{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiepqb2fzf4wjznxlhb42gbptlt2tmpzax6zq65xceektoeawazity",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mj6h6azj73k2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreigqlb7rah5m5fe5oxnkvnojhyjeu2kdvkdcecuzufgm2jbov7mzq4"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 67761
  },
  "path": "/node/185433",
  "publishedAt": "2026-04-10T16:30:10.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "April 10, 2026",
    "View this post on Instagram",
    "A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)",
    "pic.twitter.com/mvWJyv2P4s",
    "ایران",
    "اسرائیل",
    "اسلام آباد",
    "اسلام آباد مذاکرات",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "دنیا",
    "news",
    "لائیو اپ ڈیٹس",
    "@mb_ghalibaf",
    "@MIshaqDar50"
  ],
  "textContent": "**امریکہ اور ایران کا دو ہفتے کے لیے جنگ بندی کا اعلان۔** **اسرائیل کا لبنان میں جنگ بندی سے انکار، 10 منٹ میں 100 سے زائد حملے۔** **ایرانی وفد امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا: روئٹرز۔** **لائیو اپ ڈیٹس**\n---\n\n* * *\n\n**ایرانی وفد امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا: روئٹرز**\n\nخبر رساں ادارے روئٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کا وفد امریکہ کے ساتھ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے لیے جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب پاکستان پہنچ گیا۔\n\nروئٹرز نے ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بتایا ہے کہ ایرانی وفد میں پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی، دفاعی کونسل کے سیکرٹری، مرکزی بینک کے گورنر اور ارکان پارلیمنٹ شامل ہیں۔\n\nایرانی میڈیا ادارے تسنیم نے بھی اس خبر کی تصدیق کی ہے۔\n\nایرانی میڈیا کے مطابق مذاکرات تب شروع ہوں گے جب امریکہ ایرانی کی ’پیشگی شرائط‘ کو تسلیم کر لے گا۔\n\n* * *\n\n**شہباز شریف اور کیئر سٹارمر کا جنگ بندی برقرار رکھنے پر زور**\n\nبرطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹارمر نے جمعے کی شب وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلی فون پر گفتگو کی جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے میں جنگ بندی کو برقرار رکھنے پر زور دیا تاکہ خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو سکے۔\n\nوزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم سٹارمر نے اسلام آباد میں امن مذاکرات کی میزبانی پر شہباز شریف کو مبارکباد دی اور اس عمل کی کامیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔\n\nانہوں نے امریکہ ایران جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی میں پاکستان کی مؤثر سفارتی کوششوں کو سراہا ہے۔\n\n\n\n\nپاکستانی وزیراعظم نے اس موقع پر خطے میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان کے مخلصانہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اہم یورپی اور عالمی رہنماؤں، بشمول وزیراعظم سٹارمر، کے مشترکہ اعلامیے کا خیرمقدم کیا جس میں پاکستان کی امن کوششوں کی حمایت کی گئی۔\n\nدونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں پاکستان اور برطانیہ کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کرنے پر بھی اتفاق کیا۔\n\n* * *\n\n**اسلام آباد مذاکرات ناکام ہوئے تو ایران پر دوبارہ حملے ہوں گے: صدر ٹرمپ**\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کسی معاہدے تک نہ پہنچے تو ایران پر دوبارہ حملوں کے لیے امریکی جنگی جہازوں کو جدید ہتھیاروں سے دوبارہ مسلح کیا جا رہا ہے۔