{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreid2ldthrrjdjrriwp6z6qr7k3f4wfcdivnx75n7dzzjmef67tv44y",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mkbqvaxhd5h2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreiatzhqlae43p7acwg24b34egyxdgxwe5fpfdjpsvqwhhd4kn4kqne"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 72299
  },
  "path": "/node/185619",
  "publishedAt": "2026-04-24T14:45:21.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "April 24, 2026",
    "امریکی محمکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان",
    "@AmericaRpts",
    "@johnrobertsFox",
    "pic.twitter.com/npLePI513c",
    "Screenshot 2026-04-24 194503.jpg",
    "Screenshot 2026-04-24 151559.jpg",
    "View this post on Instagram",
    "A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)",
    "صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
    "امریکہ",
    "ایران",
    "ایران جنگ",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "دنیا",
    "video",
    "لائیو اپ ڈیٹس",
    "@statedeptspox",
    "@FoxNews"
  ],
  "textContent": "  * **امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع۔**\n  * **ایران کا آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کے خاتمے تک مذاکرات سے انکار۔**\n  * **پاکستان کی امریکہ اور ایران کو مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے آمادہ کرنے کی کوششیں۔**\n\n**لائیو اپ ڈیٹس**\n---\n\n* * *\n\n**امریکہ کا ایران کے تیل نیٹ ورک پر چین تک پابندیوں کا دائرہ وسیع**\n\nامریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایک بڑے چینی انڈپینڈنٹ ریفائنری اور تقریباً 40 اہداف، جن میں جہاز اور ان کے مالکان یا منتظمین شامل ہیں، پر پابندیاں عائد کر دی ہیں، جو ایران کی تیل برآمدات کے لیے اہم سہارا فراہم کرتے ہیں۔\n\nترجمان کے مطابق یہ پابندیاں ایران کے تیل کے عالمی نیٹ ورک کو محدود کرنے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کے تحت ان کمپنیوں اور جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو ایرانی تیل کی ترسیل میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔\n\n> The U.S. imposed sanctions today on a major, independent Chinese refinery and nearly 40 targets - vessels and their respective owners or managers - that serve as critical lifelines for Iran's oil exports.\n>\n> — Tommy Pigott (@statedeptspox) April 24, 2026\n\nامریکی محمکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق: ’امریکہ ایران کی غیر قانونی تیل تجارت کو متاثر کرنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کر رہا ہے، جو ایرانی حکومت کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہے اور جس کے ذریعے دہشت گردی اور خطے میں عدم استحکام کو فروغ دیا جاتا ہے۔‘\n\nبیان میں مزید کہا گیا کہ یہ اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ امریکہ ایران کی ’دہشت گردی کی مالی معاونت، پراکسی گروپس کی حمایت اور علاقائی استحکام کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت‘ کو محدود کرنے کے لیے پرعزم ہے۔\n\nامریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ ایرانی حکومت غیر قانونی تیل آمدنی کو اپنے ’منفی مقاصد‘ کے لیے استعمال نہ کر سکے، جبکہ ایرانی عوام بدستور معاشی بدانتظامی اور جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔\n\nبیان میں کہا گیا کہ امریکہ ’اکنامک فیوری مہم‘ کے تحت ایران اور اس کے ’غیر قانونی توانائی نیٹ ورک‘ کو سہارا دینے والے بین الاقوامی نظام پر معاشی دباؤ مزید بڑھائے گا۔\n\n* * *\n\n**اسلام آباد میں غیر ملکی وفود کی آمد، اشیا ضرورت کی شہر میں داخلے کی خصوصی اجازت**\n\n‏اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے جمعے کی رات جاری بیان میں کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات، اشیا خوردونوش اور ادویات لانے والی گاڑیوں کو شہر میں داخلے کی خصوصی اجازت دی گئی ہے اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ اشیاء خوردونوش, سبزی پھل ڈسٹری بیوٹرز، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی، فارما سیٹوکل انڈسٹری اور پیٹرول پمپس مالکان و سپلائرز کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔\n\nبیان کے مطابق ان تمام کیٹگریز میں کسی بھی قسم کی گاڑی کو روکا نہیں جا رہا تاہم تاحکم ثانی ہیوی ٹرانسپورٹ کے اسلام آباد داخلہ پر پابندی برقرار رہے گی۔