{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreic2tvl7qcbkz5isn3bwcymkp3nnzb4m7i36mwkxu6w47phdltayim",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mimyhsgo72z2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreichumkhbgtgapjgs3al2i7zhb7b7op7sh5du2rovdafhbvwxkooxu"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 121567
},
"path": "/node/185354",
"publishedAt": "2026-04-03T17:05:02.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"ایران جنگ",
"ترسیلات",
"بیرون ملک پاکستانی",
"ملازمتیں",
"خلیجی ممالک",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"معیشت",
"news"
],
"textContent": "**وزارت برائے بیرون ملک پاکستانی اور ہیومن ریسورس ڈیویلپمنٹ کے سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری نے رواں ہفتے بتایا ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ کے ممالک میں اپنی افرادی قوت کی برآمد بڑھانے کے لیے نئی حکمت عملی بنا رہا ہے۔**\n\nان کا کہنا تھا کہ مارچ میں پروازوں میں خلل اور ایران جنگ کے سبب پیدا ہونے والی علاقائی کشیدگی کے باعث دیگر ممالک جانے والے پاکستانی ورکرز کی تعداد میں 10,000 کی کمی آئی ہے۔\n\nخلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر اور عمان لاکھوں پاکستانی ورکرز کے لیے پسندیدہ مقامات ہیں۔ ہر سال ہزاروں پاکستانی ماہر اور غیر ماہر افراد ان ممالک میں جا کر ملازمت کرتے ہیں۔\n\nامریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر حملے اور اس کے بعد تہران کی جانب سے خلیجی ریاستوں اور اسرائیل میں امریکی فوجی اڈوں اور دیگر تنصیبات پر جوابی حملوں نے پورے خطے کو انتشار میں ڈال دیا ہے۔\n\nسیکریٹری ندیم اسلم چوہدری نے جمعرات کو عرب نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ ابھی تک اس جنگ کے باعث پاکستانی مزدوروں کے بڑے پیمانے پر خطے سے انخلا نہیں ہوا۔\n\nانہوں نے بتایا کہ وزارت ہر ماہ تقریباً 60,000 افراد کی روانگی کے انتظامات کرتی ہے، جبکہ مارچ میں یہ تعداد 50,000 تک گر گئی۔ انہوں نے اس کمی کا سبب نہ صرف علاقائی کشیدگی بلکہ جنگ کے سبب پروازوں کی محدود دستیابی اور لاجسٹک رکاوٹوں کو بھی قرار دیا۔\n\nاسلم چوہدری نے کہا: ’اس بحران کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ہم حکومت کی اعلیٰ سطح کی مشاورت کے ذریعے فعال طور پر نئی حکمت عملی تیار کر رہے ہیں۔\n\n’ہم اس وقت ان شعبوں میں ابھرتے ہوئے مواقع کی نشاندہی کر رہے ہیں جیسے تعمیرات اور صحت کی دیکھ بھال، جو بحران کے بعد بڑھ گئے ہیں۔‘\n\nخلیجی ممالک سے اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم ملکی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کو فروری میں 3.3 ارب ڈالر کی بیرون ملک ترسیلات موصول ہوئیں، جن میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سب سے بڑے حصہ دار تھے۔\n\nاسلم چوہدری نے کہا کہ جنگ کے اقتصادی اثرات کا واضح اندازہ آنے والی ترسیلات کے اعداد و شمار سے ہوگا۔\n\nانہوں نے کہا: ’اپریل کی ترسیلات کے اعداد و شمار اس صورت حال کے حقیقی اقتصادی دائرہ کار کو ظاہر کریں گے، لیکن مجھے امید ہے کہ خلل قابلِ انتظام ہوگا۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ ’اگرچہ معمولی کمی کی توقع ہے، ہماری تشخیص کے مطابق ترسیلات کا بہاؤ مستحکم رہے گا۔