{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreieoarj3dp75d23ih7whm6h7mn52zcgxgyle7rs5lke57xysdmf6ui",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mjnelfllmm42"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreidypnn4aso3mfh3zf4mzcsinnhar4d35wahowfoddu3ht6mbw5u3y"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 63181
  },
  "path": "/node/185512",
  "publishedAt": "2026-04-16T12:00:51.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "Pakistanelectricitymix.jpg",
    "لوڈشیڈنگ",
    "بجلی کی پیداوار",
    "بجلی گھر",
    "بجلی کی تاریں",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "معیشت",
    "video"
  ],
  "textContent": "**وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے پیک آورز میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر جمعرات کو عوام سے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کی جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے گیس کی سپلائی بند ہے، جس کے باعث لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔**\n\nملک بھر سے صارفین روزانہ 10، 10 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی شکایت کر رہے ہیں۔ پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ اس کی بڑی وجہ پن بجلی کی پیداوار میں نمایاں کمی ہے، جس کے باعث حکام کو کئی علاقوں میں شام کے مصروف اوقات کے دوران لوڈ مینیجمنٹ کا دورانیہ بڑھا کر پانچ گھنٹے تک کرنا پڑ رہا ہے۔\n\nاسی صورت حال پر اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ اس وقت تقریباً 4 ہزار میگا واٹ سے زائد شارٹ فال کا سامنا ہے اور شہری اور دیہی علاقوں میں برابر کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے، جو کہ ایک ’عارضی‘ اقدام ہے۔\n\nانہوں نے بتایا کہ چند دن قبل قیمتوں میں اضافے کے باعث ڈھائی گھنٹے لوڈشیڈنگ کا اعلان کیا گیا تھا۔\n\nوفاقی وزیر توانائی کے مطابق دن کے اوقات میں لوڈ مینیجمنٹ نہیں ہوتی کیونکہ ’دن کے اوقات میں ہمارے پاس ڈیمانڈ کم اور پیداوار وافر ہوتی ہے۔‘\n\nپریس کانفرنس کے دوران وزیر توانائی نے کہا کہ ’خلیج کی صورت حال کی وجہ سے ہمارے تقریباً سارے ایل این جی پلانٹس کو گیس کی سپلائی بند ہے۔ ان تمام ایل این جی پلانٹس کی پیداواری صلاحیت 6000 میگا واٹ ہے، جس میں سے صرف 500 میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے اور وہ بھی کول گیس سے جبکہ پن بجلی سے اس سال اپریل میں 1600 میگاواٹ بجلی بن رہی ہے۔\n\n’اگر ہمیں ایل این جی دستیاب ہوتی اور پن بجلی بھی بن رہی ہوتی تو ہم اس قابل ضرور ہیں کہ ہم اس کمی کو پورا کر پاتے۔ اس وقت ایل این جی اور پن بجلی کی کمی سے جتنا فرق پڑ رہا ہے اس کو کم کرنے کے لیے ہم فرنس آئل کے پلانٹس چلا رہے ہیں تاہم اب بھی ہمیں تقریباً 3400 میگاواٹ کے شارٹ فال کا سامنا ہے۔‘\n\nوفاقی وزیر نے بتایا کہ 500 میگاواٹ کی قلت سے ایک گھنٹہ لوڈ شیڈنگ بڑھتی ہے اور جب طلب 16 ہزار میگا واٹ سے بڑھ جاتی ہے تو تب ہی لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے۔\n\n’اگر بجلی کی پیداوار پن بجلی سے بڑھ جائے تو لوڈ شیڈنگ میں دو گھنٹے کی کمی ہو جائے گی۔‘\n\n## Pakistanelectricitymix.jpg\n\nانہوں نے صارفین سے درخواست کی کہ بجلی کے استعمال میں کفایت شعاری سے کام لیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nبقول اویس لغاری: ’اس وقت ہم ایک بین الاقوامی صورت حال کی وجہ سے ایمرجنسی کی حالت میں ہیں۔ ہمیں بجلی کے استعمال میں احتیاط برتنی ہوگی تاکہ رات کے اوقات میں بجلی کو کم سے کم بند کیا جائے۔‘\n\nبدھ کو طلب اور رسد کے درمیان فرق اس وقت مزید بڑھ گیا جب بجلی کی طلب تقریباً 18000 میگاواٹ تک جا پہنچی۔ پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ راتوں رات پن بجلی کی پیداوار میں لگ بھگ 1991 میگاواٹ کی کمی واقع ہوئی، جس سے نظام پر شدید دباؤ پڑا اور مارکیٹ آپریٹر (آئی ایس ایم او) کو علاقائی طلب کے مطابق لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں اضافہ کرنا پڑا۔\n\nحکام کا کہنا ہے کہ پن بجلی کی پیداوار میں کمی کی وجہ بڑے آبی ذخائر سے پانی کے اخراج میں کمی ہے۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) اس وقت صوبوں کی ضروریات کے مطابق پانی چھوڑ رہی ہے، جو حالیہ بارشوں اور جاری فصل کٹائی کے سیزن کے باعث معمول سے کم ہے۔\n\nاس کے نتیجے میں ڈیموں سے پانی کا اخراج کم ہوا ہے، جس نے براہ راست بجلی کی پیداوار کو متاثر کیا ہے۔\n\nتاہم کئی صارفین یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ گردشی قرضے کی ادائیگی کے لیے رقم وصول کرنے والے گیس اور تیل کے پلانٹس کیوں کمی پوری نہیں کر رہے ہیں؟ آغاز میں حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ مشرق وسطی میں بحران کی وجہ سے ایندھن کی ترسیل میں کمی بجلی بحران کی وجہ ہے۔\n\nبجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے اسلام آباد میں ایک خاندان کے لوگ 15 اپریل 2026 کو موبائل فون کی ٹارچ جلا کر رات کا کھانا کھا رہے ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\nاس صورت حال کے باعث تقسیم کار کمپنیوں کو رات کے اوقات میں طے شدہ منصوبے سے زیادہ لوڈ مینیجمنٹ کرنی پڑ رہی ہے۔ تاہم پاور ڈویژن کا مؤقف ہے کہ دن کے وقت بجلی کی فراہمی مستحکم ہے اور مصروف اوقات کے علاوہ کسی بڑی کمی کی اطلاع نہیں ہے۔\n\nوزیراعظم آفس نے بھی اس معاملے کا نوٹس لے کر پاور ڈویژن سے طلب و رسد کی تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے تاکہ صورت حال کا جائزہ لے کر فوری اقدامات کیے جا سکیں، جن میں مقامی گیس کی فراہمی بڑھا کر کمی کو پورا کرنا بھی شامل ہے۔\n\nحکام امید ظاہر کر رہے ہیں کہ موجودہ دباؤ کے باوجود یہ صورت حال عارضی ہے۔ آنے والے دنوں میں ڈیموں سے پانی کے اخراج میں متوقع اضافہ پن بجلی کی پیداوار بڑھانے میں مدد دے گا، جب کہ ری گیسفائیڈ مائع قدرتی گیس (آر ایل این جی) کی بہتر دستیابی تھرمل بجلی کی پیداوار کو سہارا دے گی۔\n\nایک متعلقہ پیش رفت میں پاور ڈویژن نے پہلے واضح کیا تھا کہ حکومت نے حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) اور کے الیکٹرک میں ڈھائی گھنٹے کی لوڈ مینیجمنٹ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم حالیہ کمی میں اضافے کے بعد یہ واضح نہیں کہ یہ رعایت برقرار رہے گی یا نہیں۔\n\nلوڈشیڈنگ\n\nبجلی کی پیداوار\n\nبجلی گھر\n\nبجلی کی تاریں\n\nوفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے کہا کہ شہری اور دیہی علاقوں میں برابر کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے، جو کہ ایک ’عارضی‘ اقدام ہے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعرات, اپریل 16, 2026 - 17:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری 16 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے (سکرین گریب/ پی ٹی وی سکرین گریب)</p>\n\nمعیشت\n\njw id:\n\nPhwbz8ig\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nپاکستان میں پیک آورز میں روزانہ سوا دو گھنٹے لوڈشیڈنگ کا اعلان\n\nسکھر: ٹریکٹر کے فولادی جنگلے بنانے والے کاریگر لوڈشیڈنگ سے پریشان\n\nہنزہ میں لوڈشیڈنگ کے خلاف دھرنا چھٹے روز بھی جاری، شاہراہ قراقرم بند\n\nدو گھنٹے لوڈشیڈنگ سے 50 ارب کی بچت ہو گی: وزیر توانائی\n\nSEO Title:\n\n’آبنائے ہرمز کی بندش سے گیس سپلائی معطل‘، وزیر توانائی کی لوڈ شیڈنگ پر معذرت\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "’آبنائے ہرمز کی بندش سے گیس سپلائی معطل‘، وزیر توانائی کی لوڈ شیڈنگ پر معذرت"
}