{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreifz2dlml555k2qe66zjdys76jwdkdrthe6a3wvlutl5vajaavkefu",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mjuwqglx6sb2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreida3lbrons442mxtgqbgvuptbmn3os24ejkfebxzdtwjiltyzbor4"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 65342
  },
  "path": "/node/185548",
  "publishedAt": "2026-04-19T18:05:18.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "April 19, 2026",
    "https://t.co/geDNJhN8p1",
    "pic.twitter.com/x5hr6jMnke",
    "April 18, 2026",
    "ایران",
    "اسرائیل",
    "لبنان",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "دنیا",
    "news",
    "لائیو اپ ڈیٹس",
    "@CMShehbaz",
    "@GermanyinPAK",
    "@jonkarl",
    "@CENTCOM"
  ],
  "textContent": "**امریکہ اور ایران کے درمیان سیز فائر جاری۔** **دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں ہی ہونے کا امکان۔** **لبنان اور اسرائیل بھی 10 روزہ جنگ بندی پر متفق۔** **ایران کا جنگ بندی کی بقیہ مدت کے دوران آبنائے ہرمز کھلی رکھنے کے اعلان کے بعد دوبارہ اسے بند کرنے کا فیصلہ** **لائیو اپ ڈیٹس**\n---\n\n* * *\n\n**وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر پزشکیان کا خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال**\n\nوزیراعظم شہباز شریف نے اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان اتوار کی شام ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال اور امن کی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔\n\nوزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق تقریباً 45 منٹ جاری رہنے والی گفتگو کے دوران شہباز شریف نے ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے اعلیٰ سطحی وفد بھیجا۔\n\n> I had a warm and constructive conversation with President Dr. Masoud Pezeshkian this evening on the evolving regional situation.\n>\n>  I appreciated Iran’s engagement, including its high-level delegation to Islamabad for the historic talks, and recent discussions with Field Marshal…\n>\n> — Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) April 19, 2026\n\nوزیراعظم نے ایرانی صدر کو سعودی عرب، قطر اور ترکیہ سمیت مختلف عالمی رہنماؤں کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقاتوں سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ ان روابط نے خطے میں پائیدار امن کے لیے سفارتکاری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔\n\nانہوں نے فیلڈ مارشل عاصم کے حالیہ دورۂ تہران کے دوران ہونے والی بات چیت کو بھی سراہا۔\n\nشہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور ایرانی سپریم لیڈر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔\n\nصدر پزشکیان نے پاکستان کی امن کوششوں کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہونے کی امید ظاہر کی۔\n\n* * *\n\n**اسلام آباد: جرمن اور آسٹریلوی سفارت خانے پیر اور منگل کو بند رہیں گے**\n\nجرمن سفیر اینا لیپل نے اتوار کو کہا ہے کہ اسلام آباد میں جرمن سفارت خانہ 20 اپریل سے ’کم از کم 21 اپریل‘ تک بند رہے گا۔\n\nایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’امریکہ ایران مذاکرات کے دوران اسلام آباد میں سڑکوں کی بندش کی وجہ سے، جرمن سفارت خانے کے ویزا سیکشنز کل 20 اپریل سے کم از کم 21 اپریل 2026 تک بند رہے گا۔‘\n\n> Due to the road closures in Islamabad around the USA – Iran negotiations, the Visa sections of the German Embassy will remain closed from tomorrow, 20 April until at least 21 April 2026.\n>  Applicants are asked not to come to the Visa section. Their appointments will be rescheduled.\n\n> — Ina Lepel (@GermanyinPAK) April 19, 2026\n\nاسی طرح اسلام آباد میں آسٹریلوی ہائی کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ سفارت خانہ 20 اور 21 اپریل (پیر اور منگل) کو بند رہے گا۔