{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreihdvlwsdh3mbjndhqqa5qjno3ui52yrcavrbqud7twk2t5vi3jhbu",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mkbquwije2m2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreigd2wmisdr3yxy2fb4aranyk4u3hqp3kgyoubbetszqkhkmyfxwza"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 106477
  },
  "path": "/node/185637",
  "publishedAt": "2026-04-24T18:24:59.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "pic.twitter.com/1vP51xIoep",
    "April 24, 2026",
    "@Araghchi",
    "pic.twitter.com/XHrqXijgqx",
    "pic.twitter.com/lo7gPjvqsf",
    "https://t.co/XhcUjWQnMn",
    "ایران جنگ",
    "اسلام آباد مذاکرات",
    "ایرانی وزیر خارجہ",
    "امریکہ",
    "ثالثی",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "پاکستان",
    "video",
    "@IRIMFA_SPOX",
    "@MIshaqDar50",
    "@CENTCOM",
    "@statedeptspox"
  ],
  "textContent": "**ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں ایک ٹیم جمعے کی شب اسلام آباد آمد پہنچ گئی جہاں امریکہ سے مذاکرات کے دوسرے دور سے متعلق تجاویز پر غور کا امکان ہے۔**\n\nایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورہ پاکستان کے حوالے سے کہا کہ ایرانی وفد کا امریکہ کے نمائندوں سے ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں اور ایرانی موقف پاکستان کے ذریعے امریکی حکام تک پہنچایا جائے گا۔\n\nاسماعیل بقائی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا: ’ہم سرکاری دورے پر پاکستان کے شہر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی پاکستان کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے، جو امریکہ کی جانب سے مسلط کردہ جنگ کے خاتمے اور ہمارے خطے میں امن کی بحالی کے لیے جاری ثالثی اور نیک نیتی پر مبنی کوششوں کے ساتھ ہم آہنگ ہوں گی۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ ’ایران اور امریکہ کے درمیان کسی ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ ایران کے مؤقف اور تحفظات پاکستان کے ذریعے پہنچائے جائیں گے۔‘\n\n> We arrive in Islamabad, Pakistan, for an official visit. FM Araghchi will be meeting with Pakistani high-level officials in concert with their ongoing mediation & good offices for ending American imposed war of aggression and the restitution of peace in our region.\n>\n>  No meeting… pic.twitter.com/1vP51xIoep\n>\n> — Esmaeil Baqaei (@IRIMFA_SPOX) April 24, 2026\n\nاس سے قبل پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کا استقبال نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے استقبال کیا۔\n\nبیان کے مطابق دورے کے دوران ایرانی وزیر خارجہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں خطے کی تازہ صورت حال اور علاقائی امن و استحکام کے لیے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔\n\nتاہم پاکستان اور ایران کی جانب سے جمعے کو عباس عراقچی کے دورے کے حوالے سے جاری بیانات میں امریکہ سے مذاکرات کا براہ راست ذکر نہیں ہےـ\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو روئٹرز کو بتایا کہ ایران امریکہ کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے ایک پیشکش تیار کر رہا ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ ابھی انہیں اس پیشکش کی تفصیلات کا علم نہیں۔\n\nجب ان سے پوچھا گیا کہ امریکہ کس کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے تو ٹرمپ نے کہا: ’میں یہ نہیں کہنا چاہتا، لیکن ہم اُن لوگوں سے بات کر رہے ہیں جو اس وقت اختیار میں ہیں۔‘\n\nپی ٹی وی کے مطابق امریکہ کی سکیورٹی اور لاجسٹک ٹیم پہلے ہی پاکستان میں موجود ہے۔\n\n> Pleased to receive and welcome my brother, Foreign Minister of Iran, H. E. Abbas Araghchi @Araghchi, to Islamabad, alongside Field Marshal Syed Asim Munir and Interior Minister Mohsin Naqvi.\n>\n>  Look forward to our meaningful engagements aimed at promoting regional peace and… pic.twitter.com/XHrqXijgqx\n\n> — Ishaq Dar (@MIshaqDar50) April 24, 2026\n\nامریکی بمباری اور ایران کی جانب سے اہم آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد دونوں ممالک ایک تعطل کا شکار ہیں، جہاں ایران کی تیل برآمدات رکی ہوئی ہیں جبکہ امریکہ میں پیٹرول کی قیمتیں کئی برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔\n\nامریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ اس نے ایرانی بندرگاہوں کی بندش کے دوران اب تک 34 بحری جہاز واپس کیے ہیں۔