{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreieu2hjmutucgqaxaryfmfo4nfsx2cvorauymkyys7vzyvsrqtr5wa",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mife4ikb3qt2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreihz2hhvm64zxmqdl5st4ymgkddj443vpkg6orzbk6iupwavjzlkt4"
},
"mimeType": "image/png",
"size": 651720
},
"path": "/node/185292",
"publishedAt": "2026-03-31T06:30:07.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"Untitled design (2).png",
"علی ظفر",
"میشا شفیع",
"سیشن عدالت",
"ہراسیت",
"لاہور",
"ارشد چوہدری",
"ٹرینڈنگ",
"news"
],
"textContent": "**لاہور کی عدالت نے گلوکار علی ظفر کی جانب سے گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف دائر 100 کروڑ روپے کے ہتکِ عزت کے دعوے پر آٹھ سال بعد فیصلہ سنا دیا ہے۔**\n\nلاہور کے ایڈیشنل سیشن جج آصف حیات نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے میشا شفیع کے خلاف دعوے کو ڈگری کر دیا۔ عدالت نے میشا شفیع پر 50 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔\n\nیہ مقدمہ گزشتہ آٹھ سال سے زیرِ سماعت تھا، جس کے دوران مجموعی طور پر نو ججز تبدیل ہوئے جبکہ 283 پیشیوں میں 20 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔\n\nسینئر قانون دان میاں داؤد نے انڈپینڈںٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ کسی شہری کی جانب ہتک عزت سے متعلق ڈگری کا مطلب یہ ہے کہ عدالت نے تسلیم کر لیا کہ شہری کیخلاف مدعا علیہ کا بیان ہتک عزت تھا، اور اب مدعی کو اس کا قانونی ازالہ ملنا چاہیے۔\n\n’یہ ڈگری قابل عمل ہوتی ہے۔ قانونی زبان میں انگریزی لفظ ڈگری کی بجائے ڈکری decree استعمال ہوتا ہے۔ اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر ہو سکتی ہے جبکہ شہری اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے اجرا کی درخواست دائر کرے گا، اگر مدعا علیہ ڈگری کے مطابق شہری/ مدعی کو زرتلافی ادا نہیں کرتا تو مدعا علیہ کی جائیداد ضبط کی جا سکتی ہے، بینک اکائونٹس منجمد ہو سکتے ہیں، مدعا علیہ سرکاری یا نجی ملازم ہے تو اس کی تنخواہ سے کٹوتی ہو سکتی ہے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ ’تفصیلی فیصلے کو ججمنٹ کہا جاتا ہے جبکہ ججمنٹ کے خلاصہ پر مشتمل صفحات کو ڈگری کہا جاتا ہے۔ یہ مقدمہ محض ایک دیوانی تنازع نہیں بلکہ پاکستان میں ہراسانی، سوشل میڈیا اور آزادی اظہار سے جڑے قانونی و سماجی معاملات کا مرکزی کیس بنا رہا ہے۔ جس کی گونج مقامی عدالتوں سے لے کر اعلیٰ عدلیہ تک سنائی دیتی رہی۔‘\n\nاپریل 2018 میں میشا شفیع کی جانب سے سوشل میڈیا پر علی ظفر کے خلاف لگائے گئے ہراسانی کے الزامات نے اس تنازع کو جنم دیا۔ اس کے ردعمل میں علی ظفر نے لاہور کی سیشن عدالت میں ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کیا۔ جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ الزامات سے ان کی شہرت اور کیریئر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔\n\nمیشا شفیع نے ہراسانی کے الزامات کے ازالے کے لیے وفاقی محتسب برائے ہراسانی سے رجوع کیا۔ تاہم محتسب عدالت نے یہ کیس دائرہ اختیار نہ ہونے کی بنیاد پر مسترد کر دیا تھا۔ اس فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ لیکن وہاں بھی محتسب کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا۔