{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiet7j3rw5du6awnt4wief2vvzih3gfcoixmszhciellq7kw4icx4e",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mj6h74tl5ct2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreigtxepo2mo3plyi55who7lh7sdpboch7vshni24pj5xaypgshar4q"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 60679
  },
  "path": "/node/185435",
  "publishedAt": "2026-04-10T06:52:55.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "جیفری ایپسٹین",
    "میلانیا ٹرمپ",
    "وائٹ ہاوس",
    "امریکہ",
    "صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
    "الیکس وڈورڈ",
    "news"
  ],
  "textContent": "**امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے ایک غیر معمولی خطاب میں جیفری ایپسٹین سے کسی بھی قسم کے تعلق یا ان کے جرائم کا علم ہونے کی تردید کی ہے۔**\n\nخاتون اول نے اپنے خلاف ’سیاسی مقاصد رکھنے والے افراد اور اداروں‘ کی جانب سے ’بے بنیاد اور من گھڑت‘ اور ’جھوٹے الزامات‘ کی مذمت کی جنہوں نے ’مالی فائدہ حاصل کرنے اور سیاسی طور پر آگے بڑھنے‘ کی کوشش کی ہے۔\n\nانہوں نے کہا کہ ایسے بیانات کا سلسلہ ’رکنا چاہیے۔‘\n\nیہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ کس چیز نے خاتون اول کو یہ غیر معمولی خطاب کرنے پر مجبور کیا، لیکن جمعرات کو ان کا پانچ منٹ کا عوامی بیان بدنام زمانہ جنسی مجرم اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت طاقتور اور بااثر شخصیات کے ساتھ ان کے تعلقات پر حکومتی اور حزب اختلاف کے ارکان کی بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد سامنے آیا ہے۔\n\nخاتون اول کا یہ بیان ایپسٹین اور ان کی ساتھی گلین میکسویل، جو سمگلنگ کے جرم میں 20 سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں، کے خلاف وفاقی تحقیقات سے جڑی لاکھوں دستاویزات کے منظر عام پر آنے کے بعد بھی سامنے آیا ہے، جب کہ محکمہ انصاف اور ٹرمپ انتظامیہ کے اہلکاروں کو اس تحقیقات سے نمٹنے کے حکومتی طریقہ کار پر کانگریس ارکان کی جانب سے متوازی تحقیقات کا سامنا ہے۔\n\nگذشتہ نومبر میں کانگریس سے منظور ہونے اور ٹرمپ کے دستخط سے قانون کا درجہ پانے والی قانون سازی کے تحت، محکمہ انصاف کو 19 دسمبر تک ایپسٹین کی تحقیقات سے جڑی تمام فائلیں عام کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔\n\nقانون نافذ کرنے والے وفاقی اداروں کی تحویل میں موجود تمام مواد کو مکمل طور پر منظر عام پر لانے کی مقررہ تاریخیں گزر جانے کے باوجود، محکمہ انصاف اس کے بعد سے ایپسٹین سے منسلک لاکھوں دستاویزات اور تصاویر شائع کر چکا ہے، جس نے صدر اور ان کے اتحادیوں کے لیے سیاسی بوجھ کی شکل اختیار کر لی ہے۔\n\nخاتون اول نے جمعرات کو کہا کہ وہ کبھی ایپسٹین کی متاثرہ نہیں رہیں۔ انہوں نے نوجوان خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ ان کی زیادتیوں کے بارے میں کسی بھی قسم کے علم کی تردید کی۔\n\nانہوں نے کہا کہ ’میرا کبھی ایپسٹین یا ان کی ساتھی میکسویل کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رہا۔