{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreieggielcfnmjbbuoh6kh4xpbx7sgse3o5kzdyoklczoqrxfdwos4u",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mk6zp7tznql2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreid5bih7izufqutprcaga72c545ngsr2rnjabgmfpihrlisl6tav6i"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 116091
},
"path": "/node/185617",
"publishedAt": "2026-04-23T17:50:58.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"pic.twitter.com/BeoXaARBn5",
"April 23, 2026",
"مسجد اقصیٰ",
"اسرائیل",
"مسلم ممالک",
"یہودی بستیاں",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"پاکستان",
"news",
"@ForeignOfficePk"
],
"textContent": "**پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے جمعرات کو مقبوضہ بیت المقدس کے اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں اسرائیلی حکام کی جانب سے خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی ہے، جن میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہاپسند وزرا کی جانب سے مسجد اقصیٰ میں دراندازیاں اور اسرائیلی پرچم لہرانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔**\n\nپاکستان، مصر، ترکی، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے میں ان ’اشتعال انگیز اقدامات‘ کو ’بین الاقوامی قوانین کی ’کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیتے ہوئے ’دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ناقابلِ قبول اشتعال انگیزی کے مترادف‘ کہا گیا۔\n\nبیان میں مقبوضہ بیت المقدس اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو دوٹوک طور پر مسترد کرنے اور اس کے تحفظ پر زور دیا گیا۔\n\nیہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب 16 اپریل کو یہودی آباد کاروں نے اسرائیلی سکیورٹی اداروں کی مدد سے مسجد اقصیٰ پر چرھائی کر دی۔ اس دوران فلسطینی مسلمانوں کو مسجد میں داخل ہونے سے بھی روک دیا گیا۔\n\nفلسطینی نیوز ایجنسی ’وفا‘ کے مطابق یہ واقعہ اس دن پیش آیا، جسے یہودی یوم فصح کے نام سے مناتے ہیں۔ یہ تہوار تین ہزار سال پرانے اس واقعے کی خوشی میں منایا جاتا ہے جب یہودیوں کو مصر سے نکلنے کا موقع ملا تھا۔\n\nفلسطینی اتھارٹی کے زیر انتظام یروشلم کے گورنریٹ کے مطابق اس موقعے پر یہودی آباد کاروں نے یہودی رسومات بھی مسجد اقصیٰ میں ادا کیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nسوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصاویر میں دو افراد کو احاطے کے اندر اسرائیلی پرچم لہراتے ہوئے بھی دکھایا گیا، جبکہ ان کے پیچھے قبة الصخرہ نمایاں تھا۔\n\nمسلم ممالک کے وزرا نے اپنے مشترکہ بیان میں ’غیر قانونی آبادکاری کی تیز رفتار سرگرمیوں کی مذمت کی، جن میں اسرائیل کا 30 سے زائد نئی بستیوں کی منظوری کا فیصلہ بھی شامل ہے، جو بین الاقوامی قانون، بشمول اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور 2024 میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی مشاورتی رائے، کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘\n\nبیان میں مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے مسلسل اور بڑھتے ہوئے تشدد کی بھی مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ کیا گیا، جن میں حالیہ دنوں میں فلسطینی سکولوں اور بچوں پر حملے بھی شامل ہیں۔\n\n> PR No.\n>\n> Joint Statement by the Foreign Ministers of Pakistan, Egypt, Turkiye, Indonesia, Jordan, Qatar, Saudi Arabia, and the UAE, 23 April, 2026\n>\n> pic.twitter.com/BeoXaARBn5\n>\n> — Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) April 23, 2026\n\nانہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسرائیل کا مقبوضہ فلسطینی علاقے پر کوئی اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے ’مقبوضہ فلسطینی علاقے کو ضم کرنے یا فلسطینی عوام کو بے دخل کرنے کی ہر کوشش کو دوٹوک طور پر مسترد کیا۔‘\n\nوزرا نے زور دیا کہ اس طرح کے اقدامات فلسطینی ریاست کے قیام کی صلاحیت اور دو ریاستی حل کے نفاذ پر ایک دانستہ اور براہِ راست حملہ ہیں، کشیدگی میں اضافہ کرتے ہیں، امن کی کوششوں کو کمزور کرتے ہیں اور کشیدگی میں کمی اور استحکام کی بحالی کے لیے جاری اقدامات میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔\n\nمسلم ممالک کے وزرا نے بین الاقوامی برادری سے اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں نبھانے اور اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنی خطرناک کشیدگی کو روکنے اور اپنی غیر قانونی کارروائیوں کا خاتمہ کرنے پر مجبور کرنے کی اپیل کا اعادہ کیا۔\n\nبیان میں بین الاقوامی برادری پر بھی زور دیا گیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں سنبھالے اور ان خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے واضح اور فیصلہ کن اقدامات کرے۔\n\nانہوں نے عالمی برادری سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ جامع امن کے حصول کے لیے، جو دو ریاستی حل پر مبنی ہو، ایک سیاسی حل کو آگے بڑھانے کے لیے تمام علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کو تیز کرے۔\n\nوزرا نے فلسطینی عوام کے جائز حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق مشرقی مقبوضہ بیت المقدس کو دارالحکومت بناتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے حق کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔\n\nمسجد اقصیٰ\n\nاسرائیل\n\nمسلم ممالک\n\nیہودی بستیاں\n\nمسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے اپنے مشترکہ بیان میں اسرائیلی حکام کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو دوٹوک طور پر مسترد کرنے اور اس کے تحفظ پر زور دیا۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعرات, اپریل 23, 2026 - 22:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">مسجد اقصیٰ میں 27 فروری 2026 کو رمضان دوران نماز جمعہ کی ادائیگی کے مناظر (فائل فوٹو/ اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nاسرائیلی آبادکاروں کا مسجدِ اقصیٰ پر دھاوا قابل مذمت: پاکستان\n\nآٹھ ملکوں کا مسجد اقصٰی کے دروازے کھولنے کا مطالبہ\n\nاسرائیل مسجد اقصیٰ کے دروازوں کی بندش ختم کرے: آٹھ مسلم ممالک کا مطالبہ\n\nمسجد اقصٰی میں اسرائیل کی ’اشتعال انگیزی‘ سے مذہبی جذبات مجروح ہوئے، پاکستان\n\nSEO Title:\n\nپاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کی مسجد اقصیٰ میں دراندازیوں، دیگر اسرائیلی اقدامات کی مذمت\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کی مسجد اقصیٰ میں دراندازیوں، دیگر اسرائیلی اقدامات کی مذمت"
}