{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiaymgb2sxrksjfzrpifkq7xdvd2nipfywxciikq2eqeoncx3oly3m",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mk6zpm4dfdb2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreid722ql2xa7csnilvahgzyphtsr4s4nng7lbhcfqzgukzaathja7m"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 119482
},
"path": "/node/185615",
"publishedAt": "2026-04-23T13:30:25.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"ویب سائٹ",
"بلوچستان",
"چاغی",
"معدنیات",
"حملہ",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"پاکستان",
"news"
],
"textContent": "**’بلوچستان کے لیے امید کی تلاش‘ (Discovering Hope of Balochistan) کا نعرہ نکانے والی مائننگ کمپنی ’نیشنل ریسورسز لمیٹڈ‘ (این آر ایل) پر گذشتہ روز ہونے والے حملے میں ایک ترک شہری سمیت 10 افراد جان سے چلے گئے جبکہ کئی افراد زخمی ہیں۔**\n\nحملے کا نشانہ بننے والی اس کمپنی کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟\n\nاین آر ایل کی ویب سائٹ کے مطابق ’نیشنل ریسورسز لمیٹڈ‘ ایک مشترکہ منصوبہ ہے، جس میں لکی سیمنٹ لمیٹڈ اور فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ کی 33.33 فیصد ایکویٹی حصہ داری ہے، جس نے بلوچستان کے ضلع چاغی میں اپنی ایکسپلوریشن لیز (جو اکتوبر 2023 میں دی گئی تھی) کے علاقے میں تانبے اور سونے کی معدنیات کی ایک اہم دریافت کی ہے۔\n\nاین آر ایل نے لیز پر دیئے گئے علاقے میں متعدد ممکنہ مقامات کی نشاندہی کی ہے، جہاں بڑی مقدار میں قیمتی معدنیات موجود ہیں۔\n\nان میں سے ایک مقام جسے ’تانگ کور‘ کہا جاتا ہے، اب جدید ڈرلنگ کے مرحلے تک پہنچ چکا ہے۔\n\nکمپنی نے 13 ڈائمنڈ ڈرل ہولز مکمل کیے ہیں، جن کی مجموعی گہرائی 3,517 میٹر ہے جبکہ پہلے 15 ہزار میٹر گہرے چھ ہولز نے 48 سے 148 میٹر تک معدنی زونز کی تصدیق کی ہے، جہاں اوسط گریڈ 0.23 فیصد سے 0.48 فیصد، تانبا، 0.09 سے 0.14 گرام فی ٹن سونا اور 1.30 سے 6.21 گرام فی ٹن چاندی پایا گیا ہے۔\n\nاین آر ایل کی ویب سائٹ کے مطابق کمپنی مقامی بلوچ آبادی کو اہم سٹیک ہولڈرز سمجھتی ہے اور صاف پانی، تعلیم، صحت اور مقامی روزگار و کاروبار کے ذریعے سماجی ترقی کی حمایت کرتی ہے۔\n\nاس وقت مقامی ملازمتوں کی شرح 90 فیصد سے زیادہ ہے۔ کمپنی صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دے رہی ہے اور پائیداری کے اصولوں کے لیے پرعزم ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاین آر ایل حکومت بلوچستان اور سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کے ساتھ مل کر مزید دو تانبے اور سونے کے ایکسپلوریشن لائسنس حاصل کرنے پر کام کر رہی ہے، جس کے لیے 100 ملین ڈالر کا ایکسپلوریشن فنڈ بھی موجود ہے۔\n\nکمپنی منصوبے میں مزید مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو شامل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔\n\nاین آر ایل نے آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی (او جی ڈی سی) کے ساتھ بھی ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں تاکہ نئے حاصل شدہ لیزز پر مشترکہ طور پر کام کیا جا سکے۔\n\nکمپنی کے مطابق ان منصوبوں سے بلوچستان کے لوگوں کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور یہ کان کنی کے شعبے میں بڑی سرمایہ کاری لائیں گے۔\n\nاین آر ایل کا کہنا ہے کہ وہ اپنی تمام افرادی قوت پاکستان، خصوصاً بلوچستان سے بھرتی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔\n\nاس کے ساتھ ایک بڑی غیر ملکی کنسلٹنسی کمپنی کو بھی شامل کیا جائے گا تاکہ مکمل ایکسپلوریشن کی نگرانی کرے اور مقامی انجینیئرز کو تربیت دے تاکہ وہ مستقبل میں خود یہ کام انجام دے سکیں۔\n\nکان کنی کے شعبے کو سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل نے معیشت کی بحالی کے لیے ترجیحی شعبوں میں شامل کیا ہے اور اس کے لیے ایک روڈ میپ تیار کیا گیا ہے تاکہ مائننگ کے پورے نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔\n\nبلوچستان\n\nچاغی\n\nمعدنیات\n\nحملہ\n\nبلوچستان کے ضلع چاغی میں تانبے اور سونے کی اہم دریافت کرنے والی نیشنل ریسورسز لمیٹڈ ایک مشترکہ منصوبہ ہے، جس میں لکی سیمنٹ لمیٹڈ اور فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ کے شیئرز ہیں۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعرات, اپریل 23, 2026 - 18:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">این آر ایل نے لیز پر دیئے گئے علاقے میں متعدد ممکنہ مقامات کی نشاندہی کی ہے جہاں بڑی مقدار میں قیمتی معدنیات موجود ہیں (این آر ایل)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nبلوچستان: مائننگ کمپنی کی سائٹ پر حملہ، ترک شہری سمیت 10 افراد قتل\n\nپاکستان شعبہ معدنیات میں ترقی کے لیے چینی سرمایہ کاری کا خواہاں: احسن اقبال\n\nریکوڈک: چین کے بعد امریکہ بھی بلوچستان کی معدنیات کے میدان میں\n\nامریکہ کی ریکوڈک کے لیے 1.25 ارب ڈالر فنانسنگ کی منظوری\n\nSEO Title:\n\nبلوچستان میں حملے کا نشانہ بننے والی مائننگ کمپنی کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "بلوچستان میں حملے کا نشانہ بننے والی مائننگ کمپنی کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟"
}