{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreib2q7fubvd3hzhl3zfn4xehvlpv3dzk5az4vpa2gijqqcgmhpv274",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mjikqvwsk6o2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiccn4hq34s7pwmshytdz244fmvapmrrln4y32me4te26wcy5apd3u"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 116615
},
"path": "/node/185488",
"publishedAt": "2026-04-14T11:38:09.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"بجلی کی پیداوار",
"لوڈ شیڈنگ",
"پنجاب",
"فیصل آباد",
"ایران جنگ",
"ارشد چوہدری",
"معیشت",
"news"
],
"textContent": "**پاکستان پاور ڈویژن نے پیک آورز کے دوران روزانہ سوا دو گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ کا اعلان کر دیا ہے، جس کا مقصد بڑھتی ہوئی طلب کو قابو میں رکھنا اور بجلی کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کو روکنا ہے۔**\n\nترجمان پاور ڈویژن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جولائی سے فروری تک صارفین کو 46 ارب روپے کا ریلیف دیا گیا جبکہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود بجلی 71 پیسے فی یونٹ سستی کی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ کم لاگت ذرائع اور پیداواری صلاحیت کو مؤثر انداز میں استعمال کیا گیا۔\n\nاعلامیے کے مطابق حکومت نے ترسیلی اور انتظامی سطح پر بہتری لا کر نقصانات میں کمی کی ہے اور عالمی سطح پر سخت حالات کے باوجود ملک میں بجلی کی پیداوار مستحکم رہی ہے۔\n\nترجمان کا کہنا ہے کہ ملک اس وقت بھی ضرورت کے مطابق بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم پیک آورز میں کھپت میں اضافہ سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگے ایندھن پر انحصار سے بجلی کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔\n\nپاور ڈویژن کے مطابق شام 5 بجے سے رات 1 بجے تک روزانہ سوا دو گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جائے گی، جس سے مہنگے ایندھن کے استعمال میں کمی آئے گی اور قیمتوں میں ممکنہ اضافے کو روکا جا سکے گا۔\n\nبیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر صورتحال کی مسلسل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے اور انہوں نے بجلی کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ نہ ہونے کو یقینی بنانے کا ٹاسک دیا ہے۔ اسی سلسلے میں 80 ایم ایم سی ایف ایف ڈی مقامی گیس پاور پلانٹس کو فراہم کی گئی ہے۔\n\nپاور ڈویژن کے مطابق اس اقدام سے بجلی کی قیمت میں 80 پیسے فی یونٹ اضافے اور اضافی لوڈ مینجمنٹ کو روکا گیا ہے، جبکہ لوڈ مینجمنٹ کا مقصد تقریباً 3 روپے فی یونٹ ممکنہ اضافہ روکنا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ فرنس آئل کے محدود استعمال کے باوجود تقریباً ڈیڑھ روپے فی یونٹ اضافے کے لیے تیار رہنا ہو گا، تاہم بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو قیمت میں 5 سے 6 روپے فی یونٹ اضافہ ہو سکتا تھا۔\n\nترجمان کا کہنا ہے کہ ڈسکوز کو بجلی بند کرنے کے اوقات صارفین کے ساتھ شیئر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر ممکن اقدام کرے گی جس سے عوام کو ریلیف ملے، جبکہ کمرشل مارکیٹس کی بروقت بندش سے بجلی کی طلب میں کمی لا کر قیمتوں میں اضافے کو مزید کم کیا جا سکتا ہے۔\n\nدوسری جانب آبادی کے اعتبار سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں خلیجی صورت حال کی وجہ سے بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی ہے جس سے کئی علاقوں میں لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔\n\nپورے پنجاب میں شہری علاقوں میں چھ سے آٹھ اور دیہاتوں میں روزانہ 10، 10 گھنٹے بجلی کے نہ ہونے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔\n\nلاہور میں لیسکو نے میڈیا کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ موجودہ عالمی گیس اور پیٹرولیم بحران کے باعث بجلی کی پیداوار میں کمی کا سامنا ہے۔\n\n’لہذا طلب اور رسد کے فرق کو متوازن رکھنے کے لیے لوڈ مینجمنٹ کے تحت لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔‘\n\nترجمان لیسکو نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بجلی سپلائی متاثر ہونے سے شارٹ فال میں فرق آیا ہے اور اسی وجہ سے لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔\n\nتاہم انہوں نے وضاحت کی کہ یہ عارضی شارٹ فال ہے اور جیسے ہی بجلی کی پیداوار اور ترسیل معمول پر آتی ہے لوڈ شیڈنگ ختم کر دی جائے گی۔\n\nدوسری طرف ترجمان پاور ڈویژن نے پیک آورز میں روزانہ سوا دو گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ شام 5 سے رات ایک بجے تک روزانہ سوا 2 گھنٹے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی جائے گی۔\n\nبیان میں کہا گیا کہ اس اقدام سے مہنگے ایندھن کے کم استعمال سے بجلی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کو روکا جا سکے گا۔