{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreidfn6htsamaqvtwaq6bbwyqcftwh554te7lyeupvx5coibyfjvqn4",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mj3pzrhql3k2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreid7gmpxjbjcx64xvfhihzhlzibkwivo6jbanclkslwf7eu4fxwttm"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 138534
  },
  "path": "/node/185418",
  "publishedAt": "2026-04-09T02:07:20.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "pic.twitter.com/itR0mAo03m",
    "April 9, 2026",
    "Screenshot 2026-04-09 113329.jpg",
    "بیروت",
    "لبنان",
    "اسرائیل",
    "حملے",
    "اقوام متحدہ",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "دنیا",
    "video",
    "لائیو اپ ڈیٹس",
    "@mb_ghalibaf"
  ],
  "textContent": "**امریکہ اور ایران کا دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی کا اعلان۔** **اسرائیل کا لبنان میں جنگ بندی سے انکار، 10 منٹ میں 100 سے زائد حملے۔** **امریکی اور ایرانی وفود کی مذاکرات کے لیے جمعے کو اسلام آباد آمد متوقع۔** **لائیو اپ ڈیٹس**\n---\n\n* * *\n\n**اسرائیلی حملوں میں ایک دن میں 300 سے زیادہ اموات: لبنانی وزارت صحت**\n\nلبنان کی وزارت صحت نے جمعرات کو کہا کہ ایک روز قبل ملک بھر میں اسرائیلی حملوں میں 300 سے زیادہ افراد جان سے گئے اور کم از کم 1150 زخمی ہوئے ہیں۔\n\nایک بیان میں، وزارت نے کہا کہ ’بدھ کو اسرائیلی دشمن کے فضائی حملوں کے نتیجے میں ابتدائی طور پر 303 شہید اور 1,150 زخمی ہوئے۔‘\n\nبیان میں کہا گیا کہ 2 مارچ کو اسرائیل اور ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد سے اموات کی مجموعی تعداد 1,889 ہو گئی ہے، جبکہ 6092 زخمی ہیں۔\n\nوزارت نے خبردار کیا کہ اموات کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ تلاش کی کوششیں جاری ہیں اور ساتھ ہی ہسپتالوں میں منتقل کی گئی لاشوں کے ڈی این اے ٹیسٹ بھی ہو سکتے ہیں۔\n\n* * *\n\n**لبنان کی موجودہ صورت حال کا حل جنگ بندی اور اسرائیل کے ساتھ مذاکرات ہیں: لبنانی صدر**\n\nلبنان کے صدر جنرل جوزف عون نے جمعرات کو کہا ہے کہ ان کا ملک جس صورتحال کا سامنا کر رہا ہے اس کا واحد حل اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کا حصول ہے، جس کے بعد ان کے درمیان براہ راست مذاکرات ہوں۔\n\nایک وفد سے ملاقات کے بعد انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں وہ بین الاقوامی رابطے کر رہے ہیں اور ان کی اس تجویز کو بین الاقوامی سطح پر نمایاں پذیرائی مل رہی ہے۔\n\nانہوں نے مزید کہا کہ وہ اندرونی جھگڑوں کی اجازت نہین دیں گے اور ہر ایک کو ریاست اور اس کی جائز قوتوں پر یقین ہونا چاہیے، کیونکہ اس کے بغیر کوئی نجات نہیں ہے۔\nلبنانی صدر نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور فوج تمام تر مشکل حالات اور ان کے پاس دستیاب معمولی صلاحیتوں کے باوجود سکیورٹی اور استحکام کو نافذ کرنے کے لیے اپنے فرائض پوری طرح سے انجام دے رہے ہیں۔\n\n’شہریوں کو سکیورٹی کے استحکام کو برقرار رکھنے اور سکیورٹی فورسز اور میونسپلٹیوں کے ساتھ قریبی تعاون میں شراکت دار بھی ہونا چاہیے۔‘\n\n* * *\n\n**اسرائیل لبنان کے ساتھ جلد از جلد امن مذاکرات شروع کرنا چاہتا ہے: نتن یاہو**\n\nاسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے جمعرات کو کہا کہ انہوں نے اپنی کابینہ کو حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان ’امن تعلقات‘ قائم کرنے کے لیے لبنان کے ساتھ براہ راست مذاکرات شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔\n\nان کے دفتر نے ایک بیان میں لکھا، ’اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات شروع کرنے کے لیے لبنان کی بار بار کی درخواستوں کی روشنی میں، میں نے کل کابینہ کو ہدایت کی کہ وہ جلد از جلد لبنان کے ساتھ براہ راست مذاکرات شروع کرے۔