{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiebgb5wmn53boahprk5ezb43pamk3ybyvtjqkn3awxzxm4k6i6wwe",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3miylfavtplv2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreibtum4hadsvtgpnyjzwmxxjqsz2r2r652jubbkwlwapjukqqium5i"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 80303
  },
  "path": "/node/185412",
  "publishedAt": "2026-04-08T14:21:03.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "برطانیہ",
    "غلامی",
    "ملی کک",
    "news"
  ],
  "textContent": "**برطانیہ کے امورِ داخلہ کے ترجمان ضیا یوسف کا کہنا ہے کہ جو کوئی بھی ’تاریخ کو ہمارے خزانے کو خالی کرنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرنا‘ چاہتا ہے اس کے لیے ’بینک بند اور دروازہ مقفل ہے۔‘**\n\nریفارم پارٹی نے ان ممالک کے کسی بھی فرد کو ویزا جاری نہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جو برطانیہ سے غلامی کے عوض ہرجانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ پارٹی کا اصرار ہے کہ برطانیہ اب ’عالمی سطح پر خود کو تماشہ بننے کو مزید برداشت نہیں کرے گا‘۔\n\nضیا یوسف نے معاوضے کے مطالبات کو ’توہین آمیز‘ قرار دیا اور ہرجانے کا مطالبہ کرنے والے ممالک پر الزام لگایا کہ وہ ’اس حقیقت کو نظر انداز کر رہے ہیں کہ برطانیہ نے غلامی کو غیر قانونی قرار دینے اور اس پابندی کو نافذ کرنے والی پہلی بڑی طاقت بننے کے لیے عظیم قربانیاں دیں‘۔\n\nڈیلی ٹیلی گراف میں لکھتے ہوئے ریفارم کے امورِ داخلہ کے ترجمان نے کہا کہ جو بھی ’تاریخ کو ہمارے خزانے کو خالی کرنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرنا‘ چاہتا ہے، اس کے لیے اب ’بینک بند اور دروازہ مقفل ہے۔‘\n\nیہ لکھتے ہوئے کہ گذشتہ دو دہائیوں کے دوران ہرجانے کا مطالبہ کرنے والے ممالک کے لوگوں کو 38 لاکھ سے زیادہ ویزے جاری کیے گئے ہیں، یوسف نے مزید کہا: ’ایک طویل عرصے سے برطانوی عوام حیرت اور جائز غصے کے ساتھ دیکھ رہے ہیں کہ ہمارا سیاسی طبقہ اس ملک کے ساتھ ایک عالمی پائیدان (ڈور میٹ) جیسا سلوک ہونے دے رہا ہے۔‘\n\n’ہمیں کہا جاتا ہے کہ ہم شرم سے اپنے سر جھکا لیں، اپنے ماضی پر معذرت کریں، اور سب سے زیادہ اشتعال انگیز بات یہ کہ صدیوں پہلے کیے گئے مبینہ گناہوں کے لیے ’ہرجانے‘ ادا کرنے کے لیے اپنے بٹوے کھولیں۔‘\n\n’برطانیہ کی خود ملامتی کا دور یہاں ختم ہوتا ہے۔ آج ریفارم یو کے ایک حد مقرر کر رہی ہے۔ ہم دنیا کو نوٹس دے رہے ہیں کہ برطانیہ ماضی کی نسلی شکایات کے لیے اے ٹی ایم نہیں ہے، اور ہم اب عالمی سطح پر خود کو تماشہ بننے کو مزید برداشت نہیں کریں گے۔‘\n\n’جمیکا، نائیجیریا اور گھانا جیسے ممالک ہرجانے کے اپنے مطالبات بڑھا رہے ہیں، ویسٹ منسٹر کے نظام نے انہیں نوازا ہے۔ اب بس بہت ہو چکا۔‘\n\nریفارم یو کے نے اس سے قبل ہرجانے کا مطالبہ کرنے والے ممالک کے لیے بین الاقوامی امداد ختم کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا۔