\n\n**پاکستان میں بجلی کے ذرائع**\n\nسابق چیف ایگزیکٹو لیسکو مجاہد پرویز چٹھہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’پاکستان میں 17 فیصد تک بجلی کی پیداور آر ایل این جی درآمدی گیس سے ہوتی ہے، جبکہ تیل سے بھی 12 فیصد بجلی پیدا کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر تیل مہنگا ہونے اور گیس کی سپلائی بند ہونے سے پیداوار بھی کم ہو گئی ہے۔\n\n’جس سے پاکستان کی کل پیداوار کے مقابلے میں مجموعی طور پر 2000 میگا وواٹ سے زیادہ کا شارٹ فال دکھائی دے رہا ہے۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ ’ان دنوں مجموعی طلب 22000 میگا وواٹ تک ہے جبکہ سسٹم سے صرف 20 ہزار میگا واٹ کے قریب بجلی دستیاب ہو رہی ہے۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ اس شارٹ فال کو تمام شہروں میں تقسیم کیا جا رہا ہے اور اسی لحاظ سے لوڈ شیڈنگ کرنا بھی مجبوری ہے۔\n\nمجاہد چٹھہ کے بقول، ’پاکستان میں 27 فیصد پانی سے بنائی جانے والی بجلی ہے، جبکہ کوئلے سے 18، قدرتی گیس سے 8.6، اور آر ایل این جی سے 17 فیصد بجلی پیدا کی جاتی ہے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان تیل سے 12 فیصد، نیوکلیئر سے 9، ہوا سے 4.6، شمسی توانائی سے 1.6 بجلی حاصل کرتا ہے، جبکہ نیٹ میٹرنگ کے ذریعے سسٹم میں آنے والی بجلی 12 ہزار میگا وواٹ بجلی الگ ہے۔ حکومت نے 2030 تک قابل تجدید ذرائع سولر، ونڈ، ہائیڈرو سے 60 فیصد بجلی پیدا کرنے کا ہدف رکھا ہوا ہے جس سے گیس و تیل جیسے مہنگے ذرائع پر انحصار کم ہو سکے گا۔\n\nپاکستان میں بجلی کے انڈپینڈنٹ پاور پروڈیوسز (آئی پی پیز) کے ساتھ ماضی کے معاہدوں کے تحت بجلی کی سولر صارفین سے خریداری بھی چیلنج بنی ہوئی ہے۔\n\nبقول مجاہد چٹھہ’اس وقت دنیا میں سب سے سستی بجلی سولر سے پیدا ہوتی ہے لیکن ہم جب تک آئی پی پیز سے چھٹکارا حاصل نہیں کر لیتے اور کوئلہ، گیس، تیل سے چلنے والے پلانٹس پر انحصار کی بجائے سولر اور ونڈ انرجی کی طرف نہیں جاتے مسائل برقرار رہیں گے۔\n\n’اگر ہم ان سستے ذرائع کو استعمال کریں تو ڈیمز بنانے کی بھی ضرورت نہ رہے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے لیے دوسری بڑی ترسیلی نظام ہے جو بہت کمزور ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے سالانہ ہزاروں میگا وواٹ بجلی ضائع ہو جاتی ہے۔\n\n’ہمارے نظام میں اتنی صلاحیت نہیں کہ اگر بجلی پوری بن بھی رہی ہے تو بلا تعطل نظام میں شامل کر سکیں۔\n\n’اگر ہم زیادہ بجلی سولر صارفین سے خریدیں تو اس کے لیے انفراسٹکچر کی بھی بڑے پیمانے پر ضرورت نہیں اور سرکاری اخراجات بھی انتہائی کم ہو سکتے ہیں۔ لیکن جو نظام موجود ہے اسے فوری غیر فعال کرنا بھی ممکن نہیں۔‘\n\nپاکستان کے دوسرے سب سے بڑے صنعتی شہر فیصل آباد کے صنعت کاروں نے بھی کچھ دنوں سے روزانہ آٹھ سے 10 گھنٹے لوڈ شیڈنگ کی شکایت کی ہے، جس کی وجہ سے کارخانوں کی پیداواری صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔\n\nفیصل آباد پاور لومز ایسوسی ایشن کے عہدیدار خاور علی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’ایک تو بجلی مہنگی ہے دوسری طرف کچھ دنوں سے آٹھ سے 10 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ نے کاروبار شدید متاثر کر دیا ہے۔‘\n\nان کا کہنا تھا کہ ’اندرون اور بیرون ملک سے ملنے والے آرڈرز پورئ کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ اس سے کارخانہ داروں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔‘\n\nبجلی کی پیداوار\n\nلوڈ شیڈنگ\n\nپنجاب\n\nفیصل آباد\n\nایران جنگ\n\nترجمان پاکستان پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ ملک اس وقت بھی ضرورت کے مطابق بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم پیک آورز میں کھپت میں اضافہ سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگے ایندھن پر انحصار سے بجلی کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔\n\nارشد چوہدری\n\nمنگل, اپریل 14, 2026 - 18:30\n\nMain image:\n\n> <p>آٹھ جولائی 2020 کی اس تصویر میں راولپنڈی میں ایک بچہ بجلی کے ٹرانسفارمر کے پاس سے گزر رہا ہے (اے ایف پی)</p>\n\nمعیشت\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nلوڈ شیڈنگ: یو پی ایس اور بیٹریوں کی قیمتوں میں ’سو فیصد‘ اضافہ\n\nآبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی، ایران کے پاس متبادل راستہ موجود ہے؟\n\nبجلی کی قیمتوں میں تبدیلی کا بوجھ کم آمدنی والے پاکستانیوں پر نہیں پڑنا چاہیے: آئی ایم ایف\n\nعید کی چھٹیوں میں لوڈ شیڈنگ میں ریلیف ملے گا: وزیر توانائی\n\nSEO Title:\n\nمشرق وسطیٰ بحران: پاکستان میں پیک آورز میں روزانہ سوا دو گھنٹے لوڈشیڈنگ کا اعلان\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "مشرق وسطیٰ بحران: پاکستان میں پیک آورز میں روزانہ سوا دو گھنٹے لوڈشیڈنگ کا اعلان"
}