{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreico3gynpj3aysz4vojwqhldchas5n4qnyqygwbhzbrjt3w6z3sbmm",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mihdfvaw4yr2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreifsaqjes4d55oxcb7xrn5cbfnr6gkrrkzoad2xc2jh3gv5ug2gqny"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 233074
},
"path": "/node/185321",
"publishedAt": "2026-04-01T17:09:33.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"پاک افغان سرحد",
"ڈیورنڈ لائن",
"ٹی ٹی پی",
"افغان طالبان",
"طالبان حکومت",
"پاکستان فوج",
"وزارت اطلاعات",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"ایشیا",
"news",
"@FactCheckerMoIB"
],
"textContent": "**پاکستان کی وفاقی وزارت اطلاعات نے بدھ کو پاکستان افغانستان سرحد پر خاردار تاریں ہٹانے کے دعوؤں کو من گھڑت اور حقائق سے مبرا قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔**\n\nبدھ کی رات ایکس پر وزارت اطلاعات کے حقائق کی جانچ کرنے والے اکاؤنٹ (@FactCheckerMoIB) پر ایک پوسٹ میں ’افغان طالبان حکومت اور انڈین خفیہ ایجنسی را کے ماؤتھ پیس اکاؤنٹس کے جعلی دعوؤں‘ کی مذمت کی گئی۔\n\nپوسٹ میں کہا گیا کہ پاکستان افغانستان سرحد، جسے ڈیورنڈ لائن بھی کہا جاتا ہے، 2640 کلومیٹر طویل ہے اور پاکستان اس کی حفاظت کرتا ہے۔\n\nوزارت اطلاعات کی پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ ’طالبان حکومت دہشت گردوں، سمگلروں اور جرائم پیشہ مافیا کے ساتھ مل کر دراندازی کرنے کے لیے کام کرتی ہے۔‘\n\nوزارت اطلاعات کے حقائق جانچنے سے متعلق ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ میں لگی تصاویر\n\n\n\n\nپوسٹ میں آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی نومبر 2025 کی پریس کانفرنس کا بھی حوالہ دیا گیا، جس میں انہوں نے پاکستان افغانستان سرحد کے ذریعے عسکریت پسندوں کی دراندازی اور اس سلسلے میں درپیش چیلنجز کے بارے میں بات کی تھی۔\n\nانہوں نے کہا تھا کہ ’افغان فورسز دہشت گردوں کی دراندازی کو آسان بنانے کے لیے سرحد پار پاکستانی چیک پوسٹوں پر فائرنگ کرتی ہیں۔‘\n\nوفاقی وزارت اطلاعات نے اپنی پوسٹ میں افغانستان ڈیفنس نامی ایکس اکاؤنٹ کی ایک دوسری پوسٹ کا سکرین شاٹ بھی شیئر کیا، جس میں افغان فورسز کے حوالے سے کہا گیا کہ ’ڈیورنڈ لائن کے ساتھ خاردار تاروں کو مکمل طور پر ہٹانے کی کارروائیاں جاری ہیں اور تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔‘\n\nافغانستان ڈیفنس کی پوسٹ میں ویڈیو کلپس بھی تھے، جن میں دکھایا گیا تھا کہ لوگ خاردار تاریں کاٹنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ باڑ دکھائی دے رہی ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nوزارت اطلاعات کی پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ ’طالبان حکومت کے آؤٹ لیٹس کی طرف سے اپ لوڈ کیے جانے والے تمام کلپس مواد، تاریخ پر مبنی اور خارجیوں/طالبان کے پروپیگنڈے کے ہتھکنڈوں کے مطابق بنائے گئے ہیں جو مواد کو ریکارڈ کرنے کے لیے چند منٹ کے لیے ظاہر ہوتے ہیں اور پھر بھاگ جاتے ہیں۔‘\n\nپوسٹ میں کہا گیا: ’اس طرح کے مواد کی تخلیق نہ صرف ان خارجیوں اور طالبان کی بزدلانہ نوعیت کی تصدیق کرتی ہے، بلکہ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ وہ کس طرح پروپیگنڈے اور فریب کی دنیا میں رہتے ہیں۔‘\n\nمزید کہا گیا کہ پاکستان افغانستان سرحدی باڑ مکمل طور پر برقرار ہے اور درحقیقت، اس طرح کی تمام کوششوں کو وہاں اور پھر بھاری اور غیر متناسب جواب دیا جاتا ہے۔\n\n’آپریشن غضب للحق کے تحت 250 سے زائد سرحدی چوکیوں کی تباہی کے علاوہ پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے درست اور ٹارگٹڈ کارروائیوں میں درجنوں پوسٹوں پر قبضے سے مایوس افغان طالبان کی حکومت نے اپنے گھریلو سامعین کو مطمئن کرنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لیا ہے۔‘\n\nپاک افغان سرحد\n\nڈیورنڈ لائن\n\nٹی ٹی پی\n\nافغان طالبان\n\nطالبان حکومت\n\nپاکستان فوج\n\nوزارت اطلاعات\n\nوزارت اطلاعات نے پاکستان افغانستان سرحد پر خاردار تاریں ہٹانے کے دعوؤں کو من گھڑت اور حقائق سے مبرا قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nبدھ, اپریل 1, 2026 - 21:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">پاکستانی فوجی 19 مارچ 2026 کو صوبہ بلوچستان کے شہر چمن میں پاکستان افغانستان سرحد (ڈیورنڈ لائن) پر نظر رکھے ہوئے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nپاکستان نے افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے سرحد کھول دی\n\nپاکستان نے افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے سرحد کھول دی\n\nڈیورنڈ لائن کا درد\n\nڈیورنڈ لائن پر پاکستانی مؤقف کے بانی نہرو تھے\n\nSEO Title:\n\nپاکستان افغانستان سرحد پر خاردار تاریں ہٹانے کے دعوے من گھڑت: وزارت اطلاعات\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "پاکستان افغانستان سرحد پر خاردار تاریں ہٹانے کے دعوے من گھڑت: وزارت اطلاعات"
}