{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreignyev7oilagjk2pfjo66cuwm7wtupuyf2ebxyjxr6juzkcudb3ue",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mk3ofqthgqu2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreidt7lt3gteijf4xfa7zpmzeukzakjwwdxmmo5bzhkrwyydwrqvpzq"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 118296
},
"path": "/node/185584",
"publishedAt": "2026-04-22T13:08:13.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"میڈیکل کالج",
"پرائیویٹ",
"طلبہ",
"ارشد چوہدری",
"کیمپس",
"video"
],
"textContent": "**یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (یو ایچ ایس) کے مطابق، پنجاب کے 33 نجی میڈیکل و ڈینٹل کالجز میں اس سال مجموعی طور پر 574 نشستیں خالی رہ گئیں ہیں، جو گذشتہ تین سالوں میں ریکارڈ اضافہ ہے اور اس کی وجہ نجی طبی تعلیمی اداروں کی پانچ سالہ کورس کے لیے ایک سے ڈیڑھ کروڑ روپے تک فیس بتائی جا رہی ہے۔**\n\nنجی میڈیکل وڈینٹل کالجز کی جانب سے ایڈمیشنز کے لیے دو ماہ کا وقت بڑھانے کے باوجود ان اداروں میں خالی نشستوں کے لیے کسی امیدوار نے فارمز جمع نہیں کروائے۔\n\nپاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) ریکارڈ کے مطابق ملک بھر میں نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کی مجموعی تعداد 125 سے 130 ہے۔\n\nسرکاری میڈیکل کالجز و یونیورسٹیوں میں زیادہ میرٹ کی وجہ سے داخلہ حاصل کرنے میں ناکام رہنے والے طلبہ نجی میڈیجکل کالجز کا رخ کرتے ہیں۔\n\nسپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے نجی میڈیکل تعلیمی اداروں کی حد سے زیادہ فیسوں کے خلاف از خود نوٹس لیا تھا، لیکن فیسیں کم نہ ہو سکیں۔\n\nنجی طبی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ اور ان کے والدین کے احتجاج کے بعد حکومت نے گذشتہ برس ڈپٹی وزیر اعظم اسحق ڈار کی سربراہی میں کمیٹی بنائی تھی، جس نے نجی طبی کالجز و یونیورسٹیوں کو 18 سے 20 لاکھ روپے تک اضافہ اور سالانہ پانچ فیصد بڑھانے کی اجازت دی\n\nاس فیصلے کے بعد پہلے ہی سال گذشتہ سالوں کی نسبت زیادہ نشستیں خالی رہ گئی ہیں۔\n\nترجمان یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز پنجاب عاطف علی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’سرکاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجز ویونیورسٹیز میں مقررہ میرٹ پر داخلوں کے بعد ہر سال نجی کالجز کو 5500 نشستوں پر داخلوں کی اجازت دی جاتی ہے۔ یہ داخلے سنٹرل پالیسی کے تحت یو ایچ ایس کا بورڈ میرٹ پر ہی کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ لیکن گذشتہ تین سالوں سے نجی طبی تعلیمی اداروں میں داخلوں کا روحجان بڑھتا جا رہا ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ پانچ سالوں کی ایک کروڑ روپے تک فیس ہے۔‘\n\nلاہور کی نجی میڈیکل یونیورسٹی کے عہدیدار عابد شیروانی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ہر پرائیویٹ یونیورسٹی حکومت کی اجازت سے اپنے اخراجات کے مطابق فیسیں مقرر کرتی ہے۔ میڈیکل کی تعلیم کے لیے سہولیات بھی اسی معیار ی کی فراہم کرنا پڑتی ہیں اس لیے فیس بھی زیادہ رکھنا مجبوری ہے۔