{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiftzavhtd4xwwfjo46nuz2oyytsobylwcbwualxnrbguykpdsfina",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mj6h6fzmngd2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreidyhww5777hy7pcrwoosj4ebsbn2fl2lmbpylj2ywej2jcipnbmt4"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 67329
  },
  "path": "/node/185440",
  "publishedAt": "2026-04-10T15:45:32.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "April 10, 2026",
    "View this post on Instagram",
    "A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)",
    "اسلام آباد",
    "امریکہ",
    "ایران",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "دنیا",
    "video",
    "@mb_ghalibaf"
  ],
  "textContent": "**پاکستانی دفتر خارجہ سے جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب جاری بیان کے مطابق ایران کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد، ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں آج مذاکرات میں شرکت کے لیے اسلام آباد پہنچا۔**\n\nان کے ہمراہ آنے والے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی اس وفد کا حصہ ہیں۔\n\nدفتر خارجہ کے مطابق ایرانی وفد کا استقبال نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کیا، جن کے ہمراہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، اور وزیر داخلہ سید محسن نقوی بھی موجود تھے۔\n\nنائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ فریقین تعمیری انداز میں مذاکرات کریں گے، اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان تنازع کے پائیدار اور دیرپا حل کے حصول کے لیے اپنی سہولت کاری جاری رکھے گا۔\n\nاس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز نے رپورٹ کیا کہ ایران کا وفد امریکہ کے ساتھ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے لیے جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب پاکستان پہنچ گیا۔\n\nروئٹرز نے ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بتایا ہے کہ ایرانی وفد میں پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی، دفاعی کونسل کے سیکرٹری، مرکزی بینک کے گورنر اور ارکان پارلیمنٹ شامل ہیں۔\n\nایرانی میڈیا کے مطابق مذاکرات تب شروع ہوں گے جب امریکہ ایرانی کی ’پیشگی شرائط‘ کو تسلیم کر لے گا۔\n\nایرانی میڈیا ادارے تسنیم نے بھی اس خبر کی تصدیق کی ہے۔ تسنیم نیوز کے مطابق اسلام آباد آنے والے اس وفد میں ایرانی نائب وزیر خارجہ ماجد تخت روانچی اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محمد باقر ذوالقدر بھی شامل ہیں۔\n\nاس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس جمعے کو ایران کے ساتھ مذاکرات کی قیادت کے لیے ریاست میری لینڈ میں واقع بیس اینڈریوز سے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے لیے روانہ ہوئے۔\n\nیہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں، جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملوں اور تہران کی جوابی کارروائیوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر پہنچ گئی۔\n\nیہ سلسلہ پاکستان کی کوششوں سے آٹھ اپریل کو ایک عارضی جنگ بندی سے تھما اور وزیراعظم شہباز شریف نے دونوں ممالک کو براہ راست مذاکرات کے لیے 10 اپریل کو اسلام آباد مدعو کیا۔\n\nجے ڈی وینس کے ساتھ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی امریکی وفد میں شامل ہیں، جنہوں نے ایران کے مذاکرات کاروں کے ساتھ بالواسطہ بات چیت کے تین ادوار میں حصہ لیا تھا۔\n\nان مذاکرات کا مقصد تہران کے جوہری اور بیلسٹک ہتھیاروں کے پروگرام اور مشرقِ وسطیٰ میں مسلح گروہوں کی حمایت سے متعلق امریکی خدشات کو دور کرنا تھا۔\n\nائیر فورس ٹو پر پاکستان کے لیے روانہ ہونے سے پہلے میری لینڈ کے ایئر بیس پر صحافیوں سے مختصر گفتگو میں جے ڈی وینس نے کہا کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گائیڈ لائن کے تحت مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں۔\n\nانہوں نے توقع ظاہر کی کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات ’مثبت‘ رہیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے تہران کو خبردار کیا کہ وہ امریکہ کے ساتھ ’کھیل نہ کھیلے۔‘\n\nایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق جے ڈی وینس نے صدر ٹرمپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’اگر ایرانی نیک نیتی سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں تو ہم بھی کھلے دل سے آگے بڑھنے کے لیے تیار ہیں۔