{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreig62qvlt2z6cndun4u4yjridbj4eyydb4cj2gguykw3t63wb3bety",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mjb6dt3obzy2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreif5iaqx2yjba5c5upvwlsuq6hozkzelj35olu6huodhu6ss32fshq"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 55538
  },
  "path": "/node/185446",
  "publishedAt": "2026-04-11T16:00:17.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "Screenshot 2026-04-11 210007.jpg",
    "https://t.co/v7ABGhPKr3",
    "April 11, 2026",
    "View this post on Instagram",
    "A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)",
    "صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
    "امریکہ",
    "ایران",
    "اسلام آباد",
    "اسلام آباد مذاکرات",
    "عباس عراقچی",
    "جے ڈی وینس",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "پاکستان",
    "video",
    "لائیو اپ ڈیٹس",
    "@CENTCOM"
  ],
  "textContent": "**امریکی اور ایرانی وفد اسلام آباد میں موجود ہے، جہاں فریقین کے درمیان امن مذاکرات جاری ہیں۔** **امریکہ اور ایران نے پاکستان کی ثالثی میں دو روز قبل جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد یہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔** **لائیو اپ ڈیٹس**\n---\n\n* * *\n\n**اسلام آباد: امریکی و ایرانی وفود کے تکنیکی مذاکرات جاری**\n\nاسلام آباد میں ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب امریکی و ایرانی وفود کے درمیان روبرو مذاکرات کا تیسرا دور جاری ہے۔ انڈپینڈنٹ اردو کی نامہ نگار قرۃ العین شیرازی کے مطابق یہ مذاکرات کے تکنیکی پہلوؤں کا مرحلہ ہے۔\n\n* * *\n\n**اسلام آباد: امریکی و ایرانی وفود میں روبرو مذاکرات جاری، پاکستان بطور ثالث شامل**\n\nامریکی اور ایرانی وفد کے درمیان ہفتے کو اسلام آباد میں روبرو مذاکرات جاری ہیں، جس میں پاکستان بطور ثالث شامل ہے۔\n\nواشنگٹن اور تہران کے درمیان نصف صدی میں یہ اعلیٰ ترین سطح کے مذاکرات ہیں، جن کا مقصد چھ ہفتوں سے جاری جنگ کا خاتمہ کرنا ہے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو کی نامہ نگار قرۃ العین شیرازی کے مطابق سرینا ہوٹل میں ہونے والے یہ مذاکرات امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ہو رہے ہیں۔\n\nایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے انڈپینڈنٹ اردو کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مذاکرات کل (بروز اتوار) بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔\n\nان مذاکرات سے قبل دونوں ملکوں کے وفود کی پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں۔\n\nدوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ مذاکرات کا نتیجہ کچھ بھی ہو، حکومت عوام کے ساتھ ڈٹ کر کھڑی رہے گی۔\n\nہفتے کو ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا: ’پاکستان آنے والا اعلیٰ سطح کا ایرانی وفد پوری قوت کے ساتھ ایران کے مفادات کا مضبوط محافظ ہے اور اسی جذبے کے تحت وہ جرات کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لے گا۔‘\n\nبقول مسعود پزشکیان: ’کسی بھی صورت میں عوام کی خدمت ایک لمحے کے لیے بھی نہیں رکے گی اور مذاکرات کا نتیجہ کچھ بھی ہو، حکومت عوام کے ساتھ ڈٹ کر کھڑی رہے گی۔‘\n\n## Screenshot 2026-04-11 210007.jpg\n\n* * *\n\n**امریکی افواج نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے اقدامات شروع کر دیے: سینٹ کام**\n\nیو ایس سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایکس پر کہا ہے کہ امریکی افواج نے 11 اپریل کو آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔\n\n> https://t.co/v7ABGhPKr3\n\n> — U.S. Central Command (@CENTCOM) April 11, 2026\n\nسینٹ کام نے کہا کہ امریکی جہازوں نے خلیج عرب میں ایک وسیع مشن کے حصے کے طور پر کام کیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ آبنائے ہرمز ایران کی جانب سے بچھائی گئی سمندری بارودی سرنگوں سے مکمل طور پر صاف ہے۔