{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreieyi6agdos2t6ba6nomzvityv3bicdnkgzggh3rijylhogoalqg3i",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mj3pz2iwq6i2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreieecluc4qidynup2mn6hdlif7lmgutc3dscotlziha7r7u6fkpzzq"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 61527
  },
  "path": "/node/185421",
  "publishedAt": "2026-04-09T11:45:02.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "امریکہ",
    "ایران",
    "ایران جنگ",
    "پائلٹ",
    "ریسکیو",
    "جو سومرلیڈ",
    "news"
  ],
  "textContent": "**ایک رپورٹ کے مطابق امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے ایران میں دوسرے ایئرمین کا کھوج لگانے اور انہیں ریسکیو کرنے کے لیے ’گھوسٹ مرمر‘ نامی انتہائی خفیہ اور جدید ٹرین ٹیکنالوجی استعمال کی۔ امریکی ایئرمین کا طیارہ گذشتہ ہفتے کے اختتام پر ایران کے پہاڑوں پر مار گرایا گیا تھا۔**\n\nیہ امریکی فضائی افسر صرف اپنے کال سائن ’ڈیوڈ 44 براوو‘ سے پہچانے جاتے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں ’انتہائی قابلِ احترام کرنل‘ قرار دیا۔ وہ ایف 15 ای طیارے میں ہتھیاروں کے نظام کے افسر تھے، جو جمعے (تین اپریل) کو اصفہان کے جنوب مغرب میں مار گرایا گیا، جس کے بعد طیارے میں سوار دونوں افراد کو بچانے کے لیے فوری طور پر دوڑ شروع ہو گئی۔\n\nاگرچہ پائلٹ طیارے سے بحفاظت نکلنے میں کامیاب رہے اور انہیں اسی دن دو فوجی ہیلی کاپٹروں نے بچا لیا، لیکن دوسرے افسر جو زخمی تھے، دشمن کی صفوں کے پیچھے 200 میل دور تھے اور ان کے پاس صرف ایک ہینڈ گن تھی۔ انہیں اپنے سر پر انعام کے ساتھ 36 گھنٹے تک بنجر بیابان میں گرفتاری سے بچنا پڑا۔\n\nاس فضائی افسر کو بقا، فرار اور مزاحمت کی خصوصی تربیت دی گئی تھی۔ وہ پہاڑ کی ایک دراڑ میں چھپنے سے ٹھیک پہلے بوئنگ کا بنا ہوا ایک خاص ٹریکنگ آلہ فعال کرنے میں کامیاب ہو گئے، تاہم چھپے رہنے کے دوران اس کا درست مقام پھر بھی غیر یقینی رہا۔\n\nاخبار نیویارک پوسٹ کو ذرائع نے بتایا کہ انہیں بالآخر نئی گھوسٹ مرمر ٹیکنالوجی کی بدولت اتوار کو سورج نکلنے سے پہلے کمانڈوز کی ایک ٹیم نے ڈھونڈ کر بچا لیا۔\n\nگھوسٹ مرمر ٹیکنالوجی میں آلات انسانی دل کی دھڑکن سے پیدا ہونے والے برقی مقناطیسی سگنلز کا پتہ لگانے کے لیے طویل فاصلے کی کوانٹم میگنیٹومیٹری، جو مقناطیسی میدانوں کی پیمائش کرنے والی ٹیکنالوجی ہے، کا استعمال کرتے ہیں۔\n\nایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق وسطی ایران میں لی گئی بتائی جانے والی اور تین اپریل 2026 کو جاری کی گئی اس تصویر میں گرائے گئے امریکی جیٹ کا ٹکڑا دکھائی دے رہا ہے (روئٹرز)\n\n\n\n\nپھر یہ ٹیکنالوجی اس ڈیٹا کو اے آئی سافٹ ویئر کے ساتھ جوڑتی ہے تاکہ اسے پس منظر کے خلل ڈالنے والے شور سے الگ کیا جا سکے اور اس کے منبع کا قطعی تعین کیا جا سکے۔\n\nپیر کو اس جرات مندانہ آپریشن کے حوالے سے وائٹ ہاؤس بریفنگ میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کے ’شاندار کام‘ کرنے پر تعریف کی اور انہیں ایئرمین کی بازیابی میں استعمال ہونے والے نئے آلے پر بات کرنے کی دعوت دی۔\n\nصدر نے مذاق میں کہا: ’یہ (ٹیکنالوجی) خفیہ ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں اگر انہوں نے اس کے بارے میں بات کی تو مجھے انہیں جیل میں ڈالنا پڑے گا اور میں انہیں جیل میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ وہ اس کے حقدار نہیں۔