‘\n\nتاہم انہوں نے خبردار کیا: ’اگر وہ ہمارے ساتھ کھیلنے کی کوشش کریں گے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ مذاکراتی ٹیم اس پر زیادہ آمادہ نہیں ہوگی۔‘\n\nامریکی نائب صدر جے ڈی وینس 10 اپریل 2026 کو جوائنٹ بیس اینڈریوز، میری لینڈ سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوتے ہوئے، جہاں وہ ایران سے مزاکرات میں حصہ لیں گے (اے ایف پی)\n\n\n\n\nوینس نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے ’کافی واضح رہنما اصول‘ دیے ہیں، تاہم انہوں نے اس کی تفصیل نہیں بتائی۔\n\nامریکی نائب صدر نے اپنے ہمراہ سفر کرنے والے صحافیوں کے سوالات کے جواب بھی نہیں دیے۔\n\nوائٹ ہاؤس نے مذاکرات کے طریقہ کار کے بارے میں بہت کم تفصیلات فراہم کی ہیں کہ آیا یہ براہِ راست ہوں گے یا بالواسطہ اور نہ ہی اجلاس سے متعلق واضح توقعات بیان کی ہیں۔\n\nتاہم، مذاکرات کے لیے وینس کی آمد امریکی حکومت اور ایرانی حکومت کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطے کا ایک نادر موقع ہے۔\n\nاس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کسی معاہدے تک نہ پہنچے تو ایران پر دوبارہ حملوں کے لیے امریکی جنگی جہازوں کو جدید ہتھیاروں سے دوبارہ مسلح کیا جا رہا ہے۔\n\nنیویارک پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم ایک ری سیٹ کر رہے ہیں، ہم جہازوں کو دنیا کے بہترین اسلحے سے لیس کر رہے ہیں حتیٰ کہ پہلے سے بھی بہتر اور ہم نے پہلے بھی انہیں تباہ کر دیا ہے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ ’اگر (اسلام آباد میں) معاہدہ نہ ہوا تو ہم ان ہتھیاروں کا استعمال کریں گے اور بہت مؤثر طریقے سے کریں گے۔‘\n\nاس سے قبل اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر ایک مختصر پیغام میں ٹرمپ نے ’دنیا کے سب سے طاقتور ری سیٹ‘ کا ذکر کیا تھا۔\n\n\n\n\nٹروتھ سوشل پر ایک الگ پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے کہا: ’ایرانیوں کو شاید یہ احساس نہیں کہ ان کے پاس کوئی خاص پتے نہیں ہیں، سوائے اس کے کہ وہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کو استعمال کر کے دنیا کو عارضی طور پر دباؤ میں لانے کی کوشش کریں۔ آج وہ صرف اسی لیے زندہ ہیں کہ مذاکرات کریں۔‘\n\nاگرچہ ایرانی مذاکرات کاروں کی پاکستان آمد سے متعلق تاحال سرکاری طور پر کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم ایران نے مذاکرات سے پہلے منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ بندی کی شرط سامنے رکھی ہے۔\n\n> Two of the measures mutually agreed upon between the parties have yet to be implemented: a ceasefire in Lebanon and the release of Iran’s blocked assets prior to the commencement of negotiations.\n>\n>  These two matters must be fulfilled before negotiations begin.\n\n> — محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) April 10, 2026\n\nایران کے پارلیمنٹ سپیکر محمد باقر قالیباف نے جمعے کو ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’دو معاملات جن پر دونوں فریقین نے باہمی اتفاق کیا تھا، ابھی تک نافذ نہیں کیے گئے: لبنان میں جنگ بندی اور مذاکرات شروع ہونے سے قبل ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی۔‘\n\nبقول قالیباف: ’یہ دونوں امور مذاکرات کے آغاز سے پہلے پورے کیے جانے ضروری ہیں۔‘\n\nوائٹ ہاؤس کی جانب سے فوری طور پر اس حوالے سے کوئی ردعمل نہیں آیا۔\n\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\nاس سے قبل جمعے کی صبح تک ان مذاکرات کے آغاز کے حوالے سے غیر یقینی کی فضا چھائی رہی، کیونکہ مذاکرات کاروں کی آمد سے متعلق تاحال کوئی اعلان نہیں کیا گیا تھا اور دونوں جانب سے ایک دوسرے پر نازک جنگ بندی پر درست طریقے سے عمل نہ کرنے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی صورت حال پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے، جسے معاہدے کے تحت دوبارہ کھولا جانا تھا، جبکہ تہران نے لبنان میں اسرائیلی حملوں پر شدید ردعمل دیا ہے اور اصرار کیا ہے کہ یہ بھی معاہدے کے دائرہ کار میں آتا ہے، جسے واشنگٹن مسترد کرتا ہے۔\n\nاس کے باوجود اسلام آباد ان اہم مذاکرات کی تیاریوں میں مصروف ہے، جن میں سرکاری ذرائع کے مطابق کئی حساس نکات زیرِ بحث آئیں گے، جن میں ایران کی جوہری افزودگی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارت کی آزادانہ آمدورفت شامل ہے۔\n\nایران نے عندیہ دیا ہے کہ اس کی شرکت اسرائیلی حملوں کے خاتمے سے مشروط ہو سکتی ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا: ’جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا انعقاد اس بات پر منحصر ہے کہ امریکہ تمام محاذوں پر، خاص طور پر لبنان میں، اپنی جنگ بندی کی ذمہ داریوں پر عمل کرے۔