{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiaux3ncrsbhiia3ekf6z3lb6s4q4kuivvjvh2f352t6ccgakdsosa",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mjq3rgxin4a2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreietqc3gaq63or5mui5544ncxmcrgpuhx6bnujftoi5bwyof3cdjbi"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 116846
},
"path": "/node/185524",
"publishedAt": "2026-04-17T13:00:45.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"@realDonaldTrump",
"pic.twitter.com/mmDYZoGlB9",
"April 17, 2026",
"Screenshot 2026-04-17 181331.jpg",
"View this post on Instagram",
"A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)",
"بیروت",
"لبنان",
"اسرائیل",
"جنگ بندی",
"حزب اللہ",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"دنیا",
"video",
"لائیو اپ ڈیٹس",
"@CMShehbaz"
],
"textContent": "**امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتے کا سیز فائر جاری۔** **دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں ہی ہونے کا امکان۔** **لبنان اور اسرائیل بھی 10 روزہ جنگ بندی پر متفق۔** **ایران کا جنگ بندی کی بقیہ مدت کے دوران آبنائے ہرمز کھلی رکھنے کا اعلان** **لائیو اپ ڈیٹس**\n---\n\n* * *\n\n**خطے میں تنازع سے توانائی نظام متاثر، مہنگائی اور معیشتوں پر منفی اثرات ہوئے: اسحاق ڈار**\n\nنائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ خطے میں جاری تنازعات اور کشیدگی کے باعث توانائی کی ترسیل کا نظام متاثر ہوا ہے، جس کے منفی اثرات معیشتوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔\n\nاسحاق ڈار 17 اپریل 2026 کو ترکی میں جاری نطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر ایک پینل سے خطاب کر رہے ہیں (دفتر خارجہ)\n\n\n\n\nترکی میں جاری نطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر ایک پینل سے خطاب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ ان رکاوٹوں کے باعث نہ صرف توانائی کا تحفظ متاثر ہو رہا ہے بلکہ روزمرہ زندگی کے اہم شعبے، جن میں فوڈ سکیورٹی، مہنگائی اور مجموعی اقتصادی استحکام شامل ہیں، بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔\n\nانہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون، تجارت کے فروغ اور بہتر روابط ناگزیر ہیں، تاکہ مشترکہ ترقی کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔\n\nاسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ جاری تنازعات کے حل سے خطے میں استحکام آئے گا اور ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی، جو نہ صرف معیشتوں بلکہ عوام کی روزمرہ زندگی کو بھی بہتر بنائے گا۔\n\n* * *\n\n**شہباز شریف کا صدر ٹرمپ کی پاکستان کی تعریف کا شکریہ**\n\nوزیر اعظم شہباز شریف نے جمعے کو امریکی صدر کی جانب سے پاکستان اور اس کی قیادت کی تعریف پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔\n\n> Mr President, on behalf of the people of Pakistan, Field Marshal Syed Asim Munir, and on my behalf, I express my deep and profound appreciation for your kind and gracious words. @realDonaldTrump pic.twitter.com/mmDYZoGlB9\n\n> — Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) April 17, 2026\n\nشہباز شریف نے ایکس پر جاری بیان میں لکھا: ’صدر ٹرمپ، پاکستان کے عوام کی جانب سے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی طرف سے، اور اپنی جانب سے، میں آپ کے پُر خلوص الفاظ پر تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘\n\n* * *\n\n**اقوام متحدہ کا ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے اعلان کا خیر مقدم**\n\nاقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتانیو گورتیش نے جمعے کو ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔\n\nایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا: ’میں ایران کے اس اعلان کا خیرمقدم کرتا ہوں جس میں انہوں نے جنگ بندی کے باقی عرصے کے دوران آبنائے ہرمز تمام تجارتی جہازوں کے لیے مکمل طور پر کھلا رکھنے کا اعلان کیا۔