\n\n* * *\n\n**ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اسلام آباد پہنچ گئے**\n\nایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں ایک ٹیم جمعے کی شب اسلام آباد آمد پہنچ گئی جہاں امریکہ سے مذاکرات کے دوسرے دور کا امکان ہے۔\n\nوزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کا استقبال نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے کیا۔\n\nبیان کے مطابق دورے کے دوران ایرانی وزیر خارجہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں خطے کی تازہ صورت حال اور علاقائی امن و استحکام کے لیے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔\n\nپی ٹی وی کے مطابق امریکہ کی سکیورٹی اور لاجسٹک ٹیم پہلے ہی پاکستان میں موجود ہے۔\n\nتاہم پاکستان اور ایران کی جانب سے جمعے کو عباس عراقچی کے دورے کے حوالے سے جاری بیانات میں امریکہ سے مذاکرات کا براہ راست ذکر نہیں ہےـ\n\nامریکی ٹیم نائب صدر جے ڈی وینس کے اس متوقع دورے سے قبل اسلام آباد پہنچی تھی، جسے 21 اپریل کو موخر کر دیا گیا تھا اور جس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا تھا۔\n\nاس کے بعد سے امریکہ اور ایران میں مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے تو ابہام تھا، تاہم اسلام آباد میں حکام نے اسی طرح سکیورٹی اقدامات کر رکھے تھے، جیسے مذاکرات کے پہلے دور میں کیے گئے تھے۔\n\nوائٹ ہاؤس نے بھی جمعے کو تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر ہفتے کی صبح پاکستان کی ثالثی میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسلام آباد کا دورہ کریں گے۔\n\nوائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے ایک انٹرویو میں کہا: ’اگر ضرورت پڑی تو سب لوگ پاکستان جانے کے لیے تیار رہیں گے، لیکن سب سے پہلے سٹیو اور جیرڈ وہاں جا کر صدر، نائب صدر اور ٹیم کے دیگر ارکان کو صورت حال سے آگاہ کریں گے۔‘\n\n* * *\n\n**سٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر ہفتے کی صبح اسلام آباد روانہ ہوں گے: وائٹ ہاؤس**\n\nوائٹ ہاؤس نے جمعے کو تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر ہفتے کی صبح پاکستان کی ثالثی میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسلام آباد کا دورہ کریں گے۔\n\n> BREAKING: Karoline Leavitt confirms Jared Kushner and Steve Witkoff will head back to Pakistan tomorrow for peace talks with Iran.@AmericaRpts @johnrobertsFox pic.twitter.com/npLePI513c\n\n> — Fox News (@FoxNews) April 24, 2026\n\nوائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے ایک انٹرویو میں کہا: ’اگر ضرورت پڑی تو سب لوگ پاکستان جانے کے لیے تیار رہیں گے، لیکن سب سے پہلے سٹیو اور جیرڈ وہاں جا کر صدر، نائب صدر اور ٹیم کے دیگر ارکان کو صورت حال سے آگاہ کریں گے۔‘\n\nوائٹ ہاؤس کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران کے وزیر خارجہ کی سربراہی میں ایرانی وفد بھی جمعے کی شب اسلام آباد پہنچ رہا ہے۔ (روئٹرز)\n\n* * *\n\n**اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کے ’بروقت دورے‘ کا آغاز کر رہا ہوں: ایرانی وزیر خارجہ**\n\nایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کو کہا ہے کہ وہ اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کے ’بروقت دورے‘ کا آغاز کر رہے ہیں۔\n\nایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے مزید کہا: ’میرے دوروں کا مقصد اپنے شراکت داروں کے ساتھ دوطرفہ امور پر قریبی رابطہ کاری اور علاقائی پیش رفت پر مشاورت کرنا ہے۔‘\n\n## Screenshot 2026-04-24 194503.jpg\n\n* * *\n\nایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا: ’ہمارے ہمسایہ ممالک ہماری ترجیح ہیں۔‘\n\n**عباس عراقچی کی سربراہی میں ایک وفد پاکستان، عمان اور روس کا دورہ کرے گا: ایرانی میڈیا**\n\nایران کے سرکاری خبررساں ادارے ارنا نے کہا ہے کہ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی سربراہی میں ایک وفد پاکستان، عمان اور روس کا دورہ کرے گا۔