\n\nسینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا ہے کہ ’آج، ہم نے ایک نیا راستہ قائم کرنے کا عمل شروع کیا ہے اور ہم جلد ہی اس محفوظ راستے کو سمندری صنعت کے ساتھ اشتراک کریں گے تاکہ تجارت کے آزادانہ بہاؤ کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔‘\n\nتسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز بند ہے اور وہاں فی الحال کوئی ٹریفک نہیں ہے، یہاں تک کہ ایک ’امریکی ڈسٹرائر‘ کو بھی اجازت نہیں دی گئی جو آبنائے سے گزرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔\n\n* * *\n\n**پاکستانی وزیراعظم کی امریکی اور ایرانی وفود سے ملاقاتیں**\n\nپاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کو امریکہ اور ایران سے آئے وفود سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔\n\nدفتر خارجہ سے پہلے جاری بیان کے مطابق امریکی وفد کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے تھے جبکہ خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کُشنر کر رہے تھے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ سینیٹر محسن رضا نقوی نے کی۔\n\nبیان میں بتایا گیا کہ ’دونوں وفود کے تعمیری مذاکرات کے لیے عزم کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ یہ بات چیت خطے میں پائیدار امن کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگی۔‘\n\nبیان کے مطابق وزیراعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کی جانب پیش رفت کے لیے دونوں فریقین کی سہولت کاری جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔\n\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\nبعدازاں دفتر خارجہ نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ایرانی وفد سے ملاقات کا اعلامیہ جاری کیا، جس کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر جناب محمد باقر قالیباف کر رہے تھے، جبکہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی ان کے ہمراہ تھے۔\n\nدفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق اسلام آباد مذاکرات میں ایران کی شمولیت کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ’پاکستان خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے مفاد میں بامعنی نتائج کے حصول کے لیے پیش رفت کو تیز کرنے میں بطور ثالث اپنا کردار جاری رکھنے کے لیے مخلص ہے۔‘\n\nپاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی نے اجلاس میں شرکت کی۔\n\nیہ واضح نہیں ہے کہ وزیراعظم کی ملاقات پہلے امریکی وفد سے ہوئی یا ایرانی وفد سے۔\n\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\nاسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں ان ابتدائی ملاقاتوں کے آغاز کے ساتھ ہی ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ ایرانی وفد وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد یہ فیصلہ کرے گا کہ آیا وہ امریکی فریق کے ساتھ باضابطہ مذاکرات آگے بڑھائے یا نہیں۔\n\nایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ کسی بھی مستقل جنگ بندی معاہدے میں ایرانی اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کا خاتمہ شامل ہونا چاہیے۔\n\nتاہم امریکی وفد کے سربراہ جے ڈی وینس کہہ چکے ہیں کہ لبنان کا معاملہ اسلام آباد مذاکرات کا حصہ نہیں ہو گا۔\n\nدوسری جانب پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے ہفتے کو کہا ہے کہ اسلام آباد اس وقت ایران کے خلاف جاری ایک ’غیرقانونی جنگ‘ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی ثالثی کوششوں کی میزبانی کر رہا ہے۔\n\n\n\n\nایکس پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ جنگ نہ صرف ایرانی قوم اور تہذیب کے خلاف ایک کھلا جرم ہے بلکہ اس نے خطے اور دنیا کی سکیورٹی کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔\n\nایرانی سفیر کے مطابق اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا امریکہ پاکستان کی ان ’نیک کاوشوں‘ اور ثالثی کی کوششوں کا احترام کرتا ہے یا نہیں۔\n\n* * *\n\n**امریکہ کی ایران کے منجمد اثاثے کھولنے پر رضامندی کی خبر کی تردید**\n\nایک سینیئر امریکی عہدیدار نے ہفتے کو اس خبر کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ واشنگٹن نے قطر اور دیگر غیر ملکی بینکوں میں رکھے گئے ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔\n\nایران اور امریکہ کے وفود مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں شرکت کے لیے اسلام آباد میں موجود ہیں۔