{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreihsvsbgdirmirsqrnllqrzzmiz7cpefyyiss3wvl4hwp3bhqbsmta",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mk2f467b2zr2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreidox74m4geqiiwj64ziczfwry3mgufml73churjj4wgk2wwk7hrky"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 155043
},
"path": "/node/185586",
"publishedAt": "2026-04-21T15:29:33.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"View this post on Instagram",
"A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)",
"اسلام آباد مذاکرات",
"ایران",
"امریکہ",
"رمنا سعید",
"پاکستان",
"news"
],
"textContent": "**اسلام آباد میں منگل کو امریکہ اور ایران کے درمیان دوسرے مذاکراتی دور کی تمام تیاریاں مکمل ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب دو ہفتوں کی جنگ بندی کی ڈیڈ لائن قریب ہے اور سفارتی مبصرین کے مطابق یہ دور غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔**\n\nاس سلسلے میں انڈپینڈنٹ اردو نے پاکستان کے سابق سفارت کاروں سے بات کی اور ان سے ممکنہ بہترین اور بدترین نتائج کے بارے میں سوال کیا۔\n\nعمان میں پاکستان کے سابق سفیر عمران علی نے اس حوالے سے کہا کہ ’پہلی اور بہترین بات یہ ہے کہ کوئی نہ کوئی معاہدہ ہو جائے یا کم از کم ایسا اتفاق ہو جائے جس سے آگے بات بڑھ سکے۔ اگر فوری مکمل معاہدہ نہ بھی ہو تو کم از کم نیت اور ارادے کا اعلان ہو جائے کہ مسائل حل ہو رہے ہیں اور آئندہ بھی حل کیے جائیں گے۔ سب سے خراب صورت یہ ہو سکتی ہے کہ بات چیت ہی نہ ہو اور دوبارہ جنگ شروع ہو جائے۔\n\n’درمیانی صورت حال یہ ہے کہ فریقین آئیں، بات کریں، لیکن کوئی واضح فیصلہ نہ ہو اور صرف یہ طے کریں کہ دوبارہ ملاقات کریں گے۔‘\n\nپاکستان کے لیے اس کے اثرات سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا: ’اگر معاہدہ ہو جاتا ہے تو یہ پاکستان کے لیے بہتر ہو گا۔ کچھ معاملات اگر تکنیکی سطح پر یا ماہرین کی کمیٹیوں کے حوالے کر دیے جائیں تو وہ بعد میں حل ہو سکتے ہیں، لیکن اگر بڑی سطح پر دو تین اہم نکات پر اتفاق ہو جائے تو اسلام آباد مذاکرات کو کامیاب قرار دیا جا سکتا ہے۔‘\n\nامریکہ اور ایران کے تعلقات میں ممکنہ بہتری کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر سفیر عمران علی کا کہنا تھا: ’اس کے لیے ضروری ہے کہ امن کم از کم چھ ماہ تک قائم رہے۔ شروع میں فوری بڑی تبدیلی نظر نہیں آئے گی لیکن آہستہ آہستہ بہتری آ سکتی ہے۔ اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ایران پر پابندیاں ختم ہوں اور مسلسل دباؤ ختم کیا جائے۔‘\n\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\nموجودہ ماحول اور مذاکرات کے امکانات سے متعلق انہوں نے کہا: ’فی الحال ماحول کشیدہ ہے اور بات چیت مشکل ہے لیکن امید ہے کہ کچھ مشکلات کے باوجود مذاکرات ہوں گے۔‘\n\nتاہم مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں ممکنہ صورت حال سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے خبردار کیا: ’ایسی صورت میں امریکہ کی طرف سے فوجی کارروائی ہو سکتی ہے اور ایران اس کا جواب دے گا۔ ایران خلیجی ممالک کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے اور عالمی تیل کی ترسیل کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس سے مشرق وسطیٰ دوبارہ غیر مستحکم اور پرتشدد ہو جائے گا۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nعالمی سطح پر اس کے اثرات کے حوالے سے عمران علی نے کہا کہ ’مشرق وسطیٰ میں تنازع بڑھے گا۔ خلیجی ممالک، ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھے گی۔ لبنان کی صورت حال مزید خراب ہو سکتی ہے، جو پہلے ہی بہت خراب ہے۔ آخرکار سب کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنا پڑے گا لیکن اس وقت تک بہت نقصان ہو چکا ہو گا۔