\n\nنیویارک پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم ایک ری سیٹ کر رہے ہیں، ہم جہازوں کو دنیا کے بہترین اسلحے سے لیس کر رہے ہیں حتیٰ کہ پہلے سے بھی بہتر اور ہم نے پہلے بھی انہیں تباہ کر دیا ہے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ ’اگر (اسلام آباد میں) معاہدہ نہ ہوا تو ہم ان ہتھیاروں کا استعمال کریں گے اور بہت مؤثر طریقے سے کریں گے۔‘\n\n\n\n\nاس سے قبل اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر ایک مختصر پیغام میں ٹرمپ نے ’دنیا کے سب سے طاقتور ری سیٹ‘ کا ذکر کیا تھا۔\n\nٹروتھ سوشل پر ایک الگ پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے کہا: ’ایرانیوں کو شاید یہ احساس نہیں کہ ان کے پاس کوئی خاص پتے نہیں ہیں، سوائے اس کے کہ وہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کو استعمال کر کے دنیا کو عارضی طور پر دباؤ میں لانے کی کوشش کریں۔ آج وہ صرف اسی لیے زندہ ہیں کہ مذاکرات کریں۔‘\n\n* * *\n\n**ایران کا مذاکرات سے پہلے منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ بندی کی شرط**\n\nایران نے مذاکرات سے پہلے منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ بندی کی شرط سامنے رکھی ہے۔\n\n> Two of the measures mutually agreed upon between the parties have yet to be implemented: a ceasefire in Lebanon and the release of Iran’s blocked assets prior to the commencement of negotiations.\n>\n>  These two matters must be fulfilled before negotiations begin.\n\n> — محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) April 10, 2026\n\nایران کے پارلیمنٹ سپیکر محمد باقر قالیباف نے جمعے کو ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’دو معاملات جن پر دونوں فریقین نے باہمی اتفاق کیا تھا، ابھی تک نافذ نہیں کیے گئے: لبنان میں جنگ بندی اور مذاکرات شروع ہونے سے قبل ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی۔‘\n\nبقول قالیباف: ’یہ دونوں امور مذاکرات کے آغاز سے پہلے پورے کیے جانے ضروری ہیں۔‘\n\nوائٹ ہاؤس کی جانب سے فوری طور پر اس حوالے سے کوئی ردعمل نہیں آیا۔\n\n* * *\n\n**امریکی نائب صدر ایران سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد روانہ، ’مثبت‘ نتائج کے لیے پر امید**\n\nامریکی نائب صدر جے ڈی وینس جمعے کو ایران کے ساتھ مذاکرات کی قیادت کے لیے ریاست میری لینڈ میں واقع بیس اینڈریوز سے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔\n\nیہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں، جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملوں اور تہران کی جوابی کارروائیوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر پہنچ گئی۔ یہ سلسلہ پاکستان کی کوششوں سے آٹھ اپریل کو ایک عارضی جنگ بندی سے تھما اور وزیراعظم شہباز شریف نے دونوں ممالک کو براہ راست مذاکرات کے لیے 10 اپریل کو اسلام آباد مدعو کیا۔\n\nجے ڈی وینس کے ساتھ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی امریکی وفد میں شامل ہیں، جنہوں نے ایران کے مذاکرات کاروں کے ساتھ بالواسطہ بات چیت کے تین ادوار میں حصہ لیا تھا۔\n\nان مذاکرات کا مقصد تہران کے جوہری اور بیلسٹک ہتھیاروں کے پروگرام اور مشرقِ وسطیٰ میں مسلح گروہوں کی حمایت سے متعلق امریکی خدشات کو دور کرنا تھا۔\n\nائیر فورس ٹو پر پاکستان کے لیے روانہ ہونے سے پہلے میری لینڈ کے ایئر بیس پر صحافیوں سے مختصر گفتگو میں جے ڈی وینس نے کہا کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گائیڈ لائن کے تحت مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں۔\n\nانہوں نے توقع ظاہر کی کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات ’مثبت‘ رہیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے تہران کو خبردار کیا کہ وہ امریکہ کے ساتھ ’کھیل نہ کھیلے۔‘\n\nایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق جے ڈی وینس نے صدر ٹرمپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’اگر ایرانی نیک نیتی سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں تو ہم بھی کھلے دل سے آگے بڑھنے کے لیے تیار ہیں۔