{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreic6dusntjnzuw3fpzsvnsp5esnxdhqrcqz4ubuutdg2ej7sryc57u",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mjjzabxo3as2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreifnzeo5mn2svawnzseabgtd7ezxfvqu6in24dsvn2mnv2by6tuevi"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 123675
},
"path": "/node/185502",
"publishedAt": "2026-04-15T12:00:17.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"ماحول",
"ماحولیاتی آلودگی",
"جنگلات",
"کان کنی",
"ارشد چوہدری",
"ماحولیات",
"news"
],
"textContent": "**ماہرین ماحولیات نے پنجاب حکومت کی جانب سے جنگلات میں کان کنی کی اجازت کو ماحول کے لیے خطرناک قرار دے دیا ہے۔**\n\nحکومت پنجاب نے کان کنی کو فروغ دینے کے لیے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے محفوظ جنگلات اور علاقوں میں بھی معدنی سرگرمیوں کی اجازت دینے کے قانون میں ترامیم کا بل اسمبلی میں پیش کیا ہے، جسے ماہرین نے ماحولیاتی اثرات میں رد وبدل کا خدشہ قرار دیا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nسرکاری اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں چھ فیصد تک جنگلات موجود ہیں۔ عالمی ماحولیاتی اداروں کے مطابق کسی بھی ملک میں کل رقبے کے 25 فیصد تک رقبے پر سبزہ ضروری ہے۔\n\nعالمی ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک طرف حکومت تحفظ ماحول کے لیے اقدام کو لازمی قرار دے رہی ہے جب کہ دوسری جانب جنگلات میں معدنیات کے لیے کان کنی کی قانون سازی بھی کی جا رہی ہے، جس سے جنگلات متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔\n\nپنجاب حکومت کا مؤقف ہے کہ جنگلات پر مشتمل علاقوں میں موجود قیمتی معدنی وسائل قانونی رکاوٹوں کے باعث استعمال نہیں ہو پا رہے تھے جبکہ غیر واضح قوانین کے سبب کان کنی کے منصوبے تعطل کا شکار تھے، اس لیے قانونی ترامیم ضروری ہیں۔\n\nحکومت پنجاب نے صوبائی اسمبلی کے رواں اجلاس میں ایک ہی نوعیت کے تین مختلف مسودہ قوانین پیش کیے ہیں، جن کے تحت جنگلات، محفوظ علاقوں اور وائلڈ لائف سے متعلق پرانے قوانین میں ترامیم کی جا رہی ہیں۔\n\nپیش کیے گئے مسودہ قوانین میں جنگلات (ترمیم) ایکٹ 2026 کے تحت جنگلات ایکٹ 1927، پنجاب پروٹیکٹڈ ایریاز (ترمیم) ایکٹ 2026 کے تحت پنجاب پروٹیکٹڈ ایریاز ایکٹ 2020، جبکہ پنجاب وائلڈ لائف (ترمیم) ایکٹ 2026 کے تحت پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ 1974 میں ترامیم شامل ہیں۔\n\nان بلز میں تجویز دی گئی ہے کہ قومی اہمیت کے ترقیاتی اور معدنی منصوبوں کو محفوظ اور جنگلاتی علاقوں میں معدنی سرگرمیوں کے اختیارات دیے جائیں گے اور جنگلاتی اراضی کو کان کنی کے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا قانونی فریم ورک تیار کیا جائے گا کیوں کہ قومی معدنی پالیسی سے ہم آہنگی، معیشت، روزگار اور ریونیو میں اضافے کے لیے معدنی وسائل کا استعمال ضروری ہے۔ ساتھ ہی غیر قانونی کان کنی کی روک تھام کے لیے مربوط نظام متعارف کروانا بھی لازم تھا۔\n\nان بلوں کو کمیٹی کی منظوری کے بعد اسمبلی سے منظوری کے لیے پیش کیا گیا ہے جبکہ حتمی منظوری گورنر پنجاب دیں گے۔