{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreial3iuqavx72jufhc3agp44db3z5n2jsl5jdnpv5it5n36wonf76u",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mikbdietfdi2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreif7vror7ji6zp5b23gvvqh4zecqgws3kofsyqe3dx2tc2rxf7mv7y"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 104865
  },
  "path": "/node/185329",
  "publishedAt": "2026-04-02T08:48:46.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "صحرائے تھر",
    "تھرپارکر",
    "کوئلہ کان",
    "بجلی",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "معیشت",
    "news"
  ],
  "textContent": "**پاور ڈویژن نے بدھ کو بتایا کہ پاکستان میں تھر کے علاقے میں کوئلے کی کان کنی کے عمل کو ڈیزل سے بجلی پر منتقل کیا جا رہا ہے، جس سے سالانہ ڈھائی سے تین کروڑ ڈالر کی بچت متوقع ہے اور بجلی پیدا کرنے کی لاگت بھی کم ہو جائے گی۔**\n\nیہ اصلاحات اس وقت سامنے آئی ہیں جب پاکستان عالمی سطح پر توانائی کے شعبے پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور غیر ملکی زرمبادلہ کی کمی کے پیش نظر ایندھن کی درآمدی لاگت کو کم کرنے اور توانائی کے شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔\n\nپاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے کان کنی کے آپریشنز میں استعمال ہونے والے درآمدی ڈیزل پر انحصار نمایاں طور پر کم ہو جائے گا، جس سے پیداواری لاگت اور بجلی کے نرخ دونوں میں کمی آئے گی۔\n\nپاور ڈویژن نے اپنے بیان میں کہا کہ ’اس اقدام سے ڈیزل کی کھپت میں واضح کمی کی بدولت بھاری قومی بچت ہونے کی توقع ہے، جس سے درآمدی اخراجات میں کٹوتی اور بجلی کی لاگت میں کمی آئے گی۔‘\n\nاس اصلاحی اقدام سے ڈیزل کی مد میں یومیہ تقریباً ڈھائی کروڑ روپے (89 ہزار ڈالر) کی بچت متوقع ہے، جب کہ کوئلے کی پیداواری لاگت میں تقریباً 0.7 ڈالر فی ٹن کمی آئے گی۔\n\nپاور ڈویزن کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ ڈیزل سے چلنے والے کان کنی کے آپریشنز، بشمول پانی نکالنے کے عمل میں، فی الحال روزانہ دو لاکھ سے ڈھائی لاکھ لیٹر ڈیزل استعمال ہوتا ہے، جس میں سے صرف واٹر مینیجمنٹ کے لیے تقریباً 35 ہزار لیٹر استعمال کیا جاتا ہے۔\n\nمنصوبے کے تحت، تھر بلاک ون اور بلاک ٹو میں کان کنی کے آپریشنز گرڈ کی بجلی سے چلنے والے بنیادی ڈھانچے پر منتقل ہو جائیں گے، جس کے لیے ترسیل اور گرڈ سسٹمز میں تقریباً 5.3 ارب روپے (1.9 کروڑ ڈالر) کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاس سے ڈیزل پر مبنی نظاموں کی جگہ نیشنل گریڈ سے کان کنی کے مقامات تک تقریباً 60 میگاواٹ بجلی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔\n\nپاور ڈویژن کا کہنا کہ کان کنی کے آپریشنز میں استعمال ہونے والی بجلی کی لاگت تقریباً 33 سینٹ فی کلو واٹ آور سے کم ہو کر 13 سینٹ ہونے کی توقع ہے، جو 60 فیصد سے زائد کی کمی ہے۔\n\nاس تبدیلی سے کاربن کے اخراج میں سالانہ تقریباً 80 ہزار ٹن کمی کی بھی توقع ہے، جس کے ساتھ ڈیزل سے چلنے والی کان کنی کی گاڑیوں کو الیکٹرک متبادل پر منتقل کرنے کے مزید منصوبے بھی شامل ہیں۔\n\nحکومت نے کہا کہ اس اقدام سے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم ہو گا اور پاور سیکٹر کی مجموعی کارکردگی میں بہتری آئے گی، جب کہ بچت کے فوائد بجلی کی قیمتوں میں کمی کے ذریعے صارفین تک پہنچائے جانے کی توقع ہے۔\n\nصحرائے تھر\n\nتھرپارکر\n\nکوئلہ کان\n\nبجلی\n\nپاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے کان کنی کے آپریشنز میں استعمال ہونے والے درآمدی ڈیزل پر انحصار میں نمایاں کمی ہو گی۔ پیداواری لاگت اور بجلی کے نرخ دونوں میں کمی آئے گی۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعرات, اپریل 2, 2026 - 16:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">23 مئی 2018 کو لی گئی اس تصویر میں صوبہ سندھ کے ضلع تھرپارکر کے صحرا میں اسلام کوٹ اوپن پٹ کول مائننگ سائٹ دیکھی جا سکتی ہے (اے ایف پی)</p>\n\nمعیشت\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nسکھر میں اروڑ کا تاریخی مندر بچانے کے لیے کان کنی پر پابندی\n\nمعیشت اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات کر رہے ہیں: وفاقی وزرا\n\nوزیر اعظم توانائی کے شعبے میں مزید ریلیف کا اعلان کریں گے: وزیر خزانہ\n\nSEO Title:\n\nتھر میں کان کنی کو ڈیزل سے بجلی پر منتقل کیا جا رہا ہے: پاور ڈویژن\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "تھر میں کان کنی کو ڈیزل سے بجلی پر منتقل کیا جا رہا ہے: پاور ڈویژن"
}