{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreigl7yj2vu5wiyutq6nyt4br3jxbpihu2p3g3qvitwddicwam5c2ei",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mj3pz722po22"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreidig2hq5czr3tjyznlsftbn3dygbh3dq6rbfylllucattybnv53zu"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 63088
  },
  "path": "/node/185416",
  "publishedAt": "2026-04-09T07:15:39.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "ایران کے ساتھ جنگ",
    "مسیحی بیانیے",
    "ٹرمپ",
    "صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
    "ایران پر امریکی حملہ",
    "مسیحیت",
    "روئٹرز",
    "دنیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**مذہبی اور سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ کے پیچھے اپنے بنیادی حامیوں کو اکٹھا کرنے کے لیے مسیحی بیانیے کا استعمال کر رہے ہیں۔ ایونجیلیکل رہنما اس پیغام کو منبروں سے پھیلا رہے ہیں اور اسے خیر اور شر کی جنگ قرار دے رہے ہیں۔**\n\nٹرمپ، جنہوں نے منگل کو دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، امریکیوں کو اس جنگ کی حمایت پر آمادہ کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس جنگ نے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، امریکی فوجیوں اور ایرانیوں کی جانیں لی ہیں، اور ووٹروں میں ان کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچایا ہے۔\n\nحالیہ دنوں میں ٹرمپ نے بار بار مسیحی اصطلاحات استعمال کی ہیں جس میں انہوں نے ایران میں ایک گرے ہوئے امریکی ہوا باز کی نجات کو ’ایسٹر کا معجزہ‘ قرار دیا اور یہ اشارہ دیا کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کو خدا کی تائید حاصل ہے۔ وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ اس سے بھی آگے نکل گئے ہیں اور دشمنوں کے خلاف ’شدید تشدد‘ کے جواز کے لیے مذہبی صحیفوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’کسی رحم کے مستحق نہیں ہیں‘۔\n\nاس پیغام کی گونج قدامت پسند مسیحی رہنماؤں میں بھی سنائی دی ہے، جن میں ٹرمپ کے قریبی رابرٹ جیفریس، جو ٹیکسس کے ایک بااثر پادری ہیں، سے لے کر چھوٹے قصبوں کے مبلغین شامل ہیں۔ انہوں نے جدید ریاستِ اسرائیل کی بائبل کے مطابق اہمیت پر زور دیا ہے، جسے کئی ایونجیلیکلز حضرت عیسیٰ کی دوسری آمد کی پیشگوئی سے جوڑتے ہیں۔\n\n**ایونجیلیکلز ایران جنگ کو خیر اور شر کی جنگ کے طور پر دیکھتے ہیں**\n\nجیکسن لہمائیر، جو ایک مبلغ اور ٹرمپ کے حامی ہیں اور امریکی کانگریس کے امیدوار بھی ہیں، نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے اتوار کے خطبات میں اپنی جماعت کو بتایا کہ جنگیں عام طور پر خیر اور شر کے درمیان لڑائی ہوتی ہیں اور ایران اس سے مستثنیٰ نہیں۔\n\nانہوں نے کہا، ’بدکردار لوگ وجود رکھتے ہیں، اور اگر آپ ان سے نہیں نمٹیں گے تو وہ آپ سے نمٹیں گے۔ خیر اور شر، یہی بائبل کی کہانی ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ آخر میں ہمیشہ خیر کی جیت ہوتی ہے۔‘\n\n12 مارچ 2026 کو مقبوضہ بیت المقدس میں لوگ ٹرمپ کے بل بورڈ کے آگے سے گزر رہے ہیں جسے ایک ایوانجیلیکل تنظیم نے نصب کیا تھا (روئٹرز)\n\n\n\n\nسفید فام ایونجیلیکلز ٹرمپ کے مضبوط ترین حامیوں میں شامل ہیں۔ 2024 کے پولز کے مطابق، 80 فیصد سے زائد نے انہیں ووٹ دیا تھا اور سروے بتاتے ہیں کہ وہ ان کی کل حمایت کا تقریباً ایک تہائی حصہ ہیں۔ کئی ماہرین نے رائٹرز کو بتایا کہ یہی سیاسی حقیقت وہ بڑی وجہ ہے جس کی بنا پر ٹرمپ اور ان کی کابینہ کے ارکان اس تنازعے کو مذہبی رنگ دے رہے ہیں۔\n\nفرمین یونیورسٹی کے پروفیسر جم گوتھ، جو امریکی سیاست میں مذہب کا مطالعہ کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ ’مسٹر ٹرمپ کی مقبولیت دیکھیں اور تسلیم کریں کہ صرف ایک تہائی سے تھوڑی زیادہ عوام ان کے ساتھ ہے۔ اس حلقے کا ایک بڑا حصہ سفید فام ایونجیلیکل مسیحیوں پر مشتمل ہے‘۔\n\nوائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کی مذہبی زبان پر سوالات کا جواب نہیں دیا، لیکن ترجمان ٹیلر روجرز نے ایک بیان میں کہا کہ صدر نے ’اس دہشت گرد حکومت کے خطرے کو ختم کرنے کے لیے جرات مندانہ اقدام کیا ہے، جو آنے والی نسلوں تک امریکی عوام کا تحفظ کرے گا‘۔