{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreidapkz2wk4rbg3gefrzbrcpli24wophzjblxoosvacnkbwhdmf47y",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mjc2tp5v27d2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreifn3tax437qyzpfja54d7tbnyftoixsbiiplt75dj4i755sbv7y24"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 102744
},
"path": "/node/185463",
"publishedAt": "2026-04-12T08:41:54.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"انڈیا",
"بالی وڈ",
"موسیقی",
"گلوکارہ",
"فاروق اعظم",
"news"
],
"textContent": "**آشا بھوسلے اتوار کو 92 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔**\n\nآشا بھوسلے کے بیٹے آنند بھوسلے نے ممبئی میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا: ’میری والدہ آج انتقال کر گئیں۔ لوگ کل صبح 11 بجے کاسا گرانڈے، لوئر پریل میں ان کے گھر آ کر ان کی آخری دیدار کر سکتے ہیں۔ ان کی آخری رسومات کل شام چار بجے شیواجی پارک میں ادا کی جائیں گی۔‘\n\nٹائمز آف انڈیا کے مطابق گلوکارہ کافی دنوں سے بیمار تھیں اور ممبئی کے بریچ کینڈی ہسپتال میں داخل تھیں، جہاں وہ اتوار کے روز انتقال کر گئیں۔\n\n**آشا بھوسلے کون تھیں؟**\n\nکسی گھرانے میں ایک سے زائد افراد ایک ہی پیشے سے وابستہ ہوں تو اکثر اوقات مقابلے کی فضا پروان چڑھتی ہے، جس کے اپنے فائدے اور نقصانات ہوتے ہیں۔ ایسا ہی معاملہ آشا بھوسلے کا تھا۔ ان کا پورا خاندان موسیقی کے رنگ میں رنگا ہوا تھا۔ ایک سنگِ میل سر کرنے کی خواہش ہمیشہ آشا کے دل میں مچلتی رہی، اور وہ تھیں ان کی بڑی بہن لتا منگیشکر۔\n\nوالد کی وفات نے دونوں بہنوں کو بہت کم عمری میں فلمی دنیا میں لا کھڑا کیا۔ کم و بیش ایک ساتھ سفر کا آغاز کرنے کے باوجود، لتا کے مقابلے میں آشا کو اپنی پہچان بنانے کے لیے طویل اور کٹھن جدوجہد سے گزرنا پڑا۔\n\nایک طرف آشا ہر موسیقار کے لیے دوسری نہیں بلکہ شمشاد بیگم اور گیتا دت کے بعد چوتھی ترجیح تھیں، تو دوسری طرف انہوں نے گھر والوں کی مرضی کے خلاف محض 16 برس کی عمر میں 31 سالہ گنپت راؤ بھوسلے سے شادی کر لی، جس کے نتیجے میں انہیں گھر چھوڑنا پڑا۔ بی گریڈ فلموں میں گیت گاتے ہوئے وہ نہ صرف اپنا بلکہ پورے خاندان کا خرچ اٹھا رہی تھیں۔ ان کے شوہر گنپت راؤ بھوسلے سارا دن اسٹوڈیوز کے چکر لگاتے اور ان کے لیے گیت حاصل کرنے کی کوشش کرتے۔\n\nگلوکارہ لتا منگیشکر اپنی بہن آشا بھوسلے 31 مارچ 2013 کو ممبئی میں پنڈت ہردیناتھ منگیشکر ایوارڈز کے دوران (اے ایف پی)\n\n\n\n\n**او پی نیر اور ’نیا دور‘**\n\n1950 کی دہائی کے اوائل میں جب او پی نیر بمبئی میں بطور موسیقار اپنے قدم جمانے کی کوشش کر رہے تھے تو ان کی لتا سے ان بن ہو گئی۔ ابتدائی دو فلموں کی ناکامی کے بعد نیر نے گیتا دت اور شمشاد بیگم کی آواز میں فلم ’آر پار‘ (1954) سے کامیابی حاصل کی۔ نیر کی ابتدائی کامیاب فلموں میں یہی دو آوازیں نمایاں رہیں، لیکن جب بھی موقع ملا، وہ آشا کی آواز ضرور استعمال کرتے رہے۔\n\nانہی دنوں آشا اور نیر کے درمیان قربتیں بڑھنے لگیں۔ نیر کی موسیقی رواں تھی لیکن ان کی انا ہمالیہ جیسی بلند تھی۔ انہوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ زندگی بھر لتا کے ساتھ کام نہیں کریں گے۔ یہ ایک مشکل فیصلہ تھا، لیکن آشا بھوسلے کے لیے یہ ایک بڑا موقع ثابت ہوا۔ نیر نے آہستہ آہستہ ان کی آواز کو نکھارا۔\n\nاس وقت ہر فلم ساز اور موسیقار کی خواہش ہوتی تھی کہ ہیروئن کے لیے صرف لتا منگیشکر کی آواز استعمال ہو۔ اگر ایسا ممکن نہ ہوتا تو گیتا دت اور شمشاد بیگم یہ ذمہ داری نبھاتیں۔ ویمپ یا چھوٹے کرداروں کے لیے آشا کو لیا جاتا، اور بعض اوقات تو انہیں نظرانداز بھی کر دیا جاتا۔ اس صورتحال نے آشا کے اندر احساسِ محرومی پیدا کر دیا تھا۔ نیر کے لیے سب سے بڑا چیلنج انہیں اس احساس سے نکالنا تھا۔\n\n1957 میں جب بی آر چوپڑا نے او پی نیر کو فلم ’نیا دور‘ کے لیے منتخب کیا تو نیر کی پہلی شرط یہ تھی کہ تمام گیت آشا کی آواز میں ریکارڈ کیے جائیں گے۔ یہ پہلا موقع تھا جب کسی بڑی فلم کی ہیروئن کے تمام گیت آشا بھوسلے نے گائے۔ آشا اور محمد رفیع کی جوڑی نے دھوم مچا دی۔ نیر کو فلم فیئر ایوارڈ ملا اور آشا کو وہ خود اعتمادی ملی جس کی انہیں شدید ضرورت تھی۔\n\nاس کے بعد بی آر چوپڑا کی دیگر فلموں میں روی نے بھی آشا کو مؤثر انداز میں استعمال کیا، جن میں ’گمراہ‘، ’وقت‘ اور ’ہمراز‘ شامل ہیں۔\n\nاو پی نیر کے ساتھ یہ آشا کا سنہرا دور تھا۔ ’تم سا نہیں دیکھا‘، ’جعلی نوٹ‘، ’ایک مسافر ایک حسینہ‘، ’پھر وہی دل لایا ہوں‘ اور ’کشمیر کی کلی‘ جیسے گیت اسی دور کی یادگار ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nوقت کے ساتھ آشا اور نیر کا تعلق بھی کمزور پڑ گیا اور تقریباً نو برس بعد دونوں کے راستے جدا ہو گئے۔ اس دوران آشا کے لیے دیگر موسیقاروں کے دروازے کھل چکے تھے۔\n\n**آر ڈی برمن اور نیا انداز**\n\n1966 میں فلم ’تیسری منزل‘ کے ساتھ آر ڈی برمن (پنچم) نے ایک نیا انداز متعارف کرایا۔ آشا اور محمد رفیع کی آواز میں ’او حسینہ زلفوں والی‘ اور ’او میرے سونا رے‘ مقبول ہوئے، لیکن ’آجا آجا میں ہوں پیار تیرا‘ نے تہلکہ مچا دیا۔\n\n1970 کی دہائی میں یہ رجحان مزید مضبوط ہوا۔ ’دم مارو دم‘ اور فلم ’کارواں‘ کا گیت ’پیا تو اب تو آجا‘ نئی نسل کی پہچان بن گیا۔ آشا کی آواز میں شوخی اور توانائی نے انہیں ایک منفرد مقام دیا۔\n\n1979 میں آشا بھوسلے اور آر ڈی برمن نے شادی کر لی۔\n\n**آواز اور انفرادیت**\n\nمعروف موسیقار نوشاد علی نے کہا تھا: ’لتا کی آواز پاکیزہ ہے جبکہ آشا کی آواز میں بازاری پن ہے۔‘ یہی خصوصیت آشا کی سب سے بڑی طاقت بنی اور ان کی پہچان کا سبب بھی۔\n\nاگرچہ آشا بھوسلے کو اکثر لتا منگیشکر سے موازنہ کیا جاتا رہا، لیکن ان کی اپنی ایک الگ شناخت تھی۔ ان کی آواز کی شوخی اور توانائی نے انہیں ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔\n\nانڈیا\n\nبالی وڈ\n\nموسیقی\n\nگلوکارہ\n\nلیجنڈری گلوکارہ آشا بھوسلے کی موسیقی کا سفر کئی دہائیوں پر محیط تھا جس میں انہوں نے اپنی منفرد آواز اور انداز سے بالی وڈ میوزک کو نئی جہت دی۔\n\nفاروق اعظم\n\nاتوار, اپریل 12, 2026 - 14:00\n\nMain image:\n\n> <p>آشا بھوسلے آٹھ اگست 2023 کو دبئی میں اپنے 90 ویں لائیو کنسرٹ کا اعلان کرنے کے لیے ممبئی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران (اے ایف پی)</p>\n\nموسیقی\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nآشا بھوسلے، آر ڈی برمن اور ایک بے نام رشتے کی زندگی\n\nبھارت کی نامور گلوکارہ لتا منگیشکر کرونا کے باعث چل بسیں\n\nلتا منگیشگر کے ساتھ سب سے عمدہ گیت کس نے گائے؟\n\nجب لتا منگیشکر کو زہر دے کر مارنے کی کوشش کی گئی\n\nSEO Title:\n\nشوخی، سُر اور جادو بھری آواز: آشا بھوسلے ہمیشہ کے لیے خاموش\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "شوخی، سُر اور جادو بھری آواز: آشا بھوسلے ہمیشہ کے لیے خاموش"
}