{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreidvkpvsupxdiohzjjfpu3w5e4dz7nfari267ll3s4etufy2ybg5vm",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3miwtfcekkq72"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreic4xf5o2lredg4yphzibz5h6rxjcoolfvauwoeuupgtmchhc3cxbu"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 72883
},
"path": "/node/185400",
"publishedAt": "2026-04-07T16:36:20.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"پاک افغان تعلقات",
"افغانستان",
"پاکستان",
"امن مذاکرات",
"دہشت گردی",
"امیر خان متقی",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"ایشیا",
"news"
],
"textContent": "**افغانستان میں طالبان حکومت کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے منگل کو کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ اب تک مثبت اور تعمیری مذاکرات ہوئے ہیں اور امید ہے کہ معمولی اختلافات اس عمل کی پیشرفت میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔**\n\nامیر خان متقی نے یہ بات کابل میں چین کے سفیر ژاو شینگ کے ساتھ ملاقات کے دوران کہی۔\n\nملاقات میں دوطرفہ تعاون، علاقائی صورتحال اور چین کے شہر اُرمچی میں جاری مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔\n\nافغان وزارت امور خارجہ کے نائب ترجمان حافظ ضیا احمد تکل کے مطابق، مولوی امیر خان متقی نے افغانستان اور چین کے درمیان تعلقات کو مثبت قرار دیتے ہوئے ارمچی مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری پر چینی حکام کا شکریہ ادا کیا۔\n\nانہوں نے سعودی عرب، ترکی، قطر اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے ثالثی کی کوششوں کو بھی سراہا۔\n\nافغان وزیر خارجہ نے کہا کہ اب تک ہونے والی بات چیت حوصلہ افزا رہی ہے اور توقع ہے کہ معمولی نوعیت کی تشریحات یا اختلافات مذاکرات کے عمل کو متاثر نہیں کریں گے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاس موقع پر چین کے سفیر ژاو شینگ نے ارمچی مذاکرات کے حوالے سے تازہ ترین معلومات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک افغانستان اور پاکستان کے درمیان اعتماد سازی کے فروغ کے لیے کوشاں ہے اور یہ عمل غیر جانبداری اور تعاون کی بنیاد پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔\n\nانہوں نے کہا کہ علاقائی جغرافیائی سیاسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان اعتماد سازی، خیر سگالی اور کشیدگی سے پاک تعلقات کو فروغ دیا جائے۔\n\nملاقات کے اختتام پر مولوی امیر خان متقی نے واضح کیا کہ افغان حکومت کا مؤقف دفاعی نوعیت کا ہے اور اپنے حدود کے تحفظ کو اپنا مسلمہ حق سمجھتی ہے، تاہم باہمی احترام اور افہام و تفہیم کی بنیاد پر مذاکرات کے تسلسل پر یقین رکھتی ہے۔\n\nپاک افغان تعلقات\n\nافغانستان\n\nپاکستان\n\nامن مذاکرات\n\nدہشت گردی\n\nامیر خان متقی\n\nافغان وزیر خارجہ امیر متقی نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ اب تک مثبت اور تعمیری مذاکرات رہے ہیں۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nمنگل, اپریل 7, 2026 - 21:15\n\nMain image:\n\n> <p>افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی 12 اکتوبر 2025 کو نئی دہلی میں افغانستان کے سفارت خانے میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں (ارون سنکر / اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nپاکستان، افغانستان امن بات چیت آگے بڑھ رہی ہے: چین\n\nپاکستان، افغانستان کے چین میں ’ورکنگ لیول مذاکرات‘ کی تصدیق\n\nپاکستان اور افغانستان کے اورمچی میں مذاکرات: رپورٹ\n\nپشاور میں ’پائیدار امن‘ کے لیے پاکستان افغانستان امن جرگہ\n\nSEO Title:\n\nپاکستان افغانستان مذاکرات: معمولی اختلافات کو رکاوٹ نہیں بننا چاہیے: متقی\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "پاکستان افغانستان مذاکرات: معمولی اختلافات کو رکاوٹ نہیں بننا چاہیے، متقی"
}