{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreicj7vhmqshgem4unyezdog5x4mer2ugwkxpmvcxcwmhi2mleei4ri",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mjb6dwmwn6s2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreigjhj5wku4lah73lqehz5vrbxkzwmoshur3qhjk22zeovfz7wweza"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 64465
},
"path": "/node/185454",
"publishedAt": "2026-04-11T14:30:15.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"Screenshot 2026-04-11 171728.jpg",
"مصنوعی ذہانت",
"صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
"نائن الیون",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"ٹیکنالوجی",
"news"
],
"textContent": "**پالانٹیر (Palantir) سیلیکون ویلی کی پراسرار اور طاقتور کمپنیوں میں سے ایک ہے، جو ڈیٹا کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے والی ایک عالمی طاقت بن چکی ہے۔**\n\nگذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر پالانٹیر کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ ’پالانٹیر ٹیکنالوجیز نے جنگ لڑنے کی بہترین صلاحیتوں اور آلات کا لوہا منوایا ہے۔ ہمارے دشمنوں سے پوچھ لیں۔‘\n\nمغربی میڈیا کے مطابق امریکی فوج مشرقِ وسطیٰ میں اہداف کی نشاندہی کے لیے پالانٹیر کا مصنوعی ذہانت سے لیس ’میون سمارٹ سسٹم‘ پلیٹ فارم استعمال کر رہی ہے، جس کا تعلق فروری کے آخر میں ایران پر شروع ہونے والے حملوں سے ہے۔\n\n## Screenshot 2026-04-11 171728.jpg\n\n2003 میں نائن الیون کے حملوں کے بعد قائم ہونے والی اس کمپنی کا مقصد انٹیلی جنس ڈیٹا کی مدد سے دہشت گردی کا مقابلہ کرنا تھا۔ اس کی بنیاد امریکی سرمایہ کار پیٹر ٹیل نے رکھی تھی اور کمپنی کا نام ’لارڈ آف دا رنگز‘ ناول سے لیا گیا تھا۔\n\nآج یہ کمپنی دفاع، سکیورٹی، مالیات اور صحت سمیت 40 سے زائد صنعتوں میں فعال ہے اور اس کی مارکیٹ ویلیو اربوں ڈالرز تک پہنچ چکی ہے۔ اگست 2025 میں پالانٹیر نے امریکی فوج کے ساتھ 10 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا تھا۔\n\nپالانٹیر کا پلیٹ فارم ’گوتھم‘ دفاعی، انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ پلیٹ فارم رئیل ٹائم انٹیلی جنس فراہم کرتا ہے اور مختلف ڈیٹا سورسز کو جوڑ کر دشمن کی نقل و حرکت کی پیش گوئی کرتا ہے۔ یہ بڑے لینگویج ماڈلز کو حساس فوجی ماحول میں استعمال کرنے میں مدد دیتا ہے۔\n\n**یہ ٹیکنالوجی کام کیسے کرتی ہے؟**\n\nڈیٹا فیوژن یعنی ’ویکیوم‘ گوتھم کی وہ بنیادی طاقت ہے جو اسے مختلف نوعیت کے وسیع ڈیٹا کو جذب کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ ایران جیسے پیچیدہ ماحول میں ہدف تلاش کرنے کے لیے یہ سسٹم مندرجہ ذیل ذرائع استعمال کرتا ہے:\n\n * سیٹلائٹ تصاویر (ہائی ریزولوشن تصاویر اور انفراریڈ ڈیٹا)\n * سگنلز انٹیلی جنس (ریکارڈ کردہ گفتگو یا ریڈار کی لہریں)\n * انسانی انٹیلی جنس (زمین سے ملنے والی رپورٹس یا جاسوسی سے حاصل کردہ ڈیٹا)\n * اوپن سورس انٹیلی جنس (سوشل میڈیا سرگرمی یا عوامی ریکارڈ)\n\n\n\nگوتھم ان سب کو یکجا کرتا ہے۔ ان تمام معلومات کو آپس میں ضم کر کے یہ سافٹ ویئر ایسے پیٹرنز کی نشاندہی کر سکتا ہے، جو انسانی تجزیہ کار کی نظر سے اوجھل رہ سکتے ہیں، جیسے کہ کسی مخصوص گاڑی کا ڈیزائن۔\n\nاسی طرح یہ خودکار لیبلنگ کے ذریعے ہزاروں گھنٹوں کی ڈرون فوٹیج دیکھنے کے بجائے کمپیوٹر ویژن کے الگورتھم خود بخود ٹینکوں، موبائل میزائل لانچرز یا طیارہ شکن بیٹریوں وغیرہ پر لیبل لگا دیتے ہیں۔\n\nپریڈیکٹو ماڈلنگ کے تحت پالانٹیر کے الگورتھم صرف یہ نہیں دکھاتے کہ ہدف کہاں ہے، بلکہ یہ پیش گوئی بھی کرتے ہیں کہ مستقبل میں وہ کہاں ہو گا۔\n\nایک امریکی فوجی 29 مارچ 2026 کو پاناما سٹی میں امادور کروز ٹرمینل پر لنگر انداز امریکی بحریہ کے ارلی برک کلاس گائیڈڈ میزائل تباہ کن جہاز یو ایس ایس گرڈلی (ڈی ڈی جی 101) کے عرشے پر پہرہ دے رہا ہے (اے ایف پی)\n\n\n\n\n**تنقید کا نشانہ**\n\nپالانٹیر کا سب سے سنگین اور متنازع پہلو اس کا جنگی کردار ہے، خاص طور پر اسرائیلی فوج کے ساتھ اس کی سٹریٹجک شراکت داری۔