{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreia6wjsme6mg36zef2ro6magyyqohr7fzreb4tmyuagktrn4jvzcdi",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3minfvyjtlg72"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreigaxruvim2dsr22nyxxi5ftxkci3pwvov7r3mgbaup27z2gzqqvae"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 87008
  },
  "path": "/node/185341",
  "publishedAt": "2026-04-04T02:17:12.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "پنجاب",
    "ماحول",
    "ماحول دوست ٹیکنالوجی",
    "ماحولیات",
    "فضائی آلودگی",
    "لاہور",
    "ارشد چوہدری",
    "video"
  ],
  "textContent": "**پنجاب کے محکمہ تحفظ ماحولیات کے مطابق سموگ کی موجودگی کے باوجود صوبے میں گذشتہ ایک سال کے دوران فضائی آلودگی نمایاں حد تک کم ہوئی ہے اور ایئرکوالٹی انڈیکس اوسطاً 150 پوائنٹس سے کم ہو کر 88 پوائنٹس پر آ گیا ہے۔**\n\nحکام کے مطابق یہ بہتری صوبائی حکومت کے مؤثر اقدامات اور ماحول دوست پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔\n\nمحکمے کا کہنا ہے کہ آلودگی میں کمی لانے کے لیے پانچ بڑے اقدامات کے لیے سالانہ بجٹ کو 500 ارب روپے سے بڑھا کر 1500 ارب روپے کر دیا گیا۔\n\nاسی وجہ سے فضائی آلودگی کی اوسط سطح پانچ سالوں کے مقابلے میں سب سے کم ریکارڈ کی گئی ہے۔\n\nگذشتہ برسوں میں لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں اکتوبر سے فروری تک شدید سموگ نے شہریوں کی زندگی مشکل بنا دی تھی حتیٰ کہ سانس لینا بھی دشوار ہو جاتا تھا۔\n\nانہی حالات کے پیش نظر محکمہ ماحولیات نے اس سال سموگ سیزن میں واٹر گنز کے ذریعے سپرے جیسے فوری اقدامات کیے تاکہ ہوا میں موجود آلودہ ذرات کو دبایا جا سکے۔\n\nانسداد سموگ سکواڈ کا ایک اہلکار 17 فروری، 2025 کو لاہور کی ایک یونیورسٹی کی چھت پر نصب ایئر کوالٹی مانیٹرنگ سٹیشن کا جائزہ لے رہا ہے (اے ایف پی)\n\n\n\n\nڈائریکٹر جنرل محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب ڈاکٹر عمران حامد نے بتایا کرونا کے دنوں میں فضائی آلودگی 90 پوائنٹس تک ریکارڈ کی گئی، لیکن اس کے بعد پانچ سال مسلسل اضافے کے باعث 150 پوائنٹس کی خطرناک حد تک پہنچ گئی، جس کے بعد پنجاب حکومت نے آلودگی پر قابو پانے کی خاطر خصوصی اقدامات کے بجٹ میں 188 فیصد تک اضافہ کیا۔‘\n\nوہ کہتے ہیں کہ آلودگی کم کرنے کے لیے پانچ بڑے اقدامات کیے گئے۔\n\n’پہلے اینٹوں کے سینکڑوں بھٹے زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کیے گئے جب کہ قانون کی خلاف ورزی پر صوبے میں 120 بھٹے مسمار کر دیے گئے۔‘\n\n\nاسی سلسلے میں ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی گئی جس نے فیکٹریوں اور فصلوں کی باقیات جلانے والوں کے خلاف کارروائیاں کیں۔\n\nڈاکٹر عمران حامد کے مطابق ’اس کے علاوہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی ٹیسٹنگ کی گئی اور صرف لاہور میں تین لاکھ گاڑیاں رجسٹرڈ ہوئیں، جن کے ٹیسٹ کیے گئے اور جو فیل ہوئیں انہیں سڑکوں پر آنے سے روکا گیا۔‘\n\nانہوں نے یہ بھی بتایا کہ فیکٹریوں میں ایمیشن کنٹرول سسٹم نصب کیے گئے اور چمنیوں کی صورتحال کی سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے 24 گھنٹے مانیٹرنگ کی جاتی ہے۔\n\nان کے مطابق ’ہم نے دن رات ہنگامی بنیادوں پر فضائی آلودگی میں اضافہ روکنے کے لیے چیکنگ کا سخت نظام قائم کیا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\n’تعمیراتی کاموں کے دوران گرد پر قابو رکھنے کے لیے این او سی لازمی قرار دیا گیا ہے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا ’کوڑے کو آگ لگانے والوں کے خلاف سیف سٹی سے مل کر کارروائیاں کی گئیں۔ یہی وجہ ہے عالمی بینک سمیت تمام متعلقہ عالمی ادارے پنجاب حکومت کے اقدامات کو مؤثر سمجھتے ہوئے ان کی تعریف کر رہے ہیں۔‘\n\nڈاکٹر عمران حامد نے بتایا ’ورلڈ بینک نے اس سال تحفظ ماحولیات کی عالمی کانفرنس لاہور میں کروانے کا کہا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک ہمارے ماڈل کو اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔\n\n’اسی طرح ہمارے دوسرے صوبے بھی اس ٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل کرنے کے لیے مسلسل رابطے میں ہیں۔‘\n\nفضائی آلودگی میں کمی کے اعدادوشمار کے حوالے سے انہوں نے کہا ’ان اقدامات سے لاہور میں 13 فیصد جب کہ سموگ کے سیزن میں پنجاب میں فضائی آلودگی میں 33 فیصد کمی ہوئی ہے جو ایک بڑی تبدیلی سمجھی جارہی ہے۔‘\n\nمستقبل کی حکمت عملی کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’حکومت پنجاب نے اب الیکٹرک بسوں، گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کے استعمال کو فروغ دینے کی جو پالیسی بنائی ہے اس سے آنے والے دنوں میں ماحولیاتی آلودگی میں مزید کمی یقینی ہے۔‘\n\nپنجاب\n\nماحول\n\nماحول دوست ٹیکنالوجی\n\nماحولیات\n\nفضائی آلودگی\n\nلاہور\n\nحکام کے مطابق سموگ کے باوجود گذشتہ ایک سال میں پنجاب میں فضائی آلودگی 150پوائنٹس سے کم ہو کر 88پوائنٹس تک آ چکی ہے، لیکن یہ کیسے ہوا؟\n\nارشد چوہدری\n\nہفتہ, اپریل 4, 2026 - 07:45\n\nMain image:\n\nماحولیات\n\njw id:\n\n4XymYuix\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\n’سانس لینے کا حق‘:ماحولیاتی آلودگی کے خلاف پاکستانی شہریوں کی جدوجہد\n\nفضائی آلودگی: اسلام آباد میں دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی\n\nفضائی آلودگی: دہلی میں دو سال میں بیماری کے دو لاکھ سے زائد کیسز\n\nلاہور: فضائی آلودگی قابل قبول سطح سے 80 فیصد بڑھ گئی\n\nSEO Title:\n\nپنجاب میں فضائی آلودگی پانچ سال کی کم ترین سطح پر کیسے آئی؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "پنجاب میں فضائی آلودگی پانچ سال کی کم ترین سطح پر کیسے آئی؟"
}