{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreif4irwwkjiu7juoz6tkvop5ufhfzqiiwdydqntspytkxaofdavrju",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mjuwqtqusci2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreigblodwxsqxhhwtkyjzh7qnnnsjajerem2sfhijmojkx7cvzfk4hy"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 164107
},
"path": "/node/185555",
"publishedAt": "2026-04-19T13:48:26.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"ایران جنگ",
"اسلام آباد مذاکرات",
"امریکہ",
"سکیورٹی",
"رمنا سعید",
"پاکستان",
"video"
],
"textContent": "**امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی نمائندے ایران سے متعلق کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کی غرض سے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچ رہے ہیں، تاہم اس حوالے سے پاکستان یا ایران کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ اعلان یا تصدیق سامنے نہیں آئی۔**\n\nٹرمپ نے اتوار کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان میں کہا کہ ’میرے نمائندے اسلام آباد، پاکستان جا رہے ہیں، وہ کل شام وہاں مذاکرات کے لیے موجود ہوں گے۔‘\n\nیہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 11 اپریل کو اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے براہِ راست مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے تھے، اور اب فریقین ایک بار پھر بات چیت میں پیش رفت کی کوشش کر رہے ہیں۔\n\nانڈیپنڈنٹ اردو کی ٹیم نے شہر کے حساس علاقوں اور اہم ہوٹلوں کے اطراف سکیورٹی کے سخت انتظامات کا مشاہدہ کیا، جہاں مسلح اہلکار تعینات تھے۔\n\nخصوصاً میریٹ اور سیرینا ہوٹلز کے اطراف سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے، جہاں اس سے قبل امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا۔\n\nسیرینا ہوٹل کی جانب جانے والی بیشتر سڑکیں خار دار تاروں، کنٹینرز، بیریئرز اور بھاری نفری کے ساتھ مکمل طور پر بند کر دی گئیں، جبکہ بعض مقامات پر پارکنگ ایریاز بھی خالی کروائے جا رہے ہیں۔\n\nممکنہ مذاکرات سے قبل وفاقی دارالحکومت میں اتوار کے روز سکیورٹی غیر معمولی طور پر سخت کر دی گئی۔\n\nشہر بھر میں اہم شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں، چیک پوسٹس قائم کی گئیں اور ٹریفک کی نقل و حرکت پر وسیع پیمانے پر پابندیاں عائد کر دی گئیں۔\n\nضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق اسلام آباد کا ریڈ زون اور توسیعی ریڈ زون ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند رکھا جائے گا۔\n\nکورال سے زیرو پوائنٹ تک ایکسپریس وے بند رہے گی جبکہ سری نگر ہائی وے پر بھی مختلف اوقات میں ٹریفک روکی جا سکتی ہے۔\n\nشہر میں داخل ہونے والی ہر قسم کی ہیوی ٹریفک پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے اور ٹرانسپورٹ مالکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان دنوں اسلام آباد کا رخ نہ کریں تاکہ مشکلات سے بچا جا سکے۔\n\nضلعی انتظامیہ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ کو بھی تاحکم ثانی معطل کیا جا رہا ہے اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔\n\nراولپنڈی میں بھی اسی نوعیت کے اقدامات کیے گئے ہیں، جہاں ڈپٹی کمشنر حسن وقار چیمہ نے پبلک ٹرانسپورٹ، گڈز ٹرانسپورٹ اور ہیوی ٹریفک کی آمد و رفت پر تاحکم ثانی پابندی عائد کر دی ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے متبادل روٹس بھی جاری کیے گئے ہیں۔ جی-5، جی-6، جی-7، ایف-6 اور ایف-7 کے رہائشیوں کو راولپنڈی آنے جانے کے لیے مارگلہ روڈ کے ذریعے نائنتھ ایونیو استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔\n\nاسی طرح فیصل ایونیو سے زیرو پوائنٹ جانے والی ٹریفک کو نائنتھ ایونیو کی طرف موڑا جائے گا۔\n\nاگر زیرو پوائنٹ سے کورال چوک کا راستہ بند ہو تو شہری سری نگر ہائی وے سے نائنتھ ایونیو، سٹیڈیم روڈ، مری روڈ، چاندنی چوک اور راول روڈ کے ذریعے کورال جا سکتے ہیں۔\n\nپارک روڈ سے کلب روڈ بند ہونے کی صورت میں ٹریفک کو ترامڑی چوک کی طرف موڑا جائے گا۔\n\nاسلام آباد پولیس کے ترجمان جواد تقی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کے شہر کو ہائی سکیورٹی الرٹ پر رکھا گیا ہے اور اہم مقامات پر اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔\n\nامریکہ کی جانب سے مذاکراتی ٹیم کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس، سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کریں گے۔\n\nامکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر مذاکرات میں پیش رفت یا کسی معاہدے کی صورت سامنے آتی ہے تو صدر ٹرمپ خود بھی پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں۔\n\nایران جنگ\n\nاسلام آباد مذاکرات\n\nامریکہ\n\nسکیورٹی\n\n11 اپریل کو اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے براہِ راست مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے تھے، اور اب فریقین ایک بار پھر بات چیت میں پیش رفت کی کوشش کر رہے ہیں۔\n\nرمنا سعید\n\nاتوار, اپریل 19, 2026 - 18:45\n\nMain image:\n\n> <p>18 اپریل 2026 کو اسلام آباد کے ریڈ زون علاقے میں سکیورٹی چیک پوسٹ پر پولیس اہلکار گاڑیوں کی تلاشی لے رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\njw id:\n\nCMtcXPxP\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nاسلام آباد مذاکرات اور مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل\n\nامریکہ بمقابلہ ایران: اسلام آباد مذاکرات میں کون شریک ہے؟\n\nایران امریکہ مذاکرات: اسلام آباد میں سکیورٹی سخت، ریڈ زون بند\n\nامریکی نمائندے ایران سے مذاکرات کے لیے کل شام اسلام آباد میں ہوں گے: ٹرمپ\n\nSEO Title:\n\nایران امریکہ مذاکرات کا دوسرا دور: اسلام آباد میں سکیورٹی کے سخت انتظامات\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "ایران امریکہ مذاکرات کا دوسرا دور: اسلام آباد میں سکیورٹی کے سخت انتظامات"
}