‘\n\nان کا کہنا تھا کہ ’میں کبھی ایپسٹین کی دوست نہیں رہی۔ ڈونلڈ اور مجھے وقتاً فوقتاً انہی پارٹیوں میں مدعو کیا جاتا تھا جن میں ایپسٹین ہوتے تھے کیوں کہ نیویارک سٹی اور پام بیچ میں سماجی حلقوں کا آپس میں ملنا جلنا ایک عام بات ہے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا: ’میں ایپسٹین کے کسی بھی جرم کے حوالے سے کوئی گواہ یا نامزد گواہ نہیں ہوں۔ ایپسٹین کے معاملے سے متعلق عدالتی دستاویزات، حلفیہ بیانات، متاثرین کے بیانات یا ایف بی آئی کے انٹرویوز میں میرا نام کبھی نہیں آیا۔‘\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جیفری ایپسٹین کی ایک تصویر، امریکی اٹارنی جنرل پام بونڈی کی جانب سے 11 فروری 2026 کو واشنگٹن ڈی سی میں کیپیٹل ہل پر محکمۂ انصاف کی نگرانی سے متعلق ہاؤس جوڈیشری کمیٹی کی سماعت کے دوران پیش کی گئی (روبرٹو شمڈٹ / اے ایف پی)\n\n\n\n\nخاتون اول نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا، ’مجھے ایپسٹین کی جانب سے ان متاثرین کے ساتھ زیادتی کا کبھی کوئی علم نہیں رہا۔ میں کبھی کسی بھی حیثیت میں ملوث نہیں رہی۔ میں کسی بھی چیز کا حصہ نہیں تھی، کبھی ایپسٹین کے طیارے میں سوار نہیں ہوئی، اور کبھی ان کے نجی جزیرے پر نہیں گئی،‘\n\nخاتون اول کا کہنا تھا کہ کہ ایپسٹین نے انہیں ان کے شوہر سے نہیں ملوایا تھا۔ ان کے بقول اس ملاقات کا ذکر ان کی کتاب میں بھی ہے، جو 1998 میں کٹ کیٹ کلب میں اس وقت ہوئی تھی جب وہ ایک ماڈل تھیں اور انہیں پاؤلو زامپولی نے دریافت کیا تھا، جنہوں نے بعد میں انہیں ٹرمپ سے ملوایا۔\n\nنیویارک کے ماڈلنگ کے حلقوں سے زمپولی کے روابط نے انہیں ایپسٹین کے قریبی تعلق میں رکھا تھا، اور محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات کے بڑے ذخیرے میں زمپولی کا نام کئی بار آیا ہے۔\n\nمیلانیا ٹرمپ نے کہا کہ ان پر ’ایپسٹین کی جانب سے جنسی سمگلنگ، نابالغوں کے ساتھ تعلقات اور دیگر گھناؤنے رویوں کے سلسلے میں کبھی قانونی طور پر کسی جرم کا الزام نہیں لگایا گیا اور نہ ہی انہیں مجرم ٹھہرایا گیا ہے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nلیکن انہوں نے اپنے خلاف ’جھوٹے الزامات‘ کا ذمہ دار ’بدطینت اور سیاسی مقاصد رکھنے والے ان افراد اور اداروں کو قرار دیا جو مالی فائدہ حاصل کرنے اور سیاسی طور پر آگے بڑھنے کے لیے میری نیک نامی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، (اور کہا کہ) یہ سلسلہ رکنا چاہیے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا، ’میرے وکلا اور میں نے ان بے بنیاد اور من گھڑت جھوٹوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے اور ہم بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنی اچھی شہرت کو برقرار رکھیں گے۔‘\n\nانہوں نے خاص طور پر دی ڈیلی بیسٹ، سیاسی حکمت عملی ساز اور مبصر جیمز کارویل اور پبلشر ہارپر کولنز یو کے کا نام لیا، جن سے وہ پہلے ہی الفاظ کی واپسی اور معافی نامے وصول کر چکی ہیں۔\n\nنام نہاد ایپسٹین فائلوں میں صدر کا نام ہزاروں بار آیا ہے۔ صدر کا 1990 اور 2000 کی دہائیوں کے دوران ایپسٹین کے ساتھ سماجی میل جول رہا، اور ایپسٹین نے ایک بار خود کو صدر کا ’قریب ترین دوست‘ قرار دیا تھا۔ فائلوں میں نام آنا کسی غلط کام کا ثبوت نہیں ہے۔\n\nدستاویزات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ خاتون اول نے 2002 میں میکسویل کو ایک ای میل بھیجی تھی جس کے آخر میں ’محبت، میلانیا‘ (Love, Melania) لکھا تھا۔\n\nخاتون اول کے مطابق، ان کے پیغام کو ’ایک عام خط و کتابت سے زیادہ کچھ قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘\n\nانہوں نے کہا، ’مجھے شرمناک جیفری ایپسٹین کے ساتھ جوڑنے والے جھوٹ آج ختم ہونے چاہییں۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ ’اب کانگریس کے عمل کرنے کا وقت ہے۔ ایپسٹین اکیلا نہیں تھے۔ میں کانگریس سے مطالبہ کرتی ہوں کہ وہ ایپسٹین کا شکار ہونے والی خواتین کو عوامی سطح پر سماعت کا موقع فراہم کرے۔ ہر خاتون کو موقع ملنا چاہیے کہ اگر وہ چاہے تو سرعام اپنی کہانی بیان کر سکے، اور پھر اس کی گواہی کو مستقل طور پر کانگریس کے ریکارڈ میں شامل کیا جائے۔‘\n\nایپسٹین کیسز سے نمٹنے کے حکومتی طریقہ کار کی تحقیقات کرنے والی ہاؤس اوور سائیٹ کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ نمائندے رابرٹ گارسیا نے رپبلکن چیئرمین جیمز کامر پر زور دیا کہ وہ ’فوری طور پر عوامی سماعت کا شیڈول طے کریں۔‘\n\nکمیٹی کی ایک اور رکن، رپبلکن نمائندہ نینسی میس نے مزید کہا کہ ’اب کانگریس کے عمل کرنے کا وقت ہے۔‘\n\nان کا کہنا تھا کہ ’ایپسٹین اکیلا نہیں تھے۔ اس معاملے پر بڑے پیمانے پر سیاست ہونے کے بعد کئی نامور مرد ایگزیکٹیوز نے اپنے طاقتور عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ یقیناً، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کا جرم ثابت ہو گیا، لیکن ہمیں پھر بھی سچائی کو سامنے لانے کے لیے کھلے عام اور شفافیت کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔‘\n\nلیکن خاتون اول کے بیان نے بظاہر متاثرین کو حیرت میں ڈال دیا۔ متاثرین اور ان کے حامیوں کو علم نہیں تھا کہ انہوں نے ان سے خطاب کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔\n\nماریا اور اینی فارمر نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم دیگر متاثرین کی طرف سے بات نہیں کر سکتیں، لیکن ہم جو چاہتے ہیں وہ احتساب، شفافیت اور انصاف ہے۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ ’اگر وفاقی حکومت واقعی متاثرین کی حمایت کے لیے پرعزم ہے، تو وہ ہم سے پوچھے گی کہ ہم کیا چاہتے ہیں اور اسے حقائق کی پیروی کرنی چاہیے چاہے وہ جہاں بھی لے جائیں۔‘\n\nصدر نے بارہا کسی بھی غلط کام کی تردید کی ہے اور اس بات پر اصرار کیا ہے کہ انہوں نے بچوں سے جنسی زیادتی کے مرتکب اس امیر مجرم کے خلاف تحقیقات شروع ہونے سے برسوں پہلے اس سے تعلقات توڑ لیے تھے۔ ایپسٹین نے جنسی سمگلنگ کے الزامات میں مقدمے کی سماعت کے انتظار کے دوران نیویارک شہر کی ایک جیل کی کوٹھری میں خودکشی کر لی تھی۔