{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiabmfghaxsp7bqlm64q2ut32qe6wyoktjv73in5tsv6th6eyftgr4",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mk2lsopjpko2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreifaacxnybglsiil4iz3vuh6nkn4wxuoqtivhvyxksujo37ba7pg6u"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 101606
},
"path": "/node/185591",
"publishedAt": "2026-04-22T03:29:25.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"ٹک ٹاک",
"بی وائی ڈی",
"الیکٹرک کار",
"ریچل ڈوبکن",
"ٹیکنالوجی",
"news"
],
"textContent": "**ٹک ٹاک اپنے امریکی صارفین کو چینی ساختہ الیکٹرک گاڑیوں کی بے تحاشا ویڈیوز دکھا رہا ہے، جس سے ایسی کاروں کی مانگ بڑھ رہی ہے جو امریکہ میں فروخت کے لیے دستیاب ہی نہیں۔**\n\nچینی کار برانڈز جیسے بی وائی ڈی، شاؤمی اور زیکر امریکی صارفین کو ایسی الیکٹرک گاڑیوں کی طرف راغب کر رہے ہیں جو بیک وقت لگژری اور سستی محسوس ہوتی ہیں۔\n\nتاہم بھاری ٹیرف اور سخت ضوابط کے باعث امریکی شہری فی الحال ان چینی گاڑیوں تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے۔\n\nالیکزینڈرا کوزاک نے ٹک ٹاک پر 2023 کی بی وائی ڈیسی گل ہیچ بیک کی تعریف کی جس کی قیمت صرف 13 ہزار ڈالر ہے۔\n\nانہوں نے گاڑی کے 10 انچ کے گھومنے والی ٹچ سکرین، ایمزون میوزک سپورٹ، وائرلیس چارجر اور چار ایئربیگ سسٹم کا ذکر کیا۔\n\nانہوں نے جنوری 2025 میں پوسٹ کی گئی ویڈیو میں کہا ’یہ ایک بہترین قیمت ہے، جو لوگوں کو یہاں ملنی چاہیے، نہ کہ ایسی گاڑیاں جو 30 ہزار ڈالر سے شروع ہوتی ہیں۔‘\n\nکار انفلوئنسر فورسٹ جونز، جن کے ٹک ٹاک پر 8.2 ملین فالوورز ہیں، کئی چینی گاڑیوں کو دکھا چکے ہیں، جن میں زیکر 9 ایکس بھی شامل ہے، جسے انہوں نے ’دنیا کی سب سے طاقتور‘ ایس یو وی قرار دیا۔\n\nزیکر 9 ایکس میں مساج کرنے والی نشستیں، مسافر اور ڈرائیور دونوں کے لیے ٹچ سکرین اور پینورامک روف شامل ہیں۔\n\nجونز نے یہ بھی دکھایا کہ پچھلی نشستیں مزید آرام کے لیے پیچھے کی طرف جھکائی جا سکتی ہیں۔\n\nانہوں نے ایک ویڈیو میں کہا ’اب میں مکمل طور پر ری کلائن ہو سکتا ہوں، میرے پاس گرم لیگ ریسٹ ہے، فٹ ریسٹ ہے، ایک کولر ہے جو میرے مشروبات کو ٹھنڈا رکھتا ہے اور ایک ٹیبلٹ بھی ہے۔‘\n\nاگرچہ زیکر 9 ایکس ایک لگژری گاڑی ہے لیکن جونز کے مطابق اس کی قیمت 83,000 ڈالر تک پہنچتی ہے۔\n\n2024 میں اس وقت کے صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے چینی الیکٹرک گاڑیوں پر 100 فیصد ٹیرف عائد کر دیا تھا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nبعد ازاں بائیڈن انتظامیہ نے مخالف ممالک کے گاڑیوں کے سافٹ ویئر اور ہارڈویئر پر پابندی لگا کر امریکی سڑکوں پر چینی گاڑیوں کے امکانات کو تقریباً ختم کر دیا۔\n\nبائیڈن نے عہدہ چھوڑنے سے قبل ایک قانون پر بھی دستخط کیے جس کے تحت قومی سلامتی کے خدشات کے پیش نظر چینی کمپنی بائٹ ڈانس پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز فروخت کرے۔\n\nچینی کار ساز کمپنیوں نے عندیہ نہیں دیا کہ وہ جلد امریکی مارکیٹ میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتی ہیں۔\n\nزیکر کی پیرنٹ کمپنی گیلی نےبلوم برگ کو بتایا کہ ’ہم امریکی ریویورز کی مثبت رائے کو پسند کرتے ہیں، لیکن امریکی انفلوئنسرز کے ساتھ ہماری شراکت داری کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جلد امریکہ میں لانچ کر رہے ہیں۔‘\n\nچین کی سب سے بڑی کار ساز کمپنی بی وائی ڈی اور شاؤمی نے بھی کہا کہ ان کا امریکہ میں گاڑیاں متعارف کرانے کا کوئی منصوبہ نہیں۔\n\nتاہم، اگر مستقبل میں چینی کار ساز اپنا فیصلہ بدلتے ہیں تو تقریباً 40 فیصد امریکی ان کی گاڑیاں خریدنے پر غور کر سکتے ہیں۔\n\nکاکس آٹوموٹو کی پیرنٹ کمپنی کیلی بلیو بک کی ایک تحقیق کے مطابق 38 فیصد امریکیوں نے کہا کہ اگر چینی گاڑیاں امریکہ میں دستیاب ہوں تو وہ انہیں خریدنے پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔\n\nٹک ٹاک\n\nبی وائی ڈی\n\nالیکٹرک کار\n\nٹک ٹاک اپنے امریکی صارفین کو چینی ساختہ الیکٹرک گاڑیوں کی بے تحاشا ویڈیوز دکھا رہا ہے، جس سے ایسی کاروں کی مانگ بڑھ رہی ہے جو امریکہ میں فروخت کے لیے دستیاب ہی نہیں۔\n\nریچل ڈوبکن\n\nبدھ, اپریل 22, 2026 - 08:30\n\nMain image:\n\n> <p style=\"direction:rtl\">بی وائی ڈی کی Yangwang U گاڑی جرمنی کے شہر ایسن میں چار دسمبر، 2024 کو ایسن موٹر شو میں نمائش کے لیے موجود ہے (اے ایف پی)</p>\n\nٹیکنالوجی\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nٹک ٹاک: لائیکس کی دنیا میں دکھ کا مول نہیں\n\nہزاروں امریکیوں نے ٹک ٹاک ڈیلیٹ کیا، کیا اس ایپ کا خاتمہ قریب ہے؟\n\nپاکستان میں بی وائی ڈی کی دو نئی گاڑیاں، قیمت کیا ہے؟\n\nپاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں زیادہ، چارجنگ سٹیشنز کم\n\nSEO Title:\n\nکیا ٹک ٹاک امریکیوں میں چینی الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ بڑھا رہا ہے؟\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.the-independent.com/news/world/americas/tiktok-china-cars-ev-demand-b2962206.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "کیا ٹک ٹاک امریکیوں میں چینی الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ بڑھا رہا ہے؟"
}