\n\nایکس پر ہی ایک بیان میں آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹموتھی کین نے کہا کہ ہائی کمیشن 22 اپریل کو دوبارہ کھلے گا۔\n\n* * *\n\n**مارگلہ ہلز پر واقع تمام پہاڑی راستے پیر سے بند رہیں گے: ضلعی انتظامیہ**\n\nوفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے اسلام آباد میں ایران امریکہ مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد کے تناظر میں 20 اپریل (پیر) سے مارگلہ پہاڑی پر واقع (پہاڑی راستوں) ٹریلز 2، 3، 4، اور 5 کو عوام کے لیے بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔\n\nڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق، پانچوں ٹریلز تا حکم ثانی بند رہیں گی۔\n\nنوٹیفیکیشن میں بتایا گیا کہ سید پور گاؤں سے منسلک ٹریل بھی مکمل طور پر بند ہو گی۔\n\n* * *\n\n**تاحال پاکستان وفد بھیجنے کا فیصلہ نہیں ہوا: ایرانی میڈیا**\n\nایران کی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے اتوار کو رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے اس وقت تک پاکستان میں مذاکراتی وفد بھیجنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا، جب تک ’بحری ناکہ بندی‘ برقرار ہے۔\n\nرپورٹ کے مطابق اس مرحلے پر تہران کی جانب سے مذاکراتی ٹیم بھیجنے کی کوئی حتمی منظوری نہیں دی گئی، کیونکہ ایران کا مؤقف ہے کہ موجودہ سکیورٹی اور بحری ناکہ بندی کی صورتحال میں بات چیت آگے نہیں بڑھ سکتی۔ (روئٹرز)\n\n* * *\n\n**جے ڈی وینس کے پاکستان آنے سے متعلق متضاد اطلاعات**\n\nامریکی نائب صڈر جے ڈی وینس کے ایرانی کے ساتھ مذاکرات کے لیے پاکستان آنے سے متعلق مختلف اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔\n\nاے ایف پی کے مطابق، امریکی صدر ٹرمپ نے سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے اتوار کو اے بی سی نیوز کو بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان میں ایران کے ساتھ نئے مذاکرات کے لیے امریکی وفد کی قیادت نہیں کریں گے۔\n\nاے بی سی نیوز کے واشنگٹن میں بیرو چیف جوناتھن کارل نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’صدر ٹرمپ نے مجھے بتایا کہ وینس اسلام آباد نہیں جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ سکیورٹی کا ہے۔ سیکرٹ سروس 24 گھنٹے کے نوٹس پر ایسا نہیں کر سکی۔‘\n\n> President Trump just told me Vance will not be going to Islamabad. He said the issue is security — the Secret Service couldn’t do it on 24 hours notice.\n>\n>  “It’s only because of security,” he told me. “JD’s great.” https://t.co/geDNJhN8p1\n\n> — Jonathan Karl (@jonkarl) April 19, 2026\n\nدوسری طرف روئٹرز نے وائٹ ہاؤس کے حکام کو حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ اسلام آباد امن مذاکرات کے دوسرے دور میں امریکی نمائندگی نائب صدر جے ڈی وینس، سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کریں گے۔\n\nاس سے قبل اقوام متحدہ میں امریکی ایلچی، مائیک والٹز اور توانائی کے سیکرٹری کرس رائٹ دونوں نے اشارہ دیا تھا کہ جے ڈی وینس پیر سے اسلام آباد میں مذاکرات کے دور کی قیادت کریں گے۔\n\nصدر ٹرمپ نے جے ڈی وینس کی پاکستان نہ جانے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’یہ صرف سکیورٹی کی وجہ سے ہے۔‘ (اے ایف پی)\n\n* * *\n\n**پاکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ کا رابطوں، مذاکرات پر زور**\n\nپاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اتوار کو ایرانی ہم منصب عباس عراقی سے ٹیلی فون پر بات چیت میں موجودہ مسائل کے حل کے لیے مسلسل رابطوں اور مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا۔\n\n\n\n\nترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسحاق ڈار نے موجودہ مسائل کے جلد حل اور خطے سمیت دنیا میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مسلسل مکالمے اور روابط کی ضرورت پر زور دیا۔\n\nبیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا جبکہ آج ہی ایران کے صدر اور پاکستان کے وزیر اعظم کے درمیان بھی ٹیلی فونک رابطے پر اتفاق ہوا۔