\n\nتاریخ دان بتاتے ہیں کہ امریکی صدور نے ہمیشہ جنگ کے وقت مسیحی عقیدے کا سہارا لیا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تشدد کے جواز کے لیے کھلم کھلا اور غیر مبہم مذہبی زبان کا استعمال اسے منفرد بناتا ہے۔ مسیح یونیورسٹی کے پروفیسر جان فِیا کہتے ہیں، ’یہ وہی زبان ہے جو قرونِ وسطیٰ کی صلیبی جنگوں میں استعمال ہوتی تھی۔ ہمیں کافروں کو روکنا ہوگا، ہمیں بدکاروں کو شکست دینی ہوگی۔ ہم نے امریکی تاریخ میں ایسا کچھ پہلے کبھی نہیں دیکھا‘۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاس مذہبی پیغام رسانی پر کچھ ڈیموکریٹس اور بائیں بازو کے مسیحی رہنماؤں نے تنقید کی ہے، جو اسے ایک غیر مقبول جنگ کے جواز کے لیے عقیدے کا غلط استعمال قرار دیتے ہیں۔ پوپ لیو نے پام سنڈے کے موقع پر سینٹ پیٹرز سکوائر میں ہزاروں افراد سے خطاب کرتے ہوئے اس تنازعے کو ’خوفناک‘ قرار دیا اور کہا کہ یسوع کا نام کبھی بھی جنگ کی تشہیر کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔\n\nایک پروگریسو پادری ڈوگ پیگٹ کا خیال ہے کہ انتظامیہ ایونجیلیکلز کو اپنے ساتھ رکھنے اور ٹرمپ کے ’ماگا‘ (MAGA) اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے ایک ’مخصوص مسیحی بیانیہ‘ استعمال کر رہی ہے۔ گذشتہ ہفتے کے ایک سروے کے مطابق، 60 فیصد رائے دہندگان نے ایران پر امریکی حملوں کی مخالفت کی، جس میں ریپبلکنز کی 74 فیصد حمایت کے مقابلے میں ڈیموکریٹس میں صرف 22 فیصد حمایت دیکھی گئی۔\n\n**وائٹ ہاؤس کی ملاقات میں ٹرمپ کو عیسیٰ علیہ السلام سے تشبیہ دی گئی**\n\nمعروف مبلغ فرینکلن گراہم نے ایران پر حملوں کو بائبل کی ملکہ ایستھر سے تشبیہ دی ہے، جنہوں نے اپنے لوگوں کو تباہی سے بچایا تھا۔ ٹینیسی کے پیٹریاٹ چرچ کے رہنما کین پیٹرز نے بھی اپنی جماعت کو یہی پیغام دیا اور امید ظاہر کی کہ یہ جنگ ایک ’اسرائیل نواز اور امریکہ نواز ایران‘ پیدا کرے گی۔\n\nہیگستھ نے خاص طور پر اس جنگ کو مذہبی رنگ دیا ہے۔ اتوار کو انہوں نے ایران میں امریکی ہوا باز کی نجات کو ایسٹر کے دن حضرت عیسیٰ کے جی اٹھنے سے تشبیہ دی۔ پینٹاگون کے ترجمان کنگسلے ولسن نے اس کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جنگی رہنماؤں نے ہمیشہ مسیحی عقیدے کا حوالہ دیا ہے، جیسے روزویلٹ نے دوسری جنگِ عظیم میں فوجیوں میں بائبل تقسیم کی تھی۔\n\nگذشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس میں ایسٹر کی ایک تقریب میں بھی ایسی ہی زبان استعمال کی گئی۔ ٹیلی ایونجیلسٹ پاؤلا وائٹ کین نے ٹرمپ کو عیسیٰ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں کو ’دھوکہ دیا گیا، گرفتار کیا گیا اور جھوٹے الزامات لگائے گئے۔‘\n\nٹیکسس کے پادری جیفریس نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ یہ جنگ اسلام کے خلاف ہے، بلکہ یہ ’خیر اور شر، خدا کی بادشاہت اور شیطان کی بادشاہت کے درمیان ایک روحانی جنگ ہے۔‘\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nایران پر امریکی حملہ\n\nمسیحیت\n\nحالیہ دنوں میں ٹرمپ نے بار بار مسیحی اصطلاحات استعمال کی ہیں جس میں انہوں نے ایران میں ایک گرے ہوئے امریکی ہوا باز کی نجات کو ’ایسٹر کا معجزہ‘ قرار دیا اور یہ اشارہ دیا کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کو خدا کی تائید حاصل ہے۔\n\nروئٹرز\n\nجمعرات, اپریل 9, 2026 - 12:15\n\nMain image:\n\n> <p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واشنگٹن میں 5 فروری 2026 کو نیشنل پرئیر بریک فاسٹ کے دوران دعا کرتے ہوئے (فائل فوٹو/ روئٹرز)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nوائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ کی بریفنگ کا ’مذہبی‘ ٹچ\n\nپورا ایران ایک رات میں ’تباہ کیا جا سکتا ہے اور وہ رات کل کی بھی ہو سکتی ہے‘: ٹرمپ\n\nہرمز کھول دو، ورنہ تم لوگ جہنم میں رہ رہے ہو گے: ٹرمپ\n\nٹرمپ کی گھبراہٹ بجا ہے\n\nSEO Title:\n\nایران جنگ اور ٹرمپ کا مذہبی بیانیہ: ’خیر اور شر‘ کی کشمکش یا سیاسی ضرورت؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "ایران جنگ اور ٹرمپ کا مذہبی بیانیہ: ’خیر اور شر‘ کی کشمکش یا سیاسی ضرورت؟"
}