\n\nاس حوالے سے ماہر ماحولیات الماس حیدر نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’پاکستان میں پہلے ہی جنگلات صرف چھ فیصد سے کم ہیں۔ اب معدنیات کے لیے جنگلات کی کٹائی سے ماحولیات پر برے اثرات مرتب ہوں گے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں سے پہلے ہی مشکلات ہیں، اب اس طرح قوانین سے مزید حالات خراب ہو سکتے ہیں، جس سے خلاف معمول بارشیں، اربن فلڈنگ اور کلاؤڈ برسٹ کے واقعات میں اضافے کا خدشہ ہے۔\n\n’ایک طرف حکومت تحفظ ماحولیات کو یقینی بنانے کے اقدامات پر سرمایہ خرچ کر رہی ہے۔ دوسری جانب اس طرح کے قانونی اجازت نامے حالات کی خرابی کا سبب بن سکتے ہیں۔‘\n\nالماس حیدر کے بقول: ’پہلے ہی ایبٹ آباد سائیڈ پر معدنیات کی کان کنی سے جنگلات متاثر ہو رہے ہیں۔ وہاں سے گرینائٹ اور ماربل پتھر نکالنے کے لیے یہاں سے سبزہ ختم ہو رہا ہے۔ اسی طرح گلگت اور خیبرپختونخوا کے کئی علاقوں میں غیر قانونی طور پر جنگلات کی کٹائی روکنے کا چیلنج برقرار ہے۔ دوسری جانب قانونی اجازت سے کھلے عام کان کنی کے نام پر جنگلات متاثر ہوسکتے ہیں۔‘\n\nتحفظ ماحولیات کے لیے کام کرنے والے عظیم یاسر نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’پاکستان اور پنجاب میں جنگلات کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ اس کے لیے ہر حکومت دعویٰ بھی کرتی ہے مگر جتنی ترجیح دینی چاہیے، وہ نظر نہیں آتی۔ پہلے بھی ہمارے ہاں معدنیات کی کان کنی جاری ہے، جس سے کئی علاقوں میں جنگلات کی غیر قانونی کٹائی ہوتی ہے، لیکن اب اسے قانونی شکل دے کر جاری رکھنے کا جواز فراہم کیا جا رہا ہے، لہذا حکومت پنجاب کو اس حوالے سے ماہرینِ تحفظ ماحولیات سے مشاورت ضرور کرنی چاہیے تھی۔‘\n\nحکومتی قانون سازی میں کان کنی کے لیے قانونی طور پر معدنیات نکالنے کے لیے سپیشل فورس تشکیل دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت صرف قانونی طور پر ہی معدنیات کے لیے کان کنی ممکن بنائی جا سکے گی۔\n\nماحول\n\nماحولیاتی آلودگی\n\nجنگلات\n\nکان کنی\n\nماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ ملک میں جنگلات پہلے ہی صرف چھ فیصد ہیں، لہذا پنجاب میں جنگلات والے علاقوں میں کان کنی کے لیے قانون میں ترامیم کا ماحول پر برا اثر پڑے گا۔\n\nارشد چوہدری\n\nبدھ, اپریل 15, 2026 - 17:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">حکومت پنجاب کے محکمۂ کان کنی و معدنیات کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی 31 اکتوبر 2023 کی ایک تصویر (محکمۂ کان کنی و معدنیات، حکومت پنجاب)</p>\n\nماحولیات\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nتھر میں کان کنی کو ڈیزل سے بجلی پر منتقل کیا جا رہا ہے: پاور ڈویژن\n\nسکھر میں اروڑ کا تاریخی مندر بچانے کے لیے کان کنی پر پابندی\n\nسندھ کی ابھرتی کاربن مارکیٹ کا جنگلات، لوگوں کو کیا فائدہ ہو رہا ہے؟\n\nہجامڑو کریک کے سمندری جنگلات، زرمبادلہ اور ماحولیاتی توازن کا ذریعہ\n\nSEO Title:\n\nپنجاب کے جنگلات میں کان کنی کی اجازت دینے پر ماہرین کو تشویش\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "پنجاب کے جنگلات میں کان کنی کی اجازت دینے پر ماہرین کو تشویش"
}