\n\n## Untitled design (2).png\n\nبعد ازاں معاملہ سپریم کورٹ آف پاکستان تک پہنچا۔ جہاں عدالتِ عظمیٰ نے بھی اس موقف کی توثیق کی کہ موجودہ قانون کے تحت اس نوعیت کے تعلق پر ہراسانی کے قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ ہراسانی ایک سنجیدہ معاملہ ہےلیکن اس کے لیے مناسب قانونی فورم اور شواہد ضروری ہیں۔\n\nلاہور کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج آصٖف حیات باجوہ کی عدالت میں دائر ہتکِ عزت کیس میں علی ظفر نے موقف اختیار کیا کہ ان پر لگائے گئے الزامات جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی تھے۔ انہوں نے مالی اور ساکھ کے نقصان کا ازالہ طلب کیا۔ جبکہ میشا شفیع کی جانب سے وکیل کے ذریعےموقف اپنایا گیا کہ ان کا بیان ذاتی تجربے پر مبنی تھا۔\n\nاسے اظہارِ رائے اور عوامی مفاد کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔\n\nعدالت میں گواہان کے بیانات، جرح اور دستاویزی شواہد پیش کیے گئے جس کے بعد حتمی دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔\n\n**قانونی و سماجی اہمیت**\n\nیہ کیس کئی حوالوں سے سنگ میل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے جس میں ہراسانی کے قوانین کی حدود واضح ہوئیں۔ سوشل میڈیا کے بیانات کی قانونی حیثیت زیرِ بحث آئی۔ پہلی بار ہتکِ عزت اور آزادی اظہار کے درمیان توازن پر بحث ہوئی۔\n\nجب یہ معاملہ عدالت میں پہنچا تو سوشل میڈیا اور مقامی میڈیا پر می ٹو جیسی مہم کو بھی تقویت ملی۔ اس دوران خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے میشا شفیع کا ساتھ دیا جبکہ بعض صارفین گلوکار علی ظفر کی حمایت میں بات کرتے دکھائی دیے۔\n\nگلوکار علی ظفر کے سو کروڑ (ایک ارب) روپے ہتک عزت دعوی کے جواب میں میشا شفیع نے بھی 2019 میں علی ظفر کے خلاف لاہور کی سیشن کورٹ میں ہتک عزت کا دو ارب روپے کا دعویٰ دائر کیا تھا جسے فروری 2020 میں مسترد کر دیا گیا تھا۔\n\nمیشا شفیع کی قانونی ٹیم کی رکن نگہت داد کے مطابق اس کیس کو سیشن کورٹ نے اس لیے مسترد کیا تھا کیونکہ علی ظفر کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ان کی جانب سے پہلے دائر کردہ مقدمہ اور یہ کیس ایک ہی نوعیت کا ہے۔ لہذا پہلے والے مقدمے کا فیصلہ ہونے تک قانونی طور پر اس کی سماعت نہیں ہوسکتی۔\n\nنگہت داد کے مطابق میشا شفیع کی جانب سے علی ظفر پر ہتکِ عزت کا دعوی اس لیے کیا گیا کیونکہ جب میشا نے علی کے خلاف ہراساں کیے جانے پر قانونی راستہ اختیار کیا تو انہوں نے مختلف انٹرویوز اور اپنے بیانات میں میشا کے خلاف باتیں کیں جس سے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔ دیگر الزامات کے علاوہ علی نے میشا پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ یہ سب اس لیے کر رہی ہیں کیونکہ وہ کینیڈا کی شہریت حاصل کرنا چاہتی ہیں۔\n\nمیشا شفیع نے اپنی ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ’اس طرح کھل کر بات کرنا آسان نہیں ہے، لیکن خاموش رہنا اور بھی زیادہ مشکل ہے۔ میرا ضمیر مجھے اب مزید اس کی اجازت نہیں دیتا۔ میری ہی صنعت میں میرے ساتھ کام کرنے والے ایک ساتھی نے مجھے ایک سے زیادہ بار جنسی طور پر ہراساں کیا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nیہ سب تب نہیں ہوا جب میں چھوٹی تھی یا صنعت میں نئی تھی۔ یہ میرے ایک پراعتماد، کامیاب اور چپ نہ رہنے والی عورت ہونے کے باوجود ہوا۔ یہ میرے ساتھ دو بچوں کی ماں ہونے کے باوجود ہوا۔'\n\nاس ضمن میں پہلا مقدمہ علی ظفر کی جانب سے 2018 میں لاہور کی سیشن عدالت میں میشا کے خلاف ہتک عزت آرڈیننس 2002 کے تحت دعویٰ دائر کیا تھا۔\n\nمیشا شفیع کی جانب سے سیشن عدالت اور محتسب کے بعد یہی درخواست گورنر پنجاب کے پاس دی اور اسے وہاں سے بھی مسترد کر دیا گیا۔\n\nمیشا نے محتسب اور گورنر کی جانب سے اپنی شکایت کو مسترد کرنے کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ میں کام کرنے کی جگہ پر ہراساں کرنے کے خلاف پنجاب پروٹیکشن برائے خواتین ایکٹ2012 کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔\n\nہائی کورٹ میں سماعت کے بعد اکتوبر 2019 میں ان کی اپیل کو وہاں سے اس بنیاد پر خارج کر دیا گیا کہ میشا شفیع اور کمپنی کے مابین معاہدہ خدمات کی فراہمی کے لیے کیا گیا تھا اور اس کی ایک شق کے مطابق فریقین کے درمیان تعلقات کو ملازمت تصور نہیں کیا جا سکتا۔\n\nاس کے بعد میشا کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں کی گئی یہ اپیل بھی خارج کر دی گئی۔\n\nعلی ظفر نے 2018 میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ کے پاس بھی میشا کے خلاف شکایت درج کرائی تھی۔ جس میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ بہت سارے سوشل میڈیا اکاونٹ ان کے خلاف دھمکیاں اور بدنامی پر مبنی مواد پوسٹ کر رہے ہیں۔\n\nاس تحریری شکایت کے ساتھ ثبوت کے طور پر کچھ ایکس اور فیس بک اکاونٹس کی تفصیلات بھی فراہم کی تھیں۔\n\nقانونی ماہرین کے مطابق تقریباً آٹھ برس سے جاری یہ تنازع اب اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ تاہم اس کے اثرات پاکستان کے قانونی، سماجی اور ثقافتی منظرنامے پر دیرپا رہیں گے۔\n\nیہ کیس اس بات کی ایک اہم مثال بن چکا ہے کہ کس طرح ایک سوشل میڈیا بیان پورے قانونی نظام کو متحرک کر سکتا ہےاور نچلی عدالتوں سے لے کر سپریم کورٹ تک بحث کا موضوع بن سکتا ہے۔\n\nعلی ظفر\n\nمیشا شفیع\n\nسیشن عدالت\n\nہراسیت\n\nلاہور\n\nلاہور کے ایڈیشنل سیشن جج آصف حیات نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے میشا شفیع کے خلاف دعوے کو ڈگری کر دیا۔ عدالت نے میشا شفیع پر 50 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔\n\nارشد چوہدری\n\nمنگل, مارچ 31, 2026 - 11:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">علی ظفر اور میشا شفیع کا یہ مقدمہ محض ایک دیوانی تنازع نہیں بلکہ پاکستان میں ہراسانی، سوشل میڈیا اور آزادی اظہار سے جڑے قانونی و سماجی معاملات کا مرکزی کیس بنا رہا ہے (علی ظفر/میشا شفی انسٹاگرام)</p>\n\nٹرینڈنگ\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nعلی ظفر اور دانیال ظفر کا امریکی ہپ ہاپ سٹار کے ساتھ گانا ریلیز\n\nگلوکارہ میشا شفیع کی اپنے خلاف مقدمہ خارج کرنے کی درخواست مسترد\n\nمیرے عدالت میں نہ آنے کے حوالے سے غلط خبریں چلیں: میشا\n\nعلی ظفر کی درخواست پر میشا شفیع کے خلاف تحقیقات مکمل\n\nSEO Title:\n\nعلی ظفر کا ہتک عزت کیس، میشا شفیع پر 50 لاکھ روپے کا جرمانہ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "علی ظفر کا ہتک عزت کیس، میشا شفیع پر 50 لاکھ روپے کا جرمانہ"
}