا۔\n\nنابلوس میں توقع کی جا رہی ہے کہ اس بار پہلی بار خاتون میئر منتخب ہو سکتی ہیں، کیونکہ وہاں مقابلے میں کوئی دوسرے امیدوار موجود نہیں۔\n\n**یورپی یونین نے انتخابات کو سراہا**\n\nفلسطین کی بلدیاتی کونسلز پانی، صفائی اور مقامی انفراسٹرکچر جیسے بنیادی خدمات کی ذمہ دار ہوتی ہیں اور قانون سازی نہیں کرتیں۔\n\nفلسطینی اتھارٹی کو بدعنوانی، جمود اور کمزور ہوتی ہوئی ساکھ پر تنقید کا بھی سامنا ہے۔\n\nمغربی اور علاقائی ڈونرز نے فلسطینی اتھارٹی کے لیے مالی اور سفارتی حمایت کو بتدریج واضح اصلاحات سے مشروط کر دیا ہے، خاص طور پر مقامی سطح کی حکمرانی کے حوالے سے، کیونکہ قومی انتخابات طویل عرصے سے معطل ہیں۔\n\nسال 2006 کے بعد سے نہ صدارتی اور نہ ہی پارلیمانی انتخابات ہوئے ہیں، جس کے باعث بلدیاتی کونسلیں فلسطینی اتھارٹی کے تحت کام کرنے والے چند فعال جمہوری اداروں میں سے ایک بن گئی ہیں۔\n\nیورپی یونین نے کہا کہ یہ انتخابات ’وسیع جمہوریت کے فروغ اور مقامی طرز حکمرانی کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہیں، جو مجموعی طور پر جاری اصلاحاتی عمل کے مطابق ہیں۔‘\n\nاقوام متحدہ کے رابطہ کار رمیز الاکبروف نے بھی الیکشن کمیشن کو ایک ’قابلِ اعتماد عمل‘ کے انعقاد پر سراہا۔\n\nشمالی مغربی کنارے کے شہر تولکرم سے تعلق رکھنے والے تاجر محمود بدیر، جہاں دو قریبی پناہ گزین کیمپ ایک سال سے زائد عرصے سے اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہیں، نے کہا کہ وہ ووٹ ڈالیں گے اگرچہ انہیں کسی بڑی تبدیلی کی امید نہیں۔\n\nانہوں نے جمعہ کو اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’چاہے امیدوار آزاد ہوں یا کسی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں، اس کا شہر پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور نہ ہی کوئی فائدہ ہوگا۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا: ’تولکرم پر اصل حکمرانی اسرائیلی قبضے کی ہے۔ یہ صرف ایک تصویر ہے جو بین الاقوامی میڈیا کو دکھائی جاتی ہےجیسے ہمارے ہاں انتخابات ہوتے ہیں، کوئی ریاست یا آزادی ہے۔‘\n\n**’مضبوط عزم‘**\n\nالیکشن کمیشن نے اے ایف پی کو بتایا: ’مغربی کنارے میں پولنگ سٹیشنز شام سات بجے بند ہو جائیں گے، جبکہ دیر البلح میں پولنگ شام پانچ بجے ختم کر دی جائے گی تاکہ بجلی کی کمی اور اسرائیلی جارحیت سے متاثرہ علاقے میں دن کی روشنی میں گنتی مکمل کی جا سکے۔\n\nاکتوبر 2023 میں شروع ہونے والی دو سالہ اسرائیلی جارحیت نے غزہ کے بڑے حصے کو تباہ کر دیا ہے اور 72 ہزار سے زائد افراد جان سے گئے یہ اعداد و شمار غزہ کی وزارت صحت کے ہیں جنہیں اقوام متحدہ قابل اعتماد سمجھتا ہے۔\n\nعوامی انفراسٹرکچر، صفائی ستھرائی کے نظام اور صحت کا شعبہ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔\n\nغزہ، جو 2007 سے حماس کے کنٹرول میں ہے، 2006 کے قانون ساز انتخابات کے بعد پہلی بار کسی انتخابی عمل کا حصہ بن رہا ہے، جن میں حماس نے کامیابی حاصل کی تھی۔\n\nقاہرہ کی الازہر یونیورسٹی کے سیاسی سائنسدان جمال الفادی نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا: فلسطینی اتھارٹی صرف دیر البلح میں انتخابات کا انعقاد کر رہی ہے، جسے ایک تجربے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے تاکہ اپنی کارکردگی کے نتائج کو جانچا جا سکے، کیونکہ اسرائیلی جارحیت کے بعد کوئی باقاعدہ عوامی رائے عامہ کے سروے موجود نہیں ہیں۔\n\nان کے مطابق دیر البلح کا انتخاب اس لیے کیا گیا کیونکہ یہ غزہ کے ان چند علاقوں میں سے ایک ہے جہاں دو سال سے زائد جاری حماس اور اسرائیل کی لڑائی کے باوجود آبادی بڑی حد تک اپنی جگہ پر موجود رہی اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی نہیں ہوئی۔\n\n24 سالہ محمد الحصینہ نے دیر البلح میں ووٹ ڈالنے کے بعد کہا کہ اگرچہ یہ انتخابات زیادہ تر علامتی نوعیت کے ہیں، تاہم یہ لوگوں کے ’زندہ رہنے کے عزم‘ کی علامت ہیں۔\n\nانہوں نے کہا: ’ہم ایک تعلیم یافتہ اور باحوصلہ قوم ہیں اور ہمیں اپنی ریاست کا حق حاصل ہے۔‘\n\nان کا مزید کہنا تھا: ’ہم چاہتے ہیں کہ دنیا جنگ کی تباہ کاریوں سے نکلنے میں ہماری مدد کرے۔ اب کافی ہو چکا، اب وقت ہے کہ غزہ کی تعمیرِ نو کی جائے۔‘\n\nغزہ\n\nالیکشن\n\nرام اللہ میں قائم مرکزی الیکشن کمیشن کے مطابق تقریباً 15 لاکھ افراد اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے میں جبکہ 70 ہزار افراد غزہ کے دیر البلح علاقے میں ووٹ ڈالنے کے لیے رجسٹرڈ ہیں۔\n\nاے ایف پی\n\nہفتہ, اپریل 25, 2026 - 16:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">فلسطینیوں نے 25 اپریل 2026 کو مغربی کنارے اور غزہ میں بلدیاتی انتخابات میں ووٹ ڈالے (اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\njw id:\n\nJYzOzbtA\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\n’کوئی ماں جگر کا ٹکڑا دفن نہ کرے‘: جنگ نے غزہ کی خواتین کی زندگی کیسے بدلی؟\n\nرفح کراسنگ جزوی طور پر کھلنے کے بعد غزہ کے شہریوں کا ملاپ\n\n’کوئی ماں جگر کا ٹکڑا دفن نہ کرے‘: جنگ نے غزہ کی خواتین کی زندگی کیسے بدلی؟\n\nاسرائیلی فوج کا پہلی بار غزہ میں تقریباً 70 ہزار فلسطینیوں کو قتل کرنے کا اعتراف\n\nSEO Title:\n\nاسرائیلی جارحیت کے بعد پہلی بار فلسطین میں بلدیاتی انتخابات\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "اسرائیلی جارحیت کے بعد پہلی بار فلسطین میں بلدیاتی انتخابات"
}