\n\nمسٹر یوسف کے یہ ریمارکس غلاموں کی تجارت کے عوض ہرجانے سے متعلق 2023 کی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آئے ہیں، جسے عالمی عدالتِ انصاف کے سابق جج پیٹرک رابنسن نے تیار کیا تھا۔ اس رپورٹ میں سفارش کی گئی تھی کہ برطانیہ کو 14 ممالک کو مجموعی طور پر 18.8 ٹریلین پاؤنڈ ہرجانہ ادا کرنا چاہیے۔\n\n2024 میں سر کیئر سٹارمر کو سمووا میں دولتِ مشترکہ کے ایک اہم اجلاس میں ہرجانے پر بات چیت شروع کرنے کے بڑھتے ہوئے مطالبات کا سامنا کرنا پڑا۔\n\nوزیرِ اعظم کو دولتِ مشترکہ کے ممالک سے یہ وعدہ کرنے پر مجبور ہونا پڑا کہ برطانیہ ہرجانے پر بحث کرے گا، لیکن وزرا نے کہا ہے کہ مالی معاوضے کے بارے میں کوئی بات چیت نہیں ہو گی۔\n\nدولتِ مشترکہ کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس میں سر کیئر نے کہا کہ اس نسل کو غلامی کی تاریخ کے بارے میں بات کرنی چاہیے، لیکن انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ کو ہرجانے کے بارے میں اپنے موقف میں ’مستقبل پر نظر‘ رکھنی چاہیے۔\n\nجب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کے خیال میں اس نسل کو اپنے آبا و اجداد کے افعال کا ذمہ دار ٹھهرایا جا سکتا ہے، تو وزیرِ اعظم نے بی بی سی کو بتایا: ’میرے خیال میں ہماری نسل یہ کہہ سکتی ہے کہ غلاموں کی تجارت اور یہ عمل قابلِ نفرت تھا، اور ہمیں اپنی تاریخ کے بارے میں بات کرنی چاہیے۔ ہم اپنی تاریخ بدل نہیں سکتے، لیکن ہمیں اپنی تاریخ کے بارے میں بات ضرور کرنی چاہیے۔‘\n\nاس دوران چانسلر ریچل ریوز نے کہا کہ برطانیہ غلاموں کی تجارت میں اپنے کردار کے لیے ہرجانہ ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔\n\nہرجانے کا مطالبہ کرنے والے ممالک میں اینٹی گوا اور باربوڈا، بہاماس، بارباڈوس، ڈومینیکا، گریناڈا، ہیٹی، جمیکا، سینٹ کٹس اینڈ نیوس، سینٹ لوشیا، سینٹ ونسنٹ اینڈ گریناڈائنز، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو، گھانا، کینیا، نائیجیریا، بیلیز، گیانا، سورینام اور مونٹسریٹ شامل ہیں۔\n\nبرطانیہ\n\nغلامی\n\nبرطانوی امورِ داخلہ کے ترجمان ضیا یوسف کا کہنا ہے کہ جو کوئی بھی ’تاریخ کو ہمارے خزانے کو خالی کرنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرنا‘ چاہتا ہے، اس کے لیے ’بینک بند اور دروازہ مقفل ہے۔‘\n\nملی کک\n\nبدھ, اپریل 8, 2026 - 19:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">جمیکا میں 22 مارچ 2022 کو لوگ برطانیہ سے غلامی کے ہرجانے کا مطالبہ کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nجب سلطنت برطانیہ نے غلامی ختم کرنے کا اعلان کیا\n\nافریقیوں کا غلامی سے اقتدار تک کا کٹھن سفر\n\n’بغاوت کی منصوبہ بندی‘، امریکہ 33 کروڑ ڈالر ہرجانہ دے: ایرانی عدالت\n\nآزادی کے بعد غلامی\n\nSEO Title:\n\nبرطانیہ اے ٹی ایم نہیں: غلامی کا ہرجانہ مانگنے والے ممالک کے ویزے بند کرنے کا منصوبہ\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/news/uk/politics/reform-uk-reparations-slavery-zia-yusuf-b2952849.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "برطانیہ اے ٹی ایم نہیں: غلامی کا ہرجانہ مانگنے والے ممالک کے ویزے بند کرنے کا منصوبہ"
}