{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreidd6jdoup7uso2zfcvarrd2otjje76b7gmt5f7ohxke5kfyatig6e",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mjikrnau2jh2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreidwnfli55ylml2oghkzdkaiwipryzuxy2ex4ketz5mgjh5rvhoaii"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 110511
  },
  "path": "/node/185483",
  "publishedAt": "2026-04-14T04:18:56.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "ایران",
    "امریکہ",
    "خلیج عرب",
    "آبنائے ہرمز",
    "اظہار اللہ",
    "ٹرینڈنگ",
    "video"
  ],
  "textContent": "**خلیج عرب میں امریکی فوجی کارروائیوں کے ذمہ دار ادارے یونائیٹڈ سٹیٹس سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر کی منظوری سے پیر کی شام سے ایرانی بندرگاہوں میں داخل اور نکلنے والے تمام بحری جہازوں کی ناکہ بندی شروع کی جائے گی۔**\n\nسینٹرل کمانڈ کے بیان کے مطابق اس میں تمام ممالک کے بحری جہاز شامل ہوں گے جو ایرانی بندرگاہوں میں داخل یا خارج ہوں گے، تاہم ایرانی بندرگاہوں کے علاوہ دیگر ممالک کی بندرگاہوں کے جہازوں کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔\n\nاس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ایرانی بندرگاہوں سے نکلنے والے تیل کے جہازوں کو روکا جائے گا اور ان جہازوں کو دوسرے ممالک کو سپلائی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔\n\nیہ ناکہ بندی ایران سے تیل کی دیگر ممالک کو سپلائی کو متاثر کرے گی کیونکہ آبنائے ہرمز کی ایران کی جانب سے جزوی بندش کے باوجود ایرانی جہازوں کو گزرنے کی اجازت تھی، لیکن اب امریکہ کی جانب سے مکمل ناکہ بندی کا اعلان کیا گیا ہے۔\n\n**ایران کے متبادل راستے؟**\n\nاب سوال یہ ہے کہ کیا ایران کے پاس آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرتے ہوئے کوئی متبادل راستہ موجود ہے؟ اس حوالے سے انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران نے 2021 میں جسک ٹرمینل کی بنیاد رکھی تھی۔\n\n(امریکی ادارہ برائے توانائی)\n\n\n\n\nیہ پائپ لائن ایران کے بوشہر علاقے کو خلیج عمان کے ایران کی جسک ٹرمینل سے ملاتی ہے جو تقریباً ایک ہزار کلومیٹر طویل پائپ لائن ہے۔ تاہم اس پائپ لائن کی روزانہ کی صلاحیت 10 لاکھ بیرل ہے، یعنی اگر یہ مکمل گنجائش پر چلائی جائے تو روزانہ 10 لاکھ بیرل تیل آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرتے ہوئے برآمد کیا جا سکتا ہے۔\n\nاس کا مطلب یہ ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کے راستے تقریباً 20 لاکھ بیرل یومیہ اور اس پائپ لائن کے ذریعے تقریباً 10 لاکھ بیرل یومیہ برآمد کر سکتا ہے، یعنی مجموعی طور پر تقریباً 50 فیصد تیل متبادل راستے سے منتقل ہو سکتا ہے۔\n\nآخری بار اس پائپ لائن سے 2024 میں تجرباتی بنیاد پر خام تیل کی ترسیل کی گئی تھی، لیکن اس کے بعد یہ مکمل طور پر آپریشنل نہیں ہے۔\n\nانٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق ایران کی تقریباً 80 فیصد تیل کی برآمدات چین خریدتا ہے، جبکہ ایران کی روزانہ تیل کی سپلائی تقریباً 20 لاکھ بیرل کے لگ بھگ ہے جو آبنائے ہرمز کے راستے برآمد کی جاتی ہے۔\n\nایسی اطلاعات ہیں کہ امریکہ نے ایک چینی بحری جہاز کو منگل کی صبح روک بھی لیا ہے۔\n\nتقریباً 54 کلومیٹر طویل اس تنگ سمندری راستے آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیجی ممالک کا تقریباً 20 ملین بیرل تیل روزانہ کی بنیاد پر منتقل ہوتا ہے، جو دنیا کے تیل کے استعمال کا تقریباً 25 فیصد ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاسی طرح اسی راستے سے دنیا کے تقریباً 19 فیصد ایل این جی کی سپلائی کی جاتی ہے، جس میں قطر کا 93 فیصد اور متحدہ عرب امارات کا 96 فیصد ایل این جی شامل ہے۔