‘\n\n10 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں امریکہ–ایران مذاکرات کے سلسلے میں سکیورٹی اہلکار ایک سڑک پر تعینات ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\nایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں نے پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کو ’بے معنی‘ بنا دیا ہے۔\n\nتاہم ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اشارہ دیا کہ وہ جنگ بندی کی پابندی کر رہے ہیں اور انہوں نے ’کسی بھی ملک کی طرف کچھ بھی لانچ نہیں کیا۔‘\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنی متعدد پوسٹس میں جمعرات کو ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کی اجازت دینے میں ’انتہائی ناقص کام‘ کر رہا ہے اور جنگ بندی معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ ان بیانات نے نازک جنگ بندی کے بارے میں نئے خدشات کو جنم دیا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nدنیا کے تیل کا پانچواں حصہ اور قدرتی گیس اور کھاد کی بڑی مقدار اس آبنائے سے گزرتی ہے، تاہم جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے صرف چند جہاز ہی اس سے گزرے ہیں۔\n\nدو ہفتوں کی جنگ بندی اس لیے طے کی گئی تھی تاکہ امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان مذاکرات کا موقع مل سکے، جن کا مقصد اس تنازعے کا خاتمہ ہے، جس میں پہلے ہی ہزاروں اموات ہو چکی ہیں اور جس نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔\n\nمذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی میں اضافے کے طور پر پاکستان میں ایران کے سفیر امیر رضا مقدم نے جمعرات کو ایکس پر کی گئی اپنی وہ پوسٹ ڈیلیٹ کر دی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ ایرانی وفد اسی دن پاکستان پہنچے گا۔\n\nدوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ہفتے کو امریکی وفد کی قیادت کرنے والے ہیں، ان کے ساتھ خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی ہوں گے۔\n\nثالثی کے عمل میں نئی دراڑیں اس وقت سامنے آئیں جب پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی لبنان پر اسرائیلی حملوں پر تنقید کرتے ہوئے جمعرات کی شام ایک پوسٹ میں اسرائیل کو ’کینسر زدہ ریاست‘ اور ’انسانیت کے لیے لعنت‘ قرار دیا، جسے چند گھنٹوں بعد ہٹا دیا گیا۔\n\nاسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے ان بیانات کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا: ’یہ ایسا بیان نہیں جسے کسی بھی حکومت کی جانب سے برداشت کیا جا سکے، خاص طور پر اس حکومت کی جانب سے نہیں جو خود کو امن کے لیے غیر جانبدار ثالث قرار دیتی ہے۔‘\n\nپاکستان باضابطہ طور پر اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا، جو اس کے ثالثی کردار کو پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ اسلام آباد نے اصرار کیا ہے کہ جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے۔\n\nاسلام آباد\n\nامریکہ\n\nایران\n\nایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی وفد میں پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی، دفاعی کونسل کے سیکرٹری، مرکزی بینک کے گورنر اور ارکان پارلیمنٹ شامل ہیں۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nہفتہ, اپریل 11, 2026 - 01:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">روئٹرز نے ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بتایا ہے کہ ایرانی وفد میں پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی، دفاعی کونسل کے سیکرٹری، مرکزی بینک کے گورنر اور ارکان پارلیمنٹ شامل ہیں(روئٹرز)</p>\n\nدنیا\n\njw id:\n\nlkKRpEwh\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nایران امریکہ مذاکرات: اسلام آباد میں سکیورٹی سخت، ریڈ زون غیر متعلقہ افراد کے لیے بند\n\nاسلام آباد مذاکرات، اسرائیل سپوائلر کا کردار ادا کرسکتا ہے: اعزاز چوہدری\n\nامریکی نائب صدر، سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر مذاکرات کے لیے اسلام آباد آئیں گے: وائٹ ہاؤس\n\nایران، امریکہ مذاکرات سے قبل سکیورٹی ہائی الرٹ، اسلام آباد میں دو روزہ تعطیل\n\nSEO Title:\n\nایرانی وفد کی مذاکرات کے لیے اسلام آباد آمد، اعلی حکام نے استقبال کیا: دفتر خارجہ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "ایرانی وفد کی مذاکرات کے لیے اسلام آباد آمد، اعلی حکام نے استقبال کیا: دفتر خارجہ"
}