‘\n\nدوسری جانب ایران اور افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر آصف درانی سے جب مذاکرات کی کامیابی کے ممکنہ اثرات کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’اگر امن قائم ہو جاتا ہے تو اس سے خطے میں امن و استحکام آئے گا۔ زیر التوا مسائل حل ہو سکیں گے۔ تیل کی قیمتیں کم ہوں گی اور معاشی سرگرمیاں بہتر ہوں گی۔ خطے میں کشیدگی کم ہو جائے گی۔‘\n\nمذاکرات کی ناکامی کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے آصف درانی نے کہا: ’اگر یہ ناکام ہو جاتا ہے تو صورت حال بہت خراب ہو سکتی ہے۔ پہلے ہی بہت جانی اور مالی نقصان ہو چکا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے عراق میں ہزاروں اہداف پر حملے کیے، جس میں ہزاروں لوگ مارے گئے، جن میں بچے بھی شامل تھے۔‘\n\nانہوں نے ایران کی موجودہ صورت حال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایران کا انفراسٹرکچر، خاص طور پر تیل اور گیس کا شعبہ، کافی حد تک تباہ ہو چکا ہے۔ بے گھر افراد کا مسئلہ بھی بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔\n\nعلاقائی حکمت عملی اور تناؤ کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا: ’ایران نے کچھ نئی حکمت عملی اور صلاحیتیں حاصل کی ہیں، جو مستقبل میں اس کے لیے ایک طاقت بن سکتی ہیں اور یہ دوسرے ممالک کے لیے بھی ایک چیلنج بن سکتی ہیں۔‘\n\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\nآبنائے ہرمز کے کردار سے متعلق سوال پر آصف درانی نے کہا: ’ایران نے آبنائے ہرمز کو ایک سٹریٹجک دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اسے تنازع کا مرکزی نکتہ بنا دیا ہے اور یہی مسئلہ اب مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کا اصل امتحان بن گیا ہے۔‘\n\nخطے میں کشیدگی کے تسلسل سے متعلق انہوں نے کہا کہ اگر یہ تنازع ختم نہ ہوا تو ایران، اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی جاری رہے گی۔ خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈے اب فائدے کے بجائے خطرہ بن گئے ہیں کیونکہ وہ حملوں کا ہدف بن سکتے ہیں۔\n\nمذاکرات کی کامیابی کے امکانات پر بات کرتے ہوئے آصف درانی نے کہا: ’یہ کہنا مشکل ہے۔ سب کچھ اس بات پر منحصر ہے کہ اہم مسائل پر کتنی پیش رفت ہوتی ہے۔‘\n\n’سب سے اہم امتحان یہ ہو گا کہ جنگ بندی برقرار رہتی ہے یا نہیں۔ اگر جنگ بندی میں توسیع نہیں ہوتی تو مذاکرات مشکل ہو جائیں گے۔ اس وقت یہی کہا جا سکتا ہے کہ حالات غیر یقینی ہیں، اس لیے دعا ہے کہ بہتری کی طرف جائیں۔‘\n\nاسلام آباد میں ہونے والا یہ مذاکراتی دور ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں سفارتی پیش رفت کی امید بھی موجود ہے اور ناکامی کی صورت میں خطے میں مزید کشیدگی کا خدشہ بھی برقرار ہے۔\n\nاسلام آباد مذاکرات\n\nایران\n\nامریکہ\n\nاسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والا یہ مذاکراتی دور ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں سفارتی پیش رفت کی امید بھی موجود ہے اور ناکامی کی صورت میں خطے میں مزید کشیدگی کا خدشہ بھی برقرار ہے۔\n\nرمنا سعید\n\nمنگل, اپریل 21, 2026 - 20:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا قافلہ 11 اپریل 2026 کو اسلام آباد کے سیرینا ہوٹل پہنچنے کے بعد دیکھا جا سکتا ہے، جہاں وہ ایران کے ساتھ امن مذاکرات میں شرکت کے لیے آئے (جیکولین مارٹن، اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nایران سے مذاکرات: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان موخر\n\nآبنائے ہرمز پر مبہم ایرانی بیان، امن کی کوششوں کے لیے نیا چیلنج\n\nایران امریکہ مذاکرات کا دوسرا دور: اسلام آباد میں سکیورٹی پھر سخت\n\nSEO Title:\n\nجنگ بندی کی ڈیڈلائن قریب: اسلام آباد میں سفارت کاری کا امتحان\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "جنگ بندی کی ڈیڈلائن قریب: اسلام آباد میں سفارت کاری کا امتحان"
}