{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiglvo7tiuwenabemcanqy2xrdupuw63cuoi57jd37g67ieuhbxwzu",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mjb6etmsxqj2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreifqgvdw6xodlghljiilowfieiyo4jc7mtod7q4bhmjydx5bck4npy"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 146072
},
"path": "/node/185448",
"publishedAt": "2026-04-11T05:29:30.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"ایران پر امریکی حملہ",
"جے ڈی وینس",
"صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
"جیرڈ کشنر",
"عباس عراقچی",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"دنیا",
"video"
],
"textContent": "**دنیا کی نظریں اس وقت اسلام آباد کے سکیورٹی زون پر جمی ہیں، جہاں بند کمروں کے پیچھے ہونے والے ہائی پاور، ہائی سٹیک فیصلے عالمی معیشت کا مستقبل طے کریں گے۔**\n\nیہ مذاکرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کے لیے بلکہ پاکستان کے عالمی سفارتی قد کاٹھ کے لیے بھی تاریخی سنگِ میل ثابت ہو سکتے ہیں۔\n\nپاکستان ایک غیر جانب دار ریفری کا کردار تو ادا کر رہا ہے، اس سفارتی میچ کے اہم کھلاڑی کون کون ہیں؟\n\nان مذاکرات میں ایک جانب ہے ٹیم امریکہ، جس میں صدر ٹرمپ کے قریبی ترین حلقے کے تین اہم افراد شامل ہیں۔\n\n**جے ڈی وینس (امریکی نائب صدر):**\n\nوفد کی قیادت 41 سالہ جیمز ڈیوڈ وینس کر رہے ہیں۔ وینس سابق ملٹری جرنلسٹ ہیں اور انہوں نے سیاست کا آغاز امریکی کی دوسرے ملکوں میں فوجی مداخلت کے سخت نقاد کے طور پر کیا تھا۔ وہ ’ماگا‘ (MAGA) تحریک کے سب سے بڑے علمبرداروں میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں۔\n\nوہ ایران پر امریکی حملے کے دوران زیادہ تر پس منظر میں رہے ہیں۔ البتہ اخباری اطلاعات کے مطابق گذشتہ ہفتے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ان سے رابطہ رہا ہے جس سے ان مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی۔\n\n**سٹیو وٹکوف (خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ):**\n\nریئل سٹیٹ سے وابستہ ارب پتی وٹکوف فروری 2026 میں ہونے والے ان مذاکرات کا حصہ تھے جن کی ناکامی کے بعد جنگ شروع ہوئی تھی۔ ایران ان پر ’غیر روایتی‘ سفارت کاری اور وعدہ خلافی کا الزام لگاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ تہران میں زیادہ مقبول نہیں ہیں۔ تاہم، وہ واشنگٹن کے 15 نکاتی پلان کے اہم خالق ہیں۔\n\nفیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دنوں میں ان سے بھی رابطے رہے ہیں۔\n\n**جیرڈ کشنر**\n\nٹرمپ کے داماد اور افینیٹی پارٹنرز کے بانی جیرڈ کشنر کا عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور قطر کے ساتھ گہرا کاروباری اور سیاسی تعلق ہے۔ وہ ماضی میں ’ابراہیمی معاہدات‘ کے معمار رہے ہیں۔ وہ جنگ سے قبل عمان کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات میں شامل تھے، اس لیے انہیں بھی ایران میں زیادہ پسند نہیں کیا جاتا، لیکن ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں سفارتی ڈھانچے میں ان کی اہمیت مسلمہ ہے۔\n\n**ٹیم ایران**\n\n* * *\n\nاور اب ذکر ٹیم ایران کا جس میں جہاں تجربہ کار سفارت کار شامل ہیں، وہی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے طاقتور مہرے بھی میز پر موجود ہوں گے۔\n\n**عباس عراقچی (ایرانی وزیرِ خارجہ)**\n\nبرطانیہ سے پولیٹیکل سائنس میں پی ایچ ڈی کرنے والے عراقچی 2015 کے جوہری معاہدے کے اہم مذاکرات کار رہے ہیں۔ وہ ایران کی خارجہ وزارت میں کئی دہائیوں کا تجربہ رکھتے ہیں اور انہیں ’سخت مذاکرات کا ماہر‘ مانا جاتا ہے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایران کے سخت گیر طبقوں اور مغرب کے درمیان پل کا کردار سرانجام دے سکتے ہیں۔\n\nعراقچی فروری کے شروع میں عمان میں ہونے والے امریکی ایرانی مذاکرات میں بھی شریک تھے۔\n\n**محمد باقر قالیباف (سپیکر پارلیمنٹ)**\n\nپاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر اور رہبرِ اعلیٰ کے معتمدِ خاص، قالیباف کا کردار محض سیاسی نہیں بلکہ عسکری بھی ہے۔ وہ امریکہ کے ہاتھوں قتل ہونے والے جنرل قاسم سلیمانی کے قریبی ساتھی رہے ہیں اور حالیہ حملوں میں علی لاریجانی کے قتل کے بعد ان کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ واشنگٹن انہیں ایک ’ہاٹ آپشن‘ کے طور پر دیکھ رہا ہے کیونکہ وہ ایران کے عسکری اور معاشی مفادات کو یکجا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔\n\nیہ بات یقینی ہے کہ مذاکرات انتہائی کڑے ہوں گے۔ اطراف اپنے اپنے مطالبوں پر زور دیں گے۔ یہ پاکستان کی سفارت کاری کا بھی امتحان ہے وہ دونوں فریقوں کو کسی درمیانی راہ میں لانے میں کامیاب ہو جائے۔ اگر ایسا ہو گیا تو عالمی سٹیج پر پاکستان کا قد کہیں زیادہ اونچا ہو جائے گا۔\n\nایران پر امریکی حملہ\n\nجے ڈی وینس\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nجیرڈ کشنر\n\nعباس عراقچی\n\nاسلام آباد مذاکرات میں حصہ لینے مذاکرات، جن کے شرکا کے ہاتھوں میں دنیا کی معیشت اور سلامتی کی کنجی ہے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nہفتہ, اپریل 11, 2026 - 10:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">11 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں مذاکرات کی تیاریوں کا ایک منظر (اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\njw id:\n\ngtYy81Pg\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nامریکی وفد کی قیادت کرنے والے جے ڈی وینس جو جنگ کے خلاف تھے\n\nاسلام آباد: امریکی و ایرانی وفود کے روبرو مذاکرات، پاکستان ثالث\n\nدنیا کی نظریں اسلام آباد پر\n\nایران امریکہ مذاکرات: اسلام آباد میں سکیورٹی سخت، ریڈ زون بند\n\nSEO Title:\n\nٹرمپ کی ٹیم بمقابلہ ماہر ایرانی سفارت کار: اسلام آباد مذاکرات میں کون شریک ہے؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "امریکہ بمقابلہ ایران: اسلام آباد مذاکرات میں کون شریک ہے؟"
}