\n\nادارے کے مطابق عراقچی جمعے کے روز اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کے دورے کا آغاز کریں گے اور ’اس دورے کا مقصد دو طرفہ مشاورت اور خطے کی موجودہ صورت حال کے ساتھ ساتھ ایران پر امریکہ اور اسرائیلی حکومتوں کی جانب سے مسلط کردہ جنگ کی تازہ ترین صورت حال پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔‘\n\n* * *\n\n**ایرانی وزیر خارجہ کی قیادت میں مذاکراتی ٹیم کی آج رات اسلام آباد آمد متوقع: پی ٹی وی**\n\nپاکستان کے سرکاری چینل پی ٹی وی نے جمعے کو حکومتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں ایک ٹیم کی آج رات اسلام آباد آمد متوقع ہے، جہاں امریکہ سے مذاکرات کے دوسرے دور کا امکان ہے۔\n\nپی ٹی وی کے مطابق امریکہ کی سکیورٹی اور لاجسٹک ٹیم پہلے ہی پاکستان میں موجود ہے۔\n\nامریکی ٹیم نائب صدر جے ڈی وینس کے اس متوقع دورے سے قبل اسلام آباد پہنچی تھی، جسے 21 اپریل کو موخر کر دیا گیا تھا اور جس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا تھا۔\n\nاس کے بعد سے امریکہ اور ایران میں مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے تو ابہام تھا، تاہم اسلام آباد میں حکام نے اسی طرح سکیورٹی اقدامات کر رکھے تھے، جیسے مذاکرات کے پہلے دور میں کیے گئے تھے۔\n\n* * *\n\n**اسحاق ڈار اور عباس عراقچی کا رابطہ، خطے میں امن کے لیے مسلسل مذاکرات پر زور**\n\nپاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے جمعے کو ٹیلیفونک گفتگو میں خطے میں امن کے لیے مسلسل مذاکرات اور رابطے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔\n\nپاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ایرانی ہم منصب کی فون کال موصول ہوئی، جس کے دوران ’فریقین نے علاقائی پیش رفت، جنگ بندی اور امریکہ-ایران روابط کے تناظر میں اسلام آباد کی جانب سے جاری سفارتی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا۔‘\n\nگفتگو کے دوران اسحاق ڈار نے بقیہ مسائل کے حل کے لیے ’مسلسل مذاکرات اور رابطے کی اہمیت‘ پر زور دیا تاکہ جلد از جلد ’علاقائی امن اور استحکام‘ کو فروغ دیا جا سکے۔\n\nوزیر خارجہ عراقچی نے اس حوالے سے پاکستان کے مستقل اور تعمیری سہولت کاری کے کردار کو سراہا اور دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔\n\nیہ گفتگو ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد سے متعلق تاحال ابہام پایا جا رہا ہے اور دونوں جانب سے تلخ بیانات کا تبادلہ بھی جاری ہے۔\n\n## Screenshot 2026-04-24 151559.jpg\n\n* * *\n\n**تہران کے امام خمینی ایئرپورٹ سے بین الاقوامی پروازیں ہفتے کو بحال ہوں گی: ایرانی میڈیا**\n\nایرانی خبر رساں ادارے اسنا کے مطابق تہران کے امام خمینی ایئرپورٹ سے بین الاقوامی پروازیں ہفتے کو دوبارہ شروع ہو جائیں گی۔ ایران نے چند دن قبل اپنی فضائی حدود دوبارہ کھولی ہے۔\n\nاعلان میں کہا گیا کہ پہلی بحال ہونے والی پروازیں استنبول اور مسقط کے لیے ہوں گی۔\n\nایران کی فضائی حدود 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ کے باعث بند کر دی گئی تھیں اور اب جنگ بندی کے دوران آہستہ آہستہ دوبارہ کھولی جا رہی ہیں۔\n\nحکام نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ مشہد کا ہوائی اڈہ، جو ملک کے شمال مشرق میں واقع دوسرے بڑے شہر کو خدمات فراہم کرتا ہے، پیر کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔\n\nجمعے کو ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق ترکی اور عمان کے لیے کم از کم دو بین الاقوامی پروازیں اس ایئرپورٹ سے روانہ ہوئیں۔\n\nیہ تصویر 17 جولائی 2020 کو لی گئی، جس میں ایران کے دارالحکومت تہران کے امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک چیک اِن کاؤنٹر پر روانہ ہونے والے مسافر اپنے سامان کے ساتھ پہنچ رہے ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\n* * *\n\n**ایران سے مذاکرات میں جوہری ماہرین شامل کیے جائیں: یورپی یونین**\n\nیورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کالس نے جمعے کو کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں جوہری ماہرین کو شامل کیا جانا چاہیے بصورت دیگر ’ہمیں ایک زیادہ خطرناک ایران کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘\n\nکاجا کالس نے قبرص میں یورپی رہنماؤں کے ایک غیر رسمی سربراہی اجلاس سے قبل گفتگو کرتے ہوئے کہ کہا کہ ’اگر مذاکرات صرف جوہری امور کے بارے میں ہیں اور میز پر کوئی جوہری ماہرین موجود نہیں ہیں، تو ہم ایک ایسے معاہدے پر پہنچیں گے جو جے سی پی او اے سے بھی کمزور ہوگا۔