{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreieme3pesx4sheklxpryf5wfbxanm4mvuuvqzsen5wjp7apnxwnlt4",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mkcictttgek2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreibl7azf7bfhzbpq2ci6drflmate6fnfbfgholq725zgrlo36foloq"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 86233
  },
  "path": "/node/185643",
  "publishedAt": "2026-04-25T05:10:30.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "ایران جنگ",
    "آبنائے ہرمز",
    "امریکہ",
    "غذائی قلت",
    "آغا عبدالستار",
    "نقطۂ نظر",
    "news"
  ],
  "textContent": "**ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی نے نہ صرف تیل کی فراہمی کو متاثر کیا ہے بلکہ اس کی وجہ سے دوسری اشیا کی ترسیل میں بھی شدید مشکلات درپیش ہیں۔**\n\nاقوام متحدہ کے ادارے خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ان مشکلات کی وجہ سے کئی علاقوں میں انسانی المیے کی صورت حال مزید سنگین ہو سکتی ہے اور اس سے عالمی معیشت کو بھی مزید جھٹکا لگ سکتا ہے۔\n\nان اداروں کے مطابق پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال اور فلپائن سمیت کئی ترقی پذیر ممالک میں مشرق وسطی کی کشیدگی کی وجہ سے زرعی اجناس کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔\n\nاور یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب صرف براعظم ایشیا میں چار کروڑ 55 لاکھ سے زائد لوگ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ملنے والی امداد کے منتظر ہیں۔\n\nآبنائے ہرمز سے نہ صرف یہ کہ دنیا کے 20 فیصد سے زیادہ تیل کی سپلائی ہوتی ہے بلکہ کھاد کے خام مال کی ایک تہائی تجارت بھی اسی اہم گزرگاہ کے ذریعے ہوتی ہے۔\n\nخدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس سے امونیا اور نائٹروجن کی فراہمی میں بھی بہت بڑا تعطل پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ تعطل کسی حد تک پہلے ہی پیدا ہو چکا ہے اور اس کی وجہ سے بنگلہ دیش میں سرکاری کھاد کی فیکٹریوں میں پیداوار متاثر ہوئی ہے۔ یہ ایک ایسے وقت میں ہورہا ہے جب وہاں چاول کی اگائی کا موسم سر پر ہے۔\n\nاقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق اگر یہی صورت حال رہی تو ایشیا میں 91 لاکھ لوگ مزید عدم تحفظ کا شکار ہو جائیں گے۔\n\nمشرق وسطی سے دنیا کا 27 فیصد امونیا 22 فیصد فاسفیٹ اور 45 فیصد سلفر برآمد کیا جاتا ہے اور یہ سب کھاد کی پیداوار کے لیے بہت اہم ہیں۔ دنیا کی ایک تہائی نائٹروجن کھاد آبنائے ہرمز سے ہو کر گزرتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ معمولی سا خلل بھی عالمی نظام فراہمی کو متاثر کر سکتا ہے۔\n\nسعودی عرب فاسفورس کی برآمد کرنے والے چار بڑے ممالک میں سے ایک ہے اور اسے یہ برآمد کے لیے آبنائے ہرمز پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اس ساری صورت حال کے پیش نظر فاسفیٹ کی قیمتیں مذید اوپر جا سکتی ہیں۔\n\nزراعت اور غذائی عدم تحفظ کے علاوہ صنعتی پیداوار بھی اس صورت حال سے بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر تائیوان میں برقی آلات کی پیداوار 25 اشاریہ دو فیصد تک متاثر ہو سکتی ہے۔\n\nمشرق وسطی دنیا کی تقریبا آدھی ایتھلین گلائکول فراہم کرتا ہے جبکہ یہ علاقہ ایک تہائی عالمی پولیتھین بھی فراہم کرتا ہے جس کی فراہمی میں تاخیر کی وجہ سے چین اور ویتنام میں پیداواری شعبہ بری طرح متاثر ہو سکتا ہے۔ المونیم کی کمی کی وجہ سے شمالی افریقہ میں گاڑیوں کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔\n\nمشرق وسطی میں کشیدگی کے حوالے سے یورپ اور ایشیا کے درمیان ہوائی سفر بھی بہت متاثر ہوا ہے۔ صورت حال نے بہت ساری کمپنیوں کو طویل راستہ اختیار کرنے پر مجبور کردیا ہے جس سے ان کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ کمپیوٹر چپس، فائبر اپٹک کیبل اور میڈیکل امیجنگ سسٹمز بھی اس کشیدگی کی زد میں آگئے ہیں۔