‘\n\nریٹکلف نے ٹیکنالوجی کا نام لیے یا تفصیل میں جائے بغیر محتاط انداز میں بات مانی اور کہا کہ ان کی ایجنسی نے ’ایسی شاندار ٹیکنالوجیز استعمال کی ہیں، جو کسی اور انٹیلی جنس سروس‘ کے پاس نہیں ہیں اور انہوں نے ریسکیو کی اس کوشش کا موازنہ ’صحرا کے وسط میں ریت کے ذرے کی تلاش‘ سے کیا۔\n\nنیویارک پوسٹ کے مطابق یہ ٹیکنالوجی ایرو سپیس کی بڑی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کے خفیہ اور جدید ترقیاتی ڈویژن، سکنک ورکس نے تیار کی ہے اور اسے مستقبل میں ایف 35 لڑاکا طیاروں کے ساتھ استعمال کرنے سے قبل بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں پر آزمایا گیا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاخبار کے ذریعے نے اس ٹیکنالوجی کو ایک دلچسپ مثال سے سمجھایا: ’یہ ایسا ہے جیسے سٹیڈیم میں کسی ایک شخص کی آواز سنی جائے۔ بس فرق یہ ہے کہ وہ سٹیڈیم ہزار مربع میل کا صحرا ہو۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’صحیح حالات میں، اگر آپ کا دل دھڑک رہا ہو تو ہم آپ کو ڈھونڈ لیں گے۔‘\n\nذریعے نے بتایا کہ ایران کا دور دراز بیابان اس ٹیکنالوجی کے پہلی بار استعمال کے لیے ایک بہترین جگہ ثابت ہوا۔ چوں کہ اس علاقے میں برقی مقناطیسی مداخلت نہ ہونے کے برابر تھی، اس لیے کوئی اور انسانی سگنل موجود نہیں تھا، جو الجھن پیدا کرتا۔ رات کے وقت ایک زندہ انسانی جسم اور ٹھنڈے صحرائی فرش کے ماحول میں حرارت کا فرق بھی افسر کو تلاش کرنے میں مددگار ثابت ہوا۔\n\nان کا کہنا تھا کہ عام طور پر دل کی دھڑکن سے پیدا ہونے والا مقناطیسی سگنل اتنا کمزور ہوتا ہے کہ صرف ہسپتال میں سینے پر براہ راست رکھے گئے سینسرز سے ہی اس کا پتہ لگایا جا سکتا ہے، لیکن کوانٹم میگنیٹومیٹری کہلانے والے شعبے میں ہونے والی پیش رفت نے، خاص طور پر مصنوعی ہیروں میں خرد بینی نقائص کے گرد بنائے گئے سینسرز نے، بظاہر ان سگنلز کو ڈرامائی طور پر زیادہ فاصلے سے پکڑنا ممکن بنا دیا ہے۔\n\nانہوں نے اس ٹیکنالوجی کی حدود پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ صلاحیت ہر چیز جاننے والی نہیں ہے۔ یہ دور دراز، کم ہجوم والے ماحول میں بہترین کام کرتی ہے اور اسے پروسیسنگ کے لیے کافی وقت درکار ہوتا ہے۔‘\n\nامریکہ\n\nایران\n\nایران جنگ\n\nپائلٹ\n\nریسکیو\n\nرپورٹ کے مطابق یہ انتہائی خفیہ اور جدید ٹیکنالوجی دل کی دھڑکن سے کسی انسان کی موجودگی کے مقام پتہ لگاتی ہے۔\n\nجو سومرلیڈ\n\nجمعرات, اپریل 9, 2026 - 16:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">9 اگست 2019 کو امریکی فضائیہ کی جانب سے جاری کی گئی اس تصویر میں ایف 15 ای طیارہ خلیج میں نامعلوم مقام پر پرواز کر رہا ہے (روئٹرز)</p>\n\nامریکہ\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nامریکی ایئر مین کی ایران سے بازیابی کا مشن کیسے انجام دیا گیا؟\n\nامریکہ اور ایران میں ’لاپتہ امریکی پائلٹ‘ کی تلاش کی دوڑ\n\nایران، امریکہ مذاکرات کی کوششیں تعطل کا شکار: امریکی اخبار\n\nامریکی نائب صدر، سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر مذاکرات کے لیے اسلام آباد آئیں گے: وائٹ ہاؤس\n\nSEO Title:\n\nایران میں امریکی ایئرمین کا سراغ اس دل کی ڈھرکن سے لگایا گیا: رپورٹ\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/news/world/americas/iran-airman-rescue-cia-technology-b2953698.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "ایران میں امریکی ایئرمین کا سراغ اس دل کی ڈھرکن سے لگایا گیا: رپورٹ"
}