‘\n\n**نجی طبی اداروں میں داخلوں میں کمی کیوں؟**\n\n’میٹرک اور ایف ایس سی میں دن رات پڑھائی کر کے زیادہ سے زیادہ نمبر لینے کی کوشش کی۔ میٹرک میں 1100 میں سے 1029 نمبر جبکہ ایف ایس سی میں 1200 میں سے 1016 نمبر حاصل کیے۔ اس کے بعد ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ میں بھی نمایاں نمبر لیے جس سے میرٹ 87 تک بنا لیا۔ لیکن سرکاری میڈیکل کالج یا یونیورسٹی میں زائد میرٹ کی وجہ سے داخلہ نہ ملا۔ نجی کالجز میں آسانی سے میرٹ بن گیا لیکن ایک سے ڈیرھ کروڑ روپے فیس ادا نہیں کر سکتے تھے۔‘\n\nیہ کہنا تھا لاہور سے تعلق رکھنے والے طالب علم حماد عاطف کا جنہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں مزید کہا کہ ’نجی کالج میں فیس کی وجہ سے داخلہ نہ حاصل کر سکنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ انوائرمنٹل سائنسز میں داخلہ لے لیا۔ اب وہاں زیر تعلیم ہوں لیکن افسوس ہے کہ ڈاکٹر بننے کا خواب پورا نہیں ہوسکا۔‘\n\nاسی طرح لاہور سے تعلق رکھنے والی طالبہ خدیجہ شاہد نے بتایا کہ انہوں نے اسی سال ایف ایس سی میں پونے 1075 نمبر حاصل کیے اور ایم ڈی کیٹ کا ٹیسٹ دینے کے بعد مجموعی طور پر 88 فیصد تک پوزیشن بنائی لیکن کسی سرکاری کالج میں داخلہ نہ مل سکا۔\n\n’نجی کالجز میں آسانی سے میرٹ بنتا تھا لیکن وہاں ایک کروڑ روپے تک پانچ سال کی فیس ناقابل برداشت تھی۔ اس لیے داخلہ نہیں لیا۔ لہذا اب دوبارہ تیاری کر رہی ہوں تاکہ آئندہ سال 90 فیصد تک نمبرز حاصل کرنے کی کوشش کروں گی۔‘\n\n**نجی کالجز میں گذشتہ تین سال میں داخلوں کی شرح؟**\n\nیونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز ریکارڈ کے مطابق، پنجاب کے مختلف شہروں میں کل 17 سرکاری میڈیکل جبکہ چار ڈینٹل کالجز ہیں، جن میں ان دنوں میڈیکل کی 3400 اور ڈینٹل کی 300 سیٹیں ہیں۔ ان میں داخلوں کے لیے سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والے طلبہ کو میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیے جاتے ہیں۔\n\nریکارڈ کے مطابق صوبے کے 33 میڈیکل اور 18 ڈینٹل نجی کالجوں 2023-24 کے دوران میڈیکل کی 82 جبکہ ڈینٹل کی 95 سیٹیں خالی رہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاسی طرح 2024-25 میں ڈینٹل کالجز کی 222 جبکہ میڈیکل کی 35 نشستیں خالی رہیں، جو 2023۔24 کی نسبت 80 سیٹیں زیادہ تھیں۔\n\nسال رواں کے لیے حیران کن طور پر ڈینٹل کالجز کی 1100 میں سے 519 اور میڈیکل کی 4400 میں سے 55 سیٹیں خالی رہیں، جو مجموعی طور پر 574 بنتی ہیں۔ خاص طور پر ڈینٹل کالجز میں داخلوں کی شرح 45 فیصد تک کم ہوئی۔\n\nعاطف کے بقول: ’اس شرح میں تین سال سے مسلسل ریکارڈ کمی کے باعث اس بار 31 جنوری سے 31 مارچ تک نجی کالجز کو داخلوں کے لیے دو ماہ اضافی وقت دیا گیا تھا، لیکن اس دوران بھی ڈاکٹر بننے کے خواہش مند طلبہ نے داخلوں میں زیادہ دلچسپی نہیں لی۔‘\n\n**ملکی نجی اداروں کے بجائے بیرون ملک داخلوں میں اضافہ**\n\nعاطف علی کے بقول، ’ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال 4000 تک پاکستانی بچے ترکمانستان، تاجکستان، یوکرین، چین یا دیگر ایسے ممالک کے میڈیکل و ڈینٹل تعلیمی اداروں میں داخلے لیتے ہیں۔