\n\nٹرمپ نے مکمل فائلیں جاری کرانے کی کوششوں کو ڈیموکریٹک حکام کی جانب سے اپنے ایجنڈے سے توجہ ہٹانے کے لیے رچایا گیا ایک ’ڈھونگ‘ قرار دیا ہے، اور ٹرمپ نے ایپسٹین کے نام ایک مبینہ خط کی اشاعت پر دی وال سٹریٹ جرنل کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے، جس خبر کو انہوں نے ’جھوٹی، بدنیتی پر مبنی اور ہتک آمیز‘ قرار دیا تھا۔\n\nنہ تو ٹرمپ اور نہ ہی خاتون اول پر کسی مجرمانہ غلط کام کا الزام لگایا گیا ہے، اور ایپسٹین فائلوں میں کسی کا نام آنا اس کے مجرم ہونے کی نشاندہی نہیں کرتا۔\n\nخاتون اول کا یہ بیان سابق اٹارنی جنرل پام بونڈی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی سامنے آیا ہے، جنہیں وفاقی حکومت کی جانب سے ایپسٹین فائلوں کو سنبھالنے کے طریقہ کار اور ان کے شریک ملزموں کے خلاف مقدمات نہ چلانے کے دفاع میں ان کی جارحانہ گواہی کے چند ہفتوں بعد صدر نے برطرف کر دیا تھا۔\n\nگذشتہ سال وائٹ ہاؤس میں انتہائی دائیں بازو کے انفلوئنسرز کو دی جانے والی ایپسٹین دستاویزات کی ایک طویل عرصے سے منتظر اشاعت میں زیادہ تر عوامی سطح پر دستیاب معلومات ہی شامل تھیں، اور گرمیوں تک، محکمہ انصاف اور ایف بی آئی نے اعلان کر دیا کہ ایپسٹین سے متعلق مزید دستاویزات جاری کرنے کا ’کوئی جواز‘ نہیں ہے، جس سے حکومت کی جانب سے ان طاقتور عوامی شخصیات کو بچانے کے لیے وسیع پیمانے پر پردہ پوشی کے الزامات نے جنم لیا جنہوں نے کم سن لڑکیوں کا استحصال کیا اور ان کے ساتھ زیادتی کی تھی۔\n\nبدھ کو محکمہ انصاف، جو اب قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ کی سربراہی میں کام کر رہا ہے، نے کہا کہ چوں کہ بونڈی اب انتظامیہ کے لیے کام نہیں کر رہیں، اس لیے وہ ہاؤس اوور سائیٹ کمیٹی کے سامنے ایپسٹین کے حوالے سے اپنی گواہی کے سمن کی تعمیل نہیں کریں گی۔\n\nجیفری ایپسٹین\n\nمیلانیا ٹرمپ\n\nوائٹ ہاوس\n\nامریکہ\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nامریکی خاتون اول نے کہا کہ ’میرے وکلا اور میں نے ان بے بنیاد اور من گھڑت جھوٹوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے اور ہم بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنی اچھی شہرت کو برقرار رکھیں گے۔‘\n\nالیکس وڈورڈ\n\nجمعہ, اپریل 10, 2026 - 12:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ نو اپریل 2026 کو وائٹ ہاؤس سے بیان جاری کر رہی ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nامریکہ\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nانڈیا سمٹ: ایپسٹین کے معاملے پر تنقید پر بل گیٹس کا خطاب سے انکار\n\nایپسٹین کی شلوار قمیض میں دلچسپی: دستاویزات میں پاکستان کا ذکر کتنا؟\n\nایپسٹین قبر میں سے بھی ٹرمپ کو برباد کر سکتے ہیں\n\nجیفری ایپسٹین کا ایک جزیرہ جو جنسی سمگلنگ کا مرکز تھا؟\n\nSEO Title:\n\nمجھ پر ایپسٹین سے تعلق کا الزام ’سیاسی اور من گھڑت‘: میلانیا ٹرمپ\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/news/world/americas/us-politics/melania-trump-epstein-denial-comments-b2954813.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "مجھ پر ایپسٹین سے تعلق کا الزام ’سیاسی اور من گھڑت‘: میلانیا ٹرمپ"
}