‘\n\nسیکرٹری جنرل نے مزید کہا کہ یہ درست سمت میں ایک قدم ہے۔\n\n\n\n\nان کے بقول: ’اقوام متحدہ کا مؤقف واضح ہے کہ ہمیں آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری آمد و رفت کے حقوق اور آزادیوں کی مکمل بحالی چاہیے اور اس کا سب کو احترام کرنا ہوگا۔‘\n\nانتانیو گورتیش نے اسلام آباد کی سفارتی کاوشوں کی تعریف کرتے ہوئے لکھا: ’مجھے امید ہے کہ جنگ بندی کے ساتھ ساتھ یہ اقدام فریقین کے درمیان اعتماد سازی میں مدد دے گا اور پاکستان کی سہولت کاری میں جاری مذاکرات کو مزید مضبوط بنائے گا۔‘\n\n* * *\n\n**امریکہ ایران سے یورینیم واپس حاصل کرے گا: صدر ٹرمپ**\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو روئٹرز کو بتایا کہ امریکہ ایران کے ساتھ مل کر اس کے افزودہ یورینیم کو واپس حاصل کرے گا اور اسے امریکہ لے جایا جائے گا۔\n\nانہوں نے کہا: ’ہم یہ سب مل کر کریں گے۔ ہم ایران کے ساتھ ایک آرام دہ رفتار سے جائیں گے اور بڑے بڑی مشینری کے ساتھ کھدائی شروع کریں گے, ہم اسے واپس امریکہ لے آئیں گے۔‘\n\nصدر ٹرمپ نے ’نیوکلئیر ڈسٹ‘ (جوہری گرد) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ چیز بہت جلد حاصل کر لی جائے گی۔\n\nنیوکلئیر ڈسٹ سے مراد وہ باقیات ہیں جو ٹرمپ کے خیال میں گذشتہ سال امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کے بعد بچنے والا جوہری مواد تھا۔\n\nخیال کیا جاتا ہے کہ ایران کے پاس 900 پاؤنڈ سے زائد یورینیم موجود ہے جسے 60 فیصد تک افزودہ کیا جا چکا ہے۔\n\nایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد مذاکرات کے سب سے پیچیدہ مسائل میں سے ایک رہا تھا۔\n\nٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنگ کی ایک بڑی وجہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تھا۔\n\nجنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے پر واضح طور پر پُرجوش نظر آنے والے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی اس وقت تک برقرار رکھے گا جب تک کوئی معاہدہ حتمی نہیں ہو جاتا۔\n\nانہوں نے کہا: ’میرے خیال میں معاہدہ بہت جلد ہو جائے گا۔ ہم ایران کے ساتھ بہت اچھی طرح آگے بڑھ رہے ہیں۔‘\n\nٹرمپ نے مزید کہا کہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے مزید مذاکرات کی ضرورت ہوگی اور یہ ممکنہ طور پر ’ویک اینڈ پر ہوں گے وہ ’شاید‘ اسلام آباد کا دورہ کریں۔\n\nانہوں نے کہا: ’میں نے ابھی اس بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا۔‘\n\nٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ امریکہ ایران کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے پر کام کر رہا ہے۔\n\n20 ارب ڈالر کے بدلے یورینیم سے متعلق ایک ممکنہ معاہدے کی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا:\n’یہ بالکل غلط ہے۔ کوئی رقم ادا نہیں کی جا رہی۔‘\n\n* * *\n\n**صدر ٹرمپ کا پاکستانی وزیر اعظم، فیلڈ مارشل کا شکریہ**\n\nامریکی صدر ڈونلڈ نے جمعے کو پاکستانی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔\n\n\n\n\nٹروتھ سوشل پرجاری بیان میں صدر ٹرمپ نے لکھا: ’میں پاکستان کا، اس کے عظیم وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ دونوں شاندار شخصیات ہیں۔‘\n\nایک الگ پوسٹ میں انہوں نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کا ان کی جرات اور مدد کے لیے شکریہ ادا کیا۔\n\nآبنائے ہرمز کے بارے میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے اتفاق کیا ہے کہ ’وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کبھی بند نہیں کرے گا۔ اب اسے دنیا کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا۔‘\n\nصدر ٹرمپ نے مزید لکھا: ’اب جب کہ آبنائے ہرمز کا مسئلہ ختم ہو چکا ہے، مجھے نیٹو کی طرف سے فون آیا کہ کیا ہمیں کسی مدد کی ضرورت ہے۔ میں نے انہیں کہا کہ اب آپ اس سے دور رہیں، سوائے اس کے کہ وہ صرف اپنے جہاز تیل سے بھرنا چاہتے ہیں۔ جب ان کی ضرورت تھی تو وہ کام نہیں آئے، وہ (نیٹو) ایک کاغذی شیر ہے۔‘\n\nلبنان کے بارے میں الگ پوسٹ میں انہوں نے لکھا: ’اسرائیل اب لبنان پر بمباری نہیں کرے گا۔ انہیں امریکہ کی طرف سے ایسا کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ بس بہت ہو چکا۔