‘\n\nامریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے لبنان پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔\n\nایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر غالیبافی نے ان حملوں کے خلاف سخت ردعمل کی دھمکی دی، جبکہ لبنانی وزیر اعظم نے جمعرات کو پاکستان کے وزیراعظم شہباز شرید سے بات کرتے ہوئے اسرائیلی حملے بند کروانے کے لیے تعاون مانگا۔\n\nپریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ ’مذاکرات میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن تعلقات قائم کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ اسرائیل لبنان کے وزیر اعظم کی طرف سے بیروت کو غیر مسلح کرنے کے آج کے مطالبے کو سراہتا ہے۔‘\n\nاسرائیلی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ امریکہ میں اسرائیل کے سفیر یشیئل لیٹر مذاکرات میں ملک کی نمائندگی کریں گے۔\n\nیہ بیان ایک دن بعد سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے 2 مارچ کو حزب اللہ کے ساتھ اپنی جنگ کے آغاز کے بعد سے لبنان پر حملوں کی اپنی سب سے بڑی لہر شروع کی تھی جس میں 200 سے زائد افراد مارے گئے تھے۔\n\nلبنان کی کابینہ نے جمعرات کو حزب اللہ کو ایک انتباہ میں، سیکورٹی فورسز کو بیروت میں ہتھیاروں کو خصوصی طور پر ریاستی اداروں تک محدود رکھنے کی ہدایت کی ہے۔\n\nوزیر اعظم نواف سلام نے کابینہ کے اجلاس کے اختتام پر کہا کہ ’فوج اور سکیورٹی فورسز سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ فوری طور پر بیروت گورنریٹ پر مکمل ریاستی اختیار کو مضبوط کرنا شروع کریں اور صرف جائز حکام کے ہاتھوں میں ہتھیاروں کی اجارہ داری قائم کریں۔‘\n\nلبنانی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ جنگ ​​شروع ہونے کے فوراً بعد مارچ کے آغاز میں حزب اللہ کی عسکری سرگرمیوں پر پابندی لگا دی تھی لیکن اس فیصلے سے ایران کے حمایت یافتہ گروپ کو فوجی کارروائیوں سے باز نہیں آیا ہے۔\n\nبیروت نے بھی 2025 میں اس گروپ کو غیر مسلح کرنے کا عہد کیا تھا، جو لبنان کی 1975-1990 کی خانہ جنگی کے بعد اپنے ہتھیار رکھنے والا واحد گروپ تھا۔\n\nدسمبر میں، لبنانی اور اسرائیلی سویلین نمائندوں نے کئی دہائیوں میں پہلی بار براہ راست بات چیت کی، جو جنگ بندی کی نگرانی کے طریقہ کار کا حصہ ہے۔\n\nاس سے پہلے اسرائیل اور لبنان، جن کے کوئی باضابطہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں، نے فوجی افسران کو کردار میں رکھنے پر اصرار کیا تھا۔ (اے ایف پی)\n\n* * *\n\n**پاکستانی وزیر خارجہ کا سعودی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ**\n\nپاکستان کے نائب وزیر عظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحٰق ڈار نے جمعرات کو سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے ساتھ ابھرتی ہوئی علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔\n\nنائب وزیر اعظم نے خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے کی کوششوں میں پاکستان کی سعودی عرب کی مسلسل حمایت کی تعریف کی۔\n\nدونوں رہنماؤں نے دیرپا امن کو آگے بڑھانے کے لیے مسلسل بات چیت اور سفارتی مصروفیات کی اہمیت پر زور دیا اور قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔\n\n* * *\n\n**اسرائیلی حملے رکوانے کے لیے لبنان کی پاکستان سے تعاون کی درخواست**\n\nوزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو لبنانی ہم منصب نواف سلام سے ٹیلیفون پر بات کی اور ان کے ملک کے خلاف اسرائیل کی جاری جارحیت کی شدید مذمت کی اور ہزاروں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کیا۔\n\nوزیراعظم نے کہا کہ پاکستان علاقائی امن کے لیے مخلصانہ کوششوں میں مصروف ہے اور اسی جذبے کے تحت ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔\n\nوزیر اعظم شہباز شریف کی امن کی کوششوں پر شکریہ ادا کرتے ہوئے، لبنان کے وزیر اعظم نے لبنان اور اس کے عوام کو نشانہ بنانے والے حملوں کو فوری طور پر ختم کرنے کے لیے پاکستان سے تعاون طلب کیا۔