\n\nماہرین کے مطابق تیل کے علاوہ دیگر تجارت کے لیے ایران کے پاس ایران - ترکی سرحد اور روس کے ساتھ بحیرہ کیسپین کے ذریعے متبادل راستے موجود ہیں، لیکن یہ راستے آبنائے ہرمز سے ہونے والی تجارت کے حجم کا مکمل متبادل نہیں بن سکتے۔\n\nمحمد فیصل فارن پالیسی کے ماہر اور آسٹریلیا کے شہر سڈنی کی یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں بحر ہند اور جنوبی ایشیا میں مختلف ممالک کی جانب سے طاقت کے مقابلے کے حوالے سے تحقیق کر رہے ہیں۔\n\nانہوں نے بتایا کہ ایران کے پاس آبنائے ہرمز کے علاوہ دو تجارتی راستے ہیں جس میں ایک ترکی کا اور دوسرا وسطی ایشیا میں بحیرہ کیسپیئن ہے جس سے روس کے ذریعے زیادہ تجارت کی جاتی ہے۔\n\nتاہم فیصل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا امریکہ کی ناکہ بندی سے چین زیادہ متاثر ہوگا جبکہ زمینی راستے کے ذریعے برآمدات کسیپئن اور بذریعہ ترکی راستے ممکن ہے۔\n\nانہوں نے بتایا کہ ’ایران کے لیے کیسپئن اور ترکی کے زمینی راستے کے ذریعے تیل کی برآمدات ممکن نہیں ہے کیونکہ ایران کے تیل کی بڑی بندرگاہ خارگ جزیرے میں واقع ہے۔‘\n\nفیصل کے مطابق ناکہ بندی سے پوری دنیا میں تیل کی قیمتیں بڑھ جائیں گی جس سے پاکستان بھی متاثر ہوسکتا ہے۔\n\nڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں سے نکلنے اور داخل ہونے والے جہازوں کی ناکہ بندی کے بعد پیر کو مارکیٹ کھولنے پر تیل کی قیمتیں ایک مرتبہ پھر فی بیرل تقریباً 94 ڈالر سے بڑھ کر 101 ڈالر تک پہنچ گئی ہیں جو تقریباً سات فیصد اضافہ ہے۔\n\n**ناکہ بندی کتنی آسان؟**\n\nنیٹو کے سابق الائیڈ کمانڈر ایڈمرل سٹیورڈس نے گذشتہ روز سی این این کے فرید ذکریا کو بتایا کہ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا فیصلہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔\n\nانہوں نے بتایا کہ ناکہ بندی کے لیے امریکہ کو بہت بڑی نیوی طاقت درکار ہوگی جس کے لیے ایئرکرافٹ کیریئر سٹرائیک گروپس، درجنوں ڈسٹرائرز و فریگیٹس خلیج کے باہر درکار ہوں گی۔\n\nانہوں نے بتایا ’خلیج کے اندر سعودی اور متحدہ عرب امارات کی نیوی کی مدد کی بھی ضرورت ہوں گی۔‘\n\nانہوں نے بتایا کہ ایران یہ دراصل ایران پر اقتصادی دباؤ ڈالنے کے لیے جنگ کے مترادف اقدام ہوگا۔\n\nسٹیورڈس نے بتایا ’ایران سمگلنگ، چھوٹی کشتیوں سے بارودی سرنگیں بچھا کر، اور روس و چین کی مدد سے سائبر حملوں کے ذریعے (مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے) جواب دے سکتا ہے۔‘\n\nلیکن ایک اور امریکی فوج ماہر کا کہنا ہے کہ امریکہ چند جہازوں کو روک کر خلل ڈال کر بھی اپنے اہداف حاصل کرسکتا ہے اس کے لیے اسے مکمل ناکہ بندی کی شاید ضرورت نہ پڑے۔\n\nایران\n\nامریکہ\n\nخلیج عرب\n\nآبنائے ہرمز\n\nیہ ناکہ بندی ایران سے تیل کی دیگر ممالک کو سپلائی کو متاثر کرے گی کیونکہ آبنائے ہرمز کی ایران کی جانب سے جزوی بندش کے باوجود ایرانی جہازوں کو گزرنے کی اجازت تھی۔\n\nاظہار اللہ\n\nمنگل, اپریل 14, 2026 - 10:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">آبنائے ہرمز کے ارد گرد جہاز رانی کے راستوں میں خلل نے عالمی توانائی کے بہاؤ کو متاثر کیا ہے، جس میں روزانہ لاکھوں بیرل تیل کی پیداوار میں خلل پڑنے کا خطرہ ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف علاقائی استحکام بلکہ عالمی منڈیوں پر بھی اثرات مرتب کرتی ہے۔ (اے ایف پی)</p>\n\nٹرینڈنگ\n\njw id:\n\nCTV9mIE0\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nاسلام آباد امن مذاکرات آئندہ دو روز میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: صدر ٹرمپ\n\nامریکہ کی آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کا کیا مطلب ہے؟\n\nآبنائے ہرمز کو 'آزاد کرانے' کے لیے فوجی آپریشن 'غیر حقیقی': فرانس\n\nامریکہ آبنائے ہرمز میں فوجی طاقت کیوں استعمال نہیں کر رہا؟\n\nSEO Title:\n\nآبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی، ایران کے پاس متبادل راستہ موجود ہے؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی، ایران کے پاس متبادل راستہ موجود ہے؟"
}