‘\n\nتاہم انہوں نے خبردار کیا: ’اگر وہ ہمارے ساتھ کھیلنے کی کوشش کریں گے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ مذاکراتی ٹیم اس پر زیادہ آمادہ نہیں ہوگی۔‘\n\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\n* * *\n\n**پاکستان اور نیدرلینڈز کا لبنان میں جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار**\n\nنیدرلینڈز کے وزیر خارجہ ٹام بیرینڈسن اور جمعے کو وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلی فون پر بات چیت میں لبنان میں جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔\n\nپاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ڈچ وزیرِ خارجہ نے اس موقع پر جنگ بندی میں معاونت پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور دیرپا امن کے لیے سفارتی کوششوں کے تسلسل کی حمایت کا اظہار کیا۔\n\n\n\n\nدونوں جانب سے لبنان میں جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور پائیدار امن کے لیے جنگ بندی پر مکمل عملدرآمد کی اہمیت پر زور دیا گیا۔\n\nپاکستان اور نیدرلینڈز کے مضبوط تعلقات کی توثیق کرتے ہوئے دونوں فریقوں نے تجارت، معیشت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔\n\n* * *\n\n**یوکرینی افواج نے ایران جنگ کے دوران مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں شاہد ڈرونز کو مار گرایا: زیلینسکی**\n\nیوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی نے کہا ہے کہ یوکرینی فوجی اہلکاروں نے ایران کی جنگ کے دوران مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک میں ایرانی ساختہ شاہد ڈرونز کو مار گرایا۔\n\nخبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یوکرین نے ان کارروائیوں کو ایک وسیع تر کوشش کا حصہ قرار دیا، جس کا مقصد شراکت داروں کو انہی ہتھیاروں کا مقابلہ کرنے میں مدد دینا ہے، جو روس یوکرین میں استعمال کر رہا ہے۔\n\nزیلنسکی نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو میں پہلی بار ان کارروائیوں کا عوامی طور پر اعتراف کیا، تاہم ان کے بیانات کو جمعے تک جاری نہ کرنے کی پابندی تھی۔\n\nانہوں نے کہا کہ یوکرینی افواج نے بیرونِ ملک فعال کارروائیوں میں حصہ لیا، جہاں مقامی طور پر تیار کردہ انٹرسیپٹر ڈرونز استعمال کیے گئے، جو روس کی جانب سے یوکرین میں استعمال ہونے والے ایرانی ساختہ شاہد ڈرونز کے خلاف مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔\n\nانہوں نے کہا: ’یہ کسی تربیتی مشن یا مشقوں کے بارے میں نہیں تھا بلکہ ایک ایسے جدید فضائی دفاعی نظام کی تشکیل میں مدد کے بارے میں تھا جو واقعی کام کر سکے۔‘\n\nیوکرین نے مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی عارضی جنگ بندی طے پانے سے قبل دفاعی کارروائیوں میں حصہ لیا تھا۔\n\nوولودی میر زیلنسکی نے شامل ممالک کی نشاندہی نہیں کی، تاہم کہا کہ یوکرینی اہلکار کئی ممالک میں سرگرم رہے اور ان کے فضائی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے میں مدد دی۔ انہوں نے اس سے قبل بتایا تھا کہ 228 یوکرینی ماہرین کو اس خطے میں تعینات کیا گیا تھا۔\n\nانہوں نے کہا کہ اس کے بدلے میں یوکرین کو اپنے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے ہتھیار، تیل، ڈیزل اور بعض صورتوں میں مالی معاہدے حاصل ہو رہے ہیں۔\n\nیوکرینی صدر نے مزید کہا کہ یہ معاہدے یوکرین کے توانائی کے استحکام کو مضبوط بنائیں گے اور ان شراکت داریوں کو ایسی چیز قرار دیا، جسے ’مارکیٹ کیا جائے گا‘ کیونکہ کیئف اپنے دفاعی برآمدی کردار کو باضابطہ بنانے اور وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔\n\nانہوں نے کہا: ’ہم اپنے شراکت داروں کی سلامتی کو مضبوط بنانے میں مدد دے رہے ہیں، اس کے بدلے میں اپنے ملک کی مضبوطی کے لیے تعاون حاصل کر رہے ہیں۔ یہ صرف رقم حاصل کرنے سے کہیں زیادہ ہے۔