\n\n* * *\n\n**امریکی نمائندے ایران سے مذاکرات کے لیے کل شام اسلام آباد میں ہوں گے: ٹرمپ**\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں کہا کہ امریکی نمائندے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے کل شام اسلام آباد میں ہوں گے۔\n\n\n\n\nصدر ٹرمپ نے اتوار کو ہی نیویارک پوسٹ سے گفتگو میں کہا کہ ان کے مشرق وسطیٰ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف ایران جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی غرض سے اسی ہفتے جا رہے ہیں۔\n\nٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے فون کال کے دوران دی پوسٹ کو بتایا: سٹیو کل (پیر کی) رات وہاں (اسلام آباد) پہنچ رہے ہیں تاکہ دوسرے مرحلے کے امن مذاکرات سے قبل تیاری کر سکیں۔\n\nانہوں نے کہا: ’میرا خیال ہے کہ شاید میں کچھ بعد کی تاریخ پر آؤں گا، ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کل کیا ہوتا ہے۔‘\n\nجب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ خود پاکستان جا سکتے ہیں، تو ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ مذاکراتی عمل سے آگے نہیں بڑھیں گے اور کہا کہ وہ ’شاید بعد میں آئیں گے۔‘\n\nٹرمپ نے لکھا، ’ہم بہت منصفانہ اور مناسب معاہدے کی پیشکش کر رہے ہیں، اور مجھے امید ہے کہ وہ اسے قبول کر لیں گے کیوں کہ اگر وہ ایسا نہیں کرتے، تو امریکہ ایران کا ہر ایک پاور پلانٹ اور ہر ایک پل تباہ کر دے گا۔‘\n\nامریکی صدر نے مزید لکھا کہ ایران نے حال ہی میں اعلان کیا کہ وہ آبنائے بند کر رہے ہیں، جو عجیب بات ہے، کیوں کہ ہماری ناکہ بندی نے اسے پہلے ہی بند کر دیا ہے۔ وہ جانے بغیر ہماری مدد کر رہے ہیں، اور اس بند راستے سے نقصان اٹھانے والے بھی وہی ہیں، روزانہ 50 کروڑ ڈالر۔\n\n* * *\n\n**ٹرمپ ایران کو اس کے جوہری حقوق سے محروم نہیں کر سکتے: ایرانی صدر**\n\nایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ایران کو اس کے ایٹمی حقوق سے محروم کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔\n\nواشنگٹن اور تہران کے درمیان ایٹمی امور پر اختلافات تاحال برقرار ہیں۔\n\nایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ’ٹرمپ کہتے ہیں ہے کہ ایران اپنے ایٹمی حقوق استعمال نہیں کر سکتا لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کہ کس جرم میں؟ وہ کسی قوم کو اس کے حقوق سے محروم کرنے والے کون ہوتے ہیں؟‘\n\n* * *\n\n**مشہد ایئر پورٹ سے بین الاقوامی فلائٹس پیر سے شروع ہوں گی: ایرانی ہوا بازی اتھارٹی**\n\nایران کی شہری ہوابازی اتھارٹی نے اتوار کو کہا کہ ملک کے شمال مشرق میں مشہد ہوائی اڈے سے بین الاقوامی پروازیں پیر سے دوبارہ شروع کرے گا۔\n\nسرکاری ٹی وی نے سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے حوالے سے بتایا، ’مشہد ہوائی اڈے پر بین الاقوامی مسافر پروازوں کو چلانے کی اجازت کل سے جاری کر دی گئی ہے۔‘\n\nسرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق اتھارٹی نے بعد میں کہا کہ مسافر اب ’مشہد ہوائی اڈے سے آنے اور جانے والے بین الاقوامی راستوں کے ٹکٹ خرید سکتے ہیں۔‘\n\nایرانی ہوائی اڈے 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جنگ ​​شروع ہونے کے بعد سے بند ہیں۔\n\n* * *\n\n**ایران اور امریکہ مذاکرات جاری رکھنا چاہتے ہیں: ترک وزیر خارجہ**\n\nترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اتوار کو کہا ہے کہ ایران اور امریکہ دونوں جنگ ختم کرنے کے لیے بات چیت جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔\n\nجنوبی صوبے انطالیہ میں ایک سفارتی فورم کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فیدان نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور ایران کے درمیان بات چیت بڑی حد تک مکمل ہو چکی ہے، لیکن اب بھی کئی معاملات پر اختلافات موجود ہیں۔\n\nفدان نے یہ بھی کہا کہ اگلے ہفتے ختم ہونے والی جنگ بندی میں توسیع کی جانی چاہیے۔\n\n* * *\n\n**راولپنڈی اسلام آباد کی تین یونیورسٹیوں کی کلاسز آن لائن**\n\nراولپنڈی اسلام آباد کی تین یونیورسٹیاں بند کر کے کلاسیں آن لائن کر دی گئی ہیں۔