{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiaycxcouwhmqkjitdhdaju3exmfshrzp35yvysgqnzroidfdlj7iq",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mjiks3tvhl42"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreif3expiobi4hqcdycq6prjmehu4vol73bnz7ommzesqpknmu3zoya"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 82536
  },
  "path": "/node/185477",
  "publishedAt": "2026-04-14T02:44:20.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "urmqi2.jpg",
    "افغانستان",
    "سوویت یونین",
    "پاکستان",
    "اقوام متحدہ",
    "جنیوا",
    "ہارون رشید",
    "تاریخ",
    "video"
  ],
  "textContent": "**افغانستان سے متعلق اہم ترین جنیوا معاہدے پر 14 اپریل، 1988 کو سوئٹزرلینڈ میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں دستخط ہوئے تھے، جو سال ہا سال کی اقوام متحدہ کی کوششوں سے ممکن ہوسکا۔**\n\nآج کل پاکستان کی امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا چرچا ہے تو کیوں نہ اس معاہدے تک پہنچنے میں درپیس چند مشکلات کا ذکر کر لیں۔\n\nیہ معاہدہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہوا تھا جبکہ امریکہ اور سوویت یونین اس کے ضامن تھے۔\n\nاس کے اہم نکات میں سوویت افواج کا افغانستان سے انخلا، افغان پناہ گزینوں کی واپسی اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت شامل تھے۔\n\nمعاہدے کے تحت سوویت فوجوں کا افغانستان سے انخلا اسی سال 15 مئی سے شروع ہوا اور 15 فروری، 1989 میں مکمل ہوا جس سے نو سالہ سوویت قبضے کا خاتمہ ہوا۔\n\nجنیوا مذاکرات میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ڈیاگو کارڈوویز نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا۔ یہ مذاکرات تقریباً چھ سال تک جاری رہے، جن کا آغاز 1982 میں ہوا۔\n\nلیکن یہ کس ماحول میں اور کیسے ہوئے؟ اس پر کچھ روشنی اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل خاویر پیریز دے کوئیار نے اپنی کتاب ’پلگریمیج فار پیس‘ میں ڈالی ہے۔\n\nافغان وزیر خارجہ محمد عبدالوکیل نے 14 اپریل، 1988 کو جینیوا میں سوویت فوجیوں کے افغانستان سے انخلا کے لیے جنیوا معاہدوں پر دستخط کیے، جبکہ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری برائے خارجہ امور ڈیاگو کورڈوویز اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل جاویر پیریز ڈی کوئیار بھی موجود تھے۔\n\nپاکستان کی جانب سے وزیر خارجہ زین نورانی نے دستخط کیے تھے۔\n\nافغان وزیر خارجہ محمد عبدالوکیل 14 اپریل، 1988 کو جینیوا میں سوویت فوجیوں کے افغانستان سے انخلا کے جینیوا معاہدے پر دستخط کر رہے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری برائے خارجہ امور ڈیاگو کورڈوویز اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل جاویر پیریز ڈی کوئیار دیکھ رہے ہیں (جیرارڈ مالی/اے ایف پی)\n\n\n\n\nوہ اس وقت افغانستان سے متعلق صورت حال پر سیکریٹری جنرل کے ذاتی نمائندے کے طور پر کام کرتے رہے۔\n\nاس حیثیت میں انہوں نے اسی سال اپریل اور اگست میں پاکستان اور افغانستان کے دورے کیے تاکہ دونوں ملکوں کی قیادتوں سے ملاقات میں مذاکرات کو جاری رکھنے پر اتفاق پیدا کیا جاسکے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nوہ لکھتے ہیں 1982 کے بات چیت کے ابتدائی دنوں میں پاکستان نے افغان حکومت کو تسلیم نہیں کیا تھا لہذا انہوں نے افغان مذاکرات کاروں سے جینیوا معاہدے تک کبھی روبرو بات نہیں کی تھی۔