‘\n\nیہ انکشاف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خدشات ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کا تنازع یوکرین کے لیے مغربی فوجی امداد، خصوصاً فضائی دفاعی سازوسامان کو ختم کر سکتا ہے۔\n\n* * *\n\n**ایران امریکہ اور اسرائیل سے جنگ نہیں چاہتا: مجتبیٰ خامنہ ای**\n\nایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے تازہ تحریری پیغام میں کہا ہے کہ ایران امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا، تاہم وہ بطور قوم اپنے حقوق کا دفاع کرے گا۔\n\nسرکاری ٹی وی پر پڑھ کر چلائے گئے اس پیغام میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ’ہم نے جنگ نہیں چاہی اور نہ ہی ہم اسے چاہتے ہیں۔‘\n\nاے ایف پی کے مطابق اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہم کسی بھی صورت میں اپنے جائز حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے، اور اس حوالے سے ہم پورے مزاحمتی محاذ کو ایک اکائی سمجھتے ہیں۔‘\n\nانہوں نے ایرانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’یہ نہ سمجھیں کہ سڑکوں پر نکلنا اب ضروری نہیں رہا‘ باوجود اس کے کہ جنگ بندی کا اعلان ہو چکا ہے۔\n\nایرانی سپریم لیڈر کے مطابق ’عوامی مقامات پر آپ کی آوازیں یقیناً مذاکرات کے نتائج پر اثرانداز ہوتی ہیں۔‘\n\nتہران میں 8 اپریل 2026 کو ایک عمارت پر بڑا بینر لگا ہے جس پر لکھا ہے کہ ’آبنائے ہرمز اب بھی بندی ہے‘ (فائل فوٹو/ اے ایف پی)\n\n\n\n\n* * *\n\n**جنگ بندی کے دوران کوئی میزائل نہیں داغا: پاسداران انقلاب**\n\nایران کے پاسداران انقلاب نے جمعرات کی رات ایک بیان میں کہا کہ مختلف خبر رساں اداروں نے ایسی اطلاعات نشر کی ہیں جن میں خلیج فارس کے جنوبی کنارے پر واقع کئی ممالک میں تنصیبات پر ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کے الزامات لگائے گئے ہیں۔\n\nتسنیم نیوز کے مطابق پاسداران انقلاب نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے دوران ایران کی مسلح افواج نے کسی بھی ملک کی طرف کوئی میزائل نہیں داغا ہے۔\n\nبیان میں مزید کہا گیا کہ اگر میڈیا رپورٹس درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ بلاشبہ مخالف قوتوں، یعنی صہیونی ریاست یا امریکہ کی جانب سے ترتیب دی گئی کارروائیاں ہوں گی۔\n\n* * *\n\n**اسلام آباد مذاکرات: مہمانوں کو آمد پر ویزا جاری کیا جائے گا، اسحاق ڈار**\n\nپاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسلام آباد مذاکرات کے سلسلے میں شرکت کرنے والے ممالک کے صحافیوں سمیت تمام مندوبین کو اپنی ایکس پر ایک پوسٹ میں خوش آمدید کہا ہے۔ انہوں نے اسی مقصد کے لیے، تمام فضائی کمپنیوں سے درخواست کی ہے کہ وہ بغیر ویزا کے تمام افراد کو بورڈنگ کی اجازت دیں۔ پاکستان میں امیگریشن حکام انہیں ویزا آن ارائیول جاری کریں گے۔\n\n> Pakistan welcomes all delegates including journalists from participating nations, traveling in relation to Islamabad Talks 2026. To this end, all airlines are requested to permit boarding to all such individuals without Visa. Immigration authorities in Pakistan will issue them… pic.twitter.com/mvWJyv2P4s\n\n> — Ishaq Dar (@MIshaqDar50) April 10, 2026\n\n* * *\n\n**اگلے ہفتے اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کریں گے: امریکہ**\n\nامریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے جمعرات کو کہا ہے کہ اسرائیل اور لبنان اگلے ہفتے واشنگٹن میں مذاکرات کریں۔\n\nفرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بین الاقوامی سطح پر خدشات بڑھ رہے ہیں کہ اسرائیل کی لبنان پر بمباری امریکہ اور ایران کے درمیان پہلے سے ہی کمزور جنگ بندی کو ختم کر سکتی ہے۔