\n\nکامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کی انتظامیہ کی طرف سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق پیر 20 اپریل سے تا حکم ثانی کلاسز آن لائن ہوں گی۔\n\nاس طرح وفاقی دارالحکومت میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اور راولپنڈی میں پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی کی کلاسز بھی مزید احکامات تک آن لائن ہوں گی۔\n\n* * *\n\n**دارالحکومت میں ممکنہ مذاکرات کے پیش نظر شاہراہوں کی بندش اور ٹریفک پلان بھی ترتیب دے دیا گیا ہے۔**\n\nاسلام آباد پولیس کے مطابق ایکسپریس وے (کورال تا زیرو پوائنٹ) اور سری نگر ہائی وے سمیت اہم شاہراہوں پر کنٹرولڈ رسائی نافذ ہے اور وقفے وقفے سے ٹریفک روکی جا رہی ہے۔\n\nمتعدد سیکٹر لنک روڈز (ایف-6، ایف-7، جی-6، جی-5) اور اہم راستے (فیصل ایونیو، پارک روڈ، کلب روڈ) بھی متاثر ہیں۔\n\nاسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق ریڈ زون اور اس سے متعلقہ تمام روٹس مکمل طور پر بند رہیں گے۔\n\nشاہراہِ دستور پر جانے والی ٹریفک کو سروس روڈ یا متبادل روٹس استعمال کرنے کی ہدایت ہے۔\n\nراولپنڈی سے اسلام آباد آنے والے شہری فیض آباد انٹر چینج، مری روڈ یا راول روڈ کو بطور متبادل استعمال کریں۔\n\n* * *\n\n**امریکہ ایران ممکنہ مذاکرات: اسلام آباد میں پبلک ٹرانسپورٹ اور بڑے ہوٹلز میں بکنگ بند**\n\nامریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے ممکنہ دوسرے دور کے پیش نظر اسلام آباد اور راولپنڈی میں نجی اور سرکاری ٹرانسپورٹ کو تاحکم ثانی بند کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔\n\nاسلام آباد کے ڈی سی عرفان نواز میمن نے ایکس پر ایک بیان جاری کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’دارالحکومت میں ہیوی اور پبلک ٹرانسپورٹ کو تاحکم ثانی معطل کیا جا رہا ہے۔\n\nساتھ ہی بیان میں شہریوں سے سیکورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔\n\nدوسری جانب ڈی سی راولپنڈی کی جانب سے بھی ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ’راولپنڈی میں ہر قسم کی پرائیویٹ، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ تا حکمِ ثانی معطل رہے گی۔‘\n\nادھر اسلام آباد میں سرینا ہوٹل نے بتایا کہ جمعرات تک بکنگز نہیں کی جا رہیں جبکہ میریٹ ہوٹل کا کہنا ہے کہ وہ بھی مزید بکنگز نہیں کر رہے۔\n\nامریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور ممکنہ طور پر اسلام آباد میں ہونے جا رہا ہے تاہم اس حوالے سے تاحال حتمی تاریخوں کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔\n\nاس کے علاوہ دارالحکومت اسلام آباد کے دو بڑے ہوٹلز سرینا اور میریٹ میں بکنگز بند کر دی گئی ہیں۔\n\nبکنگز کے حوالے سے صارفین کو بتایا گیا ہے کہ آج یعنی 19 اپریل سے جمعرات تک بکنگز بند رہیں گی جبکہ موجودہ رہائیشیوں کو بھی ہوٹل خالی کرنے کا کہا گیا ہے۔\n\n* * *\n\n**امریکہ سے مذاکرات میں پیش رفت، لیکن معاہدے سے کافی دور ہیں: ایران**\n\nایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور امریکہ سے مذاکرات کرنے والی ٹیم کے رکن محمد باقر قالیباف نے ہفتے کی رات کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے، لیکن دونوں فریق ابھی کسی معاہدے سے کافی دور ہیں۔\n\nقالیباف نے قومی ٹیلی وژن پر خطاب میں کہا ’ہم ابھی حتمی مذاکرات سے بہت دور ہیں۔ ہم نے مذاکرات میں پیش رفت کی ہے، لیکن اب بھی بہت سے خلا موجود ہیں اور کچھ بنیادی نکات حل طلب ہیں۔‘\n\nانہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے مذاکرات کے دوران ’چالاکی‘ سے جنگ کا آغاز کیا اور اسے ’تیسری مسلط کردہ جنگ‘ قرار دیا۔\n\nان کے مطابق پچھلی جنگ کے برعکس اس بار ایران کا ردعمل فوری تھا۔\n\nقالیباف نے کہا عوامی شرکت نے اہم کردار ادا کیا اور ’میدان اور سڑک‘ دونوں میں ایران کو برتری حاصل رہی۔\n\nان کے مطابق ایران نے فوجی لحاظ سے پیش رفت کی، ڈرون مار گرائے اور جدید طیاروں (جیسے ایف-35) کو نشانہ بنایا، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران مجموعی طاقت میں امریکہ سے زیادہ مضبوط نہیں۔\n\nانہوں نے کہا کہ امریکہ اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکا، اسی لیے ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کی درخواست کی۔