{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreif34lqlwgbvpjloppj3hkli5mgehxoq6oxbd6tzgnrxdbijzuiuaa",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mjb6eklw4tj2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreiekrtr34luqqwzztumw5d3mm6me7ehdvlrj3pv3mmgtqaks6j5yza"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 60352
  },
  "path": "/node/185450",
  "publishedAt": "2026-04-11T08:13:51.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "جیرڈ کشنر",
    "جے ڈی وینس",
    "صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
    "ایوانکا ٹرمپ",
    "ایران پر امریکی حملہ",
    "بن یامین نتن یاہو",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "امریکہ",
    "news"
  ],
  "textContent": "**آج اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر ایک مرکزی، لیکن متنازع کردار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔**\n\nمین ہیٹن کے ایک رئیل سٹیٹ ڈویلپر سے عالمی سفارت کار بننے کا یہ سفر جتنا حیران کن ہے، اتنا ہی سوالات سے بھرا ہوا بھی۔\n\nایران نے ان کے ساتھ براہ راست بات کرنے سے انکار کیا ہے۔ اس سے قبل فروری میں کشنر اور ٹرمپ کے مشیر سٹیو وٹکوف ایران کے ساتھ عمان میں ہونے والے مذاکرات میں شامل تھے، جن کے دوران ہی امریکہ نے ایران پر حملہ کر دیا۔\n\nایران کشنر کے اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو کے ساتھ قریبی تعلقات اور فلسطینیوں کے بارے میں خیالات کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔\n\n**ابتدائی زندگی اور کاروباری دنیا**\n\n1981 میں پیدا ہونے والے کشنر نے اپنے والد کی تعمیر کردہ رئیل سٹیٹ کمپنی ’کشنر کمپنیز‘ کو اس وقت سنبھالا جب ان کے والد کو کاروبار سے متعلق مختلف جرائم کی وجہ سے قید ہو گئی، البتہ بعد میں ٹرمپ نے انہیں معاف کر دیا تھا۔\n\nکشنر کے دادا اور دادی کا تعلق بیلاروس سے ہے۔ ان کی دادی ہٹلر کی یہود دشمنی کی مہم کے دوران مبینہ طور پر ایک سرنگ کھود کر کنسٹریشن کیمپ سے فرار ہوئی تھیں۔\n\nکشنر اور ان کے والد ڈیموکریٹ تھے۔ کشنر کے اخبار نیویارک آبزرور نے 2008 میں براک اوباما کی حمایت کی تھی، مگر بعد میں وہ رپبلکن بن گئے۔\n\nنیویارک ٹائمز کے مطابق کشنر کے والد چارلز کشنر کے نتن یاہو کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں۔ چارلز نے اسرائیل کے لیے لاکھوں ڈالر کے عطیات دیے ہیں۔\n\nجب کشنر کا خاندان نیوجرسی میں رہتا تھا تو اسرائیلی وزیرِ اعظم بننے سے قبل نتن یاہو ان کے گھر ٹھہرا کرتے تھے۔\n\nنیویارک ٹائمز کے مطابق ایک موقعے پر وہ جیرڈ کے بیڈ روم میں سوئے تھے اور جیرڈ نے وہ رات بیسمنٹ میں گزاری تھی۔\n\nکشنر نے یہودی مذہبی سکولوں میں تعلیم حاصل کی جہاں انہیں مخصوص یہودی ٹوپی پہنا پڑتی تھی، مگر ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلے کے بعد کشنر نے یہ ٹوپی پہننا چھوڑ دی۔\n\n2009 میں انہوں نے ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا سے شادی کی۔ ٹرمپ نے 2017 میں اقتدار میں آنے کے بعد انہیں سینیئر مشیر کا عہدہ دے دیا، جس کے بعد ان پر اقربا پروری کا الزام لگا۔\n\n**ناکام ’ڈیل آف دا سینچری‘**\n\nٹرمپ نے اقتدار میں آتے ہی کشنر کو مشرق وسطیٰ کا امن مشن سونپ دیا، حالانکہ ان کے پاس سفارت کاری کا تجربہ تھا، نہ ہی مشرق وسطیٰ کے ساتھ کوئی تعلق۔ اس امن مشن کو ’ڈیل آف دا سینچری‘ کا نام دیا گیا مگر یہ ناکام ثابت ہوا۔