{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreieros2ii7xfqaj5dxkttdj6kf2ghkpirr2rddjipr5lcqqsdzvley",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mjjsjetsi4p2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreie7ehfywi4demd5lcurfs62obpo7g7s7nobmfepcsuwlju65a22la"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 115815
  },
  "path": "/node/185498",
  "publishedAt": "2026-04-15T11:30:18.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "خیبر پختونخوا",
    "اسمبلی",
    "قانون سازی",
    "شادی",
    "اظہار اللہ",
    "پاکستان",
    "news"
  ],
  "textContent": "**خیبر پختونخوا حکومت نے سرکاری ملازمین کی غیر ملکی شہریوں سے شادی کے حوالے سے قانون کی منظوری دی ہے، جس کے تحت پیشگی اجازت کے بغیر کوئی بھی سرکاری ملازم کسی غیر ملکی شہری سے شادی نہیں کر سکتا۔**\n\nخیبر پختونخوا سول سرونٹس (ریسٹرکشن آن میرج ود فارن نیشنل) رولز 2026 کی منظوری وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے دی ہے اور یہ فوراً نافذ العمل ہیں۔\n\nاس قانون کے تحت خیبر پختونخوا کے کسی بھی محکمے میں کام کرنے والے سرکاری ملازم پر بغیر حکومتی اجازت غیر ملکی سے شادی پر پابندی ہوگی۔\n\nقانون کے مطابق: ’اگر کسی بھی ملازم نے بغیر اجازت غیر ملکی سے شادی کی، تو یہ مس کنڈکٹ میں شمار ہوگا، جس کی سزا گورنمنٹ سروس ڈسپلن اینڈ ایفیشنسی رولز 2011 کے مطابق مس کنڈکٹ کی سزا ہوگی۔‘\n\nخیبر پختونخوا میں سرکاری ملازمین کے لیے انضباطی قواعد کی خلاف ورزی کی بڑی سزا ملازمت سے برخواست کرنا، سکیل میں تنزلی، ملازمت سے معطلی اور جبری ریٹائرمنٹ شامل ہے۔\n\nتاہم قانون میں حکومت کی منظوری سے شادی کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور اسی مقصد کے لیے شادی یا شادی پروپوزل سے پہلے حکومت کو ایک پروفارمہ یا درخواست جمع کروانا پڑے گی۔\n\nاس پروفارمے کا فارمیٹ حکومت کی جانب سے جاری کیا گیا ہے اور یہ درخواست محکمہ داخلہ و ٹرائبل افیئرز کو جمع کروانی ہوگی۔\n\nقانون کی شق نمبر چار کے مطابق درخواست جمع کروانے کے بعد غیر ملکی کی شہریت کا جائزہ اور اس ملک کے پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات کو دیکھا جائے گا۔\n\nاسی طرح قانون کے مطابق متعلقہ غیر ملکی شہری سے سکیورٹی اور انٹیلی جنس متاثر ہونے کے خدشے اور متعلقہ محکمہ داخلہ کی کلیئرنس ملنے کو بھی دیکھا جائے گا۔\n\nاسی قانون کے مطابق جن ملازمین نے پہلے سے غیر ملکیوں سے شادیاں کر رکھی ہیں، ان کیسز کا ازسر نو جائزہ لیا جائے گا۔\n\nقانون کے مطابق غیر ملکی سے شادی کرنے سے پہلے متعلقہ ملازم حکومت کے پاس ایک اقرار نامہ بھی جمع کروائے گا، جس میں اس بات کا عہد کیا جائے گا کہ وہ متعلقہ غیر ملکی ریاست مخالف اور کسی جرائم کا حصہ نہیں بنے گا۔\n\n**کیا یہ کوئی نیا قانون ہے؟**\n\nخیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے جاری اس نئے قانون کی بات کی جائے تو اس سے پہلے بھی پاکستان میں وفاقی سطح پر 1963 سے اسی طرح کا قانون نافذ العمل ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nوفاق کے اس قانون میں وقتاً فوقتاً ترامیم کی گئی ہیں لیکن بنیادی قانون یہی ہے کہ سرکاری ملازمین کی بغیر حکومتی اجازت غیر ملکی سے شادی پر پابندی ہے۔\n\nاس حوالے سے خیبر پختونخوا کے ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وفاقی سطح پر یہ قانون تو موجود ہے، تاہم وہ قانون صوبائی ملازمین پر نافذ العمل نہیں ہو سکتا، لہذا اب صوبائی سطح پر اس قانون کو نوٹیفائی کر دیا گیا ہے۔\n\nانہوں نے بتایا: ’پہلے سے وفاقی سطح پر یہ قانون موجود ہے اور اب صوبائی حکومت کے ملازمین پر بھی اس کو لاگو کیا گیا۔‘\n\nوفاقی حکومت نے 2019 میں اس قانون میں کچھ ترامیم بھی کی ہیں، جس میں پیشگی اجازت سے شادی کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔\n\nاس سے پہلے 1963 کے قانون میں سرکاری ملازمین کی غیر ملکیوں سے شادی پر مکمل پابندی تھی اور صرف انڈیا کے کسی مسلمان شہری سے شادی کی اجازت تھی لیکن اس کے لیے حکومت کی جانب سے پیشگی اجازت لینا ضروری تھا۔\n\nخیبر پختونخوا\n\nاسمبلی\n\nقانون سازی\n\nشادی\n\nخیبر پختونخوا سول سرونٹس (ریسٹرکشن آن میرج ود فارن نیشنل) رولز 2026 منظوری کے فوراً بعد نافذ العمل ہیں۔\n\nاظہار اللہ\n\nبدھ, اپریل 15, 2026 - 16:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">پشاور میں واقع خیبر پختونخوا صوبائی اسمبلی کا ایک منظر (انڈپینڈنٹ اردو)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nخیبر پختونخوا پولیس کی اینٹی ڈرون صلاحیت بڑھانے کی کوششیں\n\nخیبر پختونخوا: لڑکیوں میں مقبول مگر معدوم ہوتا کھیل ’چندرو‘\n\nخیبر پختونخوا کے دریاؤں کو موت سے بچانے کی مقامی جدوجہد\n\nخیبر پختونخوا میں امن دشمنوں کے خلاف کارروائیاں تیز کی جائیں گی: وزیراعلیٰ\n\nSEO Title:\n\nخیبرپختونخوا: سرکاری ملازمین کی غیرملکیوں سے شادی کے قانون میں نیا کیا؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "خیبرپختونخوا: سرکاری ملازمین کی غیرملکیوں سے شادی کے قانون میں نیا کیا؟"
}