‘\n\nانہوں نے مزید لکھا: ’ہم لبنان کو دوبارہ عظیم بنائیں گے۔‘\n\n* * *\n\n**امریکہ ایران مذاکرات کا اگلا دور اس اختتام ہفتہ کو اسلام آباد میں متوقع: رپورٹ**\n\nامریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوز نے جمعے کو رپورٹ کیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور اسی اختتام ہفتہ کو اسلام آباد میں ہو سکتا ہے جس میں منجمد اثاثوں کی بحالی اور ایرانی یورینیم کے حوالے سے نئی تجاویز پر غور کیا جائے گا۔\n\nرپورٹ کے مطابق ایک نئے منصوبے کے تحت امریکہ تقریباً 20 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنے پر غور کر رہا ہے، اس کے بدلے ایران اپنے تقریباً دو کلوگرام افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے متعلق رعایتیں دے سکتا ہے۔\n\nرپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران ایک ایسے مسودہ معاہدے پر بات چیت کر رہے ہیں جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنا اور ممکنہ طور پر تنازع ختم کرنا ہے۔\n\nرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات ایک تین صفحات پر مشتمل مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر مرکوز ہیں، جس میں ایران کے نیوکلیئر پروگرام سے متعلق متعدد اقدامات شامل ہیں۔\n\nرپورٹ کے مطابق اس جوہری مواد کا کچھ حصہ کسی تیسرے ملک منتقل کیا جا سکتا ہے جبکہ باقی کو ایران میں بین الاقوامی نگرانی میں کم افزودہ کیا جائے گا۔\n\nایک امریکی اہلکار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ نئی تجویز ان متعدد آپشنز میں سے ایک ہے جو اس وقت زیرِ غور ہیں۔\n\nمذاکرات میں نیوکلیئر افزودگی پر رضاکارانہ پابندی کا معاملہ بھی شامل ہے، جس میں واشنگٹن 20 سالہ وقفے کی تجویز دے رہا ہے جبکہ ایران پانچ سالہ معطلی کی بات کر رہا ہے۔\n\nرپورٹ کے مطابق اسلام آباد مذاکرات کے دوران امریکہ نے ایران کو انسانی ضروریات کے لیے چھ ارب ڈالر کی پیشکش کی تھی، جبکہ تہران کی جانب سے 27 ارب ڈالر کا مطالبہ سامنے آیا تھا۔\n\n* * *\n\n**ایران کے آبنائے ہزمز کھولنے کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی، عالمی مارکیٹس میں تیزی**\n\nایران کے وزیر خارجہ کی جانب سے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمد و رفت جنگ بندی کے دوران مکمل طور پر کھلا رکھنے کے اعلان کے بعد تیل کی عالمی قیمتوں میں جمعے کے روز نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ سٹاک مارکیٹس اور حکومتی بانڈز میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔\n\nایران اور ٹرمپ کی جانب سے ایران کے شکریے کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت نو فیصد کمی کے ساتھ 90 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل 10 فیصد کمی کے بعد 81.5 ڈالر فی بیرل تک گر گیا۔\n\nاگرچہ قیمتیں اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح سے اب بھی زیادہ ہیں، تاہم مارچ کے آخر کی بلند ترین سطح کے مقابلے میں نمایاں کمی آئی ہے جب برینٹ 120 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا تھا۔\n\nدوسری جانب ایران کے اعلان کے بعد عالمی سٹاک مارکیٹس میں بھی اضافہ ہوا، یورپی سٹاکس 600 انڈیکس 1.3 فیصد اور امریکی ایس اینڈ پی فیوچرز 0.9 فیصد اوپر چلے گئے۔\n\nماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز سے رسد معمول پر آنے کی توقع نے عالمی معیشت کے لیے خطرات کم کیے ہیں، جس کے باعث مارکیٹس میں مثبت رجحان دیکھا جا رہا ہے۔\n\n* * *\n\n**ایران کے آبنائے ہرمز کھولنے کے اعلان پر ٹرمپ کا شکریہ**\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو آبنائے ہرمز کھولنے پر ایران کا شکریہ ادا کیا۔\n\n\n\n\nٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا: ’ایران نے ابھی اعلان کیا ہے کہ آبنائے ایران (ہرمز) مکمل طور پر کھلی ہے اور مکمل آمد و رفت کے لیے تیار ہے۔ شکریہ۔‘\n\n* * *\n\n**جنگ بندی کی بقیہ مدت کے دوران آبنائے ہرمز کھلی رہے گی: ایران**\n\nایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کو کہا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی کے تناظر میں آبنائے ہرمز تمام تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کے لیے جنگ بندی کے باقی عرصے کے لیے مکمل طور پر کھلی رہے گی۔