\n\nٹرمپ کے دوسرے دورِ حکومت میں کشنر ٹرمپ کے قائم کردہ ادارے ’بورڈ آف پیس‘ کے رکن بنے۔\n\nغزہ کی تعمیرِ نو کے لیے انہوں نے ایک منصوبہ پیش کیا جس میں ساحل پر ریزورٹس، ڈیٹا سینٹرز، ہوائی اڈے اور ریلوے کے پروجیکٹ دکھائے، لیکن اس دوران وہاں مقیم 22 لاکھ فلسطینیوں کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا جو وہاں مقیم ہیں۔ اس پر کڑی تنقید ہوئی تھی۔\n\nنتن یاہو کی اہلیہ سارہ، نتن یاہو، کشنر اور ایوانکا ٹرمپ 14 مئی 2018 کو بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے کے افتتاح کے موقعے پر (اے ایف پی)\n\n\n\n\nکشنر نے 2020 میں اسرائیل اور عرب ملکوں کے درمیان ابراہیمی معاہدوں میں بھی اہم کردار ادا کیا، جس کے بعد وائٹ ہاؤس نے انہیں امن کے نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا۔\n\nکشنر پر ایک الزام یہ بھی لگتا رہا ہے کہ ان کی کمپنی افینٹی پارٹنرز مشرق وسطیٰ میں سرمایہ کاری کے فنڈز اکٹھے کر رہی ہے، اس لیے ان کا وہاں سرکاری حیثیت سے کام کرنا مفادات کے ٹکراؤ کی ذیل میں آتا ہے۔\n\nٹرمپ انتظامیہ اور کشنر اس کا انکار کرتے ہیں۔\n\n**ایران کا کشنر پر عدم اعتماد**\n\nآج 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے ایران مذاکرات میں کشنر اور ان کے ساتھی سٹیو وٹکوف کی موجودگی تنازعے کا شکار ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nسی این این کے مطابق تہران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ان دونوں سے بات نہیں کرنا چاہتا۔\n\nایران کا موقف ہے کہ یہ دونوں اسرائیل کے حامی اور فنڈ ریزر ہیں اور کشنر تو مذاکرات کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں اپنے فنڈ کے لیے پانچ ارب ڈالر بھی اکٹھے کر رہے ہیں۔\n\nایران نے نائب صدر جے ڈی وینس کو مذاکرات کے لیے زیادہ موزوں قرار دیا ہے۔\n\nکشنر نے صحافیوں کو یقین دلایا تھا کہ وہ سفارت کاری اور ذاتی کاروبار کو نہیں ملائیں گے، یہ وعدہ فوری طور پر توڑ دیا گیا۔\n\nوہ ایک ہی وقت میں امن کے سفیر بھی ہیں اور سرمایہ کاروں کی تلاش میں بھی۔\n\nجیرڈ کشنر\n\nجے ڈی وینس\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nایوانکا ٹرمپ\n\nایران پر امریکی حملہ\n\nبن یامین نتن یاہو\n\nاسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات میں امریکی وفد میں شامل ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ اتنے گہرے تعلقات ہیں کہ نتن یاہو کشنر کے گھر میں ٹھہرا کرتے تھے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nہفتہ, اپریل 11, 2026 - 15:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">جیرڈ کشنر (بائیں) 30 مئی 2019 کو بیت المقدس میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے (اے ایف پی)</p>\n\nامریکہ\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nامریکہ بمقابلہ ایران: اسلام آباد مذاکرات میں کون شریک ہے؟\n\nامریکی نائب صدر، سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر مذاکرات کے لیے اسلام آباد آئیں گے: وائٹ ہاؤس\n\nٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر امن کے نوبیل انعام کے لیے نامزد\n\nامریکی وفد کی قیادت کرنے والے جے ڈی وینس جو جنگ کے خلاف تھے\n\nSEO Title:\n\nجیرڈ کشنر: نتن یاہو جن کے گھر میں ٹھہرا کرتے تھے\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "جیرڈ کشنر: نتن یاہو جن کے گھر میں ٹھہرا کرتے تھے"
}