{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreigihequfxq6ffcglxxkxdd5co3eujlxipoc2h72q7ddq6sxtuce3e",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3miys4cbul5e2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreibwbxxbjjmc2ffhuoudgdwz27fg2ly457h3hvf3esyf7stnq4rboq"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 102070
  },
  "path": "/node/185413",
  "publishedAt": "2026-04-08T15:34:11.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "سوشل میڈیا",
    "یونان",
    "ذہنی صحت",
    "اینٹونس پوتھیٹوس",
    "ٹیکنالوجی",
    "news"
  ],
  "textContent": "**یونان یکم جنوری 2027 سے 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگا دے گا، جس کا اعلان وزیرِ اعظم کیریاکوس مِتسوتاکِس نے کیا ہے۔**\n\nاس اقدام کے پیچھے موجود وجوہات بیان کرتے ہوئے مِتسوتاکِس نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ اس سے بڑھتی ہوئی ذہنی بے چینی، نیند کے مسائل اور آن لائن پلیٹ فارمز کے نشہ آور ڈیزائن سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔\n\nنوجوانوں کے نام ایک ویڈیو پیغام میں مسٹر مِتسوتاکِس نے اس بات پر زور دیا کہ سکرین کے سامنے زیادہ وقت گزارنا ذہن کو آرام کرنے سے روکتا ہے اور بچوں کو مسلسل موازنے اور آن لائن تبصروں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا شکار بناتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ کئی والدین نے اپنے بچوں کی نیند میں دشواری، بڑھتی ہوئی بے چینی اور فون پر ضرورت سے زیادہ وقت گزارنے کی شکایات کی ہیں۔\n\nفروری میں شائع ہونے والے الکو (ALCO) کے ایک رائے عامہ کے سروے کے مطابق، سروے میں شامل تقریباً 80 فیصد افراد نے اس طرح کی پابندی کی حمایت کی۔ یونانی حکومت پہلے ہی سکولوں میں موبائل فونز پر پابندی لگا چکی ہے اور نوعمروں کی سکرین ٹائمنگ کو محدود کرنے کے لیے والدین کے کنٹرول کے پلیٹ فارمز قائم کر چکی ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nمِتسوتاکِس نے بیان کیا کہ ’یونان اس طرح کا اقدام اٹھانے والے پہلے ممالک میں شامل ہو گا‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’تاہم مجھے یقین ہے کہ یہ آخری ملک نہیں ہو گا۔ ہمارا مقصد یورپی یونین کو بھی اس سمت میں دھکیلنا ہے۔‘\n\nسلووینیا، برطانیہ، آسٹریا اور سپین نے بھی اسی طرح کی پابندیوں پر کام کرنے کا اشارہ دیا ہے، جو آسٹریلیا کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں، جو گذشتہ سال 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے رسائی بلاک کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بنا تھا۔ گذشتہ ماہ یہ اعلان کیا گیا تھا کہ پورے برطانیہ میں سینکڑوں نوعمر نوجوان سوشل میڈیا پر پابندیوں، وقت کی حدود اور کرفیو کے حکومتی تجربے میں حصہ لیں گے، جہاں وزرا بچوں کی آن لائن حفاظت کو بہتر بنانے کے لیے ممکنہ اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔\n\nچھ ہفتوں پر مشتمل اس پائلٹ پروگرام کی قیادت محکمہ برائے سائنس، جدت اور ٹیکنالوجی (DSIT) کر رہا ہے، جس میں 13 سے 17 سال کی عمر کے 300 نوجوان شامل ہیں۔ یہ تجربہ شرکاء کے سوشل میڈیا کے استعمال پر مختلف پابندیوں کی جانچ کر رہا ہے، جس میں محققین ان کے سکول کے کام، نیند کے معمولات اور خاندانی زندگی پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ یہ پروگرام 26 مئی کو ختم ہونے والا ہے۔\n\nسوشل میڈیا\n\nیونان\n\nذہنی صحت\n\nحکومت کو توقع ہے کہ اس سے بچوں میں بڑھتی ہوئی بےچینی اور بےخوابی کے مسائل سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔\n\nاینٹونس پوتھیٹوس\n\nبدھ, اپریل 8, 2026 - 20:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">30 اکتوبر 2025 کو لی گئی اس تصویر میں 10 سالہ بیانکا ناوارو مغربی سڈنی میں واقع اپنے گھر میں یوٹیوب استعمال کر رہی ہیں (اے ایف پی) <br />\n>   </p>\n\nٹیکنالوجی\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nدنیا کے کن ممالک میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی ہے؟\n\nڈنمارک: 15 سال تک کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی\n\nانڈین ریاست میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا اعلان\n\nایرانی سپیکر کیسے سوشل میڈیا پر ٹرمپ کو ٹکر دے رہے ہیں؟\n\nSEO Title:\n\nیونان میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا اعلان\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/news/world/europe/greece-social-media-ban-under-15s-b2953594.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "یونان میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا اعلان"
}