\n\n* * *\n\n**وزیراعظم شہباز شریف اور بحرین کے بادشاہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ**\n\nاسلام آباد میں ایوان وزیراعظم سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے جمعرات کو بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔\n\nگفتگو کے دوران شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کرانے میں پاکستان کی کامیاب کوششوں پر وزیراعظم کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ اس پیش رفت سے خطے میں دیرپا امن کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔\n\nوزیراعظم نے پاکستان کی امن کوششوں کی حمایت پر شاہ بحرین کا شکریہ ادا کیا اور گذشتہ چھ ہفتوں کے دوران حملوں کے تناظر میں بحرینی قیادت کی جانب سے دکھائے گئے مثالی تحمل کو سراہا۔\n\nانہوں نے حالیہ کشیدگی کے دوران بحرین میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔\n\nدونوں رہنماؤں نے خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔\n\n* * *\n\n**لبنان کے مسئلے پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر ’سخت ردعمل‘ ہو گا: ایرانی سپیکر**\n\nایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر غالیباف نے کہا ہے کہ لبنان جنگ بندی معاہدے کا ’لازمی حصہ‘ ہے۔\n\nایرانی اسپیکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ (پاکستان کے) وزیر اعظم شہباز شریف نے واضح طور پر لبان کے مسئلے پر زور دیا اور اب اس سے واپسی یا تردید کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔\n\nانہوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزی پر 'سخت ردعمل' کا انتباہ دیا۔\n\n> pic.twitter.com/itR0mAo03m\n>\n> — محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) April 9, 2026\n\n* * *\n\n**فرانسیسی صدر کا شہباز شریف سے رابطہ، لبنان پر جارحیت پر تشویش**\n\nفرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے جمعرات کی سہ پہر وزیر اعظم شہباز شریف سے فون پر رابطہ کیا اور پاکستان کی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششوں پر مبارکباد پیش کی۔\n\nدفتر کارجہ کے ایک بیان کے مطابق صدر میکرون نے اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات کی کامیابی کے لیے وزیراعظم کو نیک خواہشات کا اظہار کیا۔\n\nپاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت پر صدر میکرون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔\n\nدونوں رہنماؤں نے لبنان میں جاری جارحیت پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا اور تشدد اور قتل و غارت گری کے خاتمے کی فوری ضرورت پر زور دیا، تاکہ پورے خطے میں دوبارہ امن قائم کیا جا سکے۔ دونوں رہنماؤں نے رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔\n\n* * *\n\n**پاکستان اور یورپی یونین میں رابطہ، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر تشویش**\n\nنائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے جمعرات کو یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور کاجا کالس سے ٹیلیفون پر بات کی۔\n\nدونوں فریقوں نے لبنان میں جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا اور مشرق وسطیٰ میں عارضی جنگ بندی کے مکمل نفاذ کی اہمیت پر زور دیا۔\n\nیورپی یونین کے نمائندے نے امن اور استحکام کو فروغ دینے کی کوششوں میں پاکستان کے لیے حمایت کا اعادہ کیا۔\n\n* * *\n\n**سعودی اور ایرانی وزرائے خارجہ میں رابطہ**\n\nسعودی عرب کی وزارت خارجہ کے مطابق جمعرات کو وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔\n\nسعودی وزارت خارجہ کی جانب سے ایکس پر جاری بیان کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے شہزادہ فیصل بن فرحان کو ٹیلیفون کال کی جس میں خطے کی موجودہ صورت حال اور کشیدگی کو کم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔\n\n* * *\n\n**اسرائیل کا لبنان میں حزب اللہ رہنما کو قتل کرنے کا دعویٰ**\n\nاسرائیل نے جمعرات کو کہا ہے کہ اس کے رات گئے بیروت پر کیے گئے حملے میں حزب اللہ کے رہنما نعیم قاسم مارے گئے ہیں۔