{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreigisi56o53x4dp5tzi2cw4dgerm7oeqigxdwrz2tw3cqfjsw7gxqe",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mk3ofy6smgq2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreigc4ej74fg6ulhs7l3myktp66erj76rkstellv76gvniggscpkgoq"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 75492
},
"path": "/node/185596",
"publishedAt": "2026-04-22T12:05:44.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"ڈی پی اے",
"اے ایف پی",
"جرمنی",
"روس",
"روس یوکرین جنگ",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"یورپ",
"news"
],
"textContent": "**جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے بدھ کو ایک نئی قومی فوجی حکمت عملی پیش کی، جس کا مقصد روس کے بڑھتے ہوئے خطرے کے ردعمل میں اقدامات کرنا ہے۔**\n\nجرمنی کی فوج ’بنڈس ویئر‘ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد ازسرِ نو اسلحہ بندی کے ایک پروگرام سے گزر رہی ہے، جبکہ ملک میں فوجیوں کی تعداد بڑھانے کی کوشش میں جنوری میں رضاکارانہ فوجی سروس بھی دوبارہ متعارف کروائی گئی ہے۔\n\nجرمن نیوز ایجنسی ڈوئچے پریسے ایجنٹور (ڈی پی اے) کے مطابق بورس پسٹوریئس کے دفاعی منصوبے میں جرمنی کی پہلی فوجی حکمت عملی اور بنڈس ویئر کی صلاحیتوں کا تجزیہ شامل ہے، جس میں مسلح افواج کی تنظیم، ڈھانچے اور حجم کا تعین کیا گیا ہے۔\n\nاگرچہ بیشتر تفصیلات خفیہ ہیں تاہم جرمن وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ان منصوبوں میں ’بنڈس ویئر کو یورپ کی سب سے مضبوط روایتی فوج میں تبدیل کرنا‘ شامل ہے۔\n\nخبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جرمن فوج میں اصلاحات کی پیش رفت پر برلن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے کہا: ’جرمن فوج (بنڈس ویئر) کی تاریخ میں پہلی بار ہم ایک فوجی حکمت عملی اپنا رہے ہیں اور اس کی معقول وجوہات ہیں۔ شاذ و نادر ہی کسی فوجی حکمت عملی کی اتنی ضرورت رہی ہے جتنی اس تاریخی مرحلے میں ہے۔‘\n\nیوکرین کے خلاف روسی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا: ’خطرات کی صورت حال میں شدت آئی ہے، خاص طور پر یوکرین کے خلاف (روسی صدر) پوتن کی جنگ کے بعد۔ مزید برآں، بین الاقوامی قانونی نظام کو اس حد تک چیلنج کیا جا رہا ہے، جو ایک طویل عرصے سے نہیں دیکھا گیا یا شاید دوسری عالمی جنگ کے بعد سے نہیں۔ دوسرے الفاظ میں، دنیا زیادہ غیر متوقع ہو گئی ہے اور ہاں، یہ بھی کہنا ہوگا کہ زیادہ خطرناک بھی۔‘\n\nمغربی جرمنی کے شہر کولون میں 16 اپریل 2026 کو جرمن وفاقی فوج بنڈس ویئر کے فوجی ایک لڑائی کی مشق کرتے ہوئے (اینا فاس بینڈر / اے ایف پی)\n\n\n\n\nبرلن میں وزارتِ دفاع روس کو جرمنی کو درپیش بنیادی خطرہ قرار دیتی ہے۔\n\nڈی پی اے کے مطابق جرمنی کی حکمت عملی میں مغرب کے بارے میں ماسکو کے نقطۂ نظر کو بنیادی طور پر مخالف قرار دیا گیا ہے اور جمہوری ممالک کی نیٹو میں شمولیت کو اس کے محاصرے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔\n\nکہا جاتا ہے کہ روسی حکومت ٹرانس اٹلانٹک اتحاد کے اندر ہم آہنگی کو کمزور کرنے اور امریکہ کو یورپ سے الگ کرنے کی خواہاں ہے تاکہ یورپ میں ماسکو کے اثر و رسوخ کے دائرے کو وسعت دی جا سکے۔