\n\nسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مغرب اور دوسرے متعلقہ فریق ممالک میں حکمران اشرافیہ پوری دنیا کی عوام کے ان مسائل کو کیوں نظر انداز کر رہی ہے؟\n\nایک طرف کرڑوں عوام کی یہ مشکلات ہیں اور دوسری طرف اس جنگ سے ہتھیاروں اور کچھ دوسری طرح کی کمپنیوں کو بہت فائدہ ہو رہا ہے۔\n\nامریکہ میں حکمراں طبقات کے کچھ افراد بھی اس موقع کا فائدہ اٹھا کر مشرق وسطی میں مختلف ممالک سے ڈرون اور ہتھیاروں کے کاروباری معاہدے کر رہے ہیں۔\n\nاقوام متحدہ کی کمزوری، یورپ کے کم ہوتے ہوئے اثر ورسوخ جب کہ چین اور روس کی اپنی مجبوریوں کے پیش نظر یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حاکم طبقات کو اس جنگی جنون سے روکنا آسان نہیں ہے۔\n\nتاہم ہم نے ماضی میں دیکھا ہے کہ جب امریکہ کے حاکم طبقات نے عالمی اداروں کے اصول و ضوابط کو اپنے پیروں تلے روندا اور اپنے جنگی جنون کو ویتنام، لاؤس، کمبوڈیا اور دوسرے ممالک پر مسلط کیا تو ایسے میں یہ امریکی عوام تھی، جس نے امریکی حکمرانوں کی اس متکبرانہ سوچ کو خاک میں ملانے کے لیے سڑکوں کا رخ کیا اور بڑے پیمانے پر اپنی حکومت کی جنگی پالیسی کی بھرپور مخالفت کی، جس سے لاکھوں انسان موت کی دلدل میں پھنس رہے تھے۔\n\nاسرائیل میں بھی ماضی کے تنازعات اور جنگوں کے دوران کچھ ایسے باضمیر لوگ اٹھے ہیں جنہوں نے اپنی حکومت کی کھل کے مخالفت کی ہے اور اسے حد سے تجاوز کرنے سے روکنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nلیبیا، شام، عراق اور لبنان کا عسکری طورپر جنازہ نکالنے کے بعد عسکری طور پہ خطے میں صرف اسرائیل ہی سب سے طاقتور ملک ہے جب کہ امریکہ عالمی سطح پر طاقت کا منبع ہے۔\n\nایسے میں صرف ان دونوں ممالک کی عوام ہی بڑے پیمانے پہ مظاہروں اور احتجاجوں کے ذریعے حکمرانوں کو مجبور کر سکتی ہے کہ وہ جنگ کے ان شعلوں کو مزید نہ بھڑکائیں اور سفارت کاری کو اپناتے ہوئے نہ صرف مشرق وسطی بلکہ پوری دنیا کو تباہی سے بچائیں۔\n\nلہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکہ میں جنگ مخالف عناصر ایک نکاتی ایجنڈے پہ متحد ہوں، جس کا مقصد مشرق وسطی میں جنگ بندی کو مستحکم کرنا اور مسئلے کا فوری سفارتی حل نکالنا ہو۔ یورپ، کینیڈ،ا جاپان، جنوبی کوریا اور دنیا کے دوسرے خطوں میں بھی جنگ مخالف مظاہرے ہونے چاہیے اور جنگ مخالف تنظیموں کو اس حوالے سے روابط بڑھانے چاہیے۔ ان جنگ مخالف تنظیموں کو ان مشکلات کا خصوصی طور پر تذکرہ کرنا چاہیے جو اس جنگ کی وجہ سے غریب ممالک کے لوگوں کا مقدر بن گئی ہیں۔\n\nانہیں امریکی اور اسرائیلی حاکموں کو متنبہ کرنا چاہیے کہ اس جنگ میں لوگ صرف ہتھیاروں سے نہیں مریں گے بلکہ عالمی سطح پر اجناس کی کمی، زراعت کی تباہی اور غذائی عدم تحفظ بھی بڑی تعداد میں اموات کا سبب بن سکتے ہیں۔\n\n_نوٹ یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔_\n\nایران جنگ\n\nآبنائے ہرمز\n\nامریکہ\n\nغذائی قلت\n\nایران پر امریکی واسرائیلی حملے کے بعد کھاد سمیت دوسرے سامان کی ترسیل بھی مشکلات کا شکار ہے۔\n\nآغا عبدالستار\n\nہفتہ, اپریل 25, 2026 - 09:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">چار مارچ 2026 کو ایک شخص پیرس میں میرین ٹریفک ویب سائٹ کے ایک صفحے کی طرف اشارہ کر رہا ہے جس میں آبنائے ہرمز کے کنارے، ایرانی ساحل کے قریب تجارتی جہازوں کی آمد و رفت دکھائی گئی ہے (اے ایف پی)</p>\n\nنقطۂ نظر\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nایرانی وزیر خارجہ اسلام آباد پہنچ گئے، امریکی حکام سے ملاقات سے انکار\n\n’آبنائے ہرمز کی بندش سے گیس سپلائی معطل‘، وزیر توانائی کی لوڈ شیڈنگ پر معذرت\n\nامریکہ کی آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کا کیا مطلب ہے؟\n\nآبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی، ایران کے پاس متبادل راستہ موجود ہے؟\n\nSEO Title:\n\nمشرق وسطیٰ بحران: ایشیائی زراعت اور صنعتیں متاثر ہو سکتی ہیں\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "مشرق وسطیٰ بحران: ایشیائی زراعت اور صنعتیں متاثر ہو سکتی ہیں"
}