\n\n’اور (اگر) خطے کے مسائل، میزائل پروگراموں، پراکسیز کے لیے ان کی حمایت، اور یورپ میں ہائبرڈ اور سائبر سرگرمیوں کو حل نہیں کیا گیا، تو ہمیں ایک زیادہ خطرناک ایران کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘\n\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\n* * *\n\n**لبنان، اسرائیل جنگ بندی میں تین ہفتے کی توسیع: ڈونلڈ ٹرمپ**\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اسرائیل اور لبنان نے غیر مستحکم جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع کر دی ہے، ساتھ ہی انہوں نے جلد ہی ایک تاریخی سہ فریقی ملاقات اور ممکنہ امن معاہدے کی امید بھی ظاہر کی۔\n\nامریکی صدر نے دونوں ملکوں کے سفیروں سے ملاقات کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ امن کے قیام کا بہت اچھا امکان موجود ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک آسان کام ہوجانا چاہیے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nایران کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور ایسے میں ٹرمپ نے لبنان کے لیے امن کے امکانات پر انتہائی پرامید انداز میں بات کی، جب کہ دوسری جانب جان لیوا اسرائیلی حملوں کے بعد حزب اللہ نے نئے راکٹ داغے۔\n\nڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اسرائیل اور لبنان، جن کے آپس میں سفارتی تعلقات نہیں ہیں، کے سفیروں سے ملاقات کے دوران صحافیوں کو بتایا ’مجھے لگتا ہے کہ امن کے قیام کا بہت اچھا امکان موجود ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک آسان کام ہوجانا چاہیے۔‘\n\nٹرمپ نے اعلان کیا کہ جنگ بندی میں تین ہفتے کی توسیع کی جائے گی۔ 14 اپریل کو سفیروں کے درمیان پہلی ملاقات کے بعد ابتدائی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا جس کی مدت اتوار کو ختم ہونا تھی۔\n\nدوسری جانب امریکی صدر جمعرات کو کہا کہ امریکہ کو ایران کے ساتھ معاہدے کی کوئی جلدی نہیں ہے اور ایران کے لیے ’وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔‘ جب کہ تیسرا امریکی طیارہ بردار بحری جہاز مشرق وسطیٰ پہنچ گیا ہے۔\n\nٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’میرے پاس دنیا بھر کا وقت ہے، لیکن ایران کے پاس نہیں۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی فوج تباہ ہو چکی ہے اور ’ان کے رہنما اب ہمارے درمیان نہیں رہے، ناکہ بندی انتہائی سخت اور مضبوط ہے اور، یہاں سے، حالات صرف بدتر ہی ہوں گے۔‘\n\nڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی تہذیب کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی اپنی سابقہ دھمکیوں کے بعد جمعرات کو ایران پر جوہری ہتھیار سے حملہ کرنے کے امکان کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’نہیں، میں اسے استعمال نہیں کروں گا۔ میں جوہری ہتھیار کیوں استعمال کروں گا؟ جب ہم نے انتہائی روایتی انداز میں اس کے بغیر ہی انہیں تباہ کر دیا ہے۔ کسی کو بھی کبھی جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔‘\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nامریکہ\n\nایران\n\nایران جنگ\n\nوائٹ ہاؤس کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران کے وزیر خارجہ کی سربراہی میں ایرانی وفد بھی جمعے کی شب اسلام آباد پہنچ رہا ہے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعہ, اپریل 24, 2026 - 19:45\n\nMain image:\n\nدنیا\n\njw id:\n\nSmYYLTJM\n\ntype:\n\nvideo\n\nlabel:\n\nلائیو اپ ڈیٹس\n\nrelated nodes:\n\nآبنائے ہرمز ایران کے معاہدہ نہ کرنے تک بند رہے گی: ٹرمپ\n\nجب ٹرمپ گھنٹوں چیختے اور سچویشن روم سے باہر رہے\n\n’یلو کیک‘: وہ دھات جس نے ایران کو عالمی طاقتوں کے مدمقابل کھڑا کر دیا\n\nامریکی پابندیوں کے 47 سال: ایرانی معیشت کو چار ٹریلین ڈالر نقصان کی کہانی\n\nSEO Title:\n\nسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر ہفتے کی صبح اسلام آباد روانہ ہوں گے: وائٹ ہاؤس\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "سٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر ہفتے کی صبح اسلام آباد روانہ ہوں گے: وائٹ ہاؤس"
}