{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreifmdape2u5fn4gtuiefazaalj353hqoeo7sjvobphzgagq4ogtbui",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mjq3rg6mwzx2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreigoje3paofjrsuff7426t5bpouh2nss4viw6vygl2y4ldzcv4k54q"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 94619
},
"path": "/node/185533",
"publishedAt": "2026-04-17T12:23:52.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"View this post on Instagram",
"A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)",
"اسلام آباد مذاکرات",
"ایرانی وفد",
"اسرائیل",
"پاکستان ائیر فورس",
"روئٹرز",
"پاکستان",
"news"
],
"textContent": "**خبر رساں ادارے روئٹرز نے تین ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ گذشتہ ہفتے کے اختتام پر اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کے بعد پاکستان کی فضائیہ نے حفاظتی حصار میں ایرانی وفد کو وطن پہنچایا کیونکہ ایرانیوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اسرائیل انہیں نشانہ بنا کر قتل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔**\n\nدو پاکستانی ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ اس آپریشن میں تقریباً دو درجن پاکستانی جنگی طیارے شامل تھے جبکہ فضائی نگرانی کے لیے ایئر بورن وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم بھی استعمال کیا گیا تاکہ اسلام آباد سے روانہ ہونے والے وفد کی مکمل حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔\n\nمذاکرات میں شامل ایک تیسرے ذرائع نے بتایا کہ آئندہ ممکنہ مذاکرات کے پیشِ نظر پہلے ہی حفاظتی اقدامات پر کام جاری ہے جو ممکنہ طور پر اسی ہفتے کے آخر میں ہو سکتے ہیں۔\n\nذرائع نے کہا کہ اگر ایرانی آئندہ مذاکرات کے لیے درخواست کریں تو انہیں اسی نوعیت کی سکیورٹی فراہم کی جائے گی اور پاکستانی طیارے انہیں ملکی حدود میں اپنے حصار میں لیں گے\n\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\n**’انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے‘**\n\nتہران سے بریفنگ لینے والے ایک علاقائی سفارت کار نے کہا کہ اگرچہ ایرانی وفد نے اسرائیلی خطرے کو ’فرضی‘ قرار دیا، تاہم پاکستان نے انہیں سکیورٹی سکواڈرن فراہم کرنے پر زور دیا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nایرانی وفد کے ساتھ سفر کے دوران ممکنہ خطرات اور ایران تک پاکستانی فضائی حفاظتی حصار کی موجودگی کی تفصیلات اس سے قبل رپورٹ نہیں ہوئیں۔\n\nاسرائیلی وزیراعظم کے دفتر، جینیوا میں ایران کے مستقل مشن، پاکستان کی فضائیہ اور فوج اور امریکہ کے سفارت خانے نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔\n\nایک سکیورٹی ذرائع نے کہا: ’جب مذاکرات بے نتیجہ ہوئے تو ایرانی حکام کو تشویش ہوئی کہ معاملات درست نہیں جا رہے۔ انہیں شبہ تھا کہ انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا: ’پائلٹ کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ ایک بڑا آپریشن تھا۔ آپ ایک ایسے وفد کی ذمہ داری لے رہے ہیں جو مذاکرات کے لیے آیا ہے، آپ انہیں فضائی تحفظ فراہم کر رہے ہیں اور کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘\n\nمذاکرات میں شامل ایک اہلکار نے، جو 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے روابط میں سے ایک تھے، فضائی سکیورٹی کی تصدیق کی تاہم آپریشن کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔\n\n11 اپریل 2026 کو وزیر اعظم شہباز شریف امریکہ-ایران امن مذاکرات سے قبل ملاقات کے دوران ایرانی وفد کا استقبال کر رہے ہیں (وزیر اعظم آفس)\n\n\n\n\nانہوں نے کہا: ’ہم انہیں مکمل طور پر تہران تک لے کر گئے۔ ان کی سکیورٹی یہاں قیام کے بعد بھی ہماری ذمہ داری تھی۔‘\n\nایک اور اہلکار کے مطابق اتوار کے اس مشن میں چینی ساختہ جے 10 سی طیارے بھی شامل تھے، جو پاکستانی فضائیہ کے جدید ترین جنگی طیاروں میں شمار ہوتے ہیں۔\n\n**اسرائیلی ’ہٹ لسٹ‘**\n\nذرائع کے مطابق ایرانی وفد، جس کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف کر رہے تھے، نے سکیورٹی سکواڈرن کی درخواست کی، جو معمول کے پروٹوکول سے کہیں زیادہ ہے۔\n\nتاہم ایک علاقائی سفارت کار نے کہا کہ ایرانیوں نے اس کی باضابطہ درخواست نہیں دی، لیکن اس امکان کو بھی رد نہیں کیا کہ اسرائیل ان کے طیارے کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس کے بعد پاکستان نے سکیورٹی فراہم کرنے پر زور دیا۔\n\nسفارت کار کے مطابق وفد تہران میں نہیں اترا، تاہم انہوں نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ اصل میں انہوں نے کہاں لینڈ کیا۔\n\nذرائع کے مطابق اسرائیل نے عباس عراقچی اور محمد باقر قالیباف کو ممکنہ اہداف کی فہرست میں شامل کیا ہوا تھا، تاہم پاکستان نے امریکہ سے مداخلت کی درخواست کی تاکہ انہیں فہرست سے نکالا جا سکے، کیونکہ بصورت دیگر مذاکرات کے لیے کوئی باقی نہیں رہتا۔\n\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\nاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو نے ممکنہ طور پر ایران کا حوالہ گذشتہ ماہ دیتے ہوئے کہا تھا: ’میں دہشت گرد تنظیم کے کسی بھی رہنما کو زندگی کی ضمانت نہیں دوں گا۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے منصوبوں کی تفصیلات ظاہر نہیں کریں گے۔\n\nایرانی اور امریکی وفود نے 11 اپریل کو اسلام آباد میں 21 گھنٹے طویل مذاکرات کیے تھے۔\n\nصدر ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ جنگ ’بہت جلد ختم ہو سکتی ہے‘ اور یہ بھی عندیہ دیا کہ مذاکرات اسی ہفتے کے آخر میں اسلام آباد میں دوبارہ ہو سکتے ہیں اور وہ خود ممکنہ معاہدے پر دستخط کے لیے پاکستان آ سکتے ہیں۔\n\nاسلام آباد مذاکرات\n\nایرانی وفد\n\nاسرائیل\n\nپاکستان ائیر فورس\n\nایک علاقائی سفارت کار نے کہا کہ اگرچہ ایرانی وفد نے اسرائیلی خطرے کو ’فرضی‘ قرار دیا، تاہم پاکستان نے انہیں سکیورٹی سکواڈرن فراہم کرنے پر زور دیا۔\n\nروئٹرز\n\nجمعہ, اپریل 17, 2026 - 17:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\"> 11 اپریل 2026 کو پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے لی گئی اور جاری کی گئی تصویر میں پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار (دائیں سے دوسرے) اور آرمی چیف سید عاصم منیر (بائیں سے دوسرے) امریکہ سے مذاکرات کے سلسلے میں آنے والے ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی (درمیان سے بائیں) اور ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف (درمیان سے دائیں) کے ہمراہ اسلام آباد کے قریب راولپنڈی میں نور خان ایئر بیس پر آمد کے موقع پر پیدل چل رہے ہیں (پاکستان کی وزارت خارجہ ) </p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nایران سے اسلام آباد میں معاہدہ ہوا تو میں وہاں جا سکتا ہوں: صدر ٹرمپ\n\nایرانی وفد کی مذاکرات کے لیے اسلام آباد آمد، اعلی حکام نے استقبال کیا: دفتر خارجہ\n\nاسلام آباد میں مفاہمت کے قریب تھے، امریکہ ایک بار پھر پیچھے ہٹ گیا: ایرانی سفیر\n\nامریکہ-ایران مذاکرات کے آئندہ دور کی تاریخ طے نہیں ہوئی: پاکستانی وزارت خارجہ\n\nSEO Title:\n\nاسرائیلی حملے کا خدشہ، ایرانی وفد کو پاکستان کے فضائی حصار میں وطن پہنچایا گیا: رپورٹ\n\ncopyright:\n\nTranslator name:\n\nعبدالقیوم\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "اسرائیلی حملے کا خدشہ، ایرانی وفد کو پاکستان کے فضائی حصار میں وطن پہنچایا گیا: رپورٹ"
}