\n\n> The blockade against ships entering or exiting Iranian ports continues. To date, U.S. forces have redirected 34 vessels. pic.twitter.com/lo7gPjvqsf\n>\n> — U.S. Central Command (@CENTCOM) April 24, 2026\n\nروئٹرز نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ عراقچی آمد کے فورا بعد سیدھا سرینا ہوٹل میں پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کے لیے پہنچے، جہاں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا پہلا دور بھی منعقد ہوا تھا۔\n\nایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی جعمے کی شب 24 اپریل 2026 کو اسلام آباد آمد کے فورا بعد پاکستان کے فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ملاقات کر رہے ہیں (پی آئی ڈی)\n\n\n\n\nادھر قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ ایک ٹیلی فونک گفتگو میں پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کے لیے اپنے ملک کی حمایت کا یقین دلایا۔\n\nوائٹ ہاؤس ترجمان نے پُرامید لہجہ اپناتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے حالیہ دنوں میں ایرانی جانب سے کچھ پیش رفت دیکھی ہے اور امید ہے کہ اس ہفتے کے اختتام پر مزید پیش رفت ہوگی۔\n\nانہوں نے مزید کہا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، جو اس ماہ کے آغاز میں ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ناکام ابتدائی مذاکرات کی قیادت کر چکے ہیں، اگر بات چیت کامیاب ثابت ہوئی تو پاکستان آ کر مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں۔\n\nاس سے قبل نائب صدر جے ڈی وینس کے متوقع دورے کو 21 اپریل کو موخر کر دیا گیا تھا اور جس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا تھا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاس کے بعد سے امریکہ اور ایران میں مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے تو ابہام تھا، تاہم اسلام آباد میں حکام نے اسی طرح سکیورٹی اقدامات کر رکھے تھے، جیسے مذاکرات کے پہلے دور میں کیے گئے تھے۔\n\nعراقچی نے ایکس پر لکھا کہ وہ پاکستان، عمان اور روس کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ دوطرفہ امور پر شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کی جا سکے اور علاقائی صورت حال پر مشاورت کی جا سکے۔\n\nبعد ازاں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ اس دورے میں جنگ کے خاتمے کی تازہ کوششوں پر بھی بات چیت شامل ہوگی۔\n\nایرانی سرکاری میڈیا اور پاکستانی ذرائع کی رپورٹس میں ایران کی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کا کوئی ذکر نہیں تھا، جو اس ماہ کے آغاز میں مذاکرات کے پہلے دور میں ایرانی وفد کی قیادت کر رہے تھے۔\n\nایرانی پارلیمان کے میڈیا دفتر نے اس خبر کی تردید کی کہ قالیباف نے ایران کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ کے طور پر استعفیٰ دے دیا ہے، اور مزید کہا کہ ابھی تک مذاکرات کا کوئی نیا دور طے نہیں ہوا۔\n\nوائٹ ہاؤس نے بھی جمعے کو تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر ہفتے کی صبح پاکستان کی ثالثی میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسلام آباد کا دورہ کریں گے۔\n\n**تازہ امریکی پابندی**\n\nادھر امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کی غیر قانونی تیل کی تجارت کو روکنے کے لیے ’فیصلہ کن اقدام‘ کر رہا ہے، جو ایرانی حکومت کی آمدنی کے بنیادی ذرائع میں شامل ہے اور جس سے دہشت گردی اور خطے میں عدم استحکام کو فروغ دیا جاتا ہے۔\n\nمحکمہ خزانہ نے آج ایک بڑی، آزاد چینی ریفائنری اور تقریباً 40 دیگر اہداف — جن میں جہاز اور ان کے مالکان یا منتظمین شامل ہیں — پر پابندیاں عائد کی ہیں، جو ایران کی تیل برآمدات کے لیے اہم سہارا فراہم کرتے ہیں۔\n\n> The Trump Administration will continue to intensify pressure on the Iranian regime to halt its use of illicit oil revenue to advance its malign agenda. https://t.co/XhcUjWQnMn\n\n> — Tommy Pigott (@statedeptspox) April 24, 2026\n\nاس اقدام کا مقصد امریکہ کا کہنا ہے کہ ان مالی ذرائع کو محدود کرتا ہے جو مشرق وسطیٰ میں حکومت کی عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں کو تقویت دیتے ہیں۔