{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreihjmi6koqf53nag5xsqzm5w4eeiu35usrtneroiwwdi7lterjrldy",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mkbqvoi4bkh2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiak4zbchnhfckkexvf5jxrgvbrqcmoav2haxrvmo2zsd5wsqlmkwq"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 66500
},
"path": "/node/185632",
"publishedAt": "2026-04-24T12:18:37.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"انفارمیشن ٹیکنالوجی",
"اے آئی ٹولز",
"ڈیپ سیک",
"چیٹ جی پی ٹی",
"چین",
"مصنوعی ذہانت",
"وشوام سنکرن",
"ٹیکنالوجی",
"news"
],
"textContent": "**چین کے مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارم ’ڈیپ سیک‘ نے اپنا طویل عرصے سے متوقع نیا اے آئی ماڈل جاری کر دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ عالمی سطح پر بہترین صلاحیتیں فراہم کرتا ہے۔**\n\nڈیپ سیک V4، جس کا پری ویو ورژن اب استعمال کے لیے دستیاب ہے، کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ اسے چین میں تیار ہونے والے مقامی چپس کے لیے بہتر انداز میں آپٹمائز کیا گیا ہے۔\n\nکمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ اس کا نیا ماڈل ’دس لاکھ الفاظ پر مشتمل انتہائی طویل کانٹیکسٹ کی صلاحیت رکھتا ہے اور ایجنٹ صلاحیتوں، عالمی معلومات اور ریزیننگ کارکردگی کے شعبوں میں مقامی اور اوپن سورس میدان میں قیادت حاصل کر چکا ہے۔‘\n\nیہ ماڈل دو ورژنز میں دستیاب ہے پہلا ڈیک سیک V4-پرو اور ڈیپ سیک V4-فلیش۔\n\nکمپنی کے مطابق فلیش ورژن زیادہ مؤثر اور کم لاگت والا انتخاب ہے۔\n\nکمپنی نے مزید کہا کہ ’عالمی معلومات کے بینچ مارکس میں ڈیپ سیک V4 پرو دیگر اوپن سورس ماڈلز پر واضح برتری رکھتا ہے اور صرف گوگل کے جنریٹو اے آئی کلوزڈ سورس ماڈل جمینائی پرو3.1 سے معمولی پیچھے ہے۔\n\nڈیپ سیک V4-پرو میں ’میکسیمم ریزیننگ موڈ‘ شامل ہے، جس کے بارے میں چینی سٹارٹ اپ کا کہنا ہے کہ یہ ’اوپن سورس ماڈلز کی علمی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کرتا ہے اور اسے آج دستیاب بہترین اوپن سورس ماڈل کے طور پر مضبوطی سے قائم ہے۔\n\nڈیپ سیک نے گذشتہ سال اپنے R1 ماڈل کی ریلیز کے بعد کھربوں ڈالر کی سٹاک مارکیٹ میں فروخت کی ہلچل پیدا کر دی تھی کیونکہ اس ماڈل نے اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی جیسے سسٹمز کی کارکردگی کا مقابلہ کیا، حالانکہ اسے تیار کرنے کی لاگت نسبتاً بہت کم تھی۔\n\nR1 کی ریلیز نے مغربی ٹیکنالوجی صنعت میں ہلچل مچا دی تھی، جہاں این ویڈیا کو ایک دن میں اپنی تاریخ کا سب سے بڑا نقصان برداشت کرنا پڑا اور اس کی مارکیٹ ویلیو میں 500 ارب ڈالر سے زائد کمی آئی، جبکہ اریکل، ایمازون اور مائیکروسافٹ جیسے دیگر بڑے اداروں کے شیئرز میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔\n\nاس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ڈیپ سیک کا ماڈل اوپن سورس، مفت استعمال کے لیے دستیاب اور نہایت کم لاگت میں تیار کیا گیا تھا۔\n\nیہ پہلا موقع بھی تھا جب کسی چینی کمپنی نے امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے جدید ترین اے آئی ماڈلز کا اس سطح پر مقابلہ کیا۔