{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreia45trrbrbyq7l7rgco2bnksle7fezsvvdff4csa7cgcfo3ck56a4",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mjikreisv5c2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreieu52p7x65344hd5cwojkpsfvgs5k7aodq7rtgacujmezuiteo3vu"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 77226
  },
  "path": "/node/185485",
  "publishedAt": "2026-04-14T06:56:00.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "پاکستان",
    "معیشت",
    "متحدہ عرب امارات",
    "روئٹرز",
    "news"
  ],
  "textContent": "**وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو سنبھالنے اور متحدہ عرب امارات کے 3.5 ارب ڈالر کے فنڈ کا متبادل تلاش کرنے کے لیے یوروبانڈز، دیگر ممالک سے قرضوں اور کمرشل قرضوں پر غور کر رہا ہے۔**\n\nمحمد اورنگزیب نے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث پاکستان کو سٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر قائم کرنے اور قابل تجدید توانائی کی جانب تیزی سے منتقلی پر بھی غور کرنا ہوگا۔\n\nجب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت سعودی عرب سے ایسے قرض کے لیے بات چیت کر رہی ہے جو یو اے ای کی سہولت کا متبادل بن سکے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ ’تمام آپشنز زیر غور ہیں۔‘\n\nپاکستان رواں ماہ متحدہ عرب امارات کو ممکنہ طور پر 3.5 ارب ڈالر کا قرض واپس کرنے جا رہا ہے، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھے گا اور آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔\n\nپاکستان اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کیونکہ وہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔\n\nعالمی مالیاتی ادارے اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقعے پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان تمام قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کے ذخائر تقریباً 2.8 ماہ کی درآمدات کے برابر ہیں۔\n\nان کے مطابق اس سطح کو برقرار رکھنا ’مجموعی معاشی استحکام کے لیے اہم‘ ہوگا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nمحمد اورنگزیب نے کہا ’ہم یوروبانڈز، اسلامی سکوک اور ڈالر میں طے ہونے والے روپے سے منسلک بانڈز پر غور کر رہے ہیں۔‘\n\nانہوں نے توقع ظاہر کی کہ رواں سال یوروبانڈز جاری کیے جائیں گے جبکہ کمرشل قرضوں کے امکانات بھی تلاش کیے جا رہے ہیں۔\n\nانہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ پاکستان نے ابھی تک مشرق وسطیٰ کی جنگ کے معاشی اثرات کے باعث سات ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام میں کسی تبدیلی کی درخواست نہیں کی، تاہم یہ بھی ایک ممکنہ آپشن ہے۔\n\n’آنے والے ہفتوں میں حالات کے مطابق اس پر بات کی جا سکتی ہے۔‘\n\nان کے مطابق آئی ایم ایف بورڈ اس ماہ کے آخر یا اگلے ماہ کے آغاز میں نئی قسط کی منظوری دے سکتا ہے، جس کے بعد ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تحت تقریباً 1.3 ارب ڈالر جاری ہوں گے۔\n\nپاکستان آئندہ ماہ اپنا پہلا ’پانڈا بانڈ‘ بھی متعارف کروانے کا ارادہ رکھتا ہے، جو چینی کرنسی یوآن میں ہوگا۔\n\n25 کروڑ ڈالر کی یہ پہلی قسط ایک ارب ڈالر کے منصوبے کا حصہ ہوگی، جسے ایشیائی ترقیاتی بینک اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی حمایت حاصل ہوگی۔\n\nوزیر خزانہ نے کہا کہ تقریباً چار فیصد متوقع جی ڈی پی نمو، 41.5 ارب ڈالر کی ترسیلات زر اور غریب طبقے کے لیے ہدفی امداد ملک کو ایران جنگ کے معاشی اثرات سے نمٹنے میں مدد دے سکتی ہیں، جو مالی سال کے اختتام (30 جون) تک جاری رہ سکتے ہیں۔\n\nتاہم، قیمتوں میں اضافے کے پیشِ نظر انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو صرف کمرشل ذخائر پر انحصار کرنے کی بجائے ایندھن اور ایل پی جی کے سٹریٹجک ذخائر قائم کرنے چاہییں اور قابل تجدید توانائی کی طرف منتقلی کو تیز کرنا چاہیے۔\n\nانہوں نے کہا ’جب آپ اس طرح کے سپلائی شاک سے گزرتے ہیں تو یہ واضح پیغام ملتا ہے کہ ہمیں ان اقدامات کو تیز کرنا ہوگا۔‘\n\nپاکستان\n\nمعیشت\n\nمتحدہ عرب امارات\n\nوزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق پاکستان اپنے زرمبادلہ کے ذخائر مینیج کرنے کے لیے یوروبانڈز، دیگر ممالک سے قرضوں اور کمرشل قرضوں پر غور کر رہا ہے۔\n\nروئٹرز\n\nمنگل, اپریل 14, 2026 - 11:45\n\nMain image:\n\n> <p>پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب 13 اپریل 2026 کو عالمی مالیاتی ادارے اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے (روئٹرز)</p>\n\nمعیشت\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nمتاثرہ معیشتوں کو 50 ارب ڈالر تک دیے جا سکتے ہیں: آئی ایم ایف\n\nیو اے ای کو رقم واپسی، پاکستان نے ’گمراہ کن‘ خبریں مسترد کردیں\n\nمشرق وسطیٰ جنگ: پاکستانی معیشت کے لیے خطرہ\n\nآئی ایم ایف سے مذاکرات،7 ارب ڈالر قرضے کا دوسرا جائزہ\n\nSEO Title:\n\nفنڈز کے حصول کے لیے تمام آپشنز زیرغور ہیں: پاکستانی وزیر خزانہ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "فنڈز کے حصول کے لیے تمام آپشنز زیرغور ہیں: پاکستانی وزیر خزانہ"
}