\n\nخبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حزب اللہ نے تاحال اس خبر کی تصدیق نہیں کی ہے۔\n\nحزب اللہ کی جانب سے تصدیق کی صورت میں نعیم قاسم کی موت حزب اللہ اور تہران کے لیے بڑا دھچکہ ہو گی کیوں کہ لبنانی تنظیم مشرق وسطیٰ میں ایران کے اہم اتحادیوں میں سے ایک ہے۔\n\nامریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملے شروع کرنے کے دو دن بعد، دو مارچ کو اسرائیل پر حملہ کر کے حزب اللہ خطے میں شروع ہونے والی جنگ میں شامل ہو گئی تھی۔\n\n* * *\n\n**ایرانی وفد امریکہ سے مذاکرات کے لیے آج اسلام آباد پہنچ رہا ہے: ایرانی سفیر**\n\nپاکستان کے لیے ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ عوام میں شکوک و شبہات کے باوجود وفد پاکستانی وزیر اعظم کی دعوت پر آج اسلام آباد پہنچ رہا ہے۔\n\nایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے ایکس پر بیان میں کہا کہ ’ایرانی عوامی رائے میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں اور سفارتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کی وجہ سے شکوک و شبہات پیدا ہوئے ہیں۔\n\n## Screenshot 2026-04-09 113329.jpg\n\n’لیکن اس کے باوجود وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایرانی وفد آج رات سنجیدہ مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ رہا ہے، جو ایران کی جانب سے پیش کیے گئے 10 نکات پر مبنی ہوں گے۔‘\n\nبعد ازاں ’ایکس‘ پر مذکورہ پوسٹ کو ہٹا دیا گیا۔\n\n* * *\n\n**پاکستان کی لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی مذمت**\n\nپاکستان نے جمعرات کو لبنان پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے امن کی عالمی کوششوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔\n\nدفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اسرائیلی اقدامات خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے عالمی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور بین الاقوامی قانون اور بنیادی انسانی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔‘\n\nبیان میں کہا گیا ہ کہ ’پاکستان عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرے۔\n\n’پاکستان اس مشکل وقت میں لبنان کی حکومت اور عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ اور لبنان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور امن و استحکام کی حمایت کرتا ہے۔‘\n\n* * *\n\n**حقیقی معاہدے تک فوجی دستے تعینات رہیں گے: ٹرمپ**\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی رات کہا ہے کہ ایران کے قریب تعینات امریکی فوجی دستے اس وقت تک علاقے میں موجود رہیں گے جب تک ایک ’حقیقی معاہدہ‘ طے نہیں پا جاتا۔\n\nایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی ایک عارضی جنگ بندی کا آغاز ہو چکا ہے۔\n\nصدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’تمام امریکی جہاز، طیارے اور فوجی اہلکار، اضافی گولہ بارود، ہتھیاروں اور دیگر ضروری سازوسامان کے ساتھ ایران میں اور اس کے اطراف میں اپنی جگہ پر موجود رہیں گے، جب تک کہ طے پانے والے حقیقی معاہدے پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو جاتا۔‘\n\n’اگر کسی بھی وجہ سے ایسا نہ ہوا، جو کہ بہت کم امکان ہے، تو پھر لڑائی شروع ہو جائے گی اور وہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑی، بہتر اور طاقتور ہوگی جیسی کسی نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔‘\n\n* * *\n\n**لبنان جنگ بندی کا حصہ کبھی تھا ہی نہیں: امریکی نائب صدر**\n\nامریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکہ نے لبنان کو جنگ بندی حصہ کبھی قرار نہیں دیا۔