\n\nبیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ امریکہ ایران کی مبینہ دہشت گردی کی مالی معاونت، پراکسی قوتوں کی حمایت اور علاقائی استحکام کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت کو محدود کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ ’انتظامیہ اس بات پر مرکوز ہے کہ ایرانی حکومت غیر قانونی تیل آمدنی کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال نہ کر سکے، جبکہ ایرانی عوام بدستور معاشی بدانتظامی اور جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔‘\n\nامریکہ کا کہنا ہے کہ وہ اقتصادی دباؤ کو مزید بڑھائے گا اور اس بین الاقوامی نیٹ ورک کو بھی نشانہ بنائے گا جو ایران کی غیر قانونی توانائی تجارت کو سہارا دیتا ہے، اور یہ سب ’اکنامک فیوری‘ کے تحت کیا جا رہا ہے۔\n\n**تیل کی قیمتیں**\n\nجمعہ کو پاکستان کی وزارت توانائی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔\n\nعالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہا، کیونکہ تاجر تاریخ کے بدترین تیل جھٹکے کے ممکنہ اثرات کا اندازہ لگاتے ہوئے مزید مذاکرات کے امکانات کو بھی مدنظر رکھ رہے تھے۔\n\nبرینٹ کروڈ فیوچرز 105.33 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا، جو تقریباً 0.3 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ فیوچرز 1.5 فیصد کمی کے ساتھ 94.40 ڈالر پر آ گیا۔\n\n**اسلام آباد ٹریفک پلان**\n\nایرانی وفاد کی آمد کے وقع پر اسلام آباد کی مختلف سڑکوں پر ٹریفک بلاک ہونے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ تاہم اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں پھر سے واضح کیا گیا ہے کہ ریڈ زون اور توسیعی ریڈ زون ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند رہے گا۔\n\nکورال سے زیرو پوائنٹ تک ایکسپریس وے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہوگا۔ سری نگر ہائی وے پر بھی مختلف اوقات میں ٹریفک روکی جاسکتی ہے۔ اسلام آباد میں کسی بھی جانب یا کسی بھی شاہراہ سے آنے والی ہر قسم کی ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند رہے گا۔\n\nہیوی ٹریفک مالکان سے پھر سے کہا گیا ہے کہ ان دنوں میں دقت سے بچنے کے لیے اسلام آباد کی طرف ہرگز سفر نہ کریں۔\n\nاسلام آباد کے رہائشی مختلف سڑکیں بند ہونے کی صورت میں ذیل متبادل ٹریفک پلان پر عمل درآمد کریں۔ جی5، جی 6 اور جی 7 ، ایف 6، ایف 7 کے رہائشی راولپنڈی آنے جانے کے لیے مارگلہ روڈ سے 9th ایونیو استعمال کریں۔\n\nفیصل ایونیو سے زیرو پوائنٹ آنے جانے والی ٹریفک 9th ایونیو کی طرف موڑ دی جائے گی۔ زیروپوائنٹ سے کورال چوک بند ہونے کی صورت میں سری نگر ہائی وے سے 9th ایونیو استعمال کرتے ہوئے سٹیڈیم روڈ کے ذریعے مری روڈ چاندنی چوک سے راول روڈ استعمال کرتے ہوئے کورال جاسکتے ہیں۔\n\nپارک روڈ سے کلب روڈ بند ہونے کی صورت میں ٹریفک ترامڑی چوک کی طرف موڑ دی جائے گی ۔ بھارہ کہو سے راولپنڈی آنے جانے والے شہری کو رنگ روڈ، بنی گالہ، لہتراڑ روڈ استعمال کرنے کا کہنا گیا ہے۔\n\nراولپنڈی صدر سے اسلام آباد آنے جانے والے شہری کرنل شیرخان روڈسے فقیر ایپی روڈ یا نائنتھ ایونیو میں سے کوئی بھی شاہراہ استعمال کریں۔ جی ٹی روڈ پشاور سے لاہور جانے والی ہیوی ٹریفک ٹیکسلا سے موٹروے، چکری انٹرچینج، چک بیلی روڈ سے روات جی ٹی روڈ استعمال کریں۔\n\nجی ٹی روڈ لاہور سے پشاور جانے والی ہیوی ٹریفک جی ٹی روڈ روات سے چک بیلی روڈسے چکری انٹر چینج استعمال کرتے ہوئے براستہ موٹروے ،ٹیکسلا کی جانب سفر کریں۔\n\nایران جنگ\n\nاسلام آباد مذاکرات\n\nایرانی وزیر خارجہ\n\nامریکہ\n\nثالثی\n\nوائٹ ہاؤس نے بھی جمعے کو تصدیق کی ہے کہ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ہفتے کی صبح پاکستان کی ثالثی میں ایران جنگ کے خاتمے کے مذاکرات کے لیے اسلام آباد کا دورہ کریں گے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعہ, اپریل 24, 2026 - 23:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی جعمے کی شب 24 اپریل 2026 کو اسلام آباد آمد کے فورا بعد پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ملاقات کر رہے ہیں (پی آئی ڈی)</p>\n\nپاکستان\n\njw id:\n\n9WISa24y\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر ہفتے کی صبح اسلام آباد روانہ ہوں گے: وائٹ ہاؤس\n\nامریکی پابندیوں کے 47 سال: ایرانی معیشت کو چار ٹریلین ڈالر نقصان کی کہانی\n\nایران امریکہ جنگ: سفارت کاری میں چین کا کیا کردار رہا؟\n\nآبنائے ہرمز پر مبہم ایرانی بیان، امن کی کوششوں کے لیے نیا چیلنج\n\nSEO Title:\n\nایرانی وزیر خارجہ اسلام آباد پہنچ گئے، امریکی حکام سے ملاقات سے انکار\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "ایرانی وزیر خارجہ اسلام آباد پہنچ گئے، امریکی حکام سے ملاقات سے انکار"
}