\n\nتہران اس سے قبل کہہ چکا ہے کہ لڑائی کے مستقل خاتمے کے کسی بھی معاہدے میں ایران کے پابندیوں کا شکار اثاثوں کو غیر منجمد کرنا اور لبنان میں اسرائیل کی جنگ کا خاتمہ شامل ہونا چاہیے۔\n\nایک ’سینیئر ایرانی ذرائع‘ نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ امریکہ ان اثاثوں کو غیر منجمد کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے اور یہ اقدام آبنائے ہرمز میں محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔\n\nوائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری پیغام میں امریکی عہدیدار نے اس رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا: ’یہ خبر غلط۔ ہے، ملاقاتیں ابھی شروع بھی نہیں ہوئی ہیں۔‘\n\n* * *\n\n**امریکہ منجمد اثاثے بحال کرنے پر رضامند: ایرانی ذرائع**\n\nایک سینیئر ایرانی ذریعے نے ہفتے کو دعویٰ کیا کہ امریکہ نے قطر اور دیگر غیر ملکی بینکوں میں منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنے پر رضا مندی ظاہر کر دی ہے۔\n\nذریعے نے اس اقدام کو اسلام آباد میں واشنگٹن کے ساتھ جاری مذاکرات میں ’سنجیدگی‘ کی علامت قرار دیا۔\n\nامریکہ نے منجمد اثاثوں کی بحالی کے معاملے پر کوئی عوامی بیان جاری نہیں کیا۔\n\nاس ذریعے نے، معاملے کی حساسیت کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، روئٹرز کو بتایا کہ اثاثوں کو بحال کرنا براہ راست آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کی یقین دہانی سے جڑا ہوا ہے، جسے بات چیت کے اہم نکات میں سے ایک سمجھا جا رہا ہے۔\n\n* * *\n\n**ایران امریکہ مذاکرات پر اسلام آباد سے اب تک کی تازہ صورت حال**\n\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\n* * *\n\n**امریکی وفد مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا**\n\nایران سے مذاکرات کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، نمائندہ خصوصی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ گئے۔\n\nپاکستانی دفتر خارجہ نے ایک بیان میں بتایا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے وفد کا استقبال کیا۔\n\nبیان کے مطابق وفد کا استقبال کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے قیام کے لیے امریکہ کے عزم کو سراہا۔\n\nانہوں نے امید ظاہر کی کہ فریقین تعمیری انداز میں بات چیت کریں گے اور اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان فریقین کو دیرپا اور مستقل حل تک پہنچانے کے لیے اپنا معاون کردار جاری رکھنا چاہتا ہے۔\n\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\n* * *\n\n**امریکہ اور ایران میں مذاکرات آج**\n\nامریکہ اور ایران کے درمیان سیز فائر کے بعد اہم مذاکرات آج بروز ہفتہ اسلام آباد میں ہونے جا رہے ہیں۔\n\n10 اپریل 2026 کو اسلام آباد کی ایک سڑک پر لگائی گئی امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کی خبریں دکھانے والی ایک ڈیجیٹل سکرین (اے ایف پی)\n\n\n\n\nان مذاکرات کے لیے ایران کے پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں 70 سے زائد ارکان پر مشتمل ایرانی وفد جمعے کی رات اسلام آباد پہنچ چکا ہے جب کہ امریکی وفد کی آمد آج متوقع ہے۔\n\nدونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے موقعے پر دارالحکومت میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ مرکزی شاہراہیں بند کر کے فوج، رینجرز اور بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعنیات کیے گئے ہیں۔\n\n* * *\n\n**ایرانی وفد اسلام آباد پہنچ گیا**\n\nپاکستانی دفتر خارجہ سے جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب جاری بیان کے مطابق ایران کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ہفتے کو امریکہ سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچا۔\n\nایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی اس وفد کا حصہ ہیں۔