{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreie4xybenhqzptwyt2djq672eyg3xtzzripmbw2sjtaa4jupub34lq",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mk6zq5dtbyc2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiabmtc4razjr2ufabe3jonktxgqsvjc5agyjcp6fm4vfnmqhx53oi"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 140750
},
"path": "/node/185612",
"publishedAt": "2026-04-23T10:54:24.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"ایران جنگ",
"چین",
"پاکستان",
"امریکہ",
"اسرائیل",
"یورپ",
"نیٹو",
"اسلام آباد مذاکرات",
"ثالثی",
"ایسوسی ایٹڈ پریس",
"ایشیا",
"news"
],
"textContent": "**مشرق وسطیٰ میں حالیہ جنگ کے دوران ایک غیر رسمی ثالث کے طور پر چین کا کردار دنیا بھر میں توجہ حاصل کر رہا ہے۔**\n\nچین کا کردار اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ بیجنگ خود کو ایک ذمہ دار عالمی طاقت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ امریکہ کے اقدامات اس کے دیرینہ اتحادیوں کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی پیدا کر رہے ہیں۔\n\nحالیہ برسوں میں چین کی بین الاقوامی سفارت کاری میں اہمیت بڑھی ہے جس کی بڑی وجہ اس کے سفارت کاروں کی فعال کوششیں ہیں۔\n\nاگرچہ ماضی میں بیجنگ اپنی سرحدوں سے دور تنازعات اور جنگوں میں مداخلت سے گریز کرتا رہا لیکن اب وہ جنوب مشرقی ایشیا سے لے کر یورپ تک مختلف تنازعات میں ثالثی کی کوششوں کے باعث ایک اہم کردار بن کر ابھرا ہے۔\n\nایران جنگ کے معاملے میں بیجنگ باضابطہ ثالث نہیں لیکن واشنگٹن اور تہران سمیت تمام فریقین کا کہنا ہے کہ اس نے کشیدگی کم کرنے کی اسلام آباد کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔\n\nماہرین کے مطابق مختلف تنازعات میں چین کی سفارتی حکمت عملی ایک جیسی رہی ہے اور مذاکرات پر اثر انداز ہونے میں اس کی کامیابی ملی جلی رہی ہے تاہم یہ کوششیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے باعث امریکہ اور نیٹو، یورپی یونین اور خلیج میں اس کے روایتی اتحادیوں کے درمیان تناؤ بڑھا ہے۔\n\nایران جنگ میں ماہرین کا کہنا ہے کہ تہران کے ساتھ چین کے قریبی معاشی اور سیاسی تعلقات سے اسے ایک منفرد اثر و رسوخ حاصل ہے خاص طور پر ایسے وقت میں جب یہ تنازع عالمی توانائی کی، خصوصاً ایشیا میں، فراہمی متاثر کر رہا ہے۔\n\n**جنگ بندی میں کردار**\n\nصدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ چین نے ایران کو اس نازک جنگ بندی پر مذاکرات کے لیے آمادہ کرنے میں مدد دی جس میں بعد ازاں توسیع بھی کی گئی۔\n\nسفارت کاروں نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ چین، جو ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، نے اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے ایران کو اس ماہ کے اوائل میں پاکستان میں ہونے والے تاریخی براہ راست مذاکرات کی میز پر واپس آنے پر آمادہ کیا۔\n\nسنگاپور کی نانیانگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی کی محقق یاچی لی کے مطابق بیجنگ نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی، غالباً اس لیے کہ وہ خود کو امریکہ کی قیادت میں قائم سکیورٹی نظام کا حصہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا۔\n\nاس کے باوجود بعض حلقے اسے بیجنگ کے لیے ایک اہم لمحہ قرار دیتے ہیں، جو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ پر تنقید کرتا رہا ہے۔\n\nوزیراعظم شہباز شریف 11 اپریل، 2026 کو اسلام آباد مذاکرات کے موقعے پر ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں آنے والے ایرانی وفد سے ملاقات کرتے ہوئے (وزیراعظم ہاؤس)\n\n\n\n\n28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے آغاز کے بعد چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے اسرائیل، سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات سمیت مختلف ممالک کے ہم منصبوں سے رابطے کیے۔\n\nچینی وزارت خارجہ کے مطابق اپریل کے وسط تک وہ اس جنگ کے حوالے سے 30 ٹیلیفونک رابطے کر چکے تھے۔\n\nوانگ یی نے پاکستان کے وزیر خارجہ کی میزبانی بھی کی، جو حالیہ مذاکرات میں مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، اور اس موقعے پر تنازع کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر مشتمل پانچ نکاتی تجویز پیش کی۔