\n\nڈیپ سیک کی تازہ ریلیز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ کی جانب سے چین پر سیمی کنڈکٹرز، خاص طور پر اعلیٰ معیار کے گرافکس پروسیسنگ یونٹس (GPUs) کی برآمدات پر پابندیاں بڑھ رہی ہیں، جس کے باعث چین کو اپنی مقامی چپ سازی پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔\n\n28 جنوری 2025 کی اس تصویر میں چین کے صوبے مشرقی ژیجیانگ دکھائی دینے والی عمارت میں چینی مصنوعی ذہانت کا سٹارٹ اپ ڈیپ سیک کا ہیڈ کوارٹر واقع ہے (اے ایف پی)\n\n\n\n\nکمپنی نے یہ نہیں بتایا کہ V4 ماڈلز کی تربیت کے لیے کون سا چپ سسٹم استعمال کیا گیا، تاہم اس نے کہا کہ اس کے سافٹ ویئر کمپونینٹس Nvidia اور Huawei دونوں کے چپس کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔\n\nاب تک اے آئی کمپنی نے نئے ورژن کی صرف بنیادی تفصیلات جاری کی ہیں، جن میں یہ شامل ہے کہ یہ زیادہ سے زیادہ 384,000 ٹوکنز تک آؤٹ پٹ پیدا کر سکتا ہے۔\n\nٹوکنز وہ بنیادی اکائی ہیں جن پر اے آئی ماڈلز کام کرتے ہیں، اور یہ الفاظ یا حروف پر مشتمل ہو سکتے ہیں۔ عام طور پر ایک ٹوکن تقریباً 4 حروف کے برابر ہوتا ہے اور جتنی تیزی سے ماڈل ٹوکنز کو پراسیس کرے، اتنی ہی تیزی سے وہ سیکھتا اور جواب دے سکتا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nچینی اے آئی کمپنی کے مطابق نئے ورژن کو ایک نمایاں کمپیوٹیشنل بہتری حاصل ہے کیونکہ یہ ایک ملین ٹوکنز تک کے کانٹیکسٹ کو سمجھنے اور اسے پراسیس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔\n\nاس کے مقابلے میں پچھلا ورژن V3 صرف 128,000 ٹوکنز تک کے کانٹیکسٹ کو سمجھ سکتا تھا۔\n\nیہ نئی اپ گریڈ ملٹی ڈاکومنٹ استدلال کو ممکن بناتی ہے، جس کے تحت یہ اے آئی ماڈل اب مکمل کتابوں اور بڑے کوڈ ڈیٹابیسز کے کانٹیکسٹ کو بھی سمجھ سکتا ہے۔\n\nکمپنی کے مطابق یہ پیش رفت ایک ملین ٹوکنز کے کانٹیکسٹ کو مؤثر طریقے سے سپورٹ کرنے کے قابل بناتی ہے جو اگلی نسل کے بڑے لینگویج ماڈلز کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔\n\nطویل متن کو سمجھنے کے حوالے سے کمپنی کا کہنا ہے کہ ڈیپ سیک V4-پرو گوگل کے جیمنائی پرو3.1 سے بہتر کارکردگی دکھاتا ہے تاہم یہ اب بھی Anthropic کے Claude Opus 4.6 ماڈل سے پیچھے ہے۔\n\nڈیپ سیک نے کہا ہے کہ وہ مختلف حالات اور ٹاسک میں ماڈل کی ذہانت، مضبوطی اور عملی استعمال کو مزید بہتر بنانے کی کوشش جاری رکھے گا۔\n\nانفارمیشن ٹیکنالوجی\n\nاے آئی ٹولز\n\nڈیپ سیک\n\nچیٹ جی پی ٹی\n\nچین\n\nمصنوعی ذہانت\n\nچینی کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کا نیا ماڈل ’دس لاکھ الفاظ پر مشتمل انتہائی طویل کانٹیکسٹ کی صلاحیت رکھتا ہے۔\n\nوشوام سنکرن\n\nجمعہ, اپریل 24, 2026 - 18:30\n\nMain image:\n\n> <p>یکم ستمبر 2025 کو فرینکفرٹ میں ڈیپ سیک کا اے آئی لوگو لیپ ٹاپ اور سمارٹ فون اسکرین پر نمایاں ہے (اے ایف پی)</p>\n\nٹیکنالوجی\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nڈیپ سیک کے بعد ’مینس‘: اے آئی میں چین کی ایک اور چھلانگ\n\nڈیجیٹل وار: کیا ڈیپ سیک، مصنوعی ذہانت کی جنگ کا آغاز ہے؟\n\n’ڈیپ سیک ہماری نسل کشی کو مٹا رہا ہے‘: ایغور برادری کا انتباہ\n\nچینی اے آئی ’ڈیپ سیک‘ کن ممالک میں پابندی کا شکار ہے اور کیوں؟\n\nSEO Title:\n\nڈیپ سیک کا نیا اے آئی ماڈل متعارف، حریف کمپنیوں پر برتری کا دعویٰ\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/tech/deepseek-v4-pro-ai-model-china-release-b2964052.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "ڈیپ سیک کا نیا اے آئی ماڈل متعارف، حریفوں پر برتری کا دعویٰ"
}