\n\nدفتر خارجہ کے مطابق ایرانی وفد کا استقبال نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کیا، جن کے ہمراہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ سید محسن نقوی سمیت دیگر نے کیا۔\n\nنائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ فریقین تعمیری انداز میں مذاکرات کریں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان تنازعے کے پائیدار اور دیرپا حل کے حصول کے لیے اپنی سہولت کاری جاری رکھے گا۔\n\nاسلام آباد پہنچنے پر ایرانی سرکاری ٹی وی کے ذریعے اپنا موقف بیان کرتے ہوئے محمد باقر قالیباف نے واضح کیا کہ ’ہمارے ارادے نیک ہیں لیکن ہم امریکہ پر اعتبار نہیں کرتے۔\n\n’امریکیوں کے ساتھ مذاکرات کا ہمارا گذشتہ تجربہ ہمیشہ ناکامی اور وعدہ خلافیوں پر ہی منتج ہوا۔‘\n\n* * *\n\n**امریکی نائب صدر اسلام آباد روانہ**\n\nامریکی وفد کی قیادت کرنے والے نائب صدر جے ڈی وینس جمعے کو واشنگٹن سے اسلام آباد روانگی کے وقت خاصے محتاط دکھائی دیے۔\n\nوفد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف شامل ہیں۔\n\nپاکستان روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس کا کہنا تھا ’اگر ایرانی قیادت نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آتی ہے تو ہم بھی یقینی طور پر کھلے دل کے ساتھ تعاون کا ہاتھ بڑھائیں گے۔‘\n\nتاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ’اگر انہوں نے ہمیں دھوکہ دینے کی کوشش کی تو انہیں اندازہ ہو جائے گا کہ ہماری مذاکراتی ٹیم اتنی لچک دکھانے والی نہیں۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nواضح رہے کہ ایران نے اسلام آباد مذاکرات کی پیش رفت کو لبنان میں جنگ بندی اور اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی سے مشروط کر رکھا ہے، تاہم تاحال ان میں سے کوئی بھی مطالبہ پورا نہیں ہو سکا۔\n\nاس کے برعکس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو ہفتے پر محیط اس جنگ بندی کی شرط کے طور پر آبنائے ہرمز کو کھولنے کا مطالبہ کیا تھا، جس کی بدولت درحقیقت یہ مذاکرات ممکن ہو سکے ہیں۔\n\nیہ اہم آبی گزرگاہ، جہاں سے دنیا کے خام تیل کا پانچواں حصہ گزرتا ہے، معمول کی ٹریفک کے لیے تاحال بحال نہیں ہو سکی۔\n\nاس حوالے سے صدر ٹرمپ نے جمعے کو اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ایران کے تعاون کے ’ساتھ یا اس کے بغیر‘ اسے جلد از جلد کھلوا لیں گے۔\n\nصدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ’اسلام آباد مذاکرات میں ان کی اولین ترجیح اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ایران کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ انہوں کوئی جوہری ہتھیار نہیں۔ یہی ہمارا 99 فیصد مقصد ہے۔‘\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nامریکہ\n\nایران\n\nاسلام آباد\n\nاسلام آباد مذاکرات\n\nعباس عراقچی\n\nجے ڈی وینس\n\nدفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم نے اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کے لیے دونوں فریقین کی سہولت کاری جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nہفتہ, اپریل 11, 2026 - 21:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">امریکی نائب صدر جے ڈی وینس (دائیں) 11 اپریل 2026 کو ایران سے مذاکرات کے سلسلے میں اسلام آباد میں نور خان فوجی ایئربیس پر آمد کے موقعے پر جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف (بائیں) اسلام آباد میں امریکی وفد سے مذاکرات سے قبل پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے موقعے پر (پاکستانی وزارت خارجہ/  وزیراعظم آفس)</p>\n\nپاکستان\n\njw id:\n\n7lTloVpN\n\ntype:\n\nvideo\n\nlabel:\n\nلائیو اپ ڈیٹس\n\nrelated nodes:\n\nاسلام آباد مذاکرات ناکام ہوئے تو ایران پر دوبارہ حملے ہوں گے: صدر ٹرمپ\n\nایران جنگ اور ٹرمپ کا مذہبی بیانیہ: ’خیر اور شر‘ کی کشمکش یا سیاسی ضرورت؟\n\nایرانی سپیکر کیسے سوشل میڈیا پر ٹرمپ کو ٹکر دے رہے ہیں؟\n\nایرانی وفد کی مذاکرات کے لیے اسلام آباد آمد، اعلی حکام نے استقبال کیا: دفتر خارجہ\n\nSEO Title:\n\nاسلام آباد: امریکی و ایرانی وفود کے روبرو مذاکرات، پاکستان ثالث\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "اسلام آباد: امریکی و ایرانی وفود کے روبرو مذاکرات، پاکستان ثالث"
}