\n\nحالیہ دنوں میں چینی صدر شی جن پنگ غیر معمولی طور پر زیادہ واضح موقف اختیار کرتے نظر آئے ہیں۔\n\nگذشتہ ہفتے انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا ’جنگل کے قانون‘ کی طرف واپس نہ لوٹے، جبکہ اس ہفتے انہوں نے آبنائے ہرمز کھولنے پر بھی زور دیا۔\n\n**چین کی معاشی طاقت**\n\nایشیا گروپ کے ماہر جارج چن کے مطابق ایران کے معاملے میں چین کے کردار کا کوئی متبادل نہیں۔ تہران کے سب سے بڑے تیل خریدار کے طور پر ایران میں اس کی بات کو اہمیت دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین اقوام متحدہ میں بھی ایران کے مؤقف کے لیے ہمدردی ظاہر کرنے والے چند ممالک میں شامل ہے۔\n\nامریکی حکومت کے مطابق مبینہ طور پر ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام چینی ٹیکنالوجی سے تیار کیا گیا جبکہ چین ایسے صنعتی پرزے بھی فراہم کرتا ہے جو میزائل بنانے میں استعمال ہو سکتے ہیں۔\n\nاگرچہ چین براہِ راست ثالثی میں پاکستان یا خلیجی عرب ممالک جتنا فوری اثر و رسوخ نہیں رکھتا، تاہم وہ ان ممالک کا اہم معاشی شراکت دار ہونے کی وجہ سے منفرد حیثیت رکھتا ہے۔\n\nاٹلانٹک کونسل کے ماہر توویا گیرنگ کے مطابق چین ایران کو جنگ کے بعد تعمیر نو اور معاشی بحالی کے لیے سرمایہ کاری اور مراعات دینے کی پوزیشن میں ہے، جو بہت کم ممالک کر سکتے ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانہوں نے کہا: ’چین ان چند طاقتوں میں سے ہو سکتا ہے جو تہران کو سیاسی تحفظ اور عملی مراعات دونوں فراہم کر کے اسے کسی معاہدے کی پابندی پر آمادہ کر سکے۔‘\n\n**عالمی ثالث کے طور پر چین کا بڑھتا ہوا قد**\n\nحالیہ برسوں میں چین کی ایک بڑی سفارتی کامیابی 2023 میں سامنے آئی، جب اس نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی میں کردار ادا کیا، جسے ایک بڑی جغرافیائی سیاسی پیش رفت قرار دیا گیا۔\n\nماہرین کے مطابق چین عموماً ایسے مواقع پر ثالثی کرتا ہے جب حالات پہلے ہی کسی معاہدے کے لیے سازگار ہوں، اس لیے اس کا کردار نسبتاً کم خطرے والا ہوتا ہے۔\n\nچین نے تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان حالیہ تنازعے میں بھی سرگرم کردار ادا کیا، جبکہ یوکرین جنگ کے لیے بھی امن تجاویز پیش کیں، حالانکہ وہ روس کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے۔ چین نے حال ہی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان بھی اورمچی میں امن مذاکرات کی میزبانی ہے۔\n\n**چین کا محتاط سفارتی انداز**\n\nماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی سفارت کاری ایک مخصوص انداز کی پیروی کرتی ہے، جس میں اقوام متحدہ کے منشور، قومی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کے احترام پر زور دیا جاتا ہے۔\n\nچینی صدر شی جن پنگ نے بھی گذشتہ ہفتے پرامن بقائے باہمی، خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر زور دیا۔\n\nایران جنگ\n\nچین\n\nپاکستان\n\nامریکہ\n\nاسرائیل\n\nیورپ\n\nنیٹو\n\nاسلام آباد مذاکرات\n\nثالثی\n\nاگرچہ چین ماضی میں اپنی سرحدوں سے دور تنازعات اور جنگوں میں مداخلت سے گریز کرتا رہا لیکن اب وہ جنوب مشرقی ایشیا سے لے کر یورپ تک مختلف تنازعات میں ثالثی کی کوششیں کر رہا ہے۔\n\nایسوسی ایٹڈ پریس\n\nجمعرات, اپریل 23, 2026 - 15:45\n\nMain image:\n\n> <p>22 اپریل 2026 کو اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع سرینا ہوٹل کے قریب ایک فوجی اہلکار پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات میں ثالثی کو اجاگر کرنے والے پوسٹرز کے پاس سے گزرتے ہوئے (اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nچین، پاکستان کا ایران سے سیزفائر اور آبنائے ہرمز محفوظ بنانے کا مطالبہ\n\nایران اور چین کے درمیان 25 سالہ معاہدہ امریکہ کے لیے پیغام\n\nوزرائے خارجہ ملاقات: چین ایران ’سٹریٹیجک معاہدہ‘ یا ’تیل درآمدات‘\n\nSEO Title:\n\nایران جنگ: سفارت کاری میں چین کا کیا کردار رہا؟\n\ncopyright:\n\nTranslator name:\n\nعبدالقیوم\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "ایران جنگ: سفارت کاری میں چین کا کیا کردار رہا؟"
}