\n\nان کے مطابق دشمن ایران کو چند دنوں میں شکست دینا چاہتا تھا لیکن ایسا نہ ہو سکا۔\n\nقالیباف نے کہا کہ امریکہ نے 15 نکاتی منصوبہ پاکستان کے ذریعے بھیجا، جس پر ایران کی اعلیٰ سلامتی کونسل میں غور کیا گیا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانہوں نے بتایا کہ ایران نے واضح کیا کہ اگر امریکہ انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائے گا تو ایران بھی جواب دے گا۔\n\nانہوں نے زور دیا کہ جنگ بندی میں لبنان اور حزب اللہ کو شامل کرنا ایران کی شرط تھی۔\n\nقالیباف کے مطابق ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھتا ہے اور اگر امریکہ نے ’محاصرہ‘ جاری رکھا تو آمدورفت محدود کی جا سکتی ہے۔\n\nانہوں نے کہا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے مگر امریکہ پر اعتماد نہیں کرتا اور مذاکرات کو ’جدوجہد کا ایک طریقہ‘ قرار دیا۔\n\nان کے مطابق ایران بیک وقت سفارت کاری، فوجی طاقت اور عوامی حمایت تینوں محاذوں پر کام کر رہا ہے۔\n\nقالیباف نے کہا کہ ایران مستقل امن چاہتا ہے تاکہ ’جنگ اور جنگ بندی کے چکر‘ کو ختم کیا جا سکے، لیکن اس کے لیے ضمانت ضروری ہے۔\n\n* * *\n\n**مشرق وسطی تنازعے کے باعث بنگلہ دیش میں تیل 15 فیصد تک مہنگا**\n\nبنگلہ دیش نے عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے اور مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعے کے باعث سپلائی میں کمی پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 10 سے 15 فیصد تک اضافہ کر دیا۔\n\nوزارت توانائی کے مطابق پیٹرول 116 ٹکا فی لیٹر سے بڑھا کر 135 ٹکا (1.10 ڈالر) کر دیا گیا ہے جبکہ ڈیزل 115 ٹکا اور مٹی کا تیل 130 ٹکا فی لیٹر مقرر کیا گیا ہے۔\n\nحکام کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں خام تیل کی بڑھتی قیمتیں، سپلائی چین میں رکاوٹیں اور فریٹ و انشورنس اخراجات میں اضافے کے باعث درآمدی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ روئٹرز\n\n* * *\n\n**ایرانی بندر گاہوں کی ناکہ بندی، تجارت ’مکمل مفلوج‘: امریکہ**\n\nامریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ ایرانی بندر گاہوں کی ناکہ بندی سے آنے اور جانے والی تجارت ’مکمل طور پر مفلوج‘ ہو گئی ہے۔\n\n> Guided-missile destroyer USS Pinckney (DDG 91) patrols regional waters in support of blockade operations. The blockade has completely halted economic trade going into and out of Iran by sea. pic.twitter.com/x5hr6jMnke\n\n> — U.S. Central Command (@CENTCOM) April 18, 2026\n\nسینٹرل کمانڈ نے ایکس پر ایک بیان میں کہا گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر یو ایس ایس پِنکنی (DDG 91) اس ناکہ بندی کے تحت علاقائی پانیوں میں گشت کر رہا ہے۔\n\nبیان کے مطابق ’ناکہ بندی نے ایران کے سمندر کے راستے آنے اور جانے والی اقتصادی تجارت کو مکمل طور پر روک دیا ہے۔‘\n\nایران\n\nاسرائیل\n\nلبنان\n\nٹروتھ سوشل پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ منصفانہ اور مناسب معاہدے کی پیشکش کر رہے ہیں، اور مجھے امید ہے کہ وہ (ایرانی) اسے قبول کر لیں گے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nاتوار, اپریل 19, 2026 - 23:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 18 اپریل 2026 کو واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرنے کے بعد بات کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nlabel:\n\nلائیو اپ ڈیٹس\n\nrelated nodes:\n\nآبنائے ہرمز میں جہازوں پر فائرنگ، انڈیا کی تشویش\n\nپاکستان کی ثالثی میں نئی امریکی تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں: ایران\n\nامریکی وزیر جنگ کا خطاب میں بائبل کی جعلی آیت کا حوالہ\n\nآبنائے ہرمز: امریکہ کو بارودی سرنگیں ہٹانے میں کتنا عرصہ لگے گا؟\n\nSEO Title:\n\nامریکی نمائندے ایران سے مذاکرات کے لیے کل شام اسلام آباد میں ہوں گے: ٹرمپ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "امریکی نمائندے ایران سے مذاکرات کے لیے کل شام اسلام آباد میں ہوں گے: ٹرمپ"
}