‘\n\nان کا مزید کہنا تھا کہ ’حیران کن طور پر وہاں پاکستان کی پرائیویٹ اداروں کی نسبت آدھی فیسں لی جاتی ہیں۔ لیکن مسئلہ تب آتا ہے جب وہاں سے تعلیم حاصل کر کے یہ طلبہ واپس یہاں نوکری تلاش کرتے ہیں۔ ہمارے محکمہ صحت یا ہسپتالوں میں ان اداروں سے پڑھے بچوں کو پاکستانی کالجز کے مقابلہ میں کم اہمیت دی جاتی ہے۔‘\n\nپاکستان کے ہسپتالوں میں نوکریاں کم ہونے کی وجہ سے ہر سال میڈیکل یا ڈینٹل کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی نئے ڈاکٹروں کو بیرون ملک روزگار کے لیے جانا پڑتا ہے۔‘\n\n**نجی تعلیمی اداروں میں فیسیں زیادہ کیوں؟**\n\nعابد شیروانی کے بقول، ’پاکستان میں ہر سال دو لاکھ تک مجموعی طور پر طلبہ میڈیکل اور ڈینٹل تعلیمی اداروں میں داخلوں کے لیے ٹیسٹ دیتے ہیں۔ جن میں سے ایک لاکھ کے قریب صرف پنجاب سے ہوتے ہیں۔ لہذا جن طلبہ کو سرکاری کالجز میں داخلے نہیں ملتے وہ نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کا رخ کرتے ہین۔ ان کالجز میں بھی اگرچہ یو ایچ اسی کا بورڈ ہی داخلوں کی اجازت دیتا ہے۔ لیکن پھر بھی نجی ادارے اپنے طور پر میرٹ طے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔\n\n’نجی کالجز کیونکہ خالص کمرشل بنیادوں پر بنائے جاتے ہیں۔ اس لیے ہر نجی ادارہ سہولیات کے حساب سے فیسیں طے کرتا ہے۔ لیکن حکومت کی جانب سے اب یہ حد 18 سے 20 لاکھ روپے سالانہ مقرر کی گئی ہے، جبکہ سرکاری اداروں میں یہی فیس تین چار لاکھ روپے ہوتی ہے۔‘\n\nعابد کے قبول: ’سرکاری ادارے حکومتی فنڈز سے چلتے ہیں اساتذہ کی فیسیں اور لیبارٹریز کا خرچہ بھی سرکاری فنڈز سے ہوتا ہے۔ پرائیویٹ کالجز جگہ لے کر عمارت بھی خود بناتے ہیں اساتذہ کی فیسوں سمیت ساری سہولیات فیسوں سے ہی ادا کرتے ہیں۔ اس لیے فیسیں زیادہ رکھنا مجبوری ہوتی ہے۔‘\n\nخیال رہے کہ پاکستان میں میڈیکل یا ڈینٹل کے نجی تعلیمی ادارے زیادہ تر بااثر شخصیات کی ملکیت ہیں۔ جن کی اجازت حکومت نے 90 کی دہائی میں دینا شروع کی تھی۔ سب سے پہلا نجی میڈیکل کالج آغا خان 1983 سے کراچی میں قائم ہے۔\n\nماہر طبی تعلیم ڈاکٹر خالد اقبال گوندل نے بتایا کہ ’نجی کالجز میں ایک سے ڈیڑھ کروڑ خرچ کرنے سے بہتر بندہ کوئی دوسرا کام کر لے۔\n\nمیڈیکل کالج\n\nپرائیویٹ\n\nطلبہ\n\nیونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے مطابق، داخلوں میں کمی کی وجہ نجی طبی تعلیمی اداروں کی پانچ سالہ کورس کے لیے ایک سے ڈیڑھ کروڑ روپے تک فیس بتائی جا رہی ہے۔\n\nارشد چوہدری\n\nبدھ, اپریل 22, 2026 - 19:15\n\nMain image:\n\nکیمپس\n\njw id:\n\nNDCU54bS\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nنجی میڈیکل کالجز کی فیس 18 لاکھ روپے مقرر کرنے کی سفارش کتنی قابل عمل؟\n\nمیڈیکل کالجز میں فلسطینی طلبہ کے لیے انتظام کریں: وزیراعظم\n\nکراچی: ڈینٹل کالج کی طالبہ کا بٹیر پالنے کے شوق سے کمرشل فارمنگ تک کا سفر\n\nمیڈیکل اور ڈینٹل کالجز کے طلبہ کا اسلام آباد میں دھرنا جاری\n\nSEO Title:\n\nپنجاب: نجی میڈیکل کالجز میں داخلوں میں کمی کا رجحان\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "پنجاب: نجی میڈیکل کالجز میں داخلوں میں کمی کا رجحان"
}