\n\nبرلن کی حکمت عملی طویل فاصلے تک مار کرنے والے درست ہتھیاروں اور فضائی دفاعی نظام کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، تاہم اس میں مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ اور روبوٹکس جیسی ٹیکنالوجیز کی ترقی بھی شامل ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nوزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے اس کی وضاحت کچھ یوں کی: ’مختصر مدت میں ہم اپنی دفاعی اور استقامت کی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہے ہیں، درمیانی مدت میں ہم صلاحیتوں میں نمایاں اور ہمہ گیر اضافہ چاہتے ہیں اور طویل مدت میں ہم تکنیکی برتری قائم کریں گے۔‘\n\nبورس پسٹوریئس نے کہا: ’بنیادی اصول یہ ہے کہ کم از کم 4 لاکھ 60 ہزار فعال فوجیوں کی مجموعی تعداد حاصل کی جائے، جس میں فعال ڈیوٹی اور ریزرو دونوں افواج شامل ہوں۔\n\n’مطلوبہ فورس میں اضافے کا منصوبہ تین مراحل میں نافذ کیا جائے گا، جو ترتیب وار کے بجائے بیک وقت شروع ہوں گے۔ پہلا مرحلہ 2029 تک فورس میں اضافہ ہے۔ ابتدائی برسوں میں ہمیں اہلکاروں کی تعداد میں تیز رفتار اضافہ درکار ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ پائیداری اور دفاعی صلاحیت کو یقینی بنایا جا سکے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا: ’دوسرا مرحلہ 2035 تک ساخت کی توسیع پر مشتمل ہے۔ اس مرحلے میں ہم اپنی منصوبہ بندی کے مطابق تمام شعبوں میں صلاحیتوں کو بڑھانے پر توجہ دیں گے، خاص طور پر نیٹو کی صلاحیتی اہداف اور قومی صلاحیتی اہداف کے مطابق تاکہ ہم تبدیلیوں اور جدتوں کا جواب دے سکیں۔‘\n\n2029 سے 2035 کو ’نئے ہتھیاروں کے نظام کے تعارف‘ کے سال قرار دیتے ہوئے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے کہا: ’ہماری خواہش ہے اور ہونی بھی چاہیے۔ یہ (جرمن) چانسلر کا پیغام بھی ہے اور میرا مضبوط ترین یقین بھی کہ ہم یورپ کی سب سے مضبوط روایتی فوج بنیں۔‘\n\nجرمنی\n\nروس\n\nروس یوکرین جنگ\n\nجرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس کے مطابق ان منصوبوں میں ’بنڈس ویئر (جرمن فوج) کو یورپ کی سب سے مضبوط روایتی فوج میں تبدیل کرنا‘ شامل ہے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nبدھ, اپریل 22, 2026 - 17:00\n\nMain image:\n\n> <p>جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریئس (دائیں) اور جرمن مسلح افواج (بنڈس ویئر) کے جنرل انسپکٹر کارسٹن بروئر 22 اپریل 2026 کو برلن میں وزارتِ دفاع میں بنڈس ویئر کی صورت حال پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں (ٹوبیاس شوارز / اے ایف پی)</p>\n\nیورپ\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nشکست، فاشزم اور جمہوریت: جرمنی نے اپنی کھوئی ہوئی عزت کیسے بحال کی؟\n\nرومیوں سے ہٹلر تک: نسلی برتری کا وہ خونی سفر جس نے جرمنی کو برباد کر دیا\n\nروس کا شیڈو بیڑا کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟\n\nSEO Title:\n\n’روس کے یوکرین پرحملے کے بعد ‘ جرمنی کی نئی قومی فوجی حکمت عملی\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "’روس کے یوکرین پرحملے کے بعد ‘ جرمنی کی نئی قومی فوجی حکمت عملی"
}