{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreie3sfq5tu3dwp2m6uu6l3bw5w7jjtz5sfonmcs4vbqlg3olnrsojq",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mk3axr6fj7t2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreihn7ndjmh65l7xj4o4cjuluitjeuvnk2zb6pd42m4ci7ytsfpddsu"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 137300
  },
  "path": "/node/185594",
  "publishedAt": "2026-04-22T07:05:00.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "امریکہ",
    "ایران",
    "سفارت کاری",
    "اسلام آباد مذاکرات",
    "فیلڈ مارشل عاصم منیر",
    "شہباز شریف",
    "محمد اشتیاق",
    "نقطۂ نظر",
    "news"
  ],
  "textContent": "**یہ شطرنج کی بساط ہے، جہاں پاکستان محض ایک کھلاڑی نہیں بلکہ ثالث ہے اور دونوں فریق ہی اس کردار کو تسلیم کرتے ہیں اور اگر ایسا نہ ہوتا تو کھیل شروع ہی نہیں ہوتا۔**\n\nعالمی سیاست میں بعض کردار بظاہر سادہ دکھائی دیتے ہیں، مگر حقیقت میں نہایت پیچیدہ ہوتے ہیں۔ ثالثی بھی ایسا ہی ایک کردار ہے۔ یہ صرف پیغام رسانی یا ملاقاتوں کا بندوبست نہیں، بلکہ اعتماد کی ایک نازک ڈور کو تھامنے کا نام ہے۔ اور جب یہی اعتماد کمزور پڑ جائے تو بہترین نیت بھی بے اثر ہو جاتی ہے۔\n\nجب ہفتوں سے جاری جنگ کے بادل گہرے ہو رہے تھے تو پاکستان کی کوششوں سے پہلے امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔ اس کے بعد اسلام آباد میں دونوں کے درمیان براہ راست مذاکرات بھی ہوئے، جو نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے۔\n\nتاہم پاکستان کی کوششیں رکیں نہیں بلکہ ان میں تیزی آئی۔\n\nفریقین کو کسی معاہدے تک لانے کی کوشش میں فیلڈ مارشل عاصم منیر خود ایران گئے اور پھر اطلاعات کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹیلی فون پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔\n\nاس کے بعد اسلام آباد میں مذاکرات کے ایک نئے دور کی تیاری شروع ہوئی، جسے تقریباً حتمی شکل بھی دے دی گئی اور پھر مہمانوں کی آمد کا انتظار ہونے لگا۔\n\nنظریں پھر اسلام آباد پر جم گئیں، مختلف حلقوں سے تبصرے ہونے لگے، وفود کی آمد کی قیاس آرائیاں بڑھنے لگیں اور انتظار طول پکڑتا گیا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nدو ہفتوں کی جنگ بندی بدھ کی صبح، 22 اپریل، ختم ہونا تھی، مگر چند گھنٹے پہلے ہی صدر ٹرمپ نے اس میں توسیع کا اعلان کیا اور کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ پاکستانی قیادت کے کہنے پر کیا گیا۔\n\nاس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ثالثی میں پاکستان کا کردار بدستور فعال ہے، لیکن اصل سوال ابھی بھی وہیں ہے: فریقین اسلام آباد کب آئیں گے؟\n\nانتظار بڑھ رہا ہے اور صبر کا امتحان سخت ہوتا جا رہا ہے۔\n\nامریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے بیچ پاکستان کو ایک ایسے ثالث کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جسے بظاہر دونوں ممالک کا اعتماد حاصل ہے۔\n\nٹرمپ انتظامیہ کا یہ اصرار کہ اسلام آباد ہی واحد ذریعہ ہے، محض سفارتی بیان بھی ہو سکتا ہے اور ایک مجبوری بھی۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ کردار پاکستان کی طاقت بن رہا ہے یا اس کی ساکھ کے لیے ایک امتحان؟\n\nبظاہر یہ ایک سادہ فیصلہ تھا کہ امریکہ نے پاکستان کو دوسرے مرحلے کے مذاکرات کے لیے واحد ثالث چنا۔ اصولی طور پر اس پر بحث کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے تھی۔ مگر جب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کو اس فیصلے کا بار بار دفاع کرنا پڑے تو سوال اٹھنا فطری ہو جاتا ہے۔\n\nکیونکہ انہوں نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک کی جانب سے ثالثی کی پیش کش کی گئی تھی۔\n\nحقیقت یہ ہے کہ امریکہ، ایران کشیدگی نے عالمی سطح پر تیل کی فراہمی کو متاثر کر کے ایک بڑا بحران پیدا کر دیا ہے۔ ایسے میں مختلف ممالک کا ثالثی کے لیے آگے آنا غیر معمولی نہیں بلکہ ایک فطری ردِعمل ہے۔\n\nپاکستان کو یہ کریڈٹ ضرور دیا جا سکتا ہے کہ اس نے تہران کو مذاکرات کی میز تک لانے میں کردار ادا کیا۔\n\nلیکن برملا یہ کہنا کہ ثالثی کے اس پورے عمل میں پاکستان ہی واحد ذریعہ ہے تو اس سے ذمہ داری بھی بڑھتی ہے اور دباؤ بھی۔\n\nان سفارتی کوششوں کے دوران پاکستان نے عمومی طور پر خاموشی اختیار کیے رکھی اور کھل کر بیانات دینے سے گریز کیا۔ یہ حکمتِ عملی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اسلام آباد نے امریکہ اور ایران کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو رازداری میں رکھا، تاکہ دونوں ممالک کا اعتماد برقرار رہے اور کسی بھی ممکنہ پیش رفت کو غیر ضروری میڈیا توجہ یا سیاسی دباؤ سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس محتاط رویے کے ذریعے پاکستان نے ایک ذمہ دار ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی، جو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کی راہ ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔\n\nثالث کا بنیادی کام یہی ہوتا ہے کہ وہ فریقین کو ایک میز پر لے آئے لیکن دونوں فریق جو دہائیوں سے دیرینہ مخاصمت رکھتے ہیں اور ان کے درمیان عدم اعتماد کی ایک گہری خلیج ہے، ایسے میں پاکستان کے لیے یہ کام آسان نہیں۔\n\nاس تمام صورت حال میں پاکستان کے لیے راستہ بند نہیں ہوا، مگر مشکل ضرور ہو گیا ہے۔ ان حالات میں دروازے کھلے رکھنے ہوں گے، رابطے برقرار رکھنے ہوں گے، اور سب سے بڑھ کر اعتماد بحال کرنا ہوگا۔\n\nکیونکہ آخرکار، اس شطرنج کی بساط پر جیت کسی ایک فریق کی نہیں بلکہ اس پل کی ہوتی ہے جو دونوں کناروں کو جوڑنے میں کامیاب ہو جائے۔\n\nامریکہ\n\nایران\n\nسفارت کاری\n\nاسلام آباد مذاکرات\n\nفیلڈ مارشل عاصم منیر\n\nشہباز شریف\n\nپاکستان کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان صرف مذاکرات کے لیے صرف پیغام رسانی کا بندوبست کرنا نہیں، بلکہ اعتماد کی ایک نازک ڈور کو تھامنے رکھنا بھی ہے۔\n\nمحمد اشتیاق\n\nبدھ, اپریل 22, 2026 - 13:45\n\nMain image:\n\n> <p>اسلام آباد میں ایک شہری 22 اپریل 2026 کو اخبار پڑھ رہا ہے جس کی سرخ ہے ’امریکہ نے پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع کر دی‘ (اے ایف پی)</p>\n\nنقطۂ نظر\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nخاموش سفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی\n\nجب ٹرمپ گھنٹوں چیختے اور سچویشن روم سے باہر رہے\n\nامید ہے امریکہ اور ایران جنگ بندی جاری رکھیں گے: پاکستان\n\nپاکستان کے فیلڈ مارشل اچھا کام کر رہے ہیں: ٹرمپ\n\nSEO Title:\n\nصبر کا امتحان\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "صبر کا امتحان"
}