{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreievoibar7pcphkcy7kn4zs2sxmax3ha7dazd7pwqvhzt2wijkofw4",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mjb6eaq2l6b2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreichg2htbk6d4pv5rculby3bjldwxi5uroi64ls4y3md5fjk6edcju"
},
"mimeType": "image/png",
"size": 370176
},
"path": "/node/185453",
"publishedAt": "2026-04-11T10:46:45.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"پاکستان سعودی عرب تعلقات",
"تاریخی دفاعی معاہدہ",
"پاکستان فوج",
"جنگی طیارے",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"ایشیا",
"news"
],
"textContent": "**سعودی عرب نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ پاکستان کی ملٹری فورس، جس میں لڑاکا طیارے بھی شامل ہیں، دونوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدے کے تحت کنگ عبدالعزیز ایئر بیس پہنچ گئی ہے۔**\n\nسعودی وزارت نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اس تعیناتی کا مقصد مشترکہ دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا اور علاقائی و عالمی سطح پر سکیورٹی اور استحکام کی حمایت کرنا ہے۔\n\nبیان میں کہا گیا: ’برادر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ایک ملٹری فورس مشترکہ سٹریٹجک دفاعی معاہدے کے تحت مشرقی سیکٹر میں واقع کنگ عبدالعزیز ایئر بیس پر پہنچ گئی ہے۔‘\n\n\n\n\nبیان کے مطابق: ’پاکستانی فورس میں پاکستان فضائیہ کے لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں اور اس کا مقصد دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان عسکری ہم آہنگی کو فروغ دینا، آپریشنل تیاری کی سطح کو بلند کرنا اور علاقائی و بین الاقوامی سطح پر سکیورٹی و استحکام کی حمایت کرنا ہے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nرواں سال فروری میں سعودی دارالحکومت ریاض میں منعقدہ ’عالمی دفاعی نمائش‘ میں پاکستان کے جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیارے میں شرکا نے غیر معمولی دلچسپی ظاہر کی تھی۔\n\nپاکستان نے جے ایف-17 کو ایک ’کم لاگت اور مؤثر ملٹی رول لڑاکا طیارے‘ کے طور پر پیش کیا ہے جسے مہنگے مغربی طیاروں کے متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور اب اسے پاکستان کی دفاعی برآمدات کی حکمت عملی میں مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔\n\nپاکستان اور سعودی عرب گذشتہ سال 17 ستمبر کو مشترکہ سکیورٹی معاہدہ کرنے کے بعد ایران میں جنگ کے دوران قریبی رابطے میں رہے، جس کے تحت ایک پر حملہ دونوں کے لیے خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔\n\nسعودی عرب نے پاکستان کی معیشت کو مالی معاونت اور سرمایہ کاری کے ذریعے سہارا دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے، جبکہ دونوں ممالک نے معاشی، دفاعی اور سیاسی شعبوں میں تعاون کو بتدریج وسعت دی ہے۔\n\nپاکستان نے جمعے کو سعودی عرب کے ساتھ مزید گہرے معاشی تعاون پر زور دیا، جب مملکت کے وزیرِ خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان اعلیٰ پاکستانی قیادت سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچے۔\n\nیہ دورہ جو امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی کے بعد کسی سینیئر سعودی عہدیدار کا پہلا دورہ تھا، ایسے وقت میں ہوا جب اسلام آباد میں ایرانی اور امریکی حکام کے درمیان امن مذاکرات جاری ہیں۔\n\nپاکستان سعودی عرب تعلقات\n\nتاریخی دفاعی معاہدہ\n\nپاکستان فوج\n\nجنگی طیارے\n\nسعودی وزارت نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اس تعیناتی کا مقصد مشترکہ دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا اور علاقائی و عالمی سطح پر سکیورٹی اور استحکام کی حمایت کرنا ہے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nہفتہ, اپریل 11, 2026 - 16:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">کثیر القومی فضائی جنگی مشق ’سپیئرز آف وکٹری 2025‘ میں شرکت کے لیے پاکستان ایئر فورس کا دستہ، جس میں جے ایف17 تھنڈر بلاک-تھری لڑاکا طیارے شامل ہیں، فضائی اور زمینی عملے کے ساتھ سعودی عرب کے کنگ عبدالعزیز ایئر بیس پر پہنچا تھا (فائل فوٹو/آئی ایس پی آر)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nایران کو بتایا کہ سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ ہے: اسحٰق ڈار\n\nسعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کسی کے خلاف نہیں: پاکستانی وزیر اعظم\n\nایران کے سعودی عرب پر حملے غیر ضروری کشیدگی: پاکستان فوج\n\nشہباز شریف سے سعودی وزیر خزانہ کی ملاقات، اقتصادی تعاون پر اتفاق\n\nSEO Title:\n\nدفاعی معاہدے کے تحت پاکستان فوج اور جنگی طیارے سعودی عرب میں تعینات: سعودی وزارت دفاع\n\ncopyright:\n\nTranslator name:\n\nعبدالقیوم\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان فوج اور جنگی طیارے سعودی عرب میں تعینات: سعودی وزارت دفاع"
}