‘\n\nانہوں نے بتایا کہ پچھلے سال 763,000 پاکستانی ورکرز خلیجی ممالک گئے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سال کے ہدف میں ترمیم کی ضرورت ہو سکتی ہے۔\n\nبقول اسلم چوہدری: ’اگرچہ اس سال ہمارا ابتدائی ہدف 800,000 تھا، لیکن موجودہ جغرافیائی و سیاسی صورت حال میں ان اہداف کی سٹریٹجک انداز میں دوبارہ ترتیب ضروری ہے۔‘\n\n**’ہم پر شدید اثر پڑا‘**\n\nصنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ افرادی قوت کی برآمد میں کمی خطے میں محسوس کی جا رہی ہے، خاص طور پر ایسے شعبوں میں جو سفر میں رکاوٹوں کے باعث متاثر ہوتے ہیں، جیسے ہوٹلوں وغیرہ کی صنعت۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nسعودی عرب، قطر، عمان اور متحدہ عرب امارات میں ورکرز بھیجنے والی پاکستانی کمپنی ’جان محمد اینڈ سنز‘ کے چیئرمین عصام بیگ نے کہا کہ بحران کا اثر اہم مگر وقتی ہے۔\n\nانہوں نے کہا: ’یہ ہم پر شدید اثر ڈال رہا ہے۔ زیادہ تر مزدور جو ہم پاکستان سے بھرتی کرتے ہیں وہ مشرق وسطیٰ جا رہے ہیں اور اس وقت (جنگ کا) مرکز مشرق وسطیٰ ہے۔‘\n\n1943 سے افرادی قوت برآمد کرنے والی اس کمپنی نے گذشتہ چار سے پانچ سال میں 15,000 سے 20,000 مزدور بھرتی کر کے مشرق وسطیٰ بھیجے۔ ان کی کمپنی پہلے زیادہ تر ہوٹل و ضیافت کے شعبے کے لیے بھرتی کرتی تھی۔\n\nعصام بیگ نے مزید کہا: ’ظاہر ہے، چونکہ یہاں سیاح نہیں آ رہے، ہوٹل کی صنعت واقعی کمزور ہو گئی ہے۔‘\n\nتاہم ان کا ماننا ہے کہ جنگ ختم ہونے کے بعد یہ صنعت واپس آئے گی۔\n\nانہوں نے کہا: ’میں اس بارے میں بہت پر امید ہوں کہ یہ عارضی مرحلہ ہے۔‘\n\nانہوں نے حکومت کا بھی شکریہ ادا کیا کہ وہ بحران کے دوران ان کی کمپنی کو سپورٹ کر رہی ہے۔\n\nجب ان سے پوچھا گیا کہ جنگ کے دوران ان کی کمپنی کون سے دیگر مواقع تلاش کر رہی ہے، تو انہوں نے امید ظاہر کی کہ ’تعمیراتی صنعت دوبارہ فروغ پائے گی۔‘\n\nعصام بیگ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں ورکرز بھیجنے والے دیگر ممالک بھی اس جنگ کے اثرات محسوس کر رہے ہیں۔\n\nانہوں نے نتیجہ اخذ کیا: ’جو اعداد و شمار کم ہوئے ہیں وہ صرف پاکستان سے نہیں بلکہ پورے برصغیر سے ہیں، جہاں سے یہ ورکرز بھرتی کیے جاتے ہیں۔‘\n\nایران جنگ\n\nترسیلات\n\nبیرون ملک پاکستانی\n\nملازمتیں\n\nخلیجی ممالک\n\nوزارت برائے بیرون ملک پاکستانی اور ہیومن ریسورس ڈیویلپمنٹ کے سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری نے عرب نیوز کو بتایا ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ کے ممالک میں اپنی افرادی قوت کی برآمد بڑھانے کے لیے نئی حکمت عملی بنا رہا ہے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعہ, اپریل 3, 2026 - 21:45\n\nMain image:\n\n> <p>22 مارچ 2023 کو دبئی میں ایک شخص پاکستانی ریستوران کے سامنے سے گزر رہا ہے (کریم صاحب / اے ایف پی)</p>\n\nمعیشت\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nایران جنگ: سب سے پہلے کس ملک میں ایندھن ختم ہو گا اور کیوں؟\n\nیوٹیوب پر پاکستانی مواد کا 60 فیصد واچ ٹائم بیرون ملک سے\n\nمنشیات، پاکستانی نوجوان اور خلیجی ترسیلاتِ زر\n\nSEO Title:\n\nایران جنگ کے اثرات: پاکستان کا افرادی قوت کی برآمد بڑھانے کی نئی حکمت عملی پر غور\n\ncopyright:\n\norigin url:\n\nhttps://www.arabnews.pk/node/2638613/pakistan\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "ایران جنگ کے اثرات: پاکستان کا افرادی قوت کی برآمد بڑھانے کی نئی حکمت عملی پر غور"
}