{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreicpavt2njxnowh7ejsfmljaw77ltlw5q63vo4i7r4pukhtwjqesce",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mife4nitodt2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreiawiyg4jag25rhmgxgyx5qpvpkhebj2oluzqy4iigjhvcannaj5ey"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 78756
  },
  "path": "/node/185291",
  "publishedAt": "2026-03-31T05:40:13.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "اسرائیل",
    "امریکہ",
    "ایران",
    "پاکستان",
    "صالحہ فیروز خان",
    "video"
  ],
  "textContent": "**کراچی کے علاقے ماڑی پور یونس آباد میں ایک گھر پچھلے سات دنوں سے سوگ میں ڈوبا ہوا ہے۔ یہ گھر یاسر خان کا ہے، جو ایران کی بندرگاہ بندر عباس میں ایک ٹگ بوٹ پر کام کرتے ہوئے 23 مارچ کی شب ہونے والے میزائل حملے میں جان کی بازی ہار گئے۔**\n\nگھر کا دروازہ کھلتا ہے تو تعزیت کے لیے آنے والوں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لیتا، اور مرحوم یاسر خان کا تین سالہ معصوم بچہ ذوہان اپنے تایا کی گود میں خاموش بیٹھا ہے، بے خبر اس حقیقت سے کہ اس کے والد اب کبھی واپس نہیں آئیں گے۔\n\nاہلِ خانہ کے مطابق، یاسر گذشتہ چھ ماہ سے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس ٹگ بوٹ پر ملازمت کر رہے تھے۔ یہ روزگار ان کے لیے محض نوکری نہیں بلکہ اپنے خاندان کے بہتر مستقبل کی امید تھا۔\n\nمگر 23 مارچ کو اچانک حملے نے ان کی زندگی کا سفر ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔\n\nامریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے 28 فروری سے جاری ہیں جبکہ اسی دوران ایران نے بھی جوابی کارروائیوں میں پڑوسی ممالک میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔\n\nیاسر کے بڑے بھائی واجد خان کی آواز میں کرب صاف محسوس ہوتا ہے۔\n\nانہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’آخری بار بھائی سے بات ہوئی تو وہ بہت پریشان تھا۔ اس نے کہا کہ کمپنی سے بات کریں کہ مجھے واپس بلایا جائے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\n’ہم کئی بار ایجنٹ کے پاس گئے، درخواست کی کہ جنگی حالات ہیں، اسے واپس لے آئیں، مگر ہمیں یہی کہا گیا کہ رابطہ نہیں ہو رہا۔ پھر کال کرنے پر رابطہ نہ ہو سکا اور ہمارے اہل خانہ یاسر کی خیریت کو لے کر بے چین ہو گئے اور اچانک ہمیں اس کی موت کی خبر آ گئی۔‘\n\nواجد خان کہتے ہیں کہ ’یہ خبر صرف ایک اطلاع نہیں تھی، بلکہ ایک ایسا صدمہ تھا جس نے پورے خاندان کو توڑ کر رکھ دیا۔ خاص طور پر اس بچے کے لیے جو ابھی باپ کے سائے کی اہمیت بھی نہیں سمجھ سکا۔‘\n\nیاسر خان کے والد اقبال پاشا اپنے بیٹے کو یاد کرتے ہوئے ضبط کھو بیٹھتے ہیں اور آنکھوں میں آنسو لیے کہتے ہیں کہ ’یاسر بہت فرمانبردار اور سب کا لاڈلا تھا۔ ہمیں کیا معلوم تھا کہ ہم اس سے آخری بار بات کر رہے ہیں۔ جب اس سے رابطہ نہ ہوا تو ہم پریشان ہو گئے، پھر اس کے زخمی دوست سبحان نے حادثے کی خبر دی۔\n\n’گھر میں موجود ہر چیز، ہر کونا، یاسر کی یاد دلاتا ہے۔ اس کے کپڑے، اس کی آواز، اس کی باتیں سب کچھ اب ماضی کا حصہ بن چکا ہے۔‘\n\nسات دن گزر چکے ہیں، مگر اہلِ خانہ کے مطابق نہ تو کسی حکومتی ادارے نے رابطہ کیا ہے اور نہ ہی میت کی واپسی کے لیے کوئی عملی پیش رفت ہوئی ہے۔\n\nاہلِ خانہ اب حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کی میت کو جلد از جلد وطن واپس لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں اور ان کے کمسن بیٹے کی کفالت کے لیے مدد فراہم کی جائے۔\n\nاسرائیل\n\nامریکہ\n\nایران\n\nپاکستان\n\nیاسر کے بڑے بھائی واجد خان نے بتایا کہ ’آخری بار بھائی سے بات ہوئی تو وہ بہت پریشان تھا۔ اس نے کہا کہ کمپنی سے بات کریں کہ مجھے واپس بلایا جائے۔\n\nصالحہ فیروز خان\n\nمنگل, مارچ 31, 2026 - 10:30\n\nMain image:\n\nپاکستان\n\njw id:\n\ntBl3mHcg\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nایران میں پاکستانی شہری سفری دستاویزات ہر وقت پاس رکھیں: سفارت خانہ\n\nپاکستانی میزائلوں کو خطرہ قرار دینے والی تلسی گیبرڈ انڈیا نژاد نہیں\n\nبغداد میں خاتون امریکی صحافی اغوا، ایک اغواکار گرفتار: عراقی حکام\n\nخلیج، ایران اور پاکستان: مشترکہ خوشحالی کا خواب\n\nSEO Title:\n\nکراچی: ایران میں میزائل حملے میں مرنے والے یاسر خان کے اہل خانہ میت کے منتظر\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "کراچی: ایران میں میزائل حملے میں مرنے والے یاسر خان کے اہل خانہ میت کے منتظر"
}