\n\nایک جگہ وہ کہتے ہیں کہ جنیوا میں مذاکرات کے پہلے دور میں بھی پاکستانی موقف کی وجہ سے ثالثوں کو مشکل درپیش رہی۔\n\n’پاکستانی وفد اس وقت تک اس عمارت میں ہی داخل نہیں ہوتا تھا جب تک افغان وفد وہاں سے چلا نہ جائے۔‘\n\nلیکن پھر 1984 میں اس کا ایک حل نکلا لیا گیا۔ اور وہ یہ تھا کہ جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر میں دونوں ممالک کے وفود کو الگ الگ کمروں میں رکھا جائے گا، بنسبت اس کے لیے ایک آئے اور دوسرا جائے۔\n\nثالثی کرنے والے ان کمروں کے درمیان شٹل کریں گے۔ اس طرح پاکستان کو اس قسم کے مذاکرات کا کافی تجربہ ہے اور اگر وہ امریکہ اور ایران کو آمنے سامنے لے آیا تھا تو یہ اسلام آباد مذاکرات کی بڑی کامیابی تھی۔\n\nبڑی مشکل اور کئی سالوں کی بھاگ دوڑ کے نتیجے میں جنیوا معاہدے پر دستخط ہوئے لیکن افغانستان کے اندر امن کا سبب نہیں بن سکا۔\n\nافغان مزاحمت یا مجاہدین، نہ تو مذاکرات کے فریق تھے اور نہ جنیوا معاہدے کے، اس لیے انھوں نے معاہدے کی شرائط کو ماننے سے انکار کر دیا جس کے نتیجے میں خونی خانہ جنگی شروع ہوئی۔\n\nپاکستان اور افغانستان کے درمیان ان 38 سالوں میں کئی حکمراں آئے اور گئے کافی کچھ تبدیل ہوا لیکن حکومتوں کے درمیان تعلقات ویسے کے ویسے ہی کشیدہ ہیں۔ اس کی اہم مثال چین کے شہر ارومچی میں دونوں ممالک کے درمیان حالیہ مذاکرات تھے۔\n\n## urmqi2.jpg\n\nچین کی میزبانی میں منعقد ان مذاکرات میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دونوں ممالک کے نمائندے آپس میں نہیں بلکہ چینی میزبانوں کے ساتھ ہاتھ ملا رہے ہیں۔\n\nجنیوا معاہدے کے بعد پیریز دے کوئیار سے فرانسیسی اخبار لی مونڈ کے ایک صحافی نے 1988 میں پوچھا کہ انہوں نے افغان مسئلے پر کیا نتیجہ اخذ کیا تو ان کا جواب تھا ’میں ایمان داری سے جواب دوں گا۔ ہمیں سپر پاروز نے استعمال کیا۔ تاہم اقوام متحدہ نے دونوں کی عزت بچائی۔‘\n\nیعنی دونوں سپر طاقتیں اس وقت اس طویل جنگ سے خود نکلنا چاہتی تھیں لہذا معاہدہ ممکن ہوا۔\n\nاس کا مطلب یہ تھا کہ اگر عالمی طاقتیں چاہیں تو اقوام متحدہ سے اچھا کام لے سکتیں ہیں۔\n\nآج کل صدر ٹرمپ کی طرح انہیں نظر انداز کرنا درست نہیں۔ اقوام متحدہ ایران امریکہ جنگ یا پاکستان افغانستان کشیدگی میں کہیں بھی دکھائی نہیں دے رہا ہے۔\n\nافغانستان\n\nسوویت یونین\n\nپاکستان\n\nاقوام متحدہ\n\nجنیوا\n\nیہ معاہدہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہوا تھا جبکہ امریکہ اور سوویت یونین اس کے ضامن تھے۔\n\nہارون رشید\n\nمنگل, اپریل 14, 2026 - 09:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">پاکستان کے وزیر خارجہ زین نورانی (درمیان میں) کو 14 اپریل، 1988 کو جنیوا میں ایک تقریب میں افغانستان سے سوویت فوجیوں کے انخلا کے معاہدے دو طرفہ معاہدوں پر دستخط کر رہے ہیں، جنہیں جنیوا معاہدے کہا جاتا ہے (اے ایف پی)</p>\n\nتاریخ\n\njw id:\n\n5C92CDAO\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nسوویت یونین ٹوٹنے کے 30 سال: سپر پاور کا شیرازہ کیسے بکھرا؟\n\nسوویت یونین کی افغانستان میں مہم جوئی کی کہانی، پانچ کتابوں کی زبانی\n\n1965 کی پاکستان انڈیا جنگ: چین اور سوویت یونین نے کیا کردار ادا کیا؟\n\nجنیوا معاہدہ: تاریخی کارنامہ یا تباہی کا پیش خیمہ؟\n\nSEO Title:\n\nجنیوا معاہدے کے 38 سال، جب پاکستان ایک ہی عمارت میں افغانستان سے بات کرنے کو تیار نہیں تھا\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "جنیوا معاہدے کے 38 سال، جب پاکستان ایک ہی عمارت میں افغانستان سے بات کرنے کو تیار نہیں تھا"
}