{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreics3qo3my4mgh3ejzj6x2nr4bd3t2k4kiuwwtdub3jchpcemgjhzq",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mkc6d6p2zbx2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreifn4tdzcokk6rjpcmkzeklguv5sqtmdg7exwxiezcqbjhtrka72ti"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 104478
},
"path": "/node/185630",
"publishedAt": "2026-04-25T02:00:25.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"ایٹمی ہتھیار",
"سرمایہ کاری",
"امریکہ",
"منافع",
"اے ایف پی",
"دنیا",
"video"
],
"textContent": "**ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی مہم چلانے والے کارکنوں نے جمعے کو بتایا کہ مالیاتی ادارے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں اپنی سرمایہ کاری بڑھا رہے ہیں۔**\n\nان کارکنوں نے خبردار کیا کہ یہ رجحان ایسے وقت میں فوجی اخراجات کو مزید بڑھا سکتا ہے جب دنیا بھر میں تنازعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔\n\nماہرین پہلے ہی خبردار کر رہے ہیں کہ دنیا ایٹمی ہتھیاروں کی نئی دوڑ کی طرف بڑھ رہی ہے جبکہ یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں ایٹمی ممالک تنازعات میں ملوث ہیں اور اسلحے میں کمی اور عدم پھیلاؤ کی دیرینہ کوششیں کمزور پڑتی جا رہی ہیں۔\n\nجمعے کو جاری ہونے والی ایک نئی رپورٹ میں ایٹمی ہتھیاروں کا خاتمہ کے لیے کوشاں نوبیل امن انعام یافتہ تنظیم انٹرنیشنل کیمپین ٹو ایبولش نیوکلیئر ویپنز اور اینٹی نیوکلیئر گروپ پیکس نے کہا کہ مالیاتی اداروں کی بڑھتی ہوئی تعداد ان کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہے جو دنیا کے نو ایٹمی طاقت رکھنے والے ممالک کے ہتھیاروں کے ذخائر کو بڑھانے اور جدید بنانے میں مدد دے رہی ہیں۔\n\nسالانہ رپورٹ ’ڈونٹ بینک آن دا بم‘ کے مطابق ستمبر 2025 تک 301 بینکوں، پنشن فنڈز، انشورنس کمپنیوں اور دیگر مالیاتی اداروں نے ایٹمی ہتھیار بنانے والی کمپنیوں میں سرمایہ کاری یا فنانسنگ فراہم کی۔\n\nیہ ایک سال قبل کے مقابلے میں 15 فیصد زیادہ ہے اور اس نے کئی برسوں سے جاری کمی کے رجحان کو بدل دیا ہے۔\n\n**’خطرناک حکمتِ عملی‘**\nرپورٹ میں شریک مصنف اور آئی سی اے این کی پروگرام ڈائریکٹر سوزی سنائیڈر نے کہا ’کئی برسوں بعد پہلی بار اسلحے کی دوڑ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنے والے سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔‘\n\nانہوں نے خبردار کیا ’یہ ایک قلیل مدتی اور خطرناک حکمت عملی ہے جو کشیدگی میں اضافہ کرتی ہے اور اسلحے کی دوڑ سے فائدہ اٹھانا اس کو مزید ہوا دینے کے بغیر ممکن نہیں۔‘\n\nایران کا ایک سینٹری فیوج سینٹر جہاں یورینیم کی افزودگی ہوا کرتی تھی (اے ایف پی)\n\n\n\n\nرپورٹ کے مطابق دنیا کے نو ایٹمی ممالک روس، امریکہ، چین، برطانیہ، پاکستان، انڈیا، شمالی کوریا، فرانس اور اسرائیل اپنے ہتھیاروں کو جدید بنانے اور اکثر صورتوں میں بڑھانے میں مصروف ہیں، جس سے ان ہتھیاروں کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔\n\nفروری میں نیو سٹارٹ معاہدہ بھی ختم ہو گیا جو امریکہ اور روس کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کی تعیناتی کو محدود کرنے والا آخری بڑا معاہدہ تھا۔\n\nرپورٹ کے مطابق بڑے دفاعی ٹھیکے داروں کی سٹاک مارکیٹ ویلیو میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔\n\nرپورٹ کے مطابق روس سے لاحق خطرات اور اس بڑھتے خدشے کے پیش نظر کہ یورپ اب واشنگٹن کے تحفظ پر مکمل انحصار نہیں کر سکتا، کئی حکومتوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یورپ کی دوبارہ عسکری تیاری (rearmament) میں سرمایہ کاری کو اخلاقی پابندیوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔\n\n**709 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری**\n\nرپورٹ میں 25 کمپنیوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں شامل ہیں، جن میں جنرل ڈائنیمکس، ہنی وال انٹرنیشنل اور نورتھروپ گرمن سرفہرست ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nرپورٹ کے مطابق ان کمپنیوں میں سب سے بڑی سرمایہ کاری امریکی اداروں وین گارڈ، بلیک راک اور کیپیٹل گروپ نے کی۔\n\nرپورٹ کے مطابق جنوری 2023 سے ستمبر 2025 کے دوران سرمایہ کاروں نے ایٹمی ہتھیار بنانے والی 25 کمپنیوں میں 709 ارب ڈالر سے زائد کے حصص اور بانڈز رکھے جو گذشتہ جائزہ مدت کے مقابلے میں 195 ارب ڈالر سے زیادہ اضافہ ہے۔\n\nرپورٹ میں کہا گیا کہ اسی عرصے میں تقریباً 300 ارب ڈالر قرضوں اور انڈر رائٹنگ کی صورت میں بھی فراہم کیے گئے، جو پچھلی رپورٹ کے مقابلے میں تقریباً 30 ارب ڈالر زیادہ ہیں۔\n\nبڑے قرض دہندگان میں بینک آف امریکہ، جے پی مورگن چیس اور سٹی گروپ شامل ہیں۔\n\nاسی دوران رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ کئی مالیاتی اداروں نے یہ ثابت کیا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں سے منسلک سرمایہ کاری چھوڑ کر بھی خاطر خواہ منافع کمایا جا سکتا ہے۔\n\nمہم چلانے والوں کے مطابق 2025 کے اختتام تک ایسے اداروں کے زیر انتظام اثاثوں کی مجموعی مالیت 40 کھرب ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی جو واضح طور پر ان کمپنیوں میں سرمایہ کاری سے گریز کرتے ہیں۔\n\nایٹمی ہتھیار\n\nسرمایہ کاری\n\nامریکہ\n\nمنافع\n\nایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی مہم چلانے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں اپنی سرمایہ کاری بڑھا رہے ہیں۔\n\nاے ایف پی\n\nہفتہ, اپریل 25, 2026 - 07:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\"> 7 جنوری، 2026 کی اس تصویر میں فرانس کے شمال مشرقی علاقے ہیٹانژ-گرانڈ میں واقع کیٹنوم نیوکلیئر پاور پلانٹ کا بیرونی منظر (اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\njw id:\n\nPFYepN2U\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nشمالی کوریا ایٹمی ہتھیاروں میں ’بڑا‘ اضافہ کرے گا: کم جونگ ان\n\nکیا افغان طالبان ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کے لیے سرگرداں ہیں؟\n\nچاند پر ایٹمی بجلی گھر لگانے کا روسی منصوبہ\n\nایٹمی جنگ، کیا سب کچھ راکھ ہونے کو ہے؟\n\nSEO Title:\n\n301 بینکوں، مالیاتی اداروں کی ایٹمی ہتھیار بنانے والی کمپنیوں میں سرمایہ کاری: رپورٹ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "301 بینکوں، مالیاتی اداروں کی ایٹمی ہتھیار بنانے والی کمپنیوں میں سرمایہ کاری: رپورٹ"
}