{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreibijdjeajoyehrpvoq54thybwpywodhaiilv5ufjns2q5cxkkcyui",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mjnelv4bojv2"
},
"path": "/node/185509",
"publishedAt": "2026-04-16T11:45:13.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"ایران جنگ",
"امریکہ ویزا",
"اسرائیل",
"اسلام آباد مذاکرات",
"اعزاز احمد چوہدری",
"زاویہ",
"news"
],
"textContent": "**امریکہ اور ایران کی جانب سے ایک ایسے معاہدے کے لیے دوبارہ اسلام آباد میں جمع ہونے کی نوید نے، جو 11 اپریل کے مذاکرات میں طے نہ پا سکا تھا، مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کی امیدیں دوبارہ زندہ کر دی ہیں۔دونوں فریقین نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ انہیں تصفیہ کی سہولت کاری کے لیے پاکستان کی صلاحیت اور خلوص پر مکمل اعتماد ہے۔**\n\nاسلام آباد مذاکرات کے بعد، ایران کے وزیر خارجہ نے انکشاف کیا کہ زیادہ تر مسائل پر اتفاق رائے ہو چکا ہے اور وہ امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کے بہت قریب ہیں۔ امریکی جانب سے بھی اب اس بات کی تصدیق کر دی گئی ہے کہ ان کی ٹیم ایرانی ہم منصب کے ساتھ مل کر باقی ماندہ اختلافات کو دور کرنے پر کام کر رہی ہے۔ دنیا بھر کی نظریں اب اسلام آباد میں فریقین کی اگلی ملاقات پر لگی ہوئی ہیں۔\n\nایران اور امریکہ کے درمیان امن کا تصفیہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے اہم ہو گا، کیونکہ 40 روزہ جنگ نے توانائی کی سپلائی کو درہم برہم کیا اور عالمی معیشت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کر دیا ہے۔ جنگ کے آغاز سے ہی، ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی آمد و رفت پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ کر دیا۔ صدر ٹرمپ نے ردعمل میں دھمکی دی کہ اگر ایران نے آبنائے کو نہ کھولا تو وہ اسے بمباری کر کے ’پتھر کے دور‘ میں واپس دھکیل دیں گے۔ اگر وہ اپنی دھمکیوں پر عمل کرتے، تو ایران غالباً خلیجی ریاستوں کے پانی صاف کرنے کے پلانٹس اور پاور گرڈز پر حملہ کر دیتا، جس سے ہرمز کے ذریعے تیل اور گیس کی سپلائی مزید متاثر ہوتی اور عالمی معیشت کساد بازاری اور ممکنہ طور پر شدید معاشی بحران کی طرف چلی جاتی۔\n\nصدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کو آبنائے کھولنے کے لیے دی گئی مہلت ختم ہونے سے محض اسی منٹ پہلے، پاکستان کے وزیراعظم نے امریکہ اور ایران کو اسلام آباد میں مذاکرات کی پیشکش کی۔ ٹرمپ نے اسے قبول کیا، اور ایران نے بھی۔ دنیا نے سکھ کا سانس لیا۔\n\n40 دن تک، امریکہ اور اسرائیل نے ایرانی قیادت کو نشانہ بنایا اور قتل کیا، ایرانی فوجی تنصیبات اور بعض اوقات شہری آبادیوں، جیسے کہ لڑکیوں کے سکول، پر بڑے پیمانے پر بمباری کی گئی۔ ایران نے بے خوف ہو کر مقابلہ کیا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کا جوہری پروگرام محض ایک بہانہ ہے ۔ آخر کار، ایران نے 2015 میں ایک جوہری معاہدے پر اتفاق کیا تھا جسے صدر ٹرمپ نے 2018 میں منسوخ کر دیا تھا۔\n\nزیادہ تر اندازوں کے مطابق، اسرائیل اور امریکہ کا اصل ایجنڈا ایران میں حکومت کی تبدیلی تھا۔ اس سے اسرائیل کے لیے دریائے فرات اور نیل کے درمیان عرب زمینوں پر ’گریٹر اسرائیل‘ کے قیام کی راہ ہموار ہو سکتی تھی۔ کئی عرب ریاستوں نے زمینی حقائق کو تسلیم کر لیا تھا اور ابراہم معاہدے میں شامل ہونے کی خواہش رکھتی تھیں۔ ایران کو اسرائیلی عزائم کے سامنے واحد مزاحمت کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔\n\nجب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا، تو وہ اس غلط فہمی میں تھے کہ یہ ایک مختصر جنگ ہوگی کیونکہ ایران کے عوام اٹھ کھڑے ہوں گے اور اپنی حکومت کا تختہ الٹ دیں گے۔ رہبرِ خامنہ ای سمیت اپنی قیادت کی شہادت کے باوجود، ایران نے ہتھیار نہیں ڈالے کیونکہ یہ اس کے لیے بقا کی جنگ بن چکی تھی۔ دہائیوں سے، ایران نے میزائلوں اور ڈرونز کی تیاری پر توجہ دی تھی، اور چین و روس کے ممکنہ تعاون سے، الیکٹرانک، سائبر اور انفارمیشن وارفیئر کا استعمال کیا۔ تاہم، اس کا سب سے اہم فوجی اقدام آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی تھا۔\n\n11 اپریل کو اسلام آباد مذاکرات کے بعد، صدر ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا اعلان کر کے ایران کو ڈرانے کی ایک اور کوشش کی، یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی پائیدار۔\n\nاس لیے یہ حیرت کی بات نہیں تھی کہ انہوں نے امن تصفیہ کے لیے دوبارہ اسلام آباد مذاکرات کی طرف لوٹنے کا فیصلہ کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ صدر ٹرمپ کو احساس ہونا شروع ہو گیا تھا کہ امریکی عوام اس جنگ سے بیزار ہو رہے ہیں، جسے وہ اپنی نہیں بلکہ اسرائیل کی جنگ سمجھتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ایران کو طاقت کے زور پر آبنائے ہرمز کھولنے پر مجبور کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔\n\nامریکی فوج کی جانب سے بھی ایران میں شہری بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی مزاحمت کی گئی کیونکہ یہ جنگی جرم ہوتا۔ صدر ٹرمپ نے آرمی چیف اور کئی دیگر جرنیلوں کو برطرف کر دیا، جو خلیج فارس میں امریکی زمینی فوج اتارنے کے خلاف تھے کیونکہ اس سے امریکی فوجیوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہوتا۔\n\nصدر ٹرمپ کے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی وجوہات جو بھی ہوں، پوری دنیا نے لڑائی میں وقفے اور اسلام آباد میں مذاکرات کے دوبارہ انعقاد کا خیرمقدم کیا ہے۔\n\nیہ جاننا اہم ہے کہ اسلام آباد ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کا مقام کیونکر کیسے بنا۔ اس تنازع کے آغاز سے ہی پاکستان نے متحارب فریقین پر زور دیا تھا کہ وہ جارحیت ترک کریں اور امن مذاکرات میں شامل ہوں۔ پاکستان کی قیادت، بالخصوص وزیراعظم، وزیر خارجہ اور آرمی چیف نے تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ فعال طور پر رابطہ کیا تاکہ تنازع کے پرامن حل کی طرف لوٹا جا سکے۔ اپنے اصولی موقف کی بدولت، پاکستان نے نہ صرف امریکہ اور ایران بلکہ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر جیسے دیگر اہم ملکوں کا اعتماد حاصل کیا۔ اسلام آباد میں ان تین ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس بھی بلایا گیا اور چین کو بھی اعتماد میں لیا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاسلام آباد میں مذاکرات کے پہلے دور نے 47 سالوں میں پہلی بار امریکہ اور ایران کو آمنے سامنے بٹھایا۔ یہ بذاتِ خود ایک انقلابی پیش رفت تھی۔ 21 گھنٹے طویل پہلے دور میں، دونوں فریقین نے مذاکرات سے پہلے بالکل متضاد مطالبات پیش کیے تھے۔ امریکہ نے 15 نکاتی فہرست جاری کی تھی جبکہ ایران کی اپنی 10 نکات پر مشتمل خواہشات کی فہرست تھی۔ مشترکہ زمین بہت کم تھی۔ پاکستان کی مہارت اور ثالثی نے اس مشترکہ بنیاد کی نشاندہی کرنے میں مدد کی۔ تاہم، دونوں فریق پہلے دور میں معاہدہ نہ کر سکے۔ کسی کو توقع نہیں تھی کہ وہ صرف ایک دن میں امن تصفیہ تک پہنچ جائیں گے۔ تاہم، یہ توقع تھی کہ وہ جنگ بندی میں توسیع کریں گے اور مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ کریں گے۔ ایک لمحے کے لیے ایسا لگا کہ ہاتھ آیا ہوا قیمتی موقع ضائع ہو گیا ہے۔\n\nاس موقع پر اسلام آباد مذاکرات کے ایجنڈے پر نظر ڈالنا اہم ہوگا۔ امریکہ نے ایران سے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی ٹریفک کے لیے کھول دے جیسا کہ جنگ سے پہلے تھا۔ تاہم، ایران آبنائے کے کنٹرول کو اس بات کی واحد ضمانت سمجھتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل دوبارہ بمباری شروع نہیں کریں گے۔ ایران جانتا ہے کہ وہ اپنی 12 سمندری میل کی علاقائی حدود کے اندر ٹریفک کو کنٹرول کر سکتا ہے، لیکن وہ آبنائے پر مکمل ملکیت کا حق نہیں رکھ سکتا۔ اقوامِ متحدہ کے سمندری قانون کی کنونشن (UNCLOS) کے تحت، جس پر ایران نے دستخط کیے ہیں لیکن توثیق نہیں کی، ایران اور عمان آبنائے میں مشترکہ علاقائی حدود (ہر ایک کے لیے 12 سمندری میل) کا دعویٰ کر سکتے ہیں، جو کہ اپنے تنگ ترین مقام پر صرف 21 سمندری میل ہے۔ تاہم، UNCLOS اس علاقے میں تمام جہازوں کے لیے راہداری (transit passage) کے حق کی اجازت بھی دیتا ہے۔\n\nدوسرا مسئلہ امریکہ کا یہ مطالبہ ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار نہیں بنانے چاہیے اور اپنے فسائل (fissile) مواد کی افزودگی کو واپس لینا یا منجمد کرنا چاہیے۔ اگرچہ ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے لیے پورے خطے پر محیط نظام کو ترجیح دے گا، لیکن وہ ایک خاص مدت (پانچ سال یا اس سے زیادہ) کے لیے اپنے مواد کی افزودگی منجمد کرنے پر اتفاق کر سکتا ہے۔ تاہم، ایران اپنے پرامن جوہری پروگرام کو جاری رکھنا چاہے گا۔\n\nایران کے نقطہ نظر سے، میز پر موجود دیگر مسائل میں مستقل جنگ بندی (بشمول لبنان کے خلاف اسرائیل کی کارروائیوں کا خاتمہ)، امریکی اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ، امریکی اور اسرائیلی بمباری سے ہونے والے نقصانات کی تلافی، اور اس کے منجمد اثاثوں کی واپسی شامل ہیں۔\n\nاب جبکہ دنیا اسلام آباد مذاکرات کے اگلے دور کا انتظار کر رہی ہے، مشرقِ وسطیٰ کے لیے جنگ کے بعد کے نئے سکیورتی ڈھانچے پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ خلیجی ریاستوں کو امریکی فوجی اڈوں کے ذریعے فراہم کردہ حفاظتی چھتری پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔\n\nایران، خلیجی ریاستوں اور اسرائیل کے درمیان غیر مستحکم مثلثی تعلقات کو صرف اجتماعی سلامتی کے ایک نئے معاہدے کے ذریعے ہی سنبھالا جا سکتا ہے۔ ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کا اصول ہی ہر ریاست کو محفوظ محسوس کرانے کا واحد طریقہ ہے۔ بیرونی طاقتوں کی طرف سے مداخلت پسندی اور حکومتوں کی تبدیلی کا ایجنڈا فطری طور پر عدم استحکام پیدا کرتا ہے، بشمول ان طاقتوں کے لیے جو اس پر عمل پیرا ہیں۔ اجتماعی اور تعاون پر مبنی سلامتی کا تصور نئے سکیورٹی ڈھانچے کی بنیاد بن سکتا ہے جس میں خلیجی ریاستیں، پاکستان، ترکیہ، مصر اور ایران شامل ہوں، اور جسے بڑی طاقتوں کی سرپرستی حاصل ہو۔\n_مصنف صنوبر انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین اور پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ ہیں۔_\n\n_نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔_\n\nایران جنگ\n\nامریکہ ویزا\n\nاسرائیل\n\nاسلام آباد مذاکرات\n\nایران اور امریکہ کے درمیان امن کا تصفیہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے اہم ہو گا، کیونکہ 40 روزہ جنگ نے توانائی کی سپلائی کو درہم برہم کیا اور عالمی معیشت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کر دیا ہے۔\n\nاعزاز احمد چوہدری\n\nجمعرات, اپریل 16, 2026 - 16:45\n\nMain image:\n\n> <p>ایک پاکستانی رینجر 12 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں امریکہ-ایران امن مذاکرات کے لیے ایک بل بورڈ کے پاس سے گزر رہا ہے (اے ایف پی)</p>\n\nزاویہ\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nامریکہ ایران مذاکرات میں پاکستانی زبردست اور واحد ثالث ہیں: وائٹ ہاؤس\n\nپاکستان مذاکرات میں پیش رفت کے لیے اب بھی پرامید: شہباز\n\nمذاکرات اچھے رہے، ایران ’سخت‘ تھا، آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی فوراً شروع ہو گی: ٹرمپ\n\nامریکہ بمقابلہ ایران: اسلام آباد مذاکرات میں کون شریک ہے؟\n\nSEO Title:\n\nاسلام آباد مذاکرات اور مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "اسلام آباد مذاکرات اور مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل"
}