\n\nجے ڈی وینس نے ہنگری میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’دیکھیں، اگر ایران ان مذاکرات کو ایک ایسے تنازع میں ٹوٹنے دینا چاہتا ہے جس میں اسے لبنان کے معاملے پر شدید نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا— جس کا اس سے کوئی تعلق نہیں اور جسے امریکہ نے کبھی بھی جنگ بندی کا حصہ نہیں کہا— تو یہ آخرکار ان کا اپنا فیصلہ ہے۔\n\n’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک بے وقوفانہ فیصلہ ہوگا، لیکن یہ ان کی مرضی ہے۔‘\n\n* * *\n\n**لبنان پر اسرائیلی حملوں میں 250 سے زائد اموات**\n\nلبنان کی سول ڈیفینس سروس نے کہا ہے کہ بدھ کو اسرائیلی حملوں میں 250 سے زائد افراد جان سے گئے اور ایک ہزار سے زخمی ہوئے۔\n\nاے ایف پی کے مطابق لبنان کے دارالحکومت بیروت میں بغیر کسی وارننگ کے ہونے والے اسرائیلی حملوں نے خوف و ہراس پھیلا دیا۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے اموات کے پیمانے کو ’خوفناک‘ قرار دیا ہے۔\n\nادھر ایران اور امریکہ کے درمیان کمزور جنگ بندی جمعرات کو دوسرے دن میں داخل ہو گئی ہے جب کہ اسرائیل کی جانب سے لبنان پر شدید بمباری کے بعد تہران نے دوبارہ حملے شروع کرنے کی دھمکی دی ہے۔\n\nدو ہفتے کی جنگ بندی اور مذاکرات پر اتفاق رائے میں دراڑیں بدھ کو اس وقت تیزی سے سامنے آئیں جب اسرائیل نے پڑوسی ملک لبنان پر اپنے شدید ترین حملے کیے، جن میں گنجان آباد وسطی بیروت بھی شامل ہے۔ یہ حملے مارچ کے شروع میں ایران کے حمایت یافتہ عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کے جنگ میں شامل ہونے کے بعد سے سب سے بڑے تھے۔\n\nاسرائیل کہا کہ حزب اللہ کے خلاف اس کی جنگ منگل کو رات گئے طے پانے والی امریکہ اور ایران جنگ بندی کا حصہ نہیں تھی۔ اس دلیل کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی دہرایا جو پاکستان میں تہران کے ساتھ مذاکرات کی قیادت کرنے والے ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانہوں نے کہا، ’اگر ایران لبنان کے معاملے پر ان مذاکرات کو ناکام ہونے دینا چاہتا ہے جس کا ان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، اور جسے امریکہ نے ایک بار بھی جنگ بندی کا حصہ نہیں کہا، تو یہ بالآخر ان کی مرضی ہے۔‘\n\nدوسری جانب ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف جنگ بندی کو دھمکی دیتے ہوئے دکھائی دیے۔ انہوں نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ ’مذاکرات کی قابل عمل بنیاد‘ کی پہلے ہی خلاف ورزی کی جا چکی ہے، جس سے مزید بات چیت ’غیر معقول‘ ہو گئی ہے۔\n\nقالیباف نے جنگ بندی کے منصوبے کی مبینہ امریکی خلاف ورزیوں کی تین وجوہات گنوائیں جن میں لبنان میں مسلسل حملے، ایک ڈرون کا ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونا، اور ایران کے یورینیم کی افزودگی کے حق سے انکار شامل ہیں۔\n\nبیروت\n\nلبنان\n\nاسرائیل\n\nحملے\n\nاقوام متحدہ\n\nبن یامین نتن یاہو نے جمعرات کو کہا کہ کابینہ کو حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان ’امن تعلقات‘ قائم کرنے کے لیے لبنان کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعرات, اپریل 9, 2026 - 14:30\n\nMain image:\n\n> <p>لوگ اسرائیلی فضائی حملے کی جگہ کا معائنہ کر رہے ہیں جس نے 9 اپریل 2026 کو جنوبی لبنان کے ساحلی شہر سیڈون میں ایک دن پہلے ایک کمپلیکس کو نشانہ بنایا تھا (اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\njw id:\n\n8ViRV8S2\n\ntype:\n\nvideo\n\nlabel:\n\nلائیو اپ ڈیٹس\n\nrelated nodes:\n\nاسرائیل کا بیروت پر حملہ، حزب اللہ کے ’چیف آف سٹاف قتل‘\n\nحزب اللہ اسرائیل فائر بندی کی نگرانی، امریکی فوجی افسر بیروت میں\n\nبیروت میں اسرائیلی حملوں سے 22 اموات: لبنانی وزارت صحت\n\nایران کا حال غزہ اور بیروت جیسا ہو سکتا ہے: اسرائیل کی وارننگ\n\nSEO Title:\n\nاسرائیل لبنان کے ساتھ جلد از جلد امن مذاکرات شروع کرنا چاہتا ہے: نتن یاہو\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "اسرائیل لبنان کے ساتھ جلد از جلد امن مذاکرات شروع کرنا چاہتا ہے: نتن یاہو"
}