\n\nمارچ کے شروع میں مشرق وسطیٰ کی جنگ میں حزب اللہ کے شامل ہونے کے بعد سے لبنان پر اسرائیل کے شدید ترین حملوں میں بدھ کو سیکڑوں افراد جان سے گئے جس سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان غیر مستحکم جنگ بندی کو اس کے نافذ ہونے کے 48 گھنٹے سے بھی کم وقت میں متاثر کیا ہے۔\n\nامریکی دفتر خارجہ کے اہلکار نے کہا ہے کہ ’ہم تصدیق کر سکتے ہیں کہ محکمہ جاری جنگ بندی مذاکرات پراسرائیل اور لبنان کے ساتھ بات چیت کے لیے اگلے ہفتے ایک اجلاس کی میزبانی کرے گا۔‘\n\nتاہم لبنانی حکومت کے ایک اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ بیروت کو اسرائیل کے ساتھ کسی بھی مذاکرات میں شامل ہونے سے پہلے جنگ بندی درکار ہے۔\n\nنہ تو اسرائیل اور نہ ہی لبنان نے اگلے ہفتے ہونے والے امریکی مذاکرات کی عوامی سطح پر تصدیق کی ہے۔\n\n* * *\n\n**ایرانی مذاکراتی ٹیم اسلام آباد نہیں پہنچی، لبنان پر اسرائیلی حملے رکنے تک مذاکرات معطل ہیں: خبر ایجنسی**\n\nایران میں پاسدارانِ انقلاب سے منسلک نیوز ایجنسی تسنیم نے ایرانی وفد کے اسلام آباد پہنچنے سے متعلق خبروں کی تردید کی ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nتسنیم نیوز ایجنسی نے ’باخبر ذرائع‘ کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ: ’ایرانی مذاکراتی ٹیم کے امریکہ سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد، پاکستان پہنچنے سے متعلق کچھ میڈیا اداروں کی خبریں مکمل جھوٹی ہیں۔‘\n\nخبر رساں ادارے کے مطابق ذرائع نے اسے بتایا کہ جب تک امریکہ لبنان پر اسرائیلی حملے رکوانے کا اپنا وعدہ پورا نہیں کرتا، تب تک مذاکرات معطل رہیں گے۔\n\n* * *\n\n**کابینہ کو لبنان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی ہدایت کر دی: نتن یاہو**\n\nاسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے جمعرات کو کہا ہے کہ انہوں نے اپنی کابینہ کو لبنان کے ساتھ براہ راست مذاکرات شروع کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جا سکے اور دونوں ممالک کے درمیان ’پرامن تعلقات‘ قائم کیے جا سکیں۔\n\nان کے دفتر نے ایک بیان میں لکھا، ’اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات شروع کرنے کی لبنان کی بار بار کی درخواستوں کی روشنی میں، میں نے کل کابینہ کو ہدایت کی کہ وہ جلد از جلد لبنان کے ساتھ براہ راست مذاکرات شروع کرے۔‘\n\nبیان میں مزید کہا گیا، ’مذاکرات کی توجہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور اسرائیل اور لبنان کے درمیان پرامن تعلقات قائم کرنے پر مرکوز ہوگی۔ اسرائیل، لبنان کے وزیر اعظم کی جانب سے بیروت کو غیر فوجی بنانے کی آج کی اپیل کو سراہتا ہے۔‘\n\nاس معاملے سے باخبر لبنانی حکومت کے ایک اہلکار نے جمعرات کو اے ایف پی کو بتایا کہ لبنان جنگ بندی کے اعلان کے بعد ہی مذاکرات میں شامل ہو سکتا ہے۔\n\nایران\n\nاسرائیل\n\nاسلام آباد\n\nاسلام آباد مذاکرات\n\nنیویارک پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’اگر (اسلام آباد میں) معاہدہ نہ ہوا تو ہم ان ہتھیاروں کا استعمال کریں گے اور بہت مؤثر طریقے سے کریں گے۔‘\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nہفتہ, اپریل 11, 2026 - 01:30\n\nMain image:\n\n> <p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 6 اپریل 2026 کو وائٹ ہاؤس میں ایران کے ساتھ جاری تنازع پر گفتگو کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nlabel:\n\nلائیو اپ ڈیٹس\n\nrelated nodes:\n\nایران امریکہ مذاکرات: اسلام آباد میں سکیورٹی سخت، ریڈ زون غیر متعلقہ افراد کے لیے بند\n\nایران میں امریکی ایئرمین کا سراغ اس دل کی دھڑکن سے لگایا: رپورٹ\n\nلبنان کا اسرائیلی حملوں کو فوری ختم کروانے کے لیے پاکستان سے تعاون طلب\n\nنتن یاہو کے خلاف بدعنوانی کا مقدمہ اتوار کو دوبارہ شروع ہو گا: اسرائیلی عدالت\n\nSEO Title:\n\nاسلام آباد مذاکرات ناکام ہوئے تو ایران پر دوبارہ حملے ہوں گے: صدر ٹرمپ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "اسلام آباد مذاکرات ناکام ہوئے تو ایران پر دوبارہ حملے ہوں گے: صدر ٹرمپ"
}