\n\n## Screenshot 2026-04-17 181331.jpg\n\n* * *\n\n**جنگ بندی کے بعد گھروں کو لوٹنے والے لبنانی شہریوں کو دوبارہ علاقے سے نکلنا پڑے گا: اسرائیل**\n\nاسرائیل نے جمعے کو خبردار کیا ہے کہ 10 روزہ جنگ بندی کے بعد اپنے گھروں کو واپس آنے والے ہزاروں بے گھر لبنانی شہریوں کو جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں دوبارہ جنوبی علاقوں سے انخلا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔\n\nاسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کیرز نے ایک بیان میں کہا: ’اگر لڑائی دوبارہ شروع ہوتی ہے تو وہ شہری جو سکیورٹی زون میں واپس آئیں گے، مشن کی تکمیل کے لیے انہیں دوبارہ نکالنا پڑے گا۔‘\n\nانہوں نے خبردار کیا کہ فوج نے ابھی تک حزب اللہ کے خلاف اپنی کارروائیاں مکمل نہیں کی ہیں۔\n\nانہوں نے مزید کہا کہ لبنان میں 10 روزہ جنگ بندی نافذ ہونے کے چند گھنٹوں بعد بھی حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی مہم مکمل نہیں ہوئی۔\n\nان کے بقول: ’لبنان میں زمینی کارروائی اور حزب اللہ پر حملوں سے کئی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، لیکن یہ ابھی مکمل نہیں ہوئی ہیں۔‘\n\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\n* * *\n\n**لبنان میں جنگ بندی، خطے میں امن کی جانب اہم قدم: پاکستانی صدر**\n\nصدر آصف علی زرداری نے لبنان میں جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔\n\nاپنے بیان میں صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان خطے کے استحکام کو بہت اہمیت دیتا ہے اور اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ پائیدار امن صرف مذاکرات، خودمختاری کے باہمی احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔\n\nانہوں نے کہا کہ ’جنگ بندی دیرپا امن کی جانب پیش رفت کا ایک موقع ہے۔‘\n\nپاکستان کے صدر نے کہا کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ فعال طور پر رابطے میں ہے۔\n\nصدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی میں کمی اور منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے فروغ کے لیے ہر مخلصانہ اقدام کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’امریکہ اور ایران کے درمیان جاری دو ہفتے کی جنگ بندی کے وسیع تر مفادمیں لبنان میں بھی تحمل شامل تھا جس کی اسرائیل کی جانب سے خلاف ورزی کی گئی۔‘\n\nوزیراعظم شہباز شریف نے بھی جمعے کو ’ایکس‘ پر ایک بیان میں لبنان میں جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جرات مندانہ اور دانشمندانہ سفارتی کوششوں کے ذریعے ممکن ہوئی، اور امید ظاہر کرتا ہوں کہ یہ خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار کرے گی۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ پاکستان لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے اور ’خطے میں دیرپا امن کے لیے تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔‘\n\n* * *\n\n**امن کے لیے پاکستان کی کوششیں جاری، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایرانی صدر سے ملاقات**\n\nپاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے پر زور دیا ہے اور اس امید کا اظہار کیا کہ ایک معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے۔\n\nایرانی حکومت کے مطابق اسلام آباد ایک اہم ثالث کے طور پر اپنا کردار مزید مضبوط بنا رہا ہے تاکہ نازک جنگ بندی کو پائیدار امن میں بدلا جا سکے۔\n\nفیلڈ مارشل اس وقت ایران کے دورے پر ہیں، جہاں وہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nثالثی کے لیے پاکستان کی کوششوں سے 8 اپریل کو دو ہفتوں کی جنگ بندی طے پائی تھی جس کے بعد اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ سطحی مذاکرات بھی ہوئے تاہم ان سے کسی معاہدے پر اتفاق رائے نہ ہو سکا۔\n\nایرانی صدر سے ملاقات میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ یہ جنگ ختم بھی ہو جائے گی تو خطہ ممکنہ طور پر اپنی سابقہ حالت میں جلد واپس نہیں آئے گا، اس لیے تمام ممالک کو تعمیر نو، استحکام اور دیرپا امن کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔\n\nایرانی حکومت کے مطابق پاکستان کے فیلڈ مارشل نے کہا کہ ’چین، سعودی عرب، مصر اور ترکی اس بحران کے دوران سفارتی کوششوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ ایک معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے۔ یہ جنگ صرف تباہی اور نقصان لاتی ہے۔‘\n\nصدر پزشکیان نے کہا کہ ایران خطے میں امن، استحکام اور برادرانہ تعلقات کا خواہاں ہے۔\n\n10 اور 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوران واشنگٹن اور تہران اہم معاملات پر متفق نہ ہو سکے۔\n\nجہاں ایک طرف فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران میں موجود ہیں، وہیں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سعودی عرب، قطر اور ترکی کے دوروں پر ہیں تاکہ امن کے قیام کے لیے کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔\n\n* * *\n\n**امریکی صدر نے کہا کہ ’ہم ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کے بہت قریب ہیں۔‘**\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے جلد ہی معاہدہ طے پا سکتا ہے اور کہا کہ جنگ بہت جلد ختم ہونی چاہیے۔\n\nانہوں نے تہران کی حامی تنظیم حزب اللہ پر زور دیا کہ وہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کے نفاذ کے ساتھ ہی اپنے حملے روک دے۔\n\nڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان آئندہ ملاقات اس ہفتے کے آخر میں ہو سکتی ہے اور دو ہفتے کی جنگ بندی میں توسیع ممکن ہے، لیکن شاید اس کی ضرورت نہ پڑے کیوں کہ تہران ایک معاہدہ چاہتا ہے۔\n\nانہوں نے وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے؟ لیکن مجھے لگتا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کے بہت قریب ہیں۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ اگر معاہدہ طے پا گیا اور اس پر پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں دستخط ہوئے، تو وہ اس موقع پر وہاں جا سکتے ہیں۔\n\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\nچند گھنٹے بعد لاس ویگس میں، ٹرمپ نے مزید آگے بڑھتے ہوئے کہا کہ جنگ ’بہت جلد ختم ہونی چاہیے۔‘\n\nایران کے ساتھ جنگ امریکہ میں غیر مقبول رہی ہے اور اس نے ٹرمپ کے لیے ملک میں اہم وسط مدتی انتخابات سے محض چند ماہ قبل ایک سیاسی درد سر کھڑا کر دیا ہے۔\n\nایران پر 28 فروری کو شروع ہونے والے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں کے بدترین بحران کو جنم دیا ہے اور اس کے باعث بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے عالمی معیشت کی ترقی کی رفتار میں کمی کا عندیہ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ طویل تنازع دنیا کو معاشی کساد بازاری کے دہانے پر دھکیل سکتا ہے۔\n\nامریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کرنے والے ایک پاکستانی ذریعے نے جمعے کو روئٹرز کو بتایا کہ بیک ڈور ڈپلومیسی میں پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں فریقوں کے درمیان آئندہ ملاقات کے نتیجے میں ایک معاہدے پر دستخط ہو سکتے ہیں۔\n\nذریعے نے بتایا کہ دونوں فریق پہلے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کریں گے جس کے بعد 60 دنوں کے اندر ایک جامع معاہدہ طے پائے گا۔\n\nنام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے ذریعے نے بتایا کہ ’تفصیلی معاہدہ بعد میں ہو گا۔ دونوں فریق اصولی طور پر متفق ہیں۔ اور تکنیکی معاملات بعد میں طے پائیں گے۔‘\n\nایک سفارتی ذریعے نے بتایا کہ اہم پاکستانی ثالث، آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، بدھ سے تہران میں مذاکرات کر رہے ہیں اور انہوں نے ’پیچیدہ مسائل‘ پر اہم پیش رفت کر لی ہے۔\n\n* * *\n\n**پاکستانی پرچم والا آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزر گیا**\n\nڈیٹا، انٹیلی جنس اور انفراسٹرکچر کمپنیوں کیپلر اور ایل ایس ای جی کے مطابق پاکستانی پرچم بردار ٹینکر شالامار متحدہ عرب امارات سے لدا ہوا خام تیل لے کر آبنائے ہرمز کے راستے خلیج سے گزر گیا ہے۔\n\nافرا میکس ٹینکر جمعرات کو اس آبی گزرگاہ سے نکلا جس میں اس ہفتے کے شروع میں لادا گیا ابوظہبی کا تقریباً چار لاکھ 40 ہزار بیرل داس بلینڈ خام تیل موجود ہے۔ ڈیٹا کے مطابق، جہاز 19 اپریل کو اپنا سامان اتارنے کے لیے کراچی کی بندرگاہ کی طرف جا رہا ہے۔\n\nشالامار ان دو پاکستانی ٹینکروں میں سے ایک ہے جو خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات لادنے کے لیے اتوار کو آبنائے میں داخل ہوئے تھے۔ پاکستان کے وزیر پٹرولیم نے بدھ کو بتایا کہ شالامار میں متحدہ عرب امارات میں ایڈنوک ٹرمینل سے خام تیل بھرا گیا۔\n\n* * *\n\n**لبنان جنگ بندی میں ثالثی پر پاکستان کے شکر گزار ہیں: سپیکر ایرانی پارلیمنٹ**\n\nایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے ’ایکس‘ پر ایک پیغام میں لبنان میں جنگ بندی کے لیے پاکستان کی طرف سے کی جانے والی ثالثی کی کوششوں کو سراہا ہے۔\n\nانہوں اپنے پیغام میں حکومت پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کا شکریہ ادا کیا۔\n\n\n\n\nپاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران میں باقر قالیباف، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت دیگر رہنماؤں سے ملاقاتیں کی۔\n\nباقر قالیباف نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ’جنگ بندی صرف حزب اللہ کی ثابت قدمی اور مزاحمتی محور کے اتحاد کا نتیجہ ہے۔ ہم اس جنگ بندی پر احتیاط کے ساتھ ڈیل کریں گے اور مکمل کامیابی کے حصول تک ایک ساتھ رہیں گے۔‘\n\n* * *\n\n**لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی پر عمل شروع**\n\nلبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب سے عمل میں آ گئی ہے۔\n\nاس طرح اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی رک سکتی ہے اور ہفتوں کی تباہ کن جنگ کے بعد ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کو وسعت دینے کی کوششوں کو فروغ مل سکتا ہے۔\n\nلبنان کے دارالحکومت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں 17 اپریل 2026 کو شہری اسرائیل کے ساتھ جنگ پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\nجمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کا اعلان اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے طور پر کیا۔ آدھی رات کے فوراً بعد جنگ بندی کے آغاز کا جشن منانے کے لیے مقامی لوگوں نے ہوائی فائرنگ کی جس سے پورے بیروت میں گولیوں کی آوازیں گونج اٹھیں۔\n\nحکام کے اس انتباہ کے باوجود کہ جب تک جنگ بندی برقرار رہنے کا واضح یقین نہ ہو جائے اپنے گھروں کو لوٹنے کی کوشش نہ کریں، نقل مکانی کرنے والے خاندانوں نے جنوبی لبنان اور بیروت کے جنوبی مضافات کی طرف جانا شروع کر دیا ہے۔\n\n* * *\n\n**امید ہے حزب اللہ بہتر انداز میں پیش آئے گی: ٹرمپ**\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ حزب اللہ اس اہم وقت میں اچھے اور بہتر انداز میں پیش آئے گی۔\n\nاپنی ٹروتھ سوشل پوسٹ میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو یہ ان کے لیے ایک بہت بڑا لمحہ ہو گا۔ مزید کوئی قتل و غارت نہیں۔ آخرکار امن قائم ہونا چاہیے۔\n\nبیروت\n\nلبنان\n\nاسرائیل\n\nجنگ بندی\n\nحزب اللہ\n\nصدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے اتفاق کیا ہے کہ ’وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کبھی بند نہیں کرے گا۔‘\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعہ, اپریل 17, 2026 - 18:00\n\nMain image:\n\n> <p> 25 جون 2025 کو آبنائے ہرمز کے پانیوں میں ایک کشتی سفر کر رہی ہے (اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\njw id:\n\nf5i132QZ\n\ntype:\n\nvideo\n\nlabel:\n\nلائیو اپ ڈیٹس\n\nrelated nodes:\n\nایران سے اسلام آباد میں معاہدہ ہوا تو میں وہاں جا سکتا ہوں: صدر ٹرمپ\n\nامریکہ ایران مذاکرات میں پاکستانی زبردست اور واحد ثالث ہیں: وائٹ ہاؤس\n\nجنگ کا دائرہ پھیل گیا، اسرائیل کے لبنان پر حملے، علاقوں سے انخلا\n\nاسرائیل لبنان کے ساتھ جلد از جلد امن مذاکرات شروع کرنا چاہتا ہے: نتن یاہو\n\nSEO Title:\n\nایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان، ٹرمپ کا پاکستانی وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا شکریہ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان، ٹرمپ کا پاکستانی وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا شکریہ"
}