{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiexdcrhwepvsxrh6nykoxgq62k75zcdkibrexjrcguio4axqmidxy",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mk2tk4r5kyr2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiao45tw3dagfue2n5bso3p46aytxmhfqqcpw34vl4syitei4vqvei"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 102565
},
"path": "/node/185593",
"publishedAt": "2026-04-22T05:10:49.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"امریکی",
"امریکی انخلا",
"دوہری شہریت",
"شہری",
"امریکی امیگریش عدالت",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"امریکہ",
"news"
],
"textContent": "**اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی سخت بیان بازی اور پالیسیوں کے باعث امریکی شہریوں میں متبادل پاسپورٹ یا ’پلان بی‘ کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ سال آباؤ اجداد کی بنیاد پر آئرش شہریت کے حصول کی امریکی درخواستوں میں 63 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔**\n\nسرکاری اعداد و شمار کے مطابق امریکی شہریوں کی جانب سے آئرلینڈ کے فارن برتھ رجسٹر میں دی جانے والی درخواستیں 2024 کی 11601 سے بڑھ کر 2025 میں 18910 ہو گئیں، جو 2013 کے بعد سے سب سے بڑی تعداد ہے۔\n\nوکلا کے مطابق امیگریشن اور ٹرانس جینڈر حقوق پر ٹرمپ کے سخت مؤقف نے امریکی شہریوں کو ہنگامی منصوبے بنانے پر مجبور کر دیا ہے۔\n\nآئرش وکیل کیرول سینوٹ کے مطابق بہت سے امریکی کلائنٹس محفوظ معاشرے کی تلاش میں ہیں اور ٹرمپ حکومت کے باعث آئرش پاسپورٹ کا حصول ان کی ترجیح بن گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکیوں کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کا ملک اب ان کی اقدار کی عکاسی نہیں کرتا۔\n\nامریکی مردم شماری بیورو کے مطابق 2024 میں تین کروڑ 20 لاکھ سے زائد امریکیوں نے اپنے آباؤ اجداد آئرش بتائے۔\n\nامیگریشن ایڈوائس سروس کے ڈائریکٹر اونو اوکیرے گھا کے مطابق ٹیرف میں اضافے، سخت امیگریشن پالیسیوں اور ملک بدری کے اقدامات نے بھی اس ہنگامی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nآئرلینڈ کی یورپی یونین کی مارکیٹ تک رسائی، برطانیہ سے قریبی تعلق اور کاروباری ماحول اسے مزید پرکشش بناتے ہیں۔\n\nامریکیوں کی جانب سے برطانوی شہریت کی درخواستوں میں بھی 42 فیصد اضافہ ہوا ہے جو 2024 کی 6192 سے بڑھ کر 2025 میں 8790 ہو گئیں۔ مینوتھ یونیورسٹی کی محققین میری گلمارٹن اور کلیونا مرفی کے مطابق امریکیوں میں بیرون ملک مواقع تلاش کرنے کا ایک وسیع تر رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ بریگزٹ کے بعد برطانیہ سے بھی آئرش شہریت کی درخواستوں میں 11 فیصد اضافہ ہوا ہے۔\n\nسرکاری اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2025 کو ختم ہونے والے سال میں 9,600 امریکی آئرلینڈ منتقل ہوئے، جب کہ اس سے پچھلے سال یہ تعداد 4,900 تھی۔\n\nاس کے علاوہ گذشتہ سال 94 امریکیوں نے آئرلینڈ میں پناہ کی درخواست بھی دی جب کہ 2024 میں یہ تعداد صرف 22 تھی۔ کیرول سینوٹ کے مطابق ٹرمپ کے صدارتی احکامات کے باعث ٹرانس جینڈر افراد کے خلاف مہم اور امتیازی سلوک اس غیر معمولی رجحان کی ایک بڑی وجہ ہے۔\n\nامریکی\n\nامریکی انخلا\n\nدوہری شہریت\n\nشہری\n\nامریکی امیگریش عدالت\n\nمحققین کا کہنا ہے کہ امریکیوں میں بیرون ملک مواقع تلاش کرنے کا وسیع تر رجحان دیکھا جا رہا ہے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nبدھ, اپریل 22, 2026 - 08:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">12 نومبر 2025 کو مسافر لاس اینجلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روانہ ہونے والی پروازوں کے چیک ان کے لیے پہنچ رہے ہیں (روئٹرز)</p>\n\nامریکہ\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nکیا ٹک ٹاک امریکیوں میں چینی الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ بڑھا رہا ہے؟\n\nامریکی وزیر جنگ کا خطاب میں بائبل کی جعلی آیت کا حوالہ\n\n1958 سے لاپتہ امریکی خاندان کی باقیات برآمد، دہائیوں پرانا معمہ حل\n\nاونٹ گاڑی اور پیرس کا عطر: امریکی صدور کے پاکستانی دوروں کی کہانیاں\n\nSEO Title:\n\nامریکی شہری ملک چھوڑ کر کہاں جانا چاہتے ہیں اور کیوں؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "امریکی شہری ملک چھوڑ کر کہاں جانا چاہتے ہیں اور کیوں؟"
}