{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreieeijlz4ybddvfzjnik3dadqszpwjj6hiitsxc6orchm5trbj4q54",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mioaqp7lhmn2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreifesf6aaszzruzaww4qhm53fdgq23ip52ismpo6sb34q2avx2j6ja"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 149739
},
"path": "/node/185360",
"publishedAt": "2026-04-04T12:12:15.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"افغانستان",
"زلزلہ",
"اموات",
"افغان طالبان",
"اے پی",
"ایشیا",
"news"
],
"textContent": "**’زلزلہ آنے کے بعد چند منٹ تک ان کی چیخیں سنائی دیتی رہیں، پھر اچانک خاموشی چھا گئی۔‘**\n\nیہ کہنا تھا بدقسمت خاندان کے پڑوسی اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے والے محب اللہ نیازی کا جنہوں نے ہفتے کو اے پی کو بتایا کہ شمالی افغانستان میں گذشتہ شب آنے والے 5.8 شدت کے زلزلے کے بعد کابل کے نواح میں جان سے جانے والے آٹھ افراد ایک ایسے پناہ گزین خاندان سے تعلق رکھتے تھے جو حال ہی میں ایران سے واپس آیا تھا۔\n\nاس خاندان میں صرف ایک زندہ بچ جانے والا تقریباً تین سالہ بچہ زخمی حالت میں کابل کے ہسپتال میں زیر علاج ہے۔\n\nافغان حکومت کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت نے ہفتے کو بتایا کہ زلزلے سے اموات کی مجموعی تعداد 12 ہے جبکہ مزید 4 افراد زخمی ہوئے۔\n\nان کے مطابق پانچ گھر مکمل تباہ اور 33 کو شدید نقصان پہنچا، جس سے کابل، پنجشیر، لوگر، ننگرہار، لغمان اور نورستان کے 40 خاندان متاثر ہوئے۔\n\nکابل کے قریب جان سے جانے والا خاندان ان لاکھوں افغان مہاجرین میں شامل تھا جو 2023 میں ایران اور پاکستان میں کارروائیوں کے بعد واپس لوٹے ہیں۔\n\nتین نومبر 2025 کو افغانستان کے ایک گاؤں میں زلزلے سے متاثرہ گھروں میں امدای کارروائی کا منظر (اے ایف پی)\n\n\n\n\nیہ خاندان 15 دن قبل ہی افغانستان آیا تھا اور محب اللہ نیازی کے گھر کے قریب ایک عارضی پناہ گاہ میں مقیم تھا۔\n\nگزشتہ چند دنوں کی شدید بارشوں کے باعث زمین نرم ہو چکی تھی، جس سے ملک کے مختلف حصوں میں سیلاب بھی آئے۔ زلزلہ آنے پر ایک دیوار گر کر اس خاندان پر آ گری۔\n\nمحب اللہ نیازی نے بتایا: ’میری بیٹی نے مجھے آواز دی کہ دیوار ان پر گر گئی ہے۔ ہم سب بھاگے، لیکن بڑے بڑے پتھر تھے۔ ہم نے پوری کوشش کی، مگر یہ چند افراد کا کام نہیں تھا۔‘\n\nپڑوسی فوری طور پر مدد کے لیے پہنچے اور ملبہ ہٹانے کی کوشش کی، جبکہ مقامی طالبان پولیس کو اطلاع دی گئی، جس کے بعد امدادی ٹیمیں اور ایمبولینسز پہنچیں۔\n\nکم عمر بچے کو زخمی حالت میں ملبے سے نکال لیا گیا اور ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ وزارت صحت کے ترجمان شرافت زمان کے مطابق بچے کے سر پر شدید چوٹ آئی ہے اور اس کا علاج جاری ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nتاہم خاندان کی 12 سے 23 سال کی عمر کی چار بیٹیاں اور دو بیٹے اور ان کے والدین جان سے گئے اور امدادی کارکن صرف ان کی لاشیں نکال سکے۔\n\nمحب اللہ نیازی نے بتایا کہ انہوں نے ایک دن پہلے اس خاندان کو اپنے گھر میں ٹھہرایا تھا اور زلزلے سے آدھا گھنٹہ پہلے بھی انہیں بارش اور سردی سے بچنے کے لیے اپنے گھر آنے کی پیشکش کی تھی، لیکن وہ نہیں آئے۔\n\nیورو-میڈیٹرینین سیسمولوجیکل سینٹر اور امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق جمعے کی رات آنے والے اس زلزلے کا مرکز ہندوکش پہاڑی سلسلے میں تھا، جو شمالی شہر قندوز سے تقریباً 150 کلومیٹر اور کابل سے 290 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔\n\nافغانستان دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں زلزلے کثرت سے آتے ہیں، اور حالیہ برسوں میں ہزاروں افراد اس قدرتی آفت میں جان گنوا چکے ہیں۔\n\nگذشتہ سال اگست میں مشرقی افغانستان کے ایک دور دراز پہاڑی علاقے میں 6.0 شدت کے زلزلے سے 2200 سے زائد افراد مارے گئے تھے جبکہ نومبر میں شمالی صوبہ سمنگان میں 6.3 شدت کے زلزلے سے کم از کم 27 افراد لقمہ اجل بن گئے اور 950 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔\n\nاسی طرح سات اکتوبر 2023 کو مغربی افغانستان میں آنے والے 6.3 شدت کے زلزلے اور اس کے آفٹر شاکس نے ہزاروں جانیں لے لی تھیں۔\n\nافغانستان\n\nزلزلہ\n\nاموات\n\nافغان طالبان\n\nجمعے کی رات آنے والے 8 شدت کے زلزلے کا مرکز ہندوکش پہاڑی سلسلے میں تھا۔\n\nاے پی\n\nہفتہ, اپریل 4, 2026 - 17:00\n\nMain image:\n\n> <p>تین نومبر 2025 کو افغانستان کے ایک گاؤں میں زلزلے سے متاثرہ گھروں میں امدای کارروائی کا منظر (اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nپاکستان اور افغانستان کے متعدد علاقوں میں 5.8 شدت کا زلزلہ\n\nشمالی افغانستان میں 6.3 شدت کا زلزلہ، 20 اموات، 534 زخمی\n\nافغانستان زلزلہ: اموات کی تعداد 2200 سے متجاوز، امداد جاری\n\nپاک افغان رابطہ: زلزلہ متاثرین کے لیے 105 ٹن امدادی سامان روانہ\n\nSEO Title:\n\nافغانستان زلزلہ: ایران سے لوٹنے والے پناہ گزین خاندان کے آٹھ افراد مرنے والوں میں شامل\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "افغانستان زلزلہ: ایران سے لوٹنے والے پناہ گزین خاندان کے آٹھ افراد مرنے والوں میں شامل"
}