\n\nکمپنی کے سی ای او ایلکس کارپ نے کھل کر اسرائیل کی حمایت کی ہے اور سات اکتوبر کے حملوں کے بعد اسے ایک ناگزیر پارٹنرشپ قرار دیا ہے۔ غزہ اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر حصوں میں پالانٹیر کے اے آئی ٹولز کو مبینہ طور پر اہداف کی نشاندہی کرنے اور اہداف کی فہرستیں (کِل لسٹس) تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nمارچ 2026 کی اطلاعات کے مطابق، امریکی محکمہ دفاع نے پالانٹیر کے ’میون سمارٹ سسٹم‘ (Project Maven) کو اپنے مستقل دفاعی پروگرام کا حصہ بنا لیا ہے، جو سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے حملوں میں معاونت کرتا ہے۔\n\nحال ہی میں ایران پر ہونے والے حملوں اور آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے پیچھے بھی اسی سسٹم کے کلیدی کردار کی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ ایلکس کارپ کا ماننا ہے کہ مغربی تہذیب کے تحفظ کے لیے ’مہلک صلاحیتوں‘ کا استعمال ضروری ہے، چاہے اس میں شہریوں کا جانی نقصان ہی کیوں نہ ہو۔\n\nپالانٹیر کی جڑیں امریکی سیاست میں بھی گہری ہیں۔ کمپنی کے بانی پیٹر ٹیل، جو ایک ارب پتی سرمایہ کار اور جمہوریت کے ناقد سمجھے جاتے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑے حامی ہیں۔\n\nٹرمپ کی حالیہ انتظامیہ میں پالانٹیر کے کم از کم 17 سابق یا موجودہ ملازمین اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں، جن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی شامل ہیں، جو پیٹر ٹیل کے سابق ملازم رہ چکے ہیں۔\n\nدوسری طرف اسے انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ گہرے تعلقات، غزہ میں ہونے والی نسل کشی اور سویلین اہداف پر بمباری کو انسانی حقوق کی تنظیموں نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔\n\nاس کمپنی پر یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ اس کی ٹیکنالوجی تارکینِ وطن کی ملک بدری اور پولیس کی جانب سے مخصوص نسل کے لوگوں کی غیر منصفانہ نگرانی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔\n\n**ہالی وڈ فلم کی طرح کے اشتہار**\n\nپالانٹیر کے اشتہارات کو کسی ہالی وڈ کی بلاک بسٹر فلم کے ٹریلر کی طرح ڈیزائن کیا گیا ہے، جہاں ایک سنسنی خیز اور تاریک ماحول پیدا کر کے انسانی خوف کے جذبات کو ابھارا جاتا ہے۔\n\nکمپنی کے سابق اشتہاری پروڈیوسر، ہوان سباسٹین پنٹو، کے مطابق یہ فلمی سٹائل دراصل خودکار جنگ کی اس ہولناک حقیقت کو چھپانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جس میں بے گناہ خاندان، صحافی اور ہسپتالوں کا عملہ مارا جاتا ہے۔ یہ اشتہارات ایک ایسی مصنوعی اور صاف ستھری جنگ کا تاثر دیتے ہیں جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔\n\nپالانٹیر نے جنگ کی پر تشدد حقیقت کو ایک جدید ’ون کلک سلوشن‘ کے طور پر پیش کرنے کا فن سیکھ لیا ہے، جو سیلیکون ویلی میں ٹیکنالوجی کے جنگی استعمال کی واشگاف مثال ہے۔\n\nمصنوعی ذہانت\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nنائن الیون\n\nمصنوعی ذہانت کی مدد سے کام کرنے والی یہ جنگی ٹیکنالوجی عالمی سیاست کا خطرناک کھلاڑی بن گئی ہے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nہفتہ, اپریل 11, 2026 - 19:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">مغربی میڈیا کے مطابق امریکی فوج مشرقِ وسطیٰ میں اہداف کی نشاندہی کے لیے پالانٹیر کا مصنوعی ذہانت سے لیس سسٹم استعمال کر رہی ہے (انڈی گرافکس)</p>\n\nٹیکنالوجی\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nمصنوعی ذہانت کو خلا میں بھیجنے کا منصوبہ، جو خطرناک ہو سکتا ہے\n\nامریکی حملے: 20 سالہ طالب علم اے آئی کی جنگ کا شکار کیسے ہوا؟\n\nاے آئی کے تباہ کن اثرات پر رپورٹ کے بعد سٹاک مارکیٹ میں تہلکہ مچ گیا\n\nایران جنگ سے متعلق مصنوعی ذہانت سے بنی ویڈیوز کی بھرمار\n\nSEO Title:\n\n’ہمارے دشمنوں سے پوچھیں:‘ صدر ٹرمپ کا دفاعی ہتھیار ’پالانٹیر‘ کیا ہے؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "’ہمارے دشمنوں سے پوچھیں:‘ صدر ٹرمپ کا دفاعی ہتھیار ’پالانٹیر‘ کیا ہے؟"
}