{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreifatijvwkw65siyc4tssbb56o4r7tdwxbjesuoz4az2lyiulr4py4",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mirsrrermdu2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreiblwizbqd3ejvnt3yevgfwv2rdjd7xcxmd5hj6ckwp5fm3pcsme5a"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 69472
  },
  "path": "/node/185371",
  "publishedAt": "2026-04-05T05:41:00.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "بالی وڈ",
    "بالی وڈ اداکار",
    "اداکاری",
    "بھارتی سینیما",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "فلم",
    "news"
  ],
  "textContent": "**بولی وڈ کے معروف اداکار وکرانت ماسے نے حال ہی میں ٹیلی ویژن انڈسٹری میں بیتے اپنے ابتدائی ایام کی یادیں تازہ کرتے ہوئے ان کٹھن معمولات اور آزمائشوں پر روشنی ڈالی، جنہوں نے ان کے فنی سفر کے خدوخال مرتب کیے۔**\n\n’اَن فلٹرڈ بائے سمدیش‘ نامی پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے وکرانت نے ان انتہائی کٹھن حالات کار کا بے باکی سے احوال بیان کیا جو کبھی ٹی وی اداکاروں کے لیے ایک معمول سمجھے جاتے تھے۔\n\nسیٹ پر طویل دورانیے تک کام کرنے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ان کے ٹیلی ویژن کیریئر کے ابتدائی دور میں کام کے اوقات جسمانی تھکن اور اذیت کا باعث بن جاتے تھے۔\n\nوکرانت نے بتایا ’ان دنوں فن کار 18 سے 20 گھنٹے تک شوٹنگ کرتے تھے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب مجھے بغیر رکے مسلسل 110 گھنٹے شوٹنگ کرنا پڑی۔‘\n\nانہوں نے مزید بتایا کہ کس طرح پروڈکشن کے اس افراتفری بھرے ماحول میں اداکاروں کا اپنے وقت یا کام کے بوجھ پر کوئی اختیار نہیں رہتا تھا۔\n\nان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس مجھے بطور ’فلر‘ استعمال کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔\n\nدن کی شفٹیں رات کی شفٹوں میں مدغم ہو رہی تھیں۔ وقت کا کوئی احساس ہی باقی نہ رہا تھا۔\n\nانہوں نے کہا دلچسپ بات یہ ہے کہ جب بالآخر پیک اپ ہوا تو وہ بھی ان کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ ایک اداکار جو صبح 10 بجے سیٹ پر آئے شام کو ناراض ہو کر چلے گئے۔\n\nاس جان لیوا اور کٹھن روٹین کے باوجود وکرانت نے اعتراف کیا کہ ٹیلی ویژن نے انہیں نسبتاً کم عمری میں ہی خاصی حد تک مالی استحکام بخشا۔\n\nانہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’میں نے ٹی وی سے کافی پیسہ کمایا۔ 24 سال کی عمر میں، میں نے اپنا پہلا گھر خریدا۔\n\n’مگر اس کے ساتھ ساتھ ٹی وی پر وہ سارا فرسودہ اور دقیانوسی مواد بھی چل رہا تھا اور مجھے محسوس ہوا کہ مجھے اس دنیا سے نکل کر سینیما میں قسمت آزما کر دیکھنی چاہیے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانہوں نے کہا اگرچہ اس دور میں ان کی آمدن میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا، لیکن کام کے اس کٹھن طرز زندگی نے ان کی ذہنی صحت کو بری طرح متاثر کرنا شروع کر دیا تھا۔\n\n’وقت گزرنے کے ساتھ انہیں اس بات کا ادراک ہوا کہ تخلیقی اور جذباتی سطح پر خود کو برقرار رکھنے کے لیے محض مالی ترقی ہی کافی نہیں۔‘\n\nبالآخر وکرانت نے فلموں کی جانب قدم بڑھایا، جہاں انہوں نے مختلف اصناف میں اپنی جاندار اور باریک بین اداکاری کے بل بوتے پر ایک منفرد پہچان بنا لی۔\n\nبالی وڈ\n\nبالی وڈ اداکار\n\nاداکاری\n\nبھارتی سینیما\n\nوکرانت ماسے کے مطابق ان کے ٹی وی کیریئر کے ابتدائی دور میں کام کے اوقات جسمانی تھکن اور اذیت کا باعث بن جاتے تھے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nاتوار, اپریل 5, 2026 - 11:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">بولی وڈ اداکار وکرانت ماسے سات جون، 2022 کو ممبئی میں اپنی آنے والی ہندی فلم فرانزک کی تشہیر کے دوران تصاویر کے لیے پوز دے رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nفلم\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nپاکستان مخالف بیانیہ، بالی وڈ کی کامیابی کا اصل راز؟\n\nجنگی نعروں سے رومانوی تھرلرز تک: بالی وڈ میں کیا چل رہا ہے؟\n\nاے آر رحمان کے بالی وڈ میں مذہبی تعصب کے بیان پر نئی بحث\n\nسال 2026: بالی وڈ کی ہنڈیا میں کیا کچھ پک رہا ہے؟\n\nSEO Title:\n\nجب اداکار وکرانت ماسے نے مسلسل 110 گھنٹے شوٹنگ کی\